کوالٹی کوانٹی ٹی

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا تیار اور مکمل کردہ چیزیں نہیں رکھتی۔ دنیا تو اُن پراسیسوں کی کُل حاصل کی نمائندگی کرتی ہے جو مستقل طور پر تبدیل ہورہے ہیں، وجود میں آرہے ہیں اور تباہ ہورہے ہیں۔
تغیر یا تبدیلی دو قسم کی ہوتی ہے ۔ جب کوئی چیز اپنی اصل صورت میں رہ کر بدلتی رہتی ہے تواُسے ”کوانٹی ٹے ٹو“ (مقداری )تبدیلی یا کہتے ہیں۔ جب وہ چیز ان مقداری تبدیلیوں کے نتیجے میں اپنی صورت بدل کر دوسری صورت اختیار کر لیتی ہے تو اسے ”کوالی ٹے ٹو “تبدیلی کہتے ہیں۔
اس سارے قانون کو ”کوانٹٹی کی کوالٹی میں تبدیلی “کا اصول کہتے ہیں۔
ترقی کا عمل فوری بھی نہیں ہے اور ایک سیدھی لکیر کی طرح بھی نہیںہے ۔ بلکہ اُس میں عرصے تک چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ انہیں ہم کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیاں کہتے ہیں۔ اُس مرحلے کے بعد یکا یک تیز رفتار اور دھماکہ خیز تبدیلی کے ادوار آتے ہیں جن میں کوانٹٹی کوالٹی میں تبدیلی ہوجاتی ہے ۔

کوالٹی

کسی شئے کی لازمی خاصیت کی وجہ سے ہی یہ وہی شئے رہتی ہے ، اور کوئی دوسری نہیں بنتی ۔ کسی شئے کی کوالٹی اس کی الگ الگ خصوصیات میں کم نہیں کی جاسکتی ۔کوالٹی تو یہ مجموعی طور پر شئے کے وجود کے ساتھ مکمل طور پر جڑی ہوتی ہے اور اُس سے علیحدہ نہیں کی جاسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کوالٹی کا تصور ایک شئے کے وجود سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک شئے خود کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی کوالٹی ضائع نہیں کرسکتی ۔
کوالٹی وجود کی حالت کا پیمانہ ہوتی ہے ۔فلاں چیز کس طرح ، بنی یا وہ دوسری چیزوں سے کیسے مختلف ہے ۔ کوالٹی کی ڈیفی نیشن یہ ہے کہ یہ ایک مخصوص خصوصیت ہے ۔ اس کی مثالیں ہمدردی، سچائی، خوبصورتی وغیرہ ہیں۔
کسی شئے میں ممکن نہیں کہ صرف کوانٹی ٹی ہو اور کوالٹی نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی شئے صرف کوالٹی رکھے اور کوانٹی ٹی کے بغیر ہو ۔ نہیں ۔ یہ دونوں موجود ہو تی ہیں۔
اگر سماجی طور پر دیکھیں تو قدیم کمیونزم کی کوالٹی اور خصوصیت یہ تھی کہ ملکیت مشترک تھی، محنت بھی مشترک تھی اور اُس سے حاصل شدہ پیداوار بھی مشترک تھی۔ غلام داری میں ملکیت تو آقا کی ہوتی تھی ۔ مگر محنت غلام کرتا تھا۔اور پیداوار آقا کی ہوتی تھی ۔ فیوڈلزم کی خاصیت یہ تھی کہ ملکیت فیوڈل کی ہوتی تھی، مظالم اُسی کے، محنت اور عدم آزادی کسان کی ہوتی تھی،اور پیداوار فیوڈل کی ۔ کپٹلزم کی کوالٹی یہ ہے کہ وہاں سب کچھ کا مالک کپٹلسٹ ہے اور ساری محرومی مزدور طبقے کی۔
