سوشلزم کا ارتقا

کسی نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ ”کوئی بھی انسان تاریخ بنا سکتاہے لیکن صرف عظیم آدمی ہی اسے لکھ سکتا ہے“۔ اور پھر کہا گیا ہے کہ ”میں جب غریب کو کھانا دیتا ہوں تو مجھے صوفی کہا جاتا ہے اور جب پوچھتا ہوں غریب کے پاس کھانا کیوں نہیں ہے تو مجھے کمیونسٹ کہا جاتا ہے“۔ اور سبطِ حسن صاحب تو تاریخ لکھتے ہیں،وہ بھی سوشلزم کی۔
سبطِ حسن صاحب کی کتاب موسیٰ سے مارکس تک دراصل موسوی دور سے لے کر کارل مارکس تک سوشلزم کی تاریخ اور ارتقا کا احوال ہے۔انھوں نے مختلف ادوار میں انسانی معاشرے کے نظام، معاشی ضروریات اور ان کے لیے اپنائے گئے اشتراکی نظام کا ارتقابیان کیا ہے۔ معاشرے کی مادی تشکیل اور معاشرے کے معاشی نظام کو سمجھنے کے لیے یہ زبردست کتاب ہے۔کس طرح افلاطون کے دور میں معاشرے کی تشکیل ہوئی، کن فلسفیوں نے ان کی تائید کی اور کن لوگوں نے مخالفت کی۔یورپ میں کب اشتراکیت کو تقویت ملی اور کن لوگوں نے مثالی اشتراکی معاشرے کی تجویز پیش کی؟خیالی سوشلسٹ اور سائنسی سوشلسٹ کون لوگ تھے اور ان کے نظریات میں کیا فرق تھا؟ان سب باتوں کے علاوہ کارل مارکس کے حالاتِ زندگی اور سیاسی جدوجہد بڑی تفصیل سے تحریر کیے گئے ہیں۔یورپ کے سیاسی حالات اور مزدوروں کے انقلابی اقدامات بھی مفصل بیان ہوئے ہیں۔یہ کتاب ہمیں تفصیل سے بتاتی ہے کہ سرمایہ دار اور جاگیردار کس طرح مزدوروں کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں اور کس طرح کم زور طبقے کی فکری تشکیل کی جاتی ہے۔
کتاب کو بیس ابواب میں تقسیم کیا گیاہے۔
ابتدائی ابواب میں وہ بتاتے ہیں کہ دنیا میں جب سائنس کی نئی نئی شاخوں نے جنم لینا شروع کیا تو خام مال کی تلاش میں دنیا کا کونا کونا چھانا گیا۔تب آثارِ قدیمہ کے کھنڈرات نے کئی قوموں کے طرزِ زندگی اور ادب و فن سے پردے ہٹائے اور یوں نظریہ ارتقا کا جنم ہوا اور آگے چل کر اسی نظریے سے تاریخی شہادتوں نے اس بات کو غلط ثابت کیا کہ کائنات کی تخلیق چھ دن میں ہوئی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہ نظریہ سب سے پہلے فرانسیسی سائنس دان ڑان لمارک اور پھر نظریہ ئ ارتقا کے اصل موجد ڈارون نے پیش کیا۔وہ کہتا ہے کہ پودوں، جانوروں بلکہ بنی نوع انسان تک کو کسی نے نہیں بنایا بلکہ نامیاتی مادے سے ترقی کر کے موجودہ سطح تک پہنچے ہیں اور یہ کہ معاشرے کے اندر رہتے ہوئے ہی انسان کے شعور نے ترقی کی۔
وہ لکھتے ہیں کہ انسان قدیم دور میں شکار سے مل جل کر خوراک حاصل کیا کرتے تھے اور پھر آپس میں بانٹ لیا کرتے تھے۔ یہ دور لاکھوں برس پر مشتمل ہے اور یہی ابتدائی کمیونزم کہلاتا ہے۔
اچھا اس کتاب میں سوشلزم کا اور کمیونزم کا فرق بھی بتایا اور دوسری یہ بات جو کبھی کبھی مجھے کنفیوز کر دیتی تھی کہ سوشلسٹ معاشرے میں کسی شخص کو ذاتی ملکیت کا حق نہیں ہوتا،اسے سبطِ صاحب نے تہمت قرار دیا۔
