تہنیت

نوازشیں ہیں وقت کی

کہ آ ج پھر

ہمارے ہاتھ پر دھری ہیں مہلتیں

اب کے سال پھرانہیں گنوا ئیں گے؟

کہ وہ جو وحشتوں کی بھیڑبھاڑمیں

کھو دیا کہیں

وہ اپنا چہرہ ڈھوند لا ئیں گے

تازہ مہلتوں کی تہنیت

عزیزو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے کیوں!۔

دل میں اک ہمک سی ہے

یقیں سا ہے

کہ جیسے

اب کے سال کی کتا ب ہم

ورق ورق

زندگی لکھیں گے

عشق حاشے بنا ئیں گے

ایک اک اندھیری کوٹھری میں اپنی

روشنی اگا ئیں گے

ہمک سی ہے

کہ اب کے سال

وحشتوں کی بھیڑ سے

خود کوڈھونڈ لائیں گے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*