سنگت پوہ زانت اور توسیعی اجلاس

 

سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ماہانہ علمی نشست پوہ زانت 30جنوری 2022ءکی صبح پروفیشنل اکیڈمی کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ نشست میں اکیڈمی کے اراکین نے شرکت کی۔ نشست کی صدارت مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عطاءاللہ بزنجو نے کی، جب کہ ڈپٹی سیکریٹری جنرل نجیب سائر ملازمتی مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے۔نظامت کے فرائض عابد میر نے سرانجام دیے۔ یہ نشست دو حصوں پر مشتمل تھی۔پہلے حصے میں پوہ و زانت کے سلسلے میں عابدہ رحمان نے ماہتاک سنگت کے جنوری کے شمارے پر تبصرہ اور ڈاکٹر منیر رئیسانی نے شاعری سنائی۔ دوسرے حصے میں سنگت کابینہ کا توسیعی اجلاس ہوا اور کچھ اہم تنظیمی فیصلے لیے گئے۔
عابدہ رحمان نے سنگت پر تبصرہ کرتے ہوئے تمثیلی انداز اپنایا۔ اس نے سنگت رسالے کو کوئٹہ کی لوکل بس بنا کر، کوئٹے کی لوکل زبان اور محاورے کو استعمال کیا، اور اسی زبان میں اداریے سے لے کر، مضامین، کہانیوں اور شاعری پر دلچسپ انداز میں تبصرہ کیا۔ اس کے اس منفرد انداز کو شرکائے مجلس نے پسند کیا اور کہا کہ یہ تخلیقی تبصرہ ہے، گو کہ کچھ طویل ہے مگر اپنے دلچسپ اندازِ بیاں کے باعث اس کی طوالت محسوس نہیں ہوتی۔ آئندہ ماہ کے سنگت پرتبصرے کی ذمے داری ڈاکٹر منیر رئیسانی کو دی گئی۔
ڈاکٹر منیر رئیسانی نے اپنی شاعری سنائی۔
آخری خوابِ محبت ہم ہیں
دیکھ لو ہم کو، غنیمت ہم ہیں
ریزہ ریزہ وجود ہیں لیکن
وحشت ِ شوق کی قیمت ہم ہیں
اس کے بعد پوہ زانت کی قراردادیں ڈاکٹر جہانگیر جبران نے پڑھ کر سنائیں اور حاضرین سے اس کی منظوری لی۔ قراردادوں کا متن درج ذیل ہے؛
1۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
2۔ مہنگائی کے تیزرفتار طوفان کی روک تھام کی جائے اور مہنگائی کے تناسب سے سرکاری و غیرسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
3۔پاکستان کا کرپٹ ملکوں کی فہرست میں 140ویں نمبر پر نام آنا باعث ِ تشویش ہے، اور اس کی ذمے داری حکم ران طبقات پر عائد ہوتی ہے۔
4۔ریکوڈک، سیندک اور بلوچستان کے دیگر وسائل پر سودابازی نامنظور ہے۔
5۔بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی تک بے روزگاری الاو¿نس دیا جائے۔
6۔بلوچستان کے ماہی گیروں کے مسائل حل کیے جائیں۔
7۔بلوچستان میں اٹھارویں ترمیم کو نافذ کر کے صوبائی خودمختاری فراہم کی جائے۔
8۔بلوچستان کے ہسپتالوں میں اوپی ڈی کو بحال کر ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے اور غریب عوام کو مزید تکلیف سے بچایا جائے۔
آخر میں صدرِ مجلس مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عطاءاللہ بزنجو نے اپنے خیالات کا اظہا رکرتے ہوئے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج کی نشست بھرپور رہی۔ عابدہ رحمان نے جس طرح ایک نئے اور منفرد انداز میں سنگت پرتبصرہ کیا، وہ زبردست تھا۔ اسی طرح ہم سب کو ’مچئِ مونا‘ ہوتے ہوئے سنگت کے سلسلے کو آگے بڑھانا چاہیے اور سنگت کے جو اراکین اس میں حصہ نہیں ڈال رہے، وہ بھی اپنا تحریری حصہ ڈالیں۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی کا شکریہ کہ انھوں نے اپنی شاعری سے ہمیں محظوظ کیا۔ ان کی شاعری ، جیسا کہ عابدہ نے بھی اپنے تبصرے میں کہا کہ ہمیشہ ہمیں تازگی بخشتی ہے۔ آج بھی ہم ان کی شاعری سے تازہ دم ہوئے۔ ڈاکٹر عطاءاللہ بزنجو نے اپنی گفتگو کا اختتام فیض صاحب کے اشعار سے کیا۔
نشست کے دوسرے حصے میں سنگت اکیڈمی کی کابینہ کا توسیعی اجلاس ہوا۔ جس میں سنگت کی تنظیم کاری، فیکلٹیز کی فعالیت، ان کے لیے عہدے داروں کا تعین کیا گیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر مندرجہ ذیل فیصلے لیے گئے:
1۔ فیکلٹیز کو فعال کیا جائے۔ فیکلٹیز زیادہ جب کہ افرادی اور تنظیمی قوت کم ہونے کے باعث فی الحال کچھ فیکلٹیز کو ضم کیا جائے۔
اس فیصلے کے تحت مندرجہ ذیل فیکلٹیز کا تعین کیا گیا:
الف: لٹریچر، کلچر، ایجوکیشن، جینڈر پر مبنی ایک فیکلٹی(فیکلٹی آف سوشل سائنسز)
ب: ہیلتھ اور میڈیکل سائنسز پر مبنی دوسری فیکلٹی
ج: پوہ و زانت و میڈیا فیکلٹی
2۔ ان فیکلٹیز کے چیئرپرسنز سینٹرل کمیٹی سے اور ڈپٹی چیئرپرسن سینئر اراکین میں سے لیے جائیں۔
3۔ مندرجہ بالا فیصلے کے تحت مذکورہ فیکلٹیز کے لیے مندرجہ ذیل اراکین کے نام تجویز کیے گئے:
اکرم مینگل(چیئرپرسن، فیکلٹی آف سوشل سائنسز)
پروفیسر جاوید اختر(ڈپٹی چیئرپرسن)
نواز مری(چیئرپرسن، فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز)
ڈاکٹر منیر رئیسانی(ڈپٹی چیئرپرسن)
سیف کھوسو(چیئرپرسن،فیکلٹی آف پوہ زانت)
عابد میر(ڈپٹی چیئرپرسن)
4۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور میڈیکل سائنسز کے چیئرپرسنز اس بات کے ذمے دار ہوں گے کہ ہر ماہ کم از کم ایک مضمون اور متعلقہ موضوعات پہ قراردادیں فیکلٹی آف پوہ زانت کو بھجوائیں۔ پوہ زانت کے چیئرپرسن کابینہ کے مشورے سے نشست میں پڑھے جانے والے مقالات کاتعین کریں گے۔
5۔ قراردادوں میں کوئی بھی اضافہ، کسی بھی ممبر کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ کابینہ اراکین کریں گے۔
نیز طے کیا گیا کہ آج کے تمام تنظیمی فیصلے اگلے ماہ ہونے والے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے اور وہاں سے ان کی حتمی منظوری لی جائے گی۔
چائے کے بعد نشست کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*