سائنسی سوشلزم کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ سماجی نظام جس میں پیداوار کے تمام ذرائع زمین، معدنیات،کارخانے، فیکٹریاں،بینک، تجارت وغیرہ معاشرے کی مشترکہ ملکیت ہوتے ہیں اور ان کی پیداوار جسمانی اور ذہنی کام کرنے والوں کی تخلیقی محنت کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے جب کہ کمیونزم کو وہ سائنسی سوشلزم کا اگلا قدم کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ اشتراکی نظام ہے جس میں پیداواری قوتیں اور پیداوار دونوں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ اشیائے صرف کے استعمال کا پیمانہ افراد کی محنت نہیں ہوتابلکہ ان کی ضرورت ہوتا ہے۔
کتاب کی تمہید باندھتے ہوئے ہی سبطِ حسن صاحب یہ الجھن دور کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ذاتی ملکیت دو طرح کی ہوتی ہے؛ ایک وہ ذاتی ملکیت جس کے ذریعے دوسروں کی محنت کا استحصال کر کے اپنی دولت و ثروت بڑھائی جائے۔ مثلاً زمین، معدنیات، سرمایہ، فیکٹری، بینک وغیرہ۔اس قسم کی ذاتی ملکیت کو ذرائع پیداوار کہتے ہیں۔دوسری قسم کی ذاتی ملکیت وہ ہے جسے ہم اشیائے صرف کہتے ہیں۔ ان میں قدرِاستعمال تو ہوتی ہے مگر قدرِ تبادلہ نہیں ہوتی مثلا کپڑے، لتے، بھانڈے، برتن، گھربار، کتابیں، ریڈیو، گرامافون، سائیکل، موٹر،ہل بیل، ذاتی استعمال کے آلات و اوزار وغیرہ۔ وہ کہتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام میں اکثر لوگ ان چیزوں سے محروم رہتے ہیں جب کہ سوشلزم انھی چیزوں کو لوگوں میں عام کرنا چاہتا ہے۔ صاف بات ہے کہ سوشلزم میں اس قسم کی ذاتی ملکیت کو ختم کرنے کاسوال ہی نہیں بنتا۔
کتاب ابتدائی سوشلسٹ دنیا جو حضرت موسیٰ سے شروع ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ تک جاتی ہے، اس سب پر بحث کرتی ہے کہ مذاہب بھی تمام انسانوں کی برابری اور ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے دور میں بھی مویشی پورے قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہوتے تھے اور سب کا ان پر برابر حق ہوتا تھا۔ بارہویں صدی قبل مسیح میں جب انھوں نے اپنی قوم کو مصر سے فلسطین ہجرت کا حکم دیا تب وہاں من و سلویٰ کی بارش چالیس سال تک ہوتی رہی اوروہ ان کی محنت کاحاصل نہ ہونے کے باوجود قبائلی مساوات کے اصول کے مطابق ان میں برابر تقسیم ہوتا رہا۔ لیکن دریائے اردن کے کنارے جب حکم ہوا کہ اس کے مطابق اشتراکی زمین کی ملکیت نہ رہی۔وہ کہتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ ان پر وہ دور آیا ہی نہ ہو کیوں کہ ان کا آبائی پیشہ کھیتی باڑی نہیں بلکہ مویشی پالنا تھا۔اسرائیلی معاشرے میں تب ہی ذاتی ملکیت اور طبقات نے جنم لیا۔اسی دور میں کچھ لوگ آقا کچھ غلام، کچھ آجر، کچھ مزدورتھے۔ سبطِ حسن صاحب کہتے ہیں کہ یہی موسوی دور کا تضاد تھا کہ وہ ایک طرف تو پوری بنی اسرائیل قوم کو خوش حالی اور آسودگی کی نوید دیتا تھا اور دوسری طرف آقا اور غلام، بادشاہ اور رعایا، غنی اور محتاج کے طبقاتی فرق کو بھی جائز قرار دیتا تھا۔ آج کی طرح اس وقت بھی دولت مند طبقہ مذہبی رسوم پر خرچ کرتا تھا کہ اس سے یہواخوش ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ صاحبِ املاک طبقہ کو دولت و اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے طاقت چاہیے ہوتی ہے جو عوام کے شعور و اتحاد سے ملتی ہے جو کہ مفقود تھا۔ لہٰذا اشتراکی نظام کا تجربہ ان کے ساتھ ہی ختم ہوا۔
جزیرہ نما بلقان کا جنوبی علاقہ اسپارٹا جن کا پیشہ کھیتی باڑی تھا، اس میں لائی کرگس نے زمین کی از سرِ نو تقسیم کی تھی اور مشترکہ لنگر خانوں کو رواج دیا۔اس نے امراکی غیر منقولہ جائیداد، سونا، چاندی، زیورات وغیرہ کو بھی لوگوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا تھا۔اسپارٹا کی معاشرتی زندگی کو لائی کرگس کے اصولوں کے مطابق آگس پھر سے وضع کرنا چاہتا تھا لیکن اسے پھانسی دے دی گئی۔
افلاطون کی ریپبلک کا بھی ذکر ہوا جس میں کہا جاتا ہے کہ اس نے معاشرے کی تشکیل کا ایک جامع منصوبہ بتایا تھااور اسے مغرب والے پہلی اشتراکی دستاویز قرار دیتے ہیں۔ایتھنز کی زمین کاشت کاری کے لیے موزوں نہ ہونے کے باعث وہ غلہ درآمد کرتے اور زمین پر زیتون کے باغات اگا کر تیل برآمد کرنے لگے۔کمیونزم کا ڈھول بجانے کے باوجود وہ تجارت یا تجارتی پیداوارکو سب کی مشترکہ ملکیت ماننے اور غلام کو آزاد کرنے کے حق میں نہ تھے۔ بس قرضوں کی تنسیخ اور زمین کو برابر تقسیم کرنا چاہتے تھے۔جزیرہ سیموز کے لوگوں نے تب ہی بغاوت کی اور بے تحاشا امرا کو قتل کر کے زمین اور املاک کو آپس میں تقسیم کر لیا۔
سبطِ صاحب لکھتے ہیں کہ مسیحی اشتراکیت میں، فلسطین میں چار طبقات رہتے تھے؛ جن میں رومیوں کی حکومت تھی اور بنائین جنھوں نے اشتراکی بستیاں بنائی تھیں، یہ دونوں یہودیوں اور ان کے مذہبی معاملات سے کام نہیں رکھتے تھے۔ تیسرے فریسی تھے جو موسوی شرعیت کے پابند تھے جب کہ چوتھا طبقہ عام یہودیوں کا تھا جس میں کاشت کار، کاری گر، محنت کش تھے جو باقی سارے طبقات کے ظلم کا شکار تھے۔ اس لیے وہ بغاوت کرتے تھے اور اپنے نجات دہندہ کے منتظر تھے۔حضرت عیسیٰ نے تیس سال کی عمر میں تبلیغ شروع کی۔ ان کے خاص شاگرد بارہ تھے۔یہ سب دولت مندوں کے خلاف تھے۔ تین سال کے عرصے میں ہزاروں فلسطینی ان کے مرید ہوئے۔ وہ انسان دوست تھے اور انسانوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے اور پھر وہی ہوا کہ ان پر مذہب اور رومی سلطنت سے بغاوت کا الزام لگا کر مصلوب کر دیا گیا۔اس وقت دولت مند خود عیسائی ہوئے تو مسیحی کلیسا کو ایک اہم ستون کا درجہ مل گیا اور وہ ریاست کے ظالموں، لٹیروں کے لیے ایک پناہ گاہ کی حیثیت حاصل کر گیا۔
