ہندوستان میں خواتین کی تحریک

برصغیر میں انڈین کمیونسٹ پارٹی 1930ء میں وجود میں آئی، جو ہر جگہ اور ہر محاذ پر کام کر رہی تھی۔وہ مزدوروں کی ٹریڈ یونین، کسان سبھا، طلبا تنظیم اور عورتوں کی تنظیموں کو بھی منظم کرچکی تھی۔اس نے پہلی عورتوں کی تنظیم سیلف ڈیفنس لیگ فار ویمن منظم کی، جو لاہور میں 1943ء میں قائم ہوئی۔ ”ایم ایل اے بی بی رگھبیر کور اس کی صدراور کمیونسٹ خاتون پر ان مہتہ اس کی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئی۔“ (1)

اس تنظیم میں ذات پات، طبقہ، پارٹی اور مذہب کی کوئی تفریق نہیں تھی۔اس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور نچلی ذات کی عورتیں بھی شامل تھیں اور کانگریس اور مسلم لیگ کی عورتیں بھی۔  جن میں ایم ایل اے باجی راشدہ لطیف، سیکٹری ویمنز انجمن بیگم عاصم اللہ اور بیگم افتخار الدین شامل تھیں۔ یہ تنظیم لاہور سے شروع ہوگئی تھی اور آہستہ آہستہ دیہاتوں تک وسیع ہوگئی۔ اس کے کارکنوں میں شکنتلا شاردھا، بی بی شکنتلا، سرلا شرما آف کانگڑہ، سوشیلا (جالندھر)، لٹورائے، پیرن بھروچا اور شیلا بھاٹیہ (لاہور) بھی قابل ذکر ہیں۔

“اس تنظیم نے مختلف شہروں میں راشن شاپس کے ذریعے لوگوں میں گندم تقسیم کرنے میں مدد دی۔ اور آٹے کی قیمت کی کمی کے لیے گندم کے ڈپوؤں کے سامنے جلسے کیے۔ اس تنظیم کے وفود نے اعلیٰ حکام سے مل گندم کی قیمت کم کراکے ایک روپے چار کلو کے بجائے ایک روپے میں 5کلو تک کرادی۔ اس تنظیم میں بنگال کے قحط زردگان کے مدد کے لیے مہم شروع کی۔”اس تنظیم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ہندو مسلم کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کم ہوگئے۔ اسلامیہ گرلز سکول لاہور کی طالبات نے بھی اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی“ (2)۔

علاوہ ازیں لاہور میں خواتین کی ٹیچرز ایسوسی ایشن بھی اس میں شامل ہوگئی۔ اس تنظیم کی مقبولیت میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ اگست 1943ء میں اس کے ارکان کی تعداد لاہور میں تین ہزار، امر تسر میں 900، فیروز پور میں 2000ء اور راول پنڈی میں 1700ء تک ہوگئی تھی۔ اس طرح اس کے کل ارکان کی تعداد 12000 ہوگئی تھی۔ سیلف ڈیفنس لیگ برائے خواتین نے شہری و دیہی علاقوں میں خواتین کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تنظیم نے 12اپریل 1943ء میں خواتین کسان کانفرنس کاانعقاد کیا۔ جس میں 2000 خواتین نے شرکت کی۔ اس کانگریس کی صدارت ایم ایل اے بابا رور سنگھ کی بیوی بی بی گیان کو ر نے کی۔ اس کانگریس سے خطاب کرنے والیوں میں سہا جانند سر سوتی، انڈس لال پاگنک اور کامریڈ جسونت شیلا شامل تھیں۔ اس کانگریس کی قرار دادوں کے موضوعات میں خواتین کے اتحاد و تنظیم کی ضرورت، غلہ اگانے، ڈپوؤں کا آغاز اور عوامی کمیٹیوں کی تشکیل اور سوویت یونین کے لیے نیک خواہشات کے پیغام وغیرہ تھے۔ جنوری 1944ء تک اس تنظیم کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 1424ء ہوگئی، جن میں 5000 مسلم خواتین تھیں۔ 1945ء میں آل انڈیا ویمنز کانفرنس کی مرکزی پنجاب کی شاخ بھی اس تنظیم میں مدغم ہوگئی۔

