مادری قومی زبان

‘ہمیں اپنی عام روزمرہ گفتگو میں اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اج جو شخص بھی اس ملک کے کیے صرف "ایک قومی زبان ” یا ایک قومی ثقافت کا لفظ استعمال کرتا ہے، وہ دراصل ملک کی فیڈریٹنگ یونٹس کو ملیامیٹ کر رہا ہوتا ہے ۔پھر ایک اور لفظ تو انتہائی تذلیل کرنے والا اور درندہ لفظ ہے: ” علاقائی زبان” _ پنجابی علاقائی نہیں ،پورے برصغیر کی زبان ہے ۔بلوچی علاقائی نہیں ،چار ملکوں کی زبان ہے۔ پشتو ایک نہیں ،دو ملکوں کی زبان ہے۔ چناں چہ دوستو، آئندہ جو کوئی بھی اپ کے سامنے ہماری زبانوں کو علاقائی زبان کہے ،اس کے پیٹ کو قولنجی درد کی بد دعا دے دو۔”
شاہ محمد مری
کتاب: ہڑپہ سے شناسائی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*