مزدک کی تحریک؛ پانچویں صدی عیسوی میں اس کے نام سے ایک بہت بڑی تحریک ابھری تھی۔مزدک ایک زرتشتی مولوی تھا، جنھیں موبد کہا جاتا تھا۔اس دور میں سخت طبقاتی نظام تھا۔غربت نسل درنسل چلتی تھی انسان کی تحقیر و تذلیل عام تھی۔سود خوری، ذخیرہ اندوزی کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ایسے میں مزدک نے آواز بلند کی کہ مال و دولت عوام میں تقسیم ہونا چاہیے کیوں کہ تمام انسان خدا نے پیدا کیے ہیں، پھر انسان حاجت مند کیوں ہو۔ قحط سالی کے دنوں کا ایک مزے دار واقعہ بیان کیا گیا کہ مزدک نے قباد سے عرض کی کہ جہاں پناہ اگر کسی شخص کے ہاتھ پائوں باندھ دیے جائیں اور اسے غذا نہ ملے اور وہ مر جائے جب کہ دوسرے شخص کے پاس غذا موجود ہو لیکن وہ زنجیر بستہ شخص کو کھانا نہ دے تو حضور فرمائیں کہ خوارک کا مالک خدا ترس ہے کہ نہیں۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ ایسے نابکار کاخون معاف ہے۔ یہ سن کر مزدک نے زمین کو بوسہ دیا اور قحط زدوں کے پاس آیا کہ جائوتمھیں جہاں کہیں گندم کے پوشیدہ ذخائر ملیں انھیں اپنے تصرف میں لائو، البتہ ذخیرہ اندوز اس کی قیمت مانگیں تو ادا کر دو۔ پس قحط زدہ بھوکوں نے اناج کے گودام لوٹ لیے حتیٰ کہ قباد کے ذخیرے بھی نہ بچے۔انسانی تاریخ کے اس پہلے سوشلسٹ نے انقلاب برپا کر دیا تو جاگیردار اور ملا ملوٹے یہ سب کہاں برداشت کر سکتے تھے، ہوا وہی کہ مزدکیوں کا قتلِ عام ہوا۔ یہ مزدکی تحریک پورے تیس سال تک جاری رہی۔
کتاب میں سر تھامس مور کی یوٹوپیا او ر جدید مادی فلسفے اور تجرباتی سائنس کے بانی بیکن کی مادیت اور خیالی سوشلزم کے بارے میں لکھتے ہوئے وہ انقلابِ فرانس تک پہنچ گئے۔سر تھامس مور نے بھی دولت کی ہوس کو مرض سے تشبیہ دی جو ذہنی سکون غارت کرتا ہے جب کہ اشتراکی معاشرے کو اس مرض سے بچائو کا ضامن قرار دیا۔
کتاب میں ایک باب مارکس کا فلسفہ بیگانگی پر بھی ہے۔ یہ میرے لیے ایک نئی چیز تھی۔ مارکس کہتا ہے کہ بیگانگی یا لاتعلقی نفسیات کی پرانی اصطلاح ہے اس سے مراد تشخصِ ذات کا زیاں ہے یعنی وہ ذہنی کیفیت جس کے باعث انسان اپنے معاشرے، اپنی تہذیب حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی کٹ جاتا ہے۔ سبطِ حسن صاحب لکھتے ہیں کہ اس ذہنی بیماری کی دوسری علامت لاچاری اور بے بسی کا شدید احساس ہے کہ میں نہ اپنے حالات کی اصلاح کر سکتا ہوں نہ میرے عمل سے دنیا میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
انقلاب ِ فرانس نے تین استحصالی ستون ملوکیت، جاگیریت اور کلیسائیت ختم کر دیے۔ کارل مارکس کہتا ہے کہ1648 کا انقلاب سولہویں صدی پر سترھویں صدی کی جیت تھا۔ 1789 کا انقلاب سترھویں صدی پر اٹھارویں صدی کی جیت تھا۔یہ انقلاب اپنے عہد کی دنیا کی ضرورتوں کا اظہار تھے نہ کہ ان علاقوں برطانیہ اور فرانس کی ضرورتوں کا اظہار جہاں وہ برپا ہوئے۔
