کلات نیشنل پارٹی کچل دی گئی

عوام کی طاقت سے بہت اچھی اصلاحات حاصل تو کی گئیں مگر دوست دشمن سب کو معلوم تھا کہ بالادست طبقات اِن اصلاحات سے ہل کر رہ گئے ہیں۔ اس لیے کہ برسوں سے جاری اُن کے مفادات پہ پہلی بار اِس طرح کا ڈائریکٹ حملہ ہوا تھا ۔ وہ اُس وقت تو چُپ کر گئے مگر موقع کی تاڑ میں تھے ،کہ غریبوں کی پارٹی کو ملیامیٹ کیا جاسکے ۔
اس معاملے میں سردار اکیلے نہ تھے، خانِ کلات کی پوری ریاست بھی اُن کی پشت پر تھی۔ اس کے علاوہ انگریز بھی اُن کے ساتھ تھا اس لیے کہ نیشنل پارٹی کی سامراج دشمنی کا اُسے خوب پتہ تھا ۔ چنانچہ اِن سارے حکمران طبقات کے لیے نیشنل پارٹی جیسی کسان دوست عوامی تنظیم کی مقبولیت کو ختم کرنا ضروری ٹھہرا۔ہتھکنڈوں میں سے پہلا یہ تو تھا کہ حکومت نے1938 مےں بلوچستان مےں مسلم لیگ کی شاخ قائم کرادی ۔(”یہ قائم کرادی “ بھی عجب نشرِ مکرر رہی بلوچستان میں !)۔
اسی دوران 1939 مےں انگریزوں نے جیمٹری (جیوانی )کی بندرگاہ کو لیز پر لینے کی کوشش کی۔ظاہر ہے کہ نیشنل پارٹی نے اِس منصوبے کی سخت مخالفت کرنی تھی ۔اور جلد ہی انگریز کو اندازہ ہوا کہ وہ ایسا نہیں کرسکے گا۔ یعنی پارٹی کی جدوجہدکی وجہ سے برطانیہ یہ بندر گاہ نہ لے سکا۔
یہ گویا ایک اور بڑی سُبکی اور بڑا نقصان تھا جو کہ برطانیہ کو ہوا۔ لہذا ہوا یہ کہ سرداروں کو ٹیکس وصولی سے محروم کرکے اور انگریزوں کو جیوانی بندر گاہ سے بے دخل کرکے پارٹی نے ان دونوں قوتوں کو اپنے خلاف متحد کردیا۔اور چونکہ سردار اور انگریز کا مطلب خان کی حکومت بھی تھی اس لیے پارٹی نے دراصل اُن تینوںکے غصے کو آسمان تک بڑھادیا تھا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کلات کے برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ کے کہنے پر سردار خود کو نیشنل پارٹی کے خلاف صف آرا کرنے لگے ۔
اِدھر نیشنل پارٹی نے حتی الوسع کوشش کی کہ اس ناپاک تکون کے بیچ در اڑ پیدا ہو ۔ اسی لیے اس نے اپنی طرف سے خان کو ناراض کرنے کا کوئی موقع نہ ملے ۔مگر خان تو خود ایک نمائشی خان تھا، ملک کا نمائشی بادشاہ تھا۔ اصل میں تو ملک کے اندر سردار اور انگریز کا اثر تھا۔ اور خان خود بھی اپنے طبقاتی کردار کے حوالے سے اوپری طبقہ کا سربراہ تھا۔ چنانچہ پسماندہ ملک کا یہ سربراہ نہ تو سرداروں فیوڈلوں کو ناراض کرسکتا تھا ، اور نہ ہی انگریز سامراج کو ۔اس لیے کہ اس کا تخت انہی قوتوں کے سہارے تو قائم تھا۔لہٰذاطے بات تھی کہ اس نے جلد یا بدیر نیشنل پارٹی کے خلاف اقدام کرنا ہی تھا۔
یہ موقع اُسے ہاتھ آہی گیا۔کلات سٹیٹ نیشنل پارٹی نے اپنی پارٹی کے سالانہ جلسے کے انعقاد کا اعلان کر رکھا تھا۔ یہ سالانہ جلسہ 5سے 7جولائی 1939کو مستنگ میں ہونا قرار پایا۔ اس جلسے کی منظوری خان آف کلات کی حکومت سے لی گئی تھی۔
