نجیب بھی جمال بھی کمال ہی کمال ہے

میکسم گورکی کا قول ہے ”یہ دنیاہر شخص کے لیے اندھیری رات ہے ،یہاں ہر شخص کو اپنی ہمت سے اجالا کرنا ہے“۔ نجیب جمال نے بلا شبہ اپنی ہمت سے اپنی دنیا پیدا کی ہے ۔آپ بے مثل استاد،محقق، مصنف اور نقاد ہیں۔وہ خود اپنے بارے میں لکھتے کہ ”میں شاید وہ سب کچھ کہہ نہیں پا یا اور وہ سب کچھ لکھ نہیں پایا ،جو کہنا اور لکھنا چاہتا تھا“ ۔یہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو خوب سے خوب تر کی طرف لے جاتا ہے ´۔اسی جذبے نے ان سے بہت سی کتابیںلکھوائیں ۔تاہم اس وقت میرے پیش نظر ان کی کتاب ”یگانہ ۔۔۔ شخصیت اور فن “ہے ۔یہ اصل میں اُن کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ہے ،جوڈاکٹر فرمان فتح پوری کے ایما پر خود انہی کی زیر نگرانی لکھا گیا ۔
کتاب بارہ ابواب پر مشتمل ہے ۔ان بارہ ابواب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلے حصے میںحالات زندگی،معرکہ آرائیوںاور کشا کشِ حیات کا تذکرہ ہے ۔دوسرے حصے میں یگانہ کی تصانیف و تالیفات کاذکرہے،جبکہ تیسرے حصے میں ٰ یگانہ کے فن اور آرٹ پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے ۔۔۔1884سے 1956تک کا زمانہ سیا سی انقلابات کا وہ زمانہ تھا ،جو انیسویں صدی سے شروع ہو کر پوری بیسویں صدی پر محیط نظرآتا ہے ۔اس دور میں اردو غزل کے فکری اور سماجی عوامل نے اپنے تہذیبی اور سماجی رجحانات کو سمیٹااور ثقا فتی اورمعاشرتی حقیقتوں کو پیش کیا ۔مذہب سے سیاست تک کے بدلتے رویوں کا بنظر غائر جائزہ لیا گیا۔بیسویں صدی عالمی بیداری کی وہ صدی ہے ،جس میں ہندوستان میںبے شمار تحریکوں نے جنم لیا تھا ۔سیاسی کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلیاں بھی رو نما ہوئی تھیں ۔یگانہ کے کلام نظم و نثر میں ایسے داخلی شواہد بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اورنگ زیب کے مقابلے میں داراشکوہ کی وسیع المشربی ،شاہ ولی اللہ کے آزادانہ نکتہ نظر،سر سید کے جدید علم الکلام اور فرنگی محل کے افکار سے متاثرتھے،لیکن لکھنﺅ کے خاندان اجتہاد کے مخالف تھے۔اگر چہ اس دور میں مذہب ،تہذیب اور ثقافت میںباہمی ربط نظرآتا ہے لیکن تہذیب مغرب نے فکری اور علمی افلاس کے اس دور میں ذہنی غلامی،محکومی اور مایوسی کو جنم دیا ۔ان حالات میں سرسید کی علی گڑھ تحریک اور اس کے پس منظر میں شاہ ولی اللہ کی کوششیں بارآور نظرآتی ہیں۔بنگال کے راجہ رام موہن رائے نے مغرب کو مشرق کے تہذیبی افکارسے سے متعارف کروانے کی کوشش کی لیکن 1857 نے قدیم اور جدید اقدار کو بالکل الگ کر دیا۔1870میں تہذیب الاخلاق کا جراءہوا ۔یگانہ کی تحریروں میں تہذیب الاخلاق کے اثرات واضح طورپر نظرآتے ہیں۔یگانہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ ان کی زمانے سے اور زمانے کی ان سے نبھ نہ سکی ۔کہتے ہیں کہ لفظوں کے دانت نہیں ہوتے لیکن ان کی کاٹ بہت زبردست ہوتی ہے ۔