ورکنگ وومن

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اپنے تھیسز کے لیے عنوان ڈھونڈ رہی تھی۔ پہلے میں نے اولڈ پیپل ہوم کے بارے میں سوچنا اور مواد حاصل کرنا شروع کیا۔ ان دنوں لاہور علامہ اقبال روڈ گڑھی شاہو کے علاقے میں صرف ایک اولڈ پیپل ہوم تھا جو مسیحی کمیونٹی کا تھا۔ اس کا نام ”گوشہِ امن“ تھا۔ میں نے وہاں کے رہائشیوں کے ڈرائنگ اور پینٹنگز وغیرہ بنانا شروع کیں۔ چونکہ وہاں سب بہت بوڑھے تھے اور اکثر و بیشتر بیمار ہی رہا کرتے لہذا میں نے ارادہ بدلا۔ تب میں نے ”ورکنگ ویمن آف لوئر کلاس“ یعنی گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں پر تھیسز کرنا شروع کیا۔ اب میرے لیے مشکل تھی کہ ماڈلز کہاں سے ڈھونڈی جائیں۔ اْس زمانے میں انٹرنیٹ کی سہولت تو تھی نہیں۔ یوں بھی ہمیں تصاویر وغیرہ کی مدد سے بھی پینٹ کرنے کی اجازت نہ تھی۔ گھر میں میں نے اپنی سکیچ بک پر اپنی ماسی بشیراں کی ڈرائنگ کرنا شروع کی۔ رفتہ رفتہ پھر میں نے اس کی چھوٹے چھوٹے quick skectches بناناشروع کیے۔ بس ایک مشکل تھی کہ وہ میرے کالج نہیں آ سکتی تھی۔ اس کے گھر سے اْسے اجازت نہ ملی تھی ایسے میں میرے استادِ محترم نامور پینٹر اقبال حسین نے میری مدد کی۔ ان کے محلے سے جو نیشنل کالج آف آرٹس سے بہت قریب تھا چند ماسیوں کا بندوبست ہو گیا۔ اس وقت میں تین عورتوں کو پچاس روپے فی گھنٹہ کے حساب سے پیسے دیا کرتی تھی۔ آنے جانے کا کرایہ الگ دیتی تھی تاکہ ان کے پاس اْن کی محنت کے کچھ تو پیسے ہوں۔ اپنی پینٹنگز کے دوران میں ان سے باتیں کرتی جاتی۔ ایک کا نام صغریٰ، ایک کا جیراں اور ایک کا نام فوزیہ تھا۔ سب کی اپنی اپنی کہانیاں تھیں جن کے سب دھاگے مجبوریوں کے بخیوں سے سِلے ہوئے تھے۔ صغریٰ بچپن سے مختلف گھروں میں کام کرتی ہوئی جوانی اور اب ادھیڑ عمری کی دہلیز پہ کھڑی تھی۔ فوزیہ بہت کچھ کر لیتی تھی۔ سورج کے اْگنے سے پہلے اْٹھتی تھی۔ اپنے بچوں کو سکول کے لیے تیار کرتی۔ بوڑھے ساس سْسر کو ناشتہ دیتی اور پھر جلدی جلدی اپنے چھوٹے سے گھر کو صاف کر کے کام پہ چلی جاتی۔ وہ تین گھروں میں صفائی کا کام کرتی تھی۔ اکثر گھروں سے کچرے میں خالی بوتلیں، ٹین کے ڈبے اور ردّی وغیرہ ملتی جسے وہ بیچتی اور اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کرتی۔ اس کے گھر والا صرف مکان کا کرایہ اور بجلی کے بل ادا کرتا۔ باقی سب اخراجات وہ اپنے پلے سے کرتی۔ ایک دن اس کو پتہ چلا کہ وہ کسی اور عورت کے چکر میں پڑ گیا ہے۔ اب فوزیہ اس کی گالیاں بھی سْنتی مگر پھر بھی سہتی رہتی۔ اپنے گھر والے سے بہت لگاؤ تھا اْسے۔ بچوں کے منہ کو بھی دیکھتی کہ کہیں بچے محرومی کا شکار نہ ہو جائیں۔ میرے پاس بھی چار پیسے کمانے کے لیے ماڈلنگ کیا کرتی تھی۔ کبھی کبھی اپنے دل کی باتیں بتاتے ہوئے اْس کی آنکھیں نم ہوجاتیں تو میرا ہاتھ بھی کینوس پر رْک جاتا۔ جیراں ذرا ادھیڑ عمر تھی مگر اس کی آواز بہت سْریلی تھی اکڑٹپے ماہیے گنگنانے لگتی۔