ظاہر ہے کہ بہت وقت پہلے ہی سے جلسے کی تیاریاں زور شور سے ہونے لگی تھیں۔ اور مقررہ تاریخ پہ مکران، لسبیلہ ، جہلاوان ، خاران، کلات اور کچھی سے ڈیلیگیٹ مستنگ میں جمع ہو رہے تھے ۔مستنگ میں کلات سٹیٹ کے سرکاری باغ کے شمالی جانب مندوبین کے لیے خیمے لگائے گئے تھے۔ 3اور 4جولائی کو مجلسِ استقبالیہ کی میٹنگیں شروع ہوئیں۔ جن میں صدارتی تقریر ، جنرل سیکریٹری رپورٹ اور قرار دادیں تیار کی گئیں۔ اور اُن کی منظوری دی گئی۔
5جولائی 1939کی صبح اسی چمن میں پنڈال لگایا گیا۔اور ، یوںمورخہ 5 جولائی 1939کو بلوچستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے سالانہ کھلے اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی۔
اجلاس میں تمام علاقوں کے قومی نمائندے شریک تھے اور یہ تقریباً دو تین ہزار آدمیوں کا مجمع تھا۔ مولانا محمد عمر نے تلاوت کی اُس کے بعد نظم خوانی ہوئی ۔استقبالیہ کمیٹی کی طرف سے حسین بخش آبی نے اپنی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ (1)۔پارٹی کے صدر ملک عبدالرحیم خواجہ خیل نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔یہ صدارتی تقریراِس قدر اہم کہ ہم اسے یہاں شائع کررہے ہیں:
1۔”میں مستونگ کے باشندوں ، مجلس استقبالیہ کے ممبروں ، رضاکاروں اور اپنی طرف سے آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور میں آپ لوگوں کی اس شفقت اور ہمددردی کا بہت شکرگزار ہوں کہ آپ لوگوں نے سفر کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے ہم تک اپنے آپ کو پہنچایا ۔ وہ دوست جنہوں نے ہماری مالی امداد کی وہ ہماری شکر گزاری کے بڑے مستحق ہیں ۔ اگر آپ لوگوں کا تعاون اور انتظامات کی تکلیف برداشت کرنے کا جذبہ ہمارے دل میں نہ ہوتا تو پھر شاید ہم اپنی آنکھیں آپ لوگوں کے سامنے اوپر اٹھانے کے قابل نہ ہوتے ۔
2۔”ریاست کلات کے ہر گوشہ سے قوم کے ہمدردوں کی یہ جمعیت مستونگ کے باشندوں کے لیے ایک بڑی خوش قسمتی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہے کہ سب سے پہلے اس میں قربانی اور خدمت کا موقعہ فراہم کیا گیا ہے ۔ اس وقت اگر ہم لوگ آپ کی خدمت گزاری میں اپنی جان بھی گنوا دیں تو پھر بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ اس عزت افزائی کے احساس نے ہمیں اسقدر دعا کرنے پر مجبور کیا ہے کہ خدا کرے کچھی، جھالاوان اور مکران کو بھی خدمت و قربانی کا موقعہ میسر آئے تاکہ ریاست کے تمام لوگ قوم کے لیے جانفشانی کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ رشک کریں۔
