عمران اور اُس کا کپٹلزم ناکام

”نظام نہیں ، ایک اور چہرہ بدلو “والوں کی طرف سے باقاعدہ انتظام کے ساتھ بحثیں چلائی جا رہی ہیں کہ عمران خان کی حکومت ناکام ثابت ہوگئی۔
وہ بات اس طرح رکھتے ہیں جیسے عمران کی حکومت مرضیوں منصوبوں کے بجائے اچانک آسمانوں سے اتاری گئی ہو۔ بڑے بڑے عقلمند لوگ ہمیں یہ درس دیتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ بہت برسوں کے بعد، بہت سے اداروں کے بہت دانش مندوں کے غور و خوض کے بعد، اور بہت سے انتظام کاروں کے منظم اُس طرف جاتے رہنے کے بعد یہ حکومت قائم ہوئی تھی۔ پتہ نہیں کتنا پیسہ لگایا گیا، کتنے ممالک کے دارالحکومتوں سے آشیر باد ہوئی ۔۔۔عمران حکومت تو ،نواز اور آصف کی حکومتوں کی طرح ورلڈ بنک ،ریاست، سیاست، ملّا، پیر، اور ہر طرح کی اشرافیہ کی جوائنٹ ونچر ہے ۔
اس لیے یہ ناکامی ایک شخص کی نہیں ہے ۔ سارے ”لمیٹڈ کمپنی “ کی ہے ۔ اور یہ ناکامی تین چار سال کی بھی نہیں ہے ۔ یہ ناکامی ستر سال پرانی ہے ۔ مگر ہمارے عوام کو باور کرایا جارہا ہے کہ ناکامی کی عمر محض تین سال ہے ۔
وطیرہ یہ رہا ہے کہ میڈیا معاشی طور پر مشکل حالات اور بحران کی گھمبیرتا کو بالکل بھی ہائی لائٹ نہیں کرتا ۔ اُن کا زور ،اخلاقی انحطاط پہ زیادہ ہوتا ہے ۔ کہیں قتل وغارت کی دلخراش خبریں ہیں، کہیں جنسی سکینڈل ہیں اور کہیں فروعی سیاسی درباری معاملات ۔اب تو بورژوا میڈیا کے ہاتھ ”بریکنگ نیوز“ والا لفظ آگیا ہے ۔ اس لیے جب بھی کوئی خاص غیر مقبول سرکاری اعلان کرنا ہو تو سائیڈ سائیڈ میں کوئی سنسنی خیز خبر پھیلا کر توجہ اُس اعلان سے ہٹائی جاتی ہے ۔
اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ سیالکوٹ والا تھا جس میں سری لنکا کے ایک باشندے کو لاٹھیوں سے مار مار کر قتل کردیا گیا ۔ اور اس کے بعد اُس کی ڈیڈ باڈی کو جلا دیا گیا ۔
یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد لوگ بھوک بیماری کو بھول کر اِن مجاہد ناموں کے ٹوٹے سوشل میڈیا پر دیکھتے اور چلاتے رہے ۔مہنگائی چُپ ہوگئی۔ ٹیکس پہ خاموشی رہی ۔ بس ایک نیا دورہ پڑنے لگا۔وزیراعظم سے لے کر عام آدمی تک ” ہم شرمندہ ہیں“ کے فیس بکی بیانات داغتا رہا۔ یعنی پورے بائیس کروڑ لوگوں نے خود کو شرمندہ کہہ دیا ۔ مجھے یقین ہے کہ ”ہم شرمندہ ہیں“ کی توجہ ہٹاﺅ گردان میں اُس بہیمانہ قتل میں شامل لوگوں نے بھی (فیس بک پہ )خود کو شرمندہ قرار دیا ہوگا۔
حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ کوئی بھی شرمندہ نہیں ہے ۔ سب زبانی جمع خرچ ہے ۔ سارا کچھ اُن کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ پہلے خود اس کا درس دیتے ہیں ۔70سال سے ریڈیو ،اخبارات اسمبلی تقاریر، جمعہ کے خطبات ، ٹی وی ، سول سوسائٹی ، میڈیا مباحث ، صدر یا وزیراعظم کا قوم سے خطاب ۔۔۔سب کے سب بدترین فرقہ ورانہ بنیادی پرستی ہیں۔ ملک کی ساری بورژوا سیاست اسی مذہبی اور دو قومی نظریے پر چل رہی ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں جب واقعہ ہوجاتا ہے تو پھر کہتے ہیں کہ پاکستان کو بدنام کیا گیا۔ کچھ اسلام کو بدنام کرنے کے مگر مچھی آنسو گراتے ہیں۔
انگریز چونکہ اہلِ کتاب تھے اس لیے یو پی سی پی اور پنجاب میں اُس کے خلاف کوئی قابل ذکر سامراج دشمن جنگ نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ساری جنگ مذہب کے نام پر ہندوﺅں اور سکھوں سے رہی ۔چنانچہ اسی نعرے اور فکر کے تحت ملک بانٹ لیا۔ مگر مذہب کے ابھارے جذبات تو مسلسل اخراج مانگتے ہیں ۔ چنانچہ ایک قتل علم دین کے ہاتھوں ہوا ۔ قائداعظم اُسے بچانے کے لیے اس کا وکیل بنا۔ شاعر اقبال نے اُسے تعریفوں میں آسمان تک پہنچایا ۔ گورنر سلمان تاثیر کے باپ نے علم دین کی میت کو اپنی چار پائی دی تھی۔ اسی طرح عطاءاللہ شاہ بخاری ،مولوی غلام غوث ہزاروی ، مولوی رضوی اور ملا بجلی گھر صبح شام یہی باتیں کرتے رہے ۔پھر قاتل ممتاز قادری کو سینکڑوں وکیلوں ججوں نے ہار پہنائے تھے ۔ اس کا اتنا بڑا مقبرہ ہے اور اس پہ اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ حالیہ شرمندگی والے بیانات کی نفی ہوجاتی ہے۔
لگتا ہے اب ”شرمندہ “ کہتے ہوئے حکومتی ضمیر اور غیرت کے منہ کا ذائقہ خراب تک نہیں ہوتا ۔ طالبان کو اکسا اکسا کر، پیسے دے دے کر ،اور اسلحہ سے لاد لاد کر روس بھیجتے رہنے والے ہی تو تھے جنہوں نے مذہبی انتہا پسندی پھیلائی ۔ پھر  