گو کہ انقلابِ فرانس میں سرمایہ داروں کے ہاتھوں جاگیرداری نظام تو ختم ہوا لیکن اس کے باجود محنت کشوں کو اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔لہٰذا اس وقت کے سوشلسٹ سینٹ سائمن، رابرٹ اوون،چارلس فورئیروغیرہ نے سوشلزم پرلکھا کہ شاید وہ لوگوں کے دل جیت کر سرمایہ داروں سے محنت کشوں کی ڈیمانڈز منوا سکیں گے۔ ان کی کوششوں سے اور تو کچھ نہیں ہوا البتہ وہ اوقاتِ کار اٹھارہ گھنٹوں سے گھٹا کر کم سے کم کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن مزدوروں کی حالت جوں کی توں رہی۔ انقلابِ فرانس برپا ہوا۔ نپولین پھر سے برسرِ اقتدار آیااور تب 1818 میں شاہِ سوشلزم کارل مارکس آیا۔
تقریباً آدھی کتاب کارل مارکس، اس کی پیدائش، تعلیم،شادی،جدوجہد، کس طرح کارل مارکس اینگلز سے ملا،فریڈرک اینگلز اور ان دونوں کی انقلابی تصنیفات پر مشتمل ہے۔کارل مارکس 5مئی1818 کو جرمنی کے شہر ٹرائر میں پیدا ہوا۔وہیں تعلیم کے بعد وہ ستمبر 1835 میں بون یونیورسٹی میں داخل ہوا لیکن ایک سال بعد ہی برلن یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔فارغ اوقات میں اس نے عشقیہ نظمیں لکھیں۔لیکن اس کے بعدہمیشہ قانون اور فلسفہ پڑھتا رہا۔کارل مارکس نے شروع میں ہیگل کی تعلیمات کا مطالعہ کیا۔پیشے کا انتخاب کرتے ہوئے مارکس کا خیال تھا کہ وہی پیشہ اختیار کرنا چاہیے جس میں زیادہ سے زیادہ انسانی خدمت ہو۔ اس کی تحریروں نے آدھی دنیا کو متاثر کیا اور بیسویں صدی کے لیڈر لینن اور روسی انقلاب کے لیے بنیاد بنیں۔ اس سلسلے میں اس کا سب سے بڑا کام ’داس کیپٹل‘ہے جس کی چار جلدیں ہیں۔ پہلی جلد 1867 میں شائع ہوئی لیکن باقی جلدیں مارکس کی زندگی میں شائع نہ ہوسکیں۔کارل مارکس 1884 میں انتقال کر گیا۔اس کی وفات کے بعد اینگلز نے 1885، 1905 اور1910 میں باقی تینوں جلدیں شائع کیں۔اس کے علاوہ مارکس اور اینگلزنے 1848 میں کمیونسٹ مینی فیسٹو لکھا۔ کارل مارکس کی تحریروں نے سرمایہ داری نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔ اس نے سائنسی طور پر ثابت کہ کس طرح سرمایہ دار محنت کشوں کا استحصال کرتے ہیں۔اینگلز کی پہلی تصنیف ’انگلستان میں مزدور طبقے کی حالت‘ 1845 میں شائع ہوئی۔
نیویارک ٹریبیون میگزین میں لکھنے کے دوران اپنی تحریروں میں مارکس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کا تجزیہ کیا اوربتایاکہ کس طرح کمپنی نے دنیا کی مشہور کاٹن انڈسٹری کو تباہ کیا اور 1856 -1863  کے دوران کس طرح سے انڈیا کے صنعتی شہروں پر قبضہ کیا گیا، خام مال وہاں سے درآمد کیا اور اپنی فیکٹریوں میں بنا کر انڈیا لائے اور وہاں بیچا۔مارکس نے متعدد معاشی اصطلاحیں مثلاًمحنت، سرمایہ،قدر، قدرِ فاضل متعارف کرائیں۔
موسیٰ سے مارکس تک ایک مکمل سوشلسٹ تاریخ ہے۔ حضرت موسیٰ سے لے کر مارکس تک سوشلزم کن کن مراحل سے گزرا‘اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*