3۔”ہمارے پیارے مہمانو ! آپ کو معلوم ہے کہ میزبان کے لیے اپنے دل میں جتنا پیار رکھتے ہیں ان کا دل اتنا ہی تکلیف برداشت کرنا چاہتا ہے ۔اورناکامی کی صورت میں ان کے دل کو بڑا صدمہ پہنچتا ہے ۔ ہماری روحانی کو فت کا اندازہ اس سے لگالیں کہ ہم نے آپ لوگوں کے لیے نہ جلسہ میں خاطر خواہ انتظام کیا ہے اور نہ آپ لوگوں کے قیام اور طعام کا تسلی بخش انتظام کیا ہے ۔ اور ہماری بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم آپ لوگوں کے سامنے باہر کے سرفروش رہنماﺅں کو پیش نہ کرسکے جو آپ لوگوں کو بتلا سکتے کہ ہماری مظلومیت کتنی گھمبیر ہے ۔ وہ آپ کو عمل اور آزادی کا سبق پڑھاتے لیکن ہم لوگوں کی کہاں اتنی اچھی قسمت ہے ۔
4۔”ہمارا دل ریاست کے اس قانون سے جو شمس شاہ قسم کے ایک ظالم کے دماغ کی پیداوارہے پارہ پارہ ہوجاتا ہے ۔وہ قانون یہ ہے کہ ریاست کے حدود میں تحریری اجازت کے بغیر جو حکومت کی طرف سے ہوگی کوئی شخص داخل نہیں ہوسکتا۔ اور اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک روپیہ فیس بھی دینا پڑتا ہے ۔ لیکن یہ امید بھی نہیں ہوتی ہے کہ درخواست منظور ہوگی ۔ بڑی افسوسناک بات ہے کہ شمس شاہی دور ختم ہوگیا اور ریاست کی حکومت خان جیسے قابل اور ہوشیار شخص کے ہاتھ میں ہے لیکن وہ ظالمانہ قانون بدستور موجود ہے۔ وہ لوگ جو قوم کی ترقی کے درپے ہیںوہ اس قانون کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے ۔ اگر یہ حکم غلطی کی وجہ سے یابے خبری کی بنا پر ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کے خاتمے کی امید نہ رکھیں۔
5۔”دنیا کی قوموں کی یہ بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک سے دوبن جائیں اور ترقی کریں اور وہ قومیں جن کی تعداد کم ہے ، وہ زیادہ تعدادوالی قوموں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں تاکہ ان کو دشمن سے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے ۔ ہماری خواہش بھی یہی ہے۔ لیکن ہم کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ملک تو وہی ایک ہے لیکن اس کا ایک حصہ لسبیلہ کہلاتا ہے، دوسرا حصہ خاران ، اورتیسرا حصہ برطانوی بلوچستان کہلاتا ہے ۔ ہم بلوچستان کے باشندے ایک قوم شمار ہوتے ہیں لیکن ہم کو فرقوں قبیلوں وغیرہ میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ اس طرح ہم لوگوں کو کمزور بنا دیاگیا ہے ۔ ہمارے ہر عضو کو الگ الگ نام دیئے گئے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو شاید وہ دن بھی آتا ہی ہوگا کہ ہم لوگ اپنے آپ کو بلوچستانی کہتے ہوئے شرم محسوس کریں۔ پیارے بزرگو! آپ کی قوم کی آمدہ ترقی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ یہ وعدہ کریں کہ کوئی بھی تمہیں تم لوگوں کو الگ کرنے کے درپے ہوجائے تو آپ اس کو شکست دینے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاﺅ گے ۔
6۔”ریاست کلات بڑی مصیبتوں میں گرفتار ہے لیکن اس قسم کے جلسوںمیں ان مصیبتوں کا ذکر ضروری ہے۔ کیونکہ بغیر واویلا کے یہ مصیبتیں دور نہیں ہو سکتیں ۔ میں یہاں دو چیزوں کا ذکر کروںگا جو بڑی ضروری قابلِ ذکر باتیں ہیں۔ ہماری ترقی کا راز اِن میں پوشیدہ ہے ۔