کوالٹی کبھی بھی لولاکی نہیں ہوسکتی۔ نہ ہی یہ ہر جگہ کے لیے یونیفارم ہوگی ۔مثلاً اگر آپ درا ز قدی کی بات کریں تو لمبے قد والے امریکیوں میں دراز قدی کا تصور کچھ اور ہوگا،اور کوتاہ قد تھاٹی لینڈ والوںمیں دراز قدی کچھ اور جانی جائے گی۔
اسی طرح حُسن کے بارے میں افریقہ اور یورپی لوگوں میں الٹ تصور موجود ہے ۔
آپ فرمانبرداری کی بات کریں تو ہر معاشرے میں وہ مختلف ہوگی۔ آپ رحم دلی ،وفاداری اور حب الوطنی کی بات کریں تو اُس کے معیار ہر جگہ مختلف ہوتے ہیں۔مگر اگر یہی باتیں آپ کوانٹی ٹے ٹو انداز میں کریں تو ایگزیگٹ بات ہوجائے گی۔

کوانٹی ٹی

ساری اشیاءکوالی ٹیٹو قطعیت کے ساتھ ساتھ کوانٹی ٹیٹو قطعیت بھی رکھتی ہیں۔ ساری اشیا ایک واضح ڈیل ڈول ، تعداد، اور حجم رکھتی ہیں۔کوانٹٹی تو مقررہ حد ،سائز ،یا کسی چیز کا کُل میزان ہوتی ہے۔ کوانٹی ٹی کو گنا جاسکتا ہے یا ناپا جاسکتا یا تو لاجاسکتا ہے اور اس کا اظہار نمبرز اور وزن میں کیا جاتا ہے ۔فلاں کا قد کتنے فٹ اور کتنے انچ ہے ۔ اُس ٹرک کا وزن کتنے ٹن ہے۔
کوالٹی کے برعکس کوانٹی ٹی ایک شئے کے وجود کے ساتھ بہت زیادہ جڑی نہیں ہوتی۔
کوالٹی سب جیکٹوہے ۔ مگر کوانٹی ٹی سب جیکٹو نہیں ہوتی ۔
یہ بھی اصول ہے کہ کوانٹی ٹی کوالٹی میں بدل جاتی ہے اور کوالٹی کوانٹی ٹی میں۔ کوانٹی ٹی سے کوالٹی میں ڈھل جانا ڈائلیکٹکس کا ایک بنیادی قانون ہے ۔ یہ جدید کے نمودار ہونے کا قانون ہوتا ہے ، ترقی کا قانون ہوتا ہے ۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ ایک کوالٹی سے دوسری کوالٹی میں لپک کر ڈھل جانے کا پراسیس کیا ہوتا ہے ۔ مگر یہ تبدیلی کبھی بھی حادثاتی نہیں ہوتی۔ یہ ایک پراسیس کے نتیجے میں برپا ہوتی ہے جس کے قوانین موجود ہیں۔
ہر شئے دوسری اشیا سے ہزاروں دھاگوں سے بندھی ہوئی ہوتی ہے ۔ یہ اُن کے ساتھ گونا گوں رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ۔
جب کوئی چیز اپنی اصل صورت میں رہ کر قطرہ قطرہ بدلتی جاتی ہے تو ایسی تبدیلی کو کوانٹی ٹے ٹو تبدیلی کہتے ہیں۔مگر اگر ان قطرہ قطرہ تبدیلیوں کے سبب سے اس کی حالت ہی بدل جاتی ہو تو وہ کوالی ٹیٹو تبدیلی ہوگی۔ پانی کو لیکوئڈ سے گیس یعنی بھاپ بنانا ہو تو اسے حرارت دینا پڑتی ہے ۔ یہ پانی یک دم نہیں کھولتا ۔ اُس کا تو ایک ایک مالیکیول گرم ہو جاتا ہے ۔ وہ گرم مالیکیول انرجی حاصل کرتا ہے اور اوپر کی جانب حرکت کرتا چلا جاتا ہے ۔اور اس کی خالی کردہ جگہ دوسرا ٹھنڈا مالیکیول لے لیتا ہے اور پھر وہ بھی گرم ہو کر اوپر جاتا ہے ۔ یوںکوانٹی ٹی بدلتی جاتی ہے ۔ بالآخر 100 ڈگری سیلسی آس پہ جب سارے مالیکیول گرم ہوجاتے ہیں۔ تب پانی یک لخت چھلانگ لگا کر جوش کرنے لگ جاتا ہے ۔ اور اپنی صورت تبدیل کر کے یہ پانی گیس یعنی بھاپ کی شکل اختیار کرے گا۔یہ ہے کوالی ٹے ٹو تبدیلی ۔ یعنی اب تک جو چیز پانی تھا اُسے پیا جاسکتا تھا ، کپڑے اور برتن دھوئے جاسکتے تھے ۔اُس کے اندر انگلی گھمائی جاسکتی تھی۔۔۔ مگر اب اس کی کوالٹی بدل گئی ۔ یہ اب بھاپ بن گیا۔بھاپ پانی والے کام نہیں کرسکتا ۔ خصوصیت ہی بدل گئی۔
اسی طرح اگر پانی کو ٹھنڈا کرتے جائیں تو بالآخر وہ پانی نہیں رہتا ، ٹھوس یعنی برف بن جاتا ہے۔ اِس صورت میں اب پانی سے برف (ٹھوس )بنی ہوئی شئے کی خاصیتیں پانی والی نہیں رہیں۔
کوانٹی ٹے ٹو رشتوں کا مطالعہ میتھی میٹکس کرتا ہے۔
کوانٹی ٹیٹو تبدیلیاں شئے کی تباہی کی طرف، یا لازمی تبدیلی کی طرف یک دم نہیں لے جاتیں۔ بلکہ ہر شئے کے لیے صرف ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد ہی کوانٹی ٹیٹو تبدیلیاں کوالی ٹے ٹو تبدیلیاں لاتی ہیں۔
ایک اور قانون بھی ہے ۔ وہ یہ کہ جب کوانٹی ٹے ٹو تبدیلی آرہی ہو تو شروع میںاُس کی رفتار کم ہوتی ہے ۔جس میں پہلے پہل تو معمولی اور ناقابل مشاہدہ مقداری تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ مثلاً پانی کو گرم کرتے ہوئے یہی کچھ ہوتا ہے ۔ البتہ جب سارے مالیکیول گرم ہوجاتے ہیں تو کوانٹی ٹے ٹو تبدیلی کی رفتار بہت تیز ہوتی جاتی ہے ۔ اور کوالی ٹے ٹو تبدیلی کے وقت تو یہ رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے ۔
اور اس سے بھی دلچسپ قانون ہے کہ کوالی ٹے ٹو تبدیلی کے لیے آخری مالیکیول کا گرم ہونا بھی لازمی شرط ہوتی ہے ۔ ورنہ نہیں۔
تبدیلی اور سماجی نشو ونما کا عمل سادہ نہیں ہوتا۔ کو انٹٹی مسلسل بدلتی جاتی ہے۔
ہر شئے ہر وقت پراسیسوں کے ایک سلسلے میں ہوتی ہے ۔ پراسیسز ایک مرحلہ تک آتے ہیں تو شئے کی صورت بدل جاتی ہے ، اور پھر اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے ، پھر اگلا، پھر اگلا۔۔۔
تاریخ میں سارے لوگوں نے قدیم کمیونزم سے ارتقا یافتہ اگلے نظام یعنی غلام داری سماج کی حمایت کی تھی۔ دنیا میں بادشاہت ختم کر کے سرمایہ دارانہ نظام قائم کرنے کی حمایت کی تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے سوشلزم کا قیام ہر ایک کو اچھا لگا تھا۔ یہ ساری تبدیلیاں یعنی قدیم کمیونزم سے فیوڈلزم تک اور فیوڈلزم سے کپٹلزم تک ، اور پھر کپٹلزم سے سوشلزم تک مکمل طور پر کوانٹی ٹی اور کوالٹی کے قانون کے مطابق ہوتی رہی ہیں ۔