علاوہ ازیں کمیونسٹوں نے کئی دیگر خواتین تنظیموں کو بھی قائم کیا۔ جس میں فرینڈز آف دی سوویت یونین، سول لبرٹیز یونین اور پروگریسو رائٹرز یونین وغیرہ شامل ہیں۔ پنجاب کے کمیونسٹوں نے پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے تحت عوامی ثقافتی تحریک بھی شروع کی۔ اور کلچرل فرنٹ سب کمیٹی بھی قائم کی۔ باقاعدہ ڈرامہ سکواڈ بھی تشکیل دیا گیا۔ جس کا مقصد ڈرامے سٹیج کرنا اور انقلابی گیتوں کے ذریعے عوام میں انقلابی شعورپیدا کرنا تھا۔ 1944ء میں اس ثقافتی سکواڈ نے بنگال ریلیف فنڈ کے لیے دو ہفتوں میں 26000ء روپے جمع کیے۔

1930ء کے عشرے میں بلوچستان میں عورتوں کی کوئی تنظیم تو وجود میں نہیں آئی۔البتہ یوسف عزیز مگسی کی تحریک میں عورتوں کی تعلیم، پسند کی شادی، موروثی جائیداد میں حصہ اور دیگر حقوق کو سرِ فہرست رکھا گیا۔نیز عورتوں کے خلاف ظالمانہ قبائلی اور فیوڈل قوانین اور رسوم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی گئی،جن میں لب، سیاہ کاری، جبری شادی اور تعلیم کے حق سے محرومی وغیرہ شامل تھے۔آل انڈیا بلوچ کانفرنس جیکب آباد میں یوسف عزیز اور اس کے ساتھیوں کی پیش کردہ قراردادوں میں سے بیشتر کا تعلق عورتوں کے حقوق سے تھا۔

1920ء تا 1930ء میں بہت سی خواتین کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں فعال تھیں۔ ان میں ایک اوشاتائی ڈانگے تھی۔ جو بچپن میں ہی بیوہ ہوگئی تھی۔ کیوں کہ اس کی شادی کم سنی میں ہوئی تھی۔ اس نے بیوہ عورت کی دوبارہ شادی نہ کرنے کے فرسودہ رواج کے خلاف احتجاجاً کمیونسٹ رہنما ایس اے ڈانگے سے شادی کی۔ اس نے بمبئی میں 1925ء تا 1927ء نرسنگ کی تربیت حاصل کی۔ اور نرسوں کے احتجاجی جلسوں میں شرکت کی۔ جو 1928ء تا 1929ء ہند میں ہڑتالوں کے سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ اوشاتائی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی ہڑتالوں میں بھی ملوث رہی۔ ان میں برٹش ٹیکسٹائل ملز کے محنت کشوں کی ہڑتال بھی قابلِ ذکر ہے، جو آٹھ ماہ تک جاری رہی۔ یہ ہڑتال خاص طور پر خواتین نے شروع کی تھی کیوں کہ ہڑتال خواتین ٹیکسٹائل ورکرز نے منظم کی تھی۔

دوسری خاتون کمیونسٹ کارکن، جو برٹش ٹیکسٹائل ملز ورکرز کی ہڑتال میں فعال تھی۔ وہ پاروتی بھائی بھورے تھی۔ جو انتہائی نچلے طبقے اور نچلی ذات سے تعلق رکھتی تھی۔ اور اس نے درزانی کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بعد ازاں وہ شعلہ بیان مقررہ بن گئی اور ٹیکسٹائل ورکرز کی رہنمائی کرنے لگی۔ ایک اور کمیونسٹ رہنما میناکشی سین تھی، جس نے شولا پور مہاراشٹر میں ٹیکسٹائل مزدوروں اور بیڑی ساز ورکروں میں کام کیا۔ اس نے عالمی کساد بازاری (1930ء میں) کے زمانے میں بہت سے مزدوروں کی خود رو ہڑتالوں میں کام کیا۔ 1936ء کی بیڑی ورکروں کی کامیاب ہڑتال کے بارے میں رینو چکراورتی تحریر کرتی ہے:

