مجال

اے زندگی

بنی تیری بندگی

یہ جو گھڑی گھڑی کا حساب ہے

نہ سود ہے نہ زیاں یہاں

یہ تو مثل راندہ خوار ہے

کہاں کے سجود،

کن کے وجود

جو پلٹ دے توْ،

تو سب ہی مات ہے

وہ ہے بے نیاز،

تو ہے بے ثبات

میرا وجود بھی خود،میں سراب ہے

جو بِتا دیا یا بتا دیا

فرق کس کو ہے

کیا ہے داستاں

وہ بنے گی جب،

تو سنے گی تب

لکھ پائے جو حق، حرف حرف

وہ تو خاک مرقد،کا،لعاب ہے

وہ کفن کدھر،وہ چتا کدھر،

نہ وجود کو طلب آب حیات ہے

یہ جو لے ہے سانسوں کی چل رہی

اے مکاِرعبث

یہ تیری بچھاء اک بساط ہے

تو حساب لے،تو کتاب لے

جو خاکی گھڑا،سو بنا ستر ماں

فطرت میں نہ نوری رہا، نہ ناری رہا

یہی تیرا یوم حساب ہے۔

کیا گلہ کریں،

کیا صدائیں دیں

کہ مقام تیرا شہ رگ میں ہے

رگیں تیرے بس،سانس کرے قبض

تْو بتا تو پھر،

میری کہیں،کیا مجال ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*