انوکھی کہانی

وہ پیدا تو مرد ہی ہوا تھا لیکن وہ مرد نہیں بننا چاہتا تھا ۔ ایسا مرد جسے اس معاشرے نے ہر قسم کی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ وہ ہر طرح کے ارتکابات کی آزادی لینے سے منکر تھا۔ اس آزادی سے اس کا دم گھٹتا تھا۔ وہ ارتکاب جس میں اعتراف نہ ہو پچھتاوا نہ ہو اُسے تکلیف دیتا تھا۔ اسی لیے جب بچپن میں اس کی ماں اسے کہتی :
” تم بھی لڑکے ہوجاﺅ باہر جاکر لڑکوں کے ساتھ کھیلو “
تو وہ دبک کر کسی کمرے میں چھپ جاتا۔ اسے جب لڑکوں کے سکول میں داخل کر وایا گیا تو صبح سکول جانے کے وقت اس کی چیخ و پکار سے سارا محلہ گونج رہا ہوتا ۔ اس کے ماں باپ کا خیال تھا کہ اسے نہ تو پڑھائی میں دلچسپی ہے اور نہ ہی کھیلنے کودنے میں۔
گھر میں استاد کا انتظام کیا گیا تو کئی گھوڑوں کی طاقت درکار ہوتی اُسے استاد کے سامنے کرسی پر بٹھانے کے لیے ۔ استاد کے ساتھ مستقل اس کی ننھی منی عداوت چلتی رہتی۔ وہ بسورتا ، وہ گھورتا وہ ہر ممکن طریقے سے استاد کو یہ پیغام دیتا کہ وہ اس سے نہیں پڑھے گا۔ اسے استاد ماننے سے اس کا انکار واضح اور پُر جوش تھا۔
ایک دن اس کی ماں نے دیکھا کہ وہ اپنی چچا زاد بہن کے پاس بیٹھا فر فر پڑھ رہا تھا۔ نہ بسور رہا تھا نہ گھور رہا تھا نہ چلا رہا تھا نہ چیخ رہا تھا ۔ شانت بیٹھا ایک اچھے طالب ِ علم کی طرح پوری دلچسپی سے اپنی کتاب میں مگن تھا۔
طے پایا کہ اب اس کی بہ کزن ہی تھوڑی سی توجہ اس کی طرف رکھے گئی۔ پڑھنے میں اس کی مدد کرے گی ۔
وہ ایک شاندار طالب علم بنا۔ پڑھنے لکھنے میں دلچسپی ،نئے لفظوں سے محبت کرنے والا۔ نئے خیال پر غور کرنے والا، لفظ اور خیال کے رشتے کو باریکی سے دیکھنے والا۔
لیکن اُسے مردانہ دلچسپیوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
اس کا خاندان دشمن رکھنے والا تھا ۔ قتل و خون ہوتے ہی رہتے تھے ۔ لیکن اسے صرف مقتولوں کی بیواﺅں اور بچیوں میں دلچسپی تھی ۔ اُن کی بہتری کے لیے سوچتا۔
کچن میں گھر کی خواتین کا ہاتھ بٹا تا بٹاتا خود فنِ طبا خی میں ماہر ہوگیا۔ ایسی شاندار روٹی بیلتا کہ خواتین بھی عش عش کر اٹھتیں۔
سویٹر بننے شروع کیے تو گھر کے ہر فرد نے اُسی کے ہاتھ کا بنا خوبصورت سویٹر پہنا ہوتا ۔ اس کا باپ اور بھائی سویٹر کی تعریف پر یہ بتاتے ہوئے ہچکچاتے کہ سویٹر اس نے بُنا ہے ۔ کڑھائی میں ایسے خوبصورت پھول بنانا کہ لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔ اس کا احساس جمال انہی راستوں سے گزر رہا تھا ۔
اس کے والدین اور بھائی اس سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ وہ بورڈ کے امتحانات میں پوزیشن لیتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی وہ ان کے لیے ذہنی انتشار اور خجالت کا باعث بن جاتا۔ چونکہ جو کچھ مردوں سے توقع رکھی جاتی وہ کرنا اُس کے بس میں نہیں تھا۔
وہ بڑا ہوا تو وہ ایک جوان رعنا تھا۔
ایک دن اُس کے والد اس کی ماں سے یہ کہتے سنے ۔
”یہ اپنا بیٹا کچھ انوکھا ہے ۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا کو سنوارے اور خوبصورت بنانے کی دھن میںمگن ہے۔ ہر روز مجھے مختلف لوگوں سے اس کے بارے میں نئی نئی اطلاعات ملتی ہیں۔ آج فلاں کے گھر پھولوں اور پھلوں کے پودے لگا رہا ہے ۔فلاں کے بچوں کو پڑھنے میں مدد دے رہا ہے ۔ نئے کھیل سکھا رہا ہے ۔ کسی کو ہار مونیم بجانا سکھا رہا ہے ۔ کہیں طبلے کے تھاپ پر رقص کر رہا ہے اور رقص سکھا رہا ہے ۔ بے چین روح“۔