الف۔ ریاست کلات میں بہت سی قومیں ہیں لیکن ہم حیران ہیں کہ ریاست کے سٹیٹ کونسل میں اور سرداری جرگہ میں محض چند قوموں کو نشستیں دی گئی ہیں اور بعض دوسروں کو نہیں دی گئی ہیں۔ حالانکہ ریاست کے انتظامات اور آمدنی کا دارومدار انہی موخر الذکر قوموں کے اوپر ہے جو سرکار کو ایک بڑی رقم مالیہ اور ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں ۔ ان میں ساراوان کے دہوار اور کچھی کے جاموٹ سر فہر ست ہیں اور اسی معیار کے مکران کے دہقان کار درزادے قابلِ ذکر ہیں۔ اسی طرح ہمارے اہل ہنود کو بھی ان حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ کیا وہ ہمارے شہری نہیں ہیں۔ آخر یہ چھوٹے اور بڑے کا فرق کیوں ہے ۔ اگر خان تمام قوموں کا خان ہے تو پھر مساوات کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے ۔ اور اس بنا پر سب قوموں کو چھوٹے اور بڑے کا امتیاز کیے بغیر سٹیٹ کونسل میں نمائندگی کا حق ملنا ضروری ہے۔ اگر بڑی قوموں کو سٹیٹ کونسل اور سرداری جرگہ میں نمائندگی حاصل ہو اور چھوٹی قوموں کو حاصل نہ ہو تو پھر یہ ظلم نہیں ہے ؟ ۔اگر خان سب کا ہے تو سب کو ان اداروں میں نمائندگی ملنی چاہیے۔
ب۔ دوسرا توجہ طلب امرمیونسپلٹی ہے ۔ ریاست کے شہروں کو میونسپلٹیوںکی سخت ضرورت ہے ۔ یہ حقوق ہندوستان کے تمام انگریزی اور ریاستی باشندوں کو حاصل ہیں۔ میونسپلٹی کا یہ فائدہ ہے کہ ہمیں اپنے شہروں اور دیہات کو خوبصورت بنانے کا موقعہ فراہم ہوسکے گا۔ صفائی عوام کی صحت کے لیے ضروری ہے ۔ لوگوں کے دل میں شہروں اور دیہات کو صاف ستھرا رکھنے کا جذبہ پیدا ہوسکے گا اور ان شہروں کے باشندے اپنے اپنے شہروں میں زنانہ ہسپتال ، لائبریری اور تعلیم بالغاں کا اہتمام کرنے کا قابل ہوسکیں گے اور تعلیمِ نسواں کی طرف خاص توجہ دی جائے گی اور موجودہ زمانہ میں شہروں اور دیہات کے اندر ان سہولیات کا فقدان حکومت کے لیے بدنامی کا باعث ہوسکتا ہے “۔

5 جولائی کو پارٹی کے سالانہ اجلاس کی پہلی نشست کامیابی کے ساتھ ختم ہوئی۔دوسری نشست 6جولائی کو شام ساڑھے پانچ بجے شام منعقد کرنے کا فیصلہ تھا۔ پانچ بجے جب مینیجنگ کمیٹی کی میٹنگ شروع ہوئی تب معلوم ہوا کہ سرداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ جس طرح بھی ہو وہ پارٹی کو دوسرا جلسہ کرنے نہیں دیںگے۔
ظاہر ہے یہ بہت تشویش کی بات تھی۔ شرکا میں ملے جلے اثرات پیدا ہوئے ۔ کچھ لوگ اُسے سیاسی انداز میں حل کرنا چاہتے تھے ۔ مگر بہت سارے ایسے تھے جو مزاہمت کرنا چاہتے تھے ۔ پارٹی کے بعض ممبروںنے تو مشتعل ہوکر ہتھیار سنبھال لےے ۔ اور بہت جلد دو تین سو کے قریب بندوقیں اور تلواریں پارٹی کیمپ میں پہنچ گئیں۔(2)۔