”ان دنوں میں خواتین کا ہڑتال کرنا شاز و نادر تھا۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ مشہور مراٹھی ناول نویس این ایس فاد کے ہڑتالی خواتین کو دیکھنے آیا اور اس نے یک بابی ڈرامہ آگ والی کے عنوا ن سے تحریر کیا۔ مینا کشی نے غریب بستیوں کی عورتوں کو منظم کرنے میں اپنے ہڑتال کے تجربے کو استعمال کیا، جو بھجن منڈل میں جمع ہوتی تھیں۔ جہاں انڈیا اور دیگر علاقوں کے ہفتہ وار واقعات کے متعلق بحث و مباحثہ کے درمیان بھجن گائے جاتے تھے۔ اس کا گروہ بہت مقبول ہوا اور اسے دوسری غریب بستیوں میں اس قسم کے پروگرام منعقد کرنے کے لیے بھی مدعو کیا گیا۔“ (3)

1930ء کے آخری عشرے سے لے کر دوسری عالمی جنگ کے آغاز تک خواتین نے تحریکِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے بنگال میں قحط زدگان کے لیے امدادی مہم میں بھی بہت کام کیا۔ خصوصاً وہ سیاسی قیدی، جنہیں انگریزی حکومت نے دہشت گردی کے الزام میں جزیرہ انڈمان میں قید کررکھا تھا۔ مختلف سیاسی گروہوں سے تعلق رکھنے والی بنگالی خواتین نے مل کر ہڑتال اور احتجاجی جلسے منعقد کیے۔ اورانہوں نے ایک متحدہ خواتین تنظیم قائم کی، جس میں سیاسی خواتین پیش پیش تھیں۔

اسی دوران آل انڈیا سٹوڈنٹ فیڈریشن نے گرلز سٹوڈنٹس کمیٹی قائم کی، جس کی شاخیں بنگال، بمبئی اور پنجاب میں تشکیل دی گئیں۔ 1940ء میں گرلز سٹوڈنٹس کمیٹی نے لکھنو میں ایک کانفرنس منعقد کی۔ جس کی صدارت رینو چکرا ورتی نے کی۔ جو ایک فعال کمیونسٹ خاتون تھی۔ اور حال ہی میں کمیبرج یونی ورسٹی سے گریجویش کرکے ہندوستان واپس لوٹی تھی۔ جہاں وہ انڈین سٹوڈنٹس فیڈریشن کی سیکٹری رہ چکی تھی۔ لکھنو کانفرنس کو یاد کرتے ہوئے چکرا ورتی لکھتی ہے:

”میں نے انہیں فاشزم کے خطرے سے آگاہ کیا، جو سامراجیت کے انتہا پسند روپ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ میں نے انہیں سپین میں فرانکو کے فاشزم کے خلاف لڑی جانے والی بہادرانہ جنگوں کے بارے میں بتایا۔ حیرت انگیز اور حوصلہ مند خاتون جنگجو پیشانوریہ کے بارے میں بتایا، جو تمام عورتوں کی شان ہے، اور سب سے اہم بے مثال متحدہ محاذ کے بارے میں انہیں بتایا، جو فاشزم کے خلاف یورپ سے چین تک بنایا گیا۔“ (4)

گرلز سٹوڈنٹس تحریک تیزی سے ترقی کرتی گئی اور 1941ء میں اس کی رکنیت پچاس ہزار تک جا پہنچی۔ اس تحریک نے ہندوستان بھر کی عورتوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے والدین کے اعتراض اور گرفتاری کے خطرے کے باوجود اپنے گھروں کی چار دیواری کو چھوڑ کر اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ 1940ء میں گرلز سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی رہنما کملا داس گپتا گرفتار ہوئی۔ بعد ازاں کلیانی مکر جی گرفتار ہوئی، جس نے بعد میں بھی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔“ (5)

