مچ جیل سے سجادظہیر کا خط

سنٹرل جیل مچ بلوچستان

میری پیاری!(رضیہ سجاد ظہیر)

۔18ستمبر کے بعد سے ابھی تک مجھے تمہارا کوئی خط نہیں ملا ہے۔ یعنی تین ہفتے سے اُمید کر رہا ہوں کہ اس ہفتے تمہارا خط ملے۔ جیسا میں نے تم کو اپنے آخری خط میں لکھا تھا کہ اب تم خط براہ راست سنٹرل جیل مچھ کے پتے پر بھیجو۔ سرکار کا حکم اب یہ ہے کہ ہمارے خط اب لاہور کے بجائے کوئٹہ میں سنسر ہوں گے۔ اس طرح خط پہلے کے مقابلے میں کسی قدر جلد ہی مل جائیں گے۔ کم از کم ہمیں اُمید یہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ہمیں ”شاہراہ“ کا افسانہ نمبر ملا۔ اس میں تمہارا ترجمہ کیا ہوا افسانہ بھی تھا، جو ظاہر ہے کہ میں نے سب سے پہلے پڑھا۔ تمہارے ترجمہ کی تعریف کرنا فضول ہے اس لیے کہ اس فن کی ماہر تو تم کو سبھی تسلیم کر چکے ہیں۔ افسانہ کو پڑھ کر ہم اپنے بارے میں سوچتے رہے۔ مدتوں اور برسوں کی جدائی کے بعد جب تم سے ملیں گے، تو عمر اور فکر اور رنج کی بنائی ہوئی بہت سی لکیریں ہمارے چہرے پر ہوں گی۔ بہت غیر مانوس اور عجیب عادتیں ہوں گی، اور پتہ نہیں کیا کیا عجائب وغیرائب ہوں گے۔ معلوم نہیں ہم تمہیں کیسے لگیں۔؟ بہر حال اِس ”واپسی“ کا خیال کرتے ہیں تو دل کافی دھڑکتا ہے اور سب احساسات سے زیادہ ہی جذبہ ہوتا ہے کہ واپسی جلدی ہو۔ آج  15اکتوبر کو ہماری سزا کے پورے آٹھ مہینے ہوگئے۔ اگر وہ مدت جو ہم نے دورانِ مقدمہ جیل میں کاٹی ہے، سزا کی قید  میں شامل کر لی جائے، اور اگر ہمیں ہر سال میں چار مہینے کی معافی ملے تو اس کا حساب سے دو سال آٹھ مہینے میں رہا ہونا چاہیے۔ لیکن مجھے اس کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی۔ اس لیے شاید ابھی دو سال تو جیل میں اور ہی رہنا پڑے  اور اگر بلوچستان کی جیل میں رہے تو اس سے بھی زیادہ۔ اس لیے کہ یہاں سُنتے ہیں کہ پاکستان کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں ”معافی“ بھی کم ملتی ہے  اور شاید منجملہ اور باتوں کے ہمارے یہاں بھیجے جانے کا منشاء بھی یہی ہے۔ البتہ وقتاً فوقتاًخوش گوار قسم کی افواہیں سُنتے رہتے ہیں۔ بہر حال اُمید کا چراغ ہمیشہ دل میں جلتا رہا ہے کہ شاید اس رات کی سحر ہو جائے۔

پرسوں کراچی کے ”افکار“ کے پانچ نمبر یکا یک آگئے۔ مجھے معلوم ہی نہیں کہ بھوپال والے صہبا صاحب (جو لکھنوی ہیں) اتنا اچھا پرچہ باقاعدگی سے نکال رہے ہیں!۔ تم کو ”افکار“ ملتا ہے؟۔ اس میں مجتبیٰ حسین کا ایک بڑا لمبا چوڑا مضمون ہے۔ ”چوذوق نغمہ کمیابی، ہے۔ ا س، میں بڑی محنت سے انہوں نے آج کے چند ادیبوں اور شاعروں پر تنقید کی ہے اور بعض جگہ پرشاعروں اور افسانہ نگاروں پر اُن کی رائیں ذاتی پسند پر مبنی معلوم ہوتی ہیں او ر ٹھوس دلیلوں پر نہیں۔ پھر بھی فی الجملہ ان کی تنقید مفید ہے۔ ممتاز (حسین) کی تنقید نگاری کی تنقید بہت دلچسپ ہے۔ یہی بات تو مجھے بھی کھٹکتی ہے کہ نظریاتی اعتبار سے بہت مضبوط اور صحیح ہونے کے باوجود جب اپنی پسند اور ناپسند کے شعراور نظموں کا ذکر کر تے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شعرا کی اصل روح کو چھو نہیں سکے۔ پھر اُن کا طرز کافی الجھا ہوا ہوتا ہے۔ کاش کہ وہ اُردو سلیس عبارت لکھتے!۔ تم نے اگر افکار والوں کو خط لکھا تو اُن کا میری طرف  سے شکریہ ادا کردینا کہ انہوں نے مجھے رسالہ بھیجنا شروع کردیا، اُمید ہے کہ برابرجاری رہے گا۔