اسی دوران سردار سمندر خان محمد شئی کا چیلنج موصول ہوا کہ اگر اِن لوگوں نے آج اپنے خیمے نہیں اکھاڑے تو کل میں خود اپنی قوم کے ہمراہ آکر انہیں مزہ چکھاﺅںگا ۔ سردار محمد خان شہوانڑیں نے یہ مشہور کررکھا تھا کہ وہ کلات جارہا ہے، مگر درحقیقت وہ کھڈ کوچہ اور مستنگ کی قبائلی بستیوں میں گشت کرکے لشکر جمع کررہا تھا۔
اسی اثنا میں دور سے ڈھول کی آواز سُنائی دینے لگی ۔ معلوم ہوا کہ شاہوانڑیں ،محمد شئی، بنگلزئی اور لہڑی سرداروںکا لشکر جلسہ پر حملہ کرنے کے لےے بڑھا چلا آرہا ہے۔ یہ حملہ آور لشکر آہستہ آہستہ قریب پہنچا۔ یہ کوئی ڈیڑھ دو ہزار کے قریب آدمی تھے۔ سرداروںنے جلسہ گاہ کی طرف دیکھا تو میدان صاف تھا۔ سردار محمد خان شہوانڑیں کے آدمی اب بے دھڑک آگے بڑھے، قومی جھنڈے کی لکڑی کو جس پر جھنڈا اُس وقت نہ تھا، تلوار سے کاٹا، یوسف گیٹ پر سے نواب یوسف علی خان مرحوم کے نام کو کھرچ کر مٹادیا ۔خیموں کی رسیاں کاٹ دیں، بازاروں سے پارٹی کے جھنڈے اتار لیے ۔ اور اس طرح اپنے دلوں کی بھڑاس نکال کر بیٹھ گئے۔( 3)
وہ بتاتی تھیں کہ 1939مےں قلات سٹےٹ نےشنل پارٹی کے سالانہ جلسے پر سرداروں نے حملہ کےا ۔جلسہ درہم برہم کرنے کے بعد سرداروں کے کارندے ہمارے گھر پر حملہ آور ہوگئے اور ساری رات ہمارے گھر پر پتھر برساتے رہے اور نعرے لگاتے رہے۔اس دوران ہمارے گھر مےں کام کرنے والی اےک بلوچ عورت قرآن سر پر رکھ کر ان حملہ آوروں کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔ جس کے بعد حملہ آور چلے گئے ۔ حملہ آوروں نے باہر سے آنے والے جلسہ کے شرکاءکے لئے بنائے جانے والے کھانے کی دےگوں کو بھی پتھروں سے بھر دےا تھا۔ (4)
دوسرے ہی دن بجائے اس کے کہ نیشنل پارٹی شکایت کرتی، الٹا ہوا یہ کہ سردار لوگ مل کر خان کلات کے پاس فریادی بن کر پہنچے اور اس سے مطالبہ کیا کہ نیشنل پارٹی پر پابندی لگا دی جائے ۔
یوں‘20 جولائی1939 کو خان نے پارٹی پر پابندی لگا دی۔
یوں تو بلوچستان میں شہری سیاسست 1920میں شروع ہوئی تھی۔ مگر وہ ہمیشہ تقریباً زیر زمین رہی تھی۔ درمیان میں مختصر عرصے کے لیے یوسف مگسی نے پارٹی انڈر گراﺅنڈ رہنے نہ دی اور پارٹی سربراہ کی حیثیت سے اسے اوپن چلانے کا اعلان کیا۔ مگر 1935 کے زلزلہ میں وہ زندہ نہ رہا۔ کلات کے بلوچ حکمران نے مگسی کے ساتھیوں سمیت سارے سیاسی لوگوں کو کلات سے بدر کردیا ۔ تب یہ والی پارٹی یعنی کلات سٹیٹ نیشنل پارٹی بنی تھی۔ اور اب 1939میں اس پارٹی پہ سرکاری طور پر پابندی لگا دی گئی۔ پارٹی کے فعال رہنما ¶ںملک عبدالرحیم خواجہ خیل ، میر غوث بخش بزنجو، عبدالکریم شورش، میر گل خان نصیر ، رئیس ملّا حسین آبی زئی ، شاہنواز، میاں نور الحق ، مولوی عرض محمد ، مولوی محمد عمراور دوسرے بے شمار لوگوں کو کلات بدر کردیا گیا۔