یہ مقولہ یگانہ پر صادق آتا ہے ۔انہوں نے تمام عمر لکھنو اوراہل لکھنو سے پھڈا پالا ،ہم عصر شعراءکو کبھی خاطر میں نہ لائے ۔انتظار حسین کے بقول وہ فرقہ ملامتیہ کے آدمی نظرآتے ہیں۔وجہ ایک یہ بھی تھی کہ زمانے نے انہیں بری طرح نظرانداز کیا تھا ۔لفظ تو ویسے بھی دوستی اور دشمنی پر قادر ہوتے ہیں ، بس پھر عقل و فہم اور احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے جس قسم کے لفظوںکا استعمال کیا ،ان لفظوں نے بلا شبہ ایک منفرد شاعر کو زمانے کے خلاف برسر پیکار کردیا تھا ا۔معاشرتی اور اجتماعی یلغار نے ان کے اندر جلنے والے الاﺅ کوآتش سیال بنا دیاتھا۔۔۔۔
شربت کا گھونٹ جان کے پیتے ہیں خون دل
غم کھاتے کھاتے منہ کامزہ تک بگڑ گیا
ان حالات کے باوجود ہمیں ٰیگانہ کے ہاں مرگ پسندی کا رجحان نہیں بلکہ جینے کی امنگ نظرآتی ہے ۔
دنیا سے جانے کو جی چاہتا نہیں
واللہ کیا کشش ہے اس اجڑے دیار میں
مذہب سے کبھی ان کا نبھاہ نہ ہو سکا۔ان کی خود ستائی اور انتہا پسندی نے ہمیشہ ان کے راستے میں کانٹے بچھائے ۔یگانہ کو غالب شکن بھی کہا جاتا ہے ۔غالب شنا سی کے میدان میں فلسفہ اور تحقیق کو جس نہج پر ڈالا ،اس سے غالب کی خامیوں اور کمزوریوں پر گرفت کرنے کا چلن پیدا ہوا۔
1914 سے 1947تک تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا ۔اس دوران یگانہ کے چار شعری مجموعے نشتر یاس،آیات وجدانی،ترانہ اور گنجینہ شائع ہوئے ۔علم عروض اور قوافی پر مشتمل کتاب لکھی،دوادبی رسائل کار امروز اور صحیفہ کے نام سے جاری کئے۔شہرت کا ذبہ اور غالب شکن وہ متنازعہ تصانیف ہیں جنہوں نے یگانہ کو مصائب اور مسائل میں الجھا کر رکھ دیا ۔تحقیقی اور تنقیدی مضامین کے علاوہ یگانہ نے تاریخی ،مذہبی ۔علمی اور انشائی مضامین بھی لکھے۔تراجم لکھے ،سوانحی تحریریں لکھیں۔تاہم علم کے فقدان اور اطمینان قلب کی کمی نے ان کے مضامین میں گہرائی اور گیرائی پیدا نہ ہونے دی۔ تلخیوںکے ہجوم میںخوشی کا پہلو ڈھونڈھ نکالنا بہت مشکل فن ہے ،اس فن کا زبردست ماہر یگانہ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا۔غزل ہو یا رباعی ،نظم ہو یا نثر پیچیدہ مضمون کو سادگی اور صفائی کے ساتھ پیش کردیناانتہائے کمال ہے۔یگانگی،بیگانگی،حسن اور عکس سب یگانہ کے شد ید احساس تنہائی کی پیداوار ہے ۔ یہ اثرات ان کے افکار پر نمایاں نظرآتے ہیں ،وہ خود کہتے ہیں ۔۔۔
خدا ہی جانے یگانہ میں کون ہوں کیا ہوں
خود اپنی ذات پہ شک آئے ہیں کیا کیا
والد کی وفات کے بعد ان کی منجھلی بیٹی مریم جہاں نے پونا سے آکر والد کی قبر پختہ کرئی اور اس پر کتبہ نصب کرایا، جس پر لکھا تھا
مرزا واجد حسین چنگیزی یگانہ تاریخ پیدائش۔۔17 اکتوبر1884 تاریخ وفات۔۔۔4فروری 1956 خود پرستی کیجیے یاحق پرستی کیجیے ۔
آہ کس دن کے لئے ناحق پرستی کیجیے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*