”تہذیب“ حیدر آباد سے آنے کے بعد بلکہ جون سے مجھے نہیں ملا ہے۔ ”افکار“ بھی ابھی تک نہیں ملا اور نہ ”’ہمارا ادب“۔ پتہ نہیں اس کا نیا نمبر نکلایا نہیں۔ اب میں اپنی کتاب کا دسواں باب لکھ رہا ہوں۔ بہت ساری رکاوٹوں اور کتابوں کی کمی کے باوجود سوچتا ہوں کہ جیسے تیسے اسے جلدی ختم کرلوں۔ کاش کہ تم اسے پڑھ کر اپنی رائے دے سکتیں۔ تمہاری ہی ترغیب اور رائے سے میں نے اسے لکھنا شروع کیا تھا اور اب جبکہ اس کا خاتمہ نظروں کے سامنے آگیا ہے۔ (کوئی ساڑھے تین سو صفحوں کی کتاب ہوگی) تو کافی متوحش ہوں اور پتہ نہیں کہ کتاب کیسی ہوگی۔ اگر فیض کا ساتھ ہوتا پھر بھی غنیمت تھا۔ اس کی رائے تو معلوم ہو جاتی اور لکھنے کے دوران میں مشورہ اور بحث بھی کرلیتے۔

اس ہفتہ میرے پاس منٹگمری جیل سے ہمارے ایک ”مجرم“ ساتھی میجر اسحٰق محمد کا خط آیا۔ اب فیض بھی وہاں پہنچ گئے ہیں۔ خط کے ساتھ فیض کی ایک نئی غزل بھی تھی، جو انہوں نے کراچی جیل میں کہی تھی۔ اس سے بہتر تحفہ میرے لیے اور کیا ہوسکتا تھا۔ مطلع ہے۔

راہِ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے

شب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہے

اور اہم اسیروں کے ”روزگار“ کے بارے میں کیسی سچی بات فیض نے کہی ہے۔

خیال یار، کبھی ذکریار کرتے رہے

اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے

چراغ بزم جہاں بار بار ماند ہوئے

حدیث شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے

 

اور دیکھو یہ شعر کتنا زوردار ہے:

ہم اپنے راز پہ نازاں تھے، شرمسار نہ تھے

ہر ایک سے ہم سخن راز دار کرتے رہے

”سخن رازدار“ کی ترکیب کتنی اچھی اور چونکا دینے والی اور نئی ہے، اور آخری شعر ہے۔

انہی کے فیض سے بازار ِعقل روشن ہے

جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

بھئی فیض نے دیکھو کس طرح مجاز سے حقیقت کے پہلو نکالے ہیں۔

اگلے ہفتے ہم تم کو اور بوبو کو خط نہ لکھیں گے۔ معاف کرنا اسحٰق کے خط کا جواب دینا ضروری ہے۔ اس نے فیض کی غزل بھیج کر مجھ پر بڑا احسان کیا ہے ۔

اسحٰق محمد نے یہ بھی لکھا ہے کہ تم کو ان کی طرف سے سلام لکھ دوں۔

گزشتہ ہفتے میں نے نجمہ بی بی اور نسیم بیٹی کو خط لکھا ہے، اُمید ہے انہیں مل گیا ہوگا۔ میری تینوں پریاں کیسی ہیں۔ بہت دنوں سے اُن کے بارے میں مفصل نہیں لکھا۔ ان کی باتیں لکھو، ان کے کھیل، ان کی شرارتیں اور چھوٹی کو میری یاد دلاؤ کہ اپنے ان دیکھے ابا کو بھولیں مت اور وہ بھی  اے۔ بی۔ سی۔ ڈی وغیرہ جو جانتی ہو، اب کی مجھے لکھے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*