ما ئے نی

ہانڈی میں رات

آنسوؤں کا نمک  اتنا تیز ہوگیا تھا

کہ وقت کی گیلی زبان پر کسیلا رنگ ٹھہر گیا ہے

دل کی آنگیٹھی پر رات آگ جلا کر بجھا ئی گئی

مگرایک کوئلہ

مٹی میں مستقل جاگتا رہ گیا

اور بیچاری  بادِ نسیم

اْسے  بجھانے میں ہاتھ  جھلسا گئی

گندمی شاخوں کی خوشبو

نتھنوں کے سراب میں

دور تلک ڈولتی رہی

مگر خوابیدہ شکم  سیر نہیں  ہو سکا

روہانسی نگاہ کرنوں کے

سرہانے سونے جانے لگی

تو ایک تیزابی لمحہ واویلا کرنے لگا

کان کے پردوں کے پیچھے شفق

کان پھاڑ دینے والی لوریاں  گاتی رہی

اور میں صبح تک

گود کی ویرانیوں کو

تھپک کر سلاتی رہی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*