یہاں ایک اور قانون بھی موجود ہے ۔ کوانٹی ٹی ٹے ٹو تبدیلی مسلسل اور ترتیب کے ساتھ چلتے چلتے جب عروج پر پہنچتی ہے تو کوالی ٹے ٹو تبدیلی ایک چھلانگ کی صورت رونما ہوتی ہے ۔ یہ بہت تیز رفتار تبدیلی ہوتی ہے ۔یہ جو یک لخت صورت کا بدل جانا ہے یہ اہم قانون ہے ۔ اگرہم اس قانون کا اطلاق کسی انسانی معاشرے پہ کریں تو اس کوالی ٹے ٹو تبدیلی کو انقلاب کہتے ہیں۔ ایسا فرانس میں انقلاب فرانس کے وقت ہوا تھا۔ اسی طرح 1917میں روس کے اندر بھی یہی کوالی ٹے ٹو تبدیلی آئی تھی ۔ مطلب یہ کہ انقلاب بغیر چھلانگ کے کبھی نہیں آتا۔
چنانچہ چھلانگ کو نظر انداز کر کے صرف کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیوں پر آسرا رکھناغلط بات ہے ۔ اسی طرح کوانٹی ٹے ٹو کو رد کر کے ہمہ وقت چھلانگوں کی بات کرنا بھی غلط ہے ۔ اس آخری بات کا مطلب یہ ہے کہ انقلابی تنظیم کے طویل اور دِقت طلب کام یعنی لوگوں کو باشعور بنانے، انہیں منظم کرنے اور انقلابی عمل کے لیے بتدریج تیار کرنے کا کام ہر گز مسترد نہیں کیا جاسکتا۔یہی تو راستہ ہے جو چھلانگ تک لے جاتا ہے۔
ہمارا فریضہ یہ ہے کہ بلوچستان سنڈے پارٹی کی کوانٹی ٹی بڑھاتے جائیں، اُس کی کوالٹی کو بہتر بناتے جائیں۔ تاکہ وہ سماجی تبدیلی کے جاری پراسیس میں عوام کو باشعور ، منظم اور تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے تیار کرتی جائے۔
ہاں، مگر کوانٹٹی کوالٹی والے اس قانون کے تحت بلوچستان سنڈے پارٹی انقلاب نہیں لاسکتی۔ نہ ہی کوئی مہا عقلمند، کوئی پہلوان اور صلاحیتوں بھرا لیڈر یہ کام کرسکتا ہے ۔ یہ کوالٹی کوانٹٹی کے بنیادی اصول کے خلاف ہے ۔اسی لیے تو یہ طے بات ہے کہ تبدیلی کسی عظیم آدمی یا اتفاقیہ واقعے پر نہیں آتی ۔ یہ مکمل طور پر قوانین کے تابع کام ہے ۔ قوانین بتاتے ہیں کہ کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیاں لازم ہیں۔اور یہ ”کوالی ٹے ٹو “تبدیلیاں لازم ہیں۔ اور یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ”کوانٹی ٹے ٹو “پہ زور دیکر انقلاب کو نظر انداز کرنا غلط ہے تو انقلاب انقلاب کہہ کر ”کوانٹی ٹے ٹو “ارتقا سے انکار بھی غلط ہے۔معاشرتی انقلابات ناگزیر ہیں۔انقلاب تو مزدور طبقے کی تلخ زندگانی کے پروسیس کانتیجہ ہوتا ہے ۔ پھر وہی کوانٹی ٹی اور کوالٹی کا قانون!۔ مزدوروں کی زندگی عذاب بنتے بنتے جب آخری درجے پر پہنچتی ہے تو وہ اپنی سیاسی پارٹی کے گرد جمع ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ سماج کو کوالی ٹے ٹو تبدیلی کی طرف لے جاتے ہیں۔The last straw That breaks camel’s back (مطلب لادتے جاﺅ، لادتے جاﺅ مگر جب برداشت کی آخری حد تک پہنچ جاتی ہے تو آخری تنکے پہ اونٹ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے )۔یاایوب کے زمانے میں جب معاملات عوام کی برداشت سے زیادہ بگڑ گئے تو بس چینی کی قیمت میں چار آنے کے اضافہ نے ملک گیر ہڑا دھڑی پیدا کردی اور ایوب کا تختہ ہوگیا ۔