دو پتر اناراں دے

ساڈی گلی لنگھ ماہیا

حال پْچھ جا بَماراں دے

میں اس کو احتراماً اماں جیراں کہا کرتی۔ میں اس کے بچوں کے بارے میں پوچھتی کہ وہ کیا کرتے ہیں تو زار زار رونے لگتی۔ 1971 کی جنگ میں اس کا خاوند جو فوج میں سپاہی تھا جنگی قیدی بنا اور انڈیا میں ہی کہیں رہ گیا۔ وہ انتظار ہی کرتی رہ گئی۔ جب خبر آتی کہ جنگی قیدی رہا ہوئے ہیں وہ سرحد پر کھڑی اْس پار دیکھا کرتی لیکن اس کا خاوند نہ آیا۔ اس کو بچوں کا پیٹ پالنے کے واسطے گھر سے نکلنا پڑا۔ زندگی کے ستم رْکے نہیں اس کا واحد جوان بیٹا ایک سڑک کے حادثے میں تیز رفتا موٹر کار کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گیا۔ اب وہ اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے اندر کا دْکھ اس کے سْروں میں جھلکتا تھا۔ صغریٰ کی کہانی تو اور بھی دلگداز تھی۔ وہ بچپن ہی سے گاؤں میں پہلے اپنی ماں کے ساتھ کھیتوں میں کپاس اور تمباکو چْننے جایا کرتی تھی۔ باپ نشہ وغیرہ کرتا تھا۔ اس نے بچپن ہی سے اپنے پیسے جمع کرکے اپنا جہیز بنایا۔ ابھی شادی کی عمر بھی نہ تھی کہ شادی ہو گئی۔ خاوند بھی نکما ہی ملا۔ ابھی تو وہ پتنگ کی طرح آسمان میں اپنا توازن ڈھونڈ رہی تھی کہ تیز ہوا کے جھونکے چلنے لگے۔ ایک روز نشے میں چلتے چلتے اس کا خاوند بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گیا اس کے بعد اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ بچوں اور بیمار خاوند کی مشکل ذمہ داری اس کے نازک کندھوں پر آن پڑی۔بڑھتی عمر کے ساتھ اس کے لیے اب کپاس اور تمباکو کو چننا مشکل ہو گیا تھا۔ لہذا وہ بہتر روزی کی تلاش میں لاہور آ گئی۔ لیکن یہاں بھی اسے گھروں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ کسی کے برتن دھوتی تھی۔ کسی کے کپڑے دھوتی تھی۔ اْن کی کہانیاں سْن کر میں خود جو ابھی کچی عمر کی پگڈنڈیوں پر چلتی تھی سوچا کرتی زندگی کتنی مشکل ہے۔ غریب کے بچے آنکھوں میں جلتے خواب لے کر مزدوریاں کرنے کم سنی میں ہی نکل پڑتے ہیں۔ میرا دل ٹکڑے ہوتا۔ آج بھی کام والی ماسیاں ہر گھر کی ضرورت ہیں۔ آج بھی میں کبھی اپنی میڈز کی ڈرائنگ اور پینٹنگز بناتی ہوں تو حالات وہی پرانے ہیں۔ زیادہ تر کے خاوند نشے کی لَت یا بے روزگاری کا شکار ہیں۔ عورتیں مشقت سے اپنے گھروں کو چلاتی ہیں۔ بیشتر کے تو خاوند شکی مزاج بھی ہیں۔ ایسے میں کام کرنا دْوبھر ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے ماضی کے تجربے سے یہ سیکھا کہ کبھی آج تک میں نے چھوٹے بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پر کام کے لیے نہیں رکھا۔ یقینا یہ چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہے۔ میں اپنے دیگر خاندان والوں سے بھی بچوں سے کام لینے پر بِھڑ جاتی ہوں۔ میں حتی الامکان کوشش کرتی ہوں کہ اپنی ماسیوں سے خوش اخلاقی اور نرم دلی سے پیش آؤں۔ عید اور کرسمس کے موقعے پر اپنے ہاتھ سے شکریہ کے کارڈ پینٹ کر کے تحائف کے ساتھ انہیں دیتی ہوں، اس پر ان کی خوبیاں لکھتی ہوں۔ جب انہیں پڑھ کر سناتی ہوں تو ان کی آنکھوں کی چمک اور کھر کھراتی ہنسی مجھے عجیب طمانیت دیتی ہے۔ اب وبا کے دن تھے تو ان کی مشکلات بڑھ گئی تھیں۔ کئی گھروں سے نوکریاں ختم ہو گئیں۔ ایسے میں میں اْن کے لیے کچھ مدد کر دیتی تو چاروں اور خوشیاں پھیل جاتیں۔ کسی اور کی تکلیف کا احساس کوئی بندھا بندھایا اصول نہیں۔ یہ تو محسوس کرنے کی چیز ہے۔روایتوں کی بنائی دنیا اب جدید دنیا میں بد ل رہی ہے۔ افسوس! حقوق و فرائض کی ادائیگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے یاد ہے میری ماں اپنی کام والی لڑکیوں، مالی کی بیٹیوں کو قرآن پڑھایا کرتیں۔ انہیں پراندے اور ازار بند بنانا بھی سکھاتیں۔ اگر کوئی بیمار ہوتا تو باقاعدہ دیکھ بھال کرتیں۔ میں جب ریستوراں وغیرہ میں کم سن لڑکیوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ پیسے والوں کے روتے ہوئے بچوں کو سنبھالتی ہیں۔ بچوں کی مائیں اہلِ خانہ کے ساتھ قہقہے لگا رہی ہوتی ہیں تو دل چاہتا ہے کہ ان سے پوچھوں کہ ان کی تنخواہیں تو سیدھا ان کے ماں باپ کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں۔ ان کا بچپن آپ کے بچوں کی نذر ہو رہا ہے۔ کچھ تو رحم کیجیے۔ حکومت کی طرف سے چائلڈ لیبر پر پابندی لگنی چاہیے۔ لوگوں کو اپنے اند ررحم کا احساس پیدا کر کے دوسرے کی جگہ پہ خودکو رکھ کے سوچنا چاہیے۔ شاید یہ عورتیں کہتی ہیں۔

میرے لیے احساس اور نیکی لاؤ

اپنے سخت دل سے نکلے جذبے

میں کچھ اور نرمی لاؤ۔۔۔۔۔

گو میرے اندراک آ  ہنی جال ہے

میری کہانی کو دھیان سے سنو

شِکر دوپہر پر سرمئی بارش کی بوندیں لکھو

دیکھنا پھر تم خود کو رقصاں محسوس کرو گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*