1942ء میں بنگال میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی عورتوں کملا چڑجی، منی کتلا سن، رینو چکراورتی اور ایلیا ریڈ نے مہلاآتما رکشا سمتی (Women’s Self-Defence Leauge – MARS) کے نام سے تنظیم تشکیل دی، جو بہت تیزی سے آگے بڑھی۔ اس تنظیم نے گاندھی اوردیگر قومی رہنماؤں کی رہائی کے لیے جدوجہد کی اور بنگال کے قحط زدگان کے لیے امدادی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ”بشر دوستی اور اور سیاسی کام ایک ہوگیا۔ انہوں نے عورتوں کو سکھایا کہ جنگ اور قحط میں لوگوں کی تکالیف اس وقت تک ختم نہیں کی جاسکتیں۔ جب تک وہ عوامی حکومت قائم نہیں کریں گی۔“ (6)

1942ء تا 1944ء بنگال کے قحط نے تمام طبقوں کی عورتوں کو متحد کردیا۔ 1943ء میں کلکتہ میں مہلا آتما رکشا سمتی نے پانچ ہزار ہندو مسلم خواتین پر مشتمل ہنگر مارچ منظم کیا۔ جس نے اسمبلی کے سامنے خوراک کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ مئی 1943ء میں اس تنظیم نے عورتوں کی صوبائی کانفرنس منعقد کی۔ جس میں بنگال کے 21اضلاع کی عورتوں نے شرکت کی۔ جس میں سیکریٹری نے اعلان کیا کہ اب اس تنظیم کے بائیس ہزار خواتین رکن ہیں۔ جب 1944ء میں ا س کی دوسری کانفرنس منعقد ہوئی تو اس وقت اس کے ارکان کی تعداد 43000 تھی۔ اس کانفرنس میں ان عورتوں کی معاشی بحالی کا مطالبہ کیا، جو قحط کے دوران یا تو مفلس ہوگئی تھیں یا بھوک سے طوائفیں بن گئی تھیں۔ ایلیا ریڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا: ”قحط کی وجہ سے عورتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔“ (7)

”سر سکندر حیات کی زیر قیادت یونینسٹ پارٹی فرقہ واریت سے بلند تر علاقائی سیاسی پارٹی تھی، جو مسلمانوں، ہندوؤں اور غیر اکالی سکھوں کا اتحاد تھی۔ اور پنجاب میں 1937ء کے انتخابات کے وقت سے حکمران رہی تھی۔ مسلم لیگ کے تصورِ پاکستان کو اپنانے کے بعد مسلمان آہستہ آہستہ یونینسٹ پارٹی سے اپنی وفاداریاں تبدیل کررہے تھے۔ جناح کے زیر دباؤ آکر اور یونینسٹوں کو اکٹھا رکھنے کے لیے سر سکندر حیات نے بادلِ نخواستہ 1940ء میں جناح کے ساتھ معاہدہ لاہور پر دستخط کردیے۔ اس بات نے مسلم لیگ کو پنجاب میں اپنے قدم جمانے کا موقع فراہم کیا اور مسلم لیگ کے مطالبہ پاکستان کو مضبوط کیا۔ یہ بات عجیب اور غیر معمولی ہے کہ کٹر بائیں بازو کے طالب علموں نے پاکستان کے خطرے کے پیش ِنظر پنجاب کے مستقبل کی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ وہ مارکس اور کمیونزم کی بحثوں میں اس قدر الجھے ہوئے تھے کہ وہ غور ہی نہیں کرسکے کہ پاکستان کا پنجاب کے لیے کیا مطلب ہوگا۔

