اصل چہرہ

 

3دسمبر کو سیالکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ سال 2021 کا لب لباب تھا ۔ جس سال میں دو دفعہ ایک انتہائی پرتشدد تحریک کے آگے حکومت نے بغیر عوام کو اعتماد میں لیے معاہدہ کر لیا ہو جس میں بے شمار پولیس والے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بن کر زندگی سے گۓ لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا اور اس ملک کے عوام نے اس کی قیمت بھری ہو اور ان کو یہ علم نہیں کہ قاتلوں کو سزا ملی کہ نہیں وہ کیسے اس بات کا دعوی کر سکتے ہیں کہ یہ ہمارا اصل چہرہ نہیں ۔یہی ہمارا اصل چہرہ ہے ایک طرف ہماری حکومتی جماعت کے پنجاب کے سربراہ اسی تنظیم کے سربراہ کو پھول پیش کر رہے ہیں جن سے اختلاف کے بعد آپ واجب القتل ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف ہم ملک عدنان کو بہادری کی شاباشی دیتے ہیں یہ پاکستان عام کا خون ہے پانی نہیں  .پاکستان میں ہم نے دوہرے میعار بنا رکھے ہیں ہم بیک وقت دو متضاد کام کرتے ہیں اور پھر امید رکھتے ہیں کہ معاشرہ میں سدھار پیدا ہوگا بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ پاکستان کی اشرافیہ یہ دکھاوا کرتی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سدھار پیدا ہو وہ یہ سدھار حقیقت میں نہیں چاہتے کیونکہ اس سدھار کے نتیجے میں ان کی حاکمیت ختم ہو جاۓ گی ۔اس لیے اشرفیہ کے نمائندے ہمیں اس طرح کے واقعات کی وضاحتیں دیتے ہوۓ ملتے ہیں ۔

جس حکومت نے سیالکوٹ واقع میں پرینتھا کمارا کی جان بچانے والے ملک عدنان کو تمغات سے نوازا اسی کے وزیردفاع نے اس واقع کو نوجوانی کے جوش سے تشبیہ دے کر ایک معمول کی جوانی کی غلطی گردانا جب آپ ایک وقت میں دو اشارے دیں تو گاڑی چلتی نہیں ٹکراتی ہے اور یہ ہی حال ہماری مذہبی انتہا پسندی سے نبپٹنے کی پالیسی کا ہے ستم ظریفی ہے کہ دسمبر 2021 میں یہ واقع پیش آیا اور 2011 میں  دو انتہائی با اثر آوازیں اس دوغلی پالیسی کا شکار ہوئیں سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی دونوں اس مذہبی جنونیت کا شکار ہوۓ اور ریاست کے تذبذب نے دس سال میں اس کو جس انتہا پر پہنچایا وہ سیالکوٹ کی سڑک پر نظر آیا ۔اس دوران سینکڑوں  ایسے واقعات پیش آۓ جس میں لوگ بغیر کسی تحقیق کے اس جنونیت کا شکار ہوکر ہاتھ دھو بیٹھے اسی طرح کے اندوہناک واقعہ میں ملتان کے انتہائی قابل وکیل راشد رحمان کو قتل کر دیا گیا اور آج تک ان کا موکل جنید حفیظ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے ۔کیا ہم نے سوچا ہے کہ وہ دوسرا شخص جس نے پرینتھاکمارا کو بچانے کی کوشش کی وہ رپوش کیوں ہو گیا کیونکہ اس کو حکومت کے اس دوغلے چہرے کے بارے میں پتہ تھا کہ حکومت نے دنیا کو دیکھانے کے لیے تعریف کے ڈونگرے برسا کے ایک طرف ہو جانا ہے اور اس کو اس معاشرہ کا سامنا کرنا ہوگا جہاں مذہبی جنونیت معاشی ناانصافی کے ساتھ مل کر پورے معاشرے کو نفسیاتی مسائل کی آمادجگاہ بنا رہی ہے جہاں پر ذرا سا اختلاف ایسے جھگڑے میں بدل سکتا ہے جس میں مذہب کا سہارا لے کر دوسرا اپنی ہر طرح کی فرسٹریشن کا غبار آپ پر نکالے اور اس دوران آپ کی چاہے جان چلی جاۓ ۔دس سال کا وقت کسی بھی ریاست کے لیے یہ طے کرنے کے لیے کہ وہ اس جنونیت سے کیسے نبپٹنا چاہتے ہیں ایک لمبا عرصہ ہے لیکن اس وقت میں ایک واضح پالیسی وضع کرنے کے ہم نے دیکھا کہ ریاست کے اپنے اندار سے ان جرائم کی وضاحتیں پیش کی گئیں اور اکثر گھناؤنے جرائم کا شکار ہونے والے مظلوموں کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھرایا گیا ۔پورا ایک بیانیہ تیار کیا گیا جس کے تحت نوجوان نسل کو سوال کرنے سے دور کر کے ان کو باور کرایا گیا کہ کامیابی صرف پیسہ کمانے میں ہے اور اس میں جائز ناجائز کچھ نہیں ۔ اس کا نتیجہ انتہا درجہ کی polarised  society کے نتیجے میں نکلا جہاں کچھ لوگ حد سے زیادہ امیر اور کچھ انتہائی غریب ہوگئےہم نے دیکھا کہ نتیجہ یہ نکلا کہ جب پاکستان کے اداکار گودار سے اپنی سلفیاں بنا بنا کر ساری دنیا کو پاکستان کا سافٹ امیج دیکھا رہے تھے وہاں گودار کے عوام اپنے حقوق کے لیے گودار کو حق دو مہم چلا رہے تھے اور یہ حق کوئ وزارتوں میں حصہ کا حق نہیں تھا کہ ان کرسیوں پر بیٹھنے کا حق تو کبھی عوام کو دیا گیا ہی نہیں وہ تو جاگیرداروں ، سرداروں اور سرمایہ داروں کی میراث ہے ، وہ پانی کا ، روزی کا ، صحت کا ، تعلیم کا ، جینے کا حق مانگ رہے تھے ۔یہ انتہا درجے کا دوغلا پن ہے ۔