ہر ریاست کی طرح ریاست کلات کے حکمران بھی دہشت ووحشت مےں اپنا ثانی نہےں رکھتے تھے۔ اس معاملے میں وہ رسم ِدنیا تک کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً مےں ‘جب مستنگ میں ملک فیض محمد یوسف زئی کے پاس اس کا غیر مطبوعہ مواد دیکھنے گیا تو وہاں مجھے اُن احکامات کی کاپیاں ملیں جن کے تحت فاضل خان، عبدالرحیم خواجہ خیل ، ملک فیض محمد یوسف زئی ،اور بابو(عبدالکریم امن) کو کلات بدر کیا گیاتھا۔ یہ حکم نامہ وزیراعظم ریاست کلات کی طرف سے تھا ۔25 فروری1941 کو جاری ہونے والے اُس حکم مےں اس نے لکھاتھا:۔
”۔۔۔۔ کو کلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کے ساتھ سرگرمیوں کے سلسلے مےں اگلے حکم تک ریاست کلات مےں داخل ہونے سے منع کیا جاتا ہے
” ریاست مےں اس کی واپسی کی واحد شرط یہ ہے کہ وہ دو ہزار روپے کی ضمانت دے کر تحریری طور پر یقین دہانی کرائے کہ وہ پارٹی کے ساتھ اپنے رابطے ختم کردے گا اور ریاست، سرداروں اور ریاستی اہلکاروں کے خلاف سیاسی سر گرمیوں مےں حصہ نہےں لے گا“۔ایسے ہی حکم نامے 8مئی 1941کو گل خان نصیر اور ہمل خان کے خلاف بھی جاری ہوئے ۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وہاں ریاستِ کلات کے ملازم تھے۔ اُن کے استعفے بھی وزیراعظم نے اسی دن منظور کر لیے ۔ اس حکم نامے سے خوب اندازہ ہوسکتا ہے کہ سردار بھی اسٹیبلشمنٹ کا باقاعدہ حصہ ہوا کرتے تھے اور ان کے بھی خلاف بولنے والا ریاستی مجرم تصور ہوتاتھا۔(5)۔
ملک فیض محمد یوسف زئی نے اپنی یادداشتوں میں وزیراعظم کلات کی طر ف سے دو فروری 1942کا عبدالرحیم خواجہ خیل صدرنیشنل پارٹی کے نام ایک خط شائع کیا تھا۔ اس خط میں عبدالرحیم خواجہ خیل (مستنگ) ، غوث بخش (نال ) اور ملک فیض محمد ( پڑنگ آباد) کو اُن کی طرف سے شرائط تسلیم کرنے پر ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ جبکہ گل خان نصیر، حمل خان گواراں زئی اور ملک محمد پناہ کے داخلے کو اس بنا پر مسترد کیا گیا کہ وہ لوگ ریاست کے باشندے نہیں ہیں۔
1942-43کے زمانے میں ہندوستان کی تحریک آزادی اور ”ہندوستان چھوڑ دو“ کے مطالبات اپنے عروج پر تھے ۔ ان دنوں بلوچستان کی دو جماعتوں (کلات نیشنل پارٹی اور انجمن وطن) نے اپنی اپنی جماعتی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کانگریس سے اتحاد کرلیا۔ آزادیِ ہند کے لیے یہ لوگ کانگریس کے شانہ بشانہ مصروف کار رہے۔ جلاوطنی کے اس عرصہ میں مختصر وقفوں کےلئے انہیں جیلوں کی زیارت نصیب ہوتی رہی۔ اور ان کے لواحقین پر بلوچستان میں بے پناہ سختیاں روا رکھی گئیں ۔

ریفرنسز
-1نصیر، گل خان۔ غیر مطبوعہ مواد۔صفحہ84
-2 نصیر، گل خان۔ غیر مطبوعہ مواد۔صفحہ91
-3 نصیر، گل خان۔ غیر مطبوعہ مواد۔صفحہ93
4۔ شاہ محمد ۔ زیب النسائ۔ عشاق کے قافلے۔ جلد صفحہ
-5 گام گیژ۔ نوکیں دور کوئٹہ۔ نومبر1992۔ صفحہ44

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*