شاعر، ادیب اور فن کار بھی کمیونسٹ آدرشوں پر بحث کررہے تھے، جو اس وقت لاہور کے دانشوروں کے حلقوں میں فیشن ایبل بن گئے تھے۔ ان حلقوں میں سے مرینسیلینی چتھوپا دھایا (جو سر گنگا رام سکول برائے طالبات کی پرنسپل تھی) کی زیر قیادت کام کررہا تھا۔ مرینیلینی چتھو پا دھایا مہاتما گاندھی کے معتمد ساتھیوں میں ایک اور سروجنی نائیڈو کی بہن تھی۔ اس کی دوسری بہن سہا شینی بھی کمیونسٹ شعلہ بیان مقرر ہ تھی۔ اس نے بہت سی طالبات کو متاثر کیا۔ جن میں پیرین بھٹا چاریہ، کٹی بھٹا چاریہ اور سوار تنترا بھگت شامل تھیں۔ وہ اس کی رہنمائی میں جلوسوں میں سرخ پرچم لے کر نکلتی تھیں۔ موخر الذکر دو لڑکیوں کا تعلق کنیئرڈ کالج سے تھا، جو اگرچہ طالبات کی سیاسی معاملات یا سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔ مگر اس وقت کی طالبات کی سرگرمیوں پر کوئی کنٹرول بھی نہیں تھا۔“ (8)

”کٹی بھٹا چاریہ اور سوار تنترا بھٹا چاریہ نے سر گنگا رام سکول کی اساتذہ شیلا بھاٹیہ اور سینہانیکرا کے ساتھ بائیں بازو کی ترقی پسند ادیبوں اور فن کاروں کی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔  ان کا ہدف برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے ہندوستانی خواتین کو تعلیم یافتہ بنانا تھا۔ اس عمل میں شامل کرنے کے لیے ان کی ہمت افزائی کرنا اور انہیں عمل پر راغب کرنے کے لیے انہوں نے ایک انوکھا تصور وضع کیا۔ انہوں نے اپنے سماجی پیغام کو گیتوں کے ذریعے پہنچایا، جو مقبول عام پنجابی دھنوں اور سروں پر خواتین کی ریلیوں اور جلسوں میں گائے جاتے تھے۔ ان نغموں کو لکھنے اور گانے والی شیلا بھاٹیہ (جو پہلے پنجابی اوپیرا ہیر رانجھا کی مصنفہ تھی) اور سنیہا نیکرا، جو بلند سریلی آواز میں گانے کی ماہر تھی، تھیں۔ جن کے ساتھ سوار تنترا کی پرجوش اور جذباتی آواز شامل تھی:

اٹھ کھڑ کڑئیے مٹیارے نی

تیرا دیش تینوں للکارے نی

تو آپ بھک مٹانی اے

تو آپ ننگ مٹانی اے

ان خواتین کا عام لوگوں کی بیداری میں فوک موسیقی کا انقلابی استعمال، ایک سنگ میل تھا۔ یہ عمل پورے ہندوستان کے سماجی کارکنوں اور اس فیلڈ میں کام کرنے والوں میں بہت مقبول ہوا۔“ (9)

اس طرح ہندوستان میں عورتوں کی تحریک محنت کش طبقے کی تحریک اور تحریکِ ہند کے جلو میں آگے بڑھتی رہی۔اس کا مقصد برطانوی سامراج سے ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ  بورواژی سے محنت کش طبقے کی آزادی اورعورتوں کی نجات تھا،جس نے انہیں سوشلزم کی جدوجہد سے مربوط کردیا۔کیوں کہ عورتیں جان چکی تھیں کہ  ان کی نجات کا واحد راستہ سوشلزم ہے۔

 

ریفرنسز

  1. Reno Chakravartty. Communists in Indian Women’s Movement: 1940-1950. New Delhi: People’s Publishing House, 1980. P. 152.

2.Ibid. P.155.

  1. Ibid. P.182-183.
  2. Ibid. P.10.
  3. Ibid. P.13.

6.Ibid. Pp21-24.

  1. Ibid P.67.
  2. Reena Nanda. From Quetta to Delhi: A Partition Story. New Delhi: Bloomsbury Publishing India Pvt, Ltd, 2018 P 120.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*