اس آگ میں پیڑول مذہب کے نام پر پھیلائی گئی جنونیت نے ڈالا۔ہر سوال کرنے والا شخص غدار قرار دیا گیا ۔ اس میں دلچسپ یہ ہے کہ نام نہاد پڑھے لکھے بھی اس میں اپنا حصہ بصد شوق ڈالتے ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ جنرل مشرف کے دور میں پاکستان میں انسانی حقوق اور آئین کی پاسداری کے لیے موم بتیاں جلانے والے NGO کے صاحبان نے سب سے پہلے ان کی کابینہ کا حصہ بنے اور پیسے چھاپے اسی طرح لمز یو نیورسٹی کے سابق پروفیسر اور اب رحمت العلمین اتھارٹی کے سر براہ ڈاکٹر اعجاز اکرام نے بلوچوں ، سندھی ، پختون اور سرائیکیوں پر پاکستان توڑنے کا الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ پاکستان سے الگ ہونے کی تحریک چلا رہے ہیں جس کا سب سے محضکہ خیز پہلو یہ ہے کہ سرائیکیوں نے پنجاب سے الگ صوبے کی تحریک چلائی الگ ملک کی نہیں اور اگر پنجاب پورا پاکستان ہے تو پھر کہنے سننے کو کچھ نہیں بچا یہ ہمارے پڑھے لکھے طبقے کا اصل چہرہ ہے جو اندر سے انتہائی فرسودہ اور جاہلانہ خیالات کے مالک ہیں اور افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بغلیں بجابجا کر خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں ۔ڈاکٹر اعجاز کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں ایک الگ ریاست کی بنیاد یہاں کے امیر طبقے نےرکھی ہے جن کو ہر چیز الگ چاہیے قانون ، دیواروں کے اندر بنی رہائشی کالونیاں ، الگ پانی کی سپلائی ، الگ اسکول ،الگ تفریح گاہیں ،  ہر چیز الگ جس کی طرف غریب آنکھ اٹھا کے نہ دیکھ سکے ۔