بعض انقلابات کوانٹی ٹے ٹو تبدیلی کے پراسیس میں نسبتاً کم وقت میں آجاتے ہیں اور بعض بہت وقت لیتے ہیں۔ سماج کے بے شمار فیکٹرز اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر جگہ یہ انقلاب ایک جیسا ہی ہوگا۔ نہیں۔ہر ملک کے اپنے داخلی خارجی سماجی معاشی اور سیاسی حالات ہوتے ہیں۔ مزدور کا شعور اور تنظیم کاری اور اتحاد ، اسی طرح کپٹلسٹوںکی طاقت اور مزاحمت کی صلاحیتیں اور دیگر عوامل فیصلہ کن اثرات ڈالتے ہیں۔ بلوچستان سنڈے پارٹی اور اُس سے وابستہ ساتھی اسی کوانٹی ٹی والی تبدیلی سے کوالی ٹے ٹو تبدیلی کے سفر میں مزدروں کی قیادت اور مدد کرتے ہیں۔
یہ بات حتمی ہے کہ کپٹلزم سے سوشلزم میں کوالی ٹے ٹو تبدیلی صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے ۔ کوانٹی ٹیٹو تبدیلی پر مشتمل سماجی انقلاب عدم تسلسل یا چھلانگ کے بغیر ممکن نہیںہوتا۔
قدیم کے پیٹ میں سے جدید کی حمایت کرنا قانون ہے ۔ کوئی بھی سماجی نظام ”اٹل “ نہیں ہوتا نہ ہی کوئی ابدی سماجی اصول ہوتے ہیں ۔ ہمیشہ نئے ابھرنے کے امکانات رکھنے والے طبقات پہ نگاہیں مرکوز رکھنی چاہییں ۔ مثلاً ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے خطے میں مزدور طبقہ کم ہے ، بے شعور ہے ، غیر منظم ہے اور اُس کی لیڈر شپ کرپٹ ہے ۔ مگر ابھرنا اُسی نے ہے ۔ کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیوں کا ہر اول وہی ہے ۔
***
پراسیسوں پر مشتمل کائنات حتمی نتیجے میں ترقی پسندانہ حرکت میں ہوتی ہے ۔ یہ حرکت ادنیٰ سے اعلیٰ ، سادہ سے پیچیدہ اور نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے ۔ مگر کبھی بھی یہ سیدھی لائن میں اوپر کی طرف نہیں ہوتی ، نہ ہی یہ دائرے کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ توspiralحرکت ہوتی ہے ۔
سماجی سائنسوں کے اندر ڈایالیکٹک کلاس سٹرگل کے پراسیسوں میں موجود ہوتا ہے ۔
آزادی فطرت اور سماجی قوانین سے آزاد ہونا نہیں ہے ۔ بلکہ آزادی مشتمل ہے اِن قوانین کے علم پر، اورمقاصد کی مطابقت میں عمل کرنے کی انسانی اہلیت پہ۔ ایک ایسی اہلیت جو بالکل اُسی علم سے ابھرے ۔ جو کچھ فطری قوانین پر لاگوہوتا ہے وہی سماجی ارتقا کے قوانین پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ انسان اُس وقت آزادہوتا ہے جب وہ انہیں جانے اور انہیں ایک منصوبہ بند، سائنسی انداز میں استعمال کرسکے۔ وہ نیچر اور سماج کے قوانین سے دور ہوکر آزاد نہیں ہوسکتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*