اس کی ماں کا خیال تھا کہ جب یہ پیدا ہونے والا تھا تو اُن کی شدید خواہش تھی کہ یہ بیٹی ہو۔ پیدا تو بیٹا ہی ہوا لیکن ماں کی خواہش اس کے دل میں بس گئی اور قائم رہی۔
جب میں اُس سے ملی تو اس وقت ہم ایم ۔ اے کے پہلے سال میں داخل ہوئے تھے ۔مجھے اپنا یہ کلاس فیلو بہت بھلا لگا۔ ہم اچھے دوست بن گئے ۔ وہ میری باقی سہلیوں کا بھی دوست بن گیا۔ ہمیں یہ مرد دوست اپنی سہیلی جیسا ہی لگتا ۔ ہمارے دُکھ درد سنتا۔ ہماری ذہنی اور سماجی الجھنوں کو دور کرنے میں ہماری مدد کرتا ۔ مسائل کو حل کرنے کی تدبیریں کرتا۔ ہمارا ہمنوا تھا۔ عورت کا دوست تھا۔ کسی عورت یا مرد کو نقصان پہنچانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ بھلے مرد اور بھلی عورت کا ایک خوبصورت امتزاج تھا۔
ایک دفعہ ہم شاپنگ کے لیے انار کلی گئے تو اپنے کپڑے خریدتے ہوئے دوکاندار کو بار بار ایک ہی فرمائش کرے کہ مجھے مردانہ رنگ مت دکھاﺅ۔دوکاندار پریشان اور مردانہ پن کے خلاف اس کے جنگی عزائم ہر سطح پر دلیرانہ جاری رہتے ۔
ایک دن یونیورسٹی میں میں نے اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھا۔ دونوں چہک رہے تھے خوش و خرم تھے مگن تھے ۔
میں اس لڑکی کے انتخاب پر دل ہی دل میں اسے داد دے رہی تھی اور رشک بھی کر رہی تھی۔ سہیلیوں جیسا دوست ملا۔ تعصب و تشدد کی مردانہ روایات سے آزاد روح ۔ خالص انسان جو روایت کے نام پر اپنی ہر غلط کاری کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ جسے صرف انسانوں کی بھلائی وبہتری میں دلچسپی تھی۔
امتحانات ہوئے گزر گئے ۔ حسب توقع اس نے پوزیشن لی ۔کچھ عرصے بعد میری اُس سے ملاقات ہوئی تو وہ شہر کی ایک مصروف یونیورسٹی میں ایک مقبول استاد کے طور پر کام کر رہا تھا ۔ اسے مزید تعلیم کے لیے ایک سکالر شپ بھی مل گیا تھا۔ بہت خوش تھا۔ میں نے اپنا پرتجسس سوال بہت دیر تک روکے رکھا اور آخر نہ روک سکی۔
”وہ کہاں ہے “!
اس کا جواب مجھے حیران کر گیا۔
” وہ مجھے وہ مرد نہیں سمجھتی جس کی اُسے تلاش ہے “۔
یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
کئی سال بیت گئے ۔ ایک دن ہماری اچانک ملاقات میونخ میں ہوگئی۔
ہم دونوں عمر کے اس حصے پر کھڑے تھے جہاں حصول کی تگ و دو حصول میں بدل چکی تھی۔
وہ حسب معمول حسین تھا۔ میونخ کے خوشبودار اشجار کی مست مہک نے اُس کے حسین چہرے کو مزید جلا بخشتی ہوئی تھی۔
اس کی دعوت پر جب میں اس کے گھر گئی تو وہ گھر ویسا ہی تھا جس کی میں توقع کر رہی تھی۔ گھر کیا تھا ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا۔ ہر طرف خوبصورت گلوں میں شاندار خوشبودار پودے اور بیلیں۔ یہ سر سبز مہکتا خزانہ اس کے بقول اس نے ساری دنیا سے جمع کیا تھا۔ ہر پودے کو بڑی نفاست سے سجایا ہوا تھا۔ سارا گھر فن پارہ تھا ۔کتابیں تھیں۔ اس کا وائلن تھا۔ اس کے گھنگھرو تھے۔ اس کی طبلے کی جوڑی ایک کونے میں رکھی تھی۔ ایک خوبصورت ٹوکری میں ایک خوبصورت رنگ کی نامکمل سویٹر اور اون سلائیاں رکھی تھیں۔
اس جگمگ کرتے گھرمیں وہ خود بھی جگمگا رہا تھا مہک رہا تھا۔ حُسن کی تخلیق میں مگن اور سرشار تھا۔
وہ ایک یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا ۔ تحقیق و تشریح کے لیے جو موضوع اس نے اپنے لیے منتخب کیا وہ تھا:
”مردانگی کے پاکستان پر منفی اور تباہ کن اثرات “۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*