اس سب کو استحکام صحافیوں کی اس قسم نے بخشا ہے جو صرف اس مقصد کے لیے صحافت میں آۓ یا ان کو لایا گیا ہے کہ وہ ہر سوال کرنے والے کی حب الوطنی مشکوک بنائیں ان کو بے دین قرار دیں اور سوشل میڈیا پر ٹرولرز کا ایسا جتھا تشکیل دیں جو ہر کسی کی عزت تار تار کرے اور اس کے بدلے میں عالیشان محل ، گاڑیاں اور رہن سہن ملے ان صحافیوں کو جو مراعات نصیب ہیں وہ جمہوری ممالک کے وزراءاعظم کو بھی نصیب نہیں اور نہ ہی ان وزراءاعظم کے پاس ایسے صحافی اور سوشل میڈیا سیل ہیں جو ہمہ وقت پروپرگینڈا کریں اور غلط خبریں پھیلائیں جس انتہا درجے کی نفرت انگیز اور جھوٹی خبریں اور پروپرگینڈا وار پاکستان میں جاری ہے وہ روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کی یاد دلاتی ہے یا یہ ہتھکنذے امریکہ چین اور کیوبا کے حلاف استعمال کرتا ہے اپنے ہی ملک میں ایسی تفریق اور سستی صحافت میں ہم اپنی مثال آپ ہیں ۔ہمہ وقت کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کے اس چیز پر مرکوذ کی جاۓ کہ سیاستدان کرپٹ ہیں اور آپ وہ گدھے عوام ہیں جو ان کو منتخب کرتے ہیں اور جو یہ پوچھے کہ جو کرپشن عدلیہ اور فوج اور بیوروکریسی نے کی تو آپ غدار ہیں ۔

کہتے ہیں کہ ماں نے اپنے بچے کو جو سیکھنا چاہتی ہے وہ کر کے دکھاۓ اور کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اگر ایسا ہے تو ریاست جو شرافت ، اعلی اقدار ، اخلاقیات ، اصول ، روادای اور غربت کی عظمت کی کہانیاں ڈھول پیٹ پیٹ کر سناتی ہے وہ پہلے اس پر خود عمل کرے اپنے اس وزیر کا استعفی لے جس کے مطابق پرینتھا کمارا کا قتل ان نوجوانوں کا جوانی کا ابال تھا ، فوجی افسران ، ججز ، صحافی حضرات ، سیاستدان اور سول سرونٹ اپنے اثاثے قومی خزانے کے حوالے کریں اور مراعات لینا بند کریں تاکہ احساس ہو کہ جب اپنے پیاروں کے لیے دوائی اور روٹی نہیں ملتی تو کس تکلیف سے گزرتا ہے عام آدمی اور اس وقت اشفاق احمد کی صبر شکر کی نصحیتیں اور کہانیاں کتنی زہر لگتی ہیں ، اپنے بچوں کو یورپ نہیں بلکہ مدرسوں میں پڑھنے کے لیے بہھجیں تاکہ پتہ چلے کہ آپ کے عزیزم مولوی ان بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں یا ان یورنیورسٹی کالجوں میں بھیجیں جہاں دولے شاہ کے چوہے بنانے کی فیکٹریاں لگی ہیں ۔ جہاں گورنمنٹ کالج لاہور کے وائس چانسلر کو یہ معلوم نہیں کہ آپ ایک فرقے کے مولانا صاحب کو بولا کر اجتماع نہیں کر سکتے ۔ جب کھانے کے لیے نہیں ہوتا ، دوائی کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو یہ سب باتیں بس باتیں ہیں ۔ریاست کو اپنے آپ کو اچھی ماں ثابت کرنے کے لیے اپنے دوغلے پن کو خیرباد کہنا ہوگا اور جس کا پرچار کرتی ہے وہ کر کے دیکھانا ہو گا فلاحی ریاست کا قیام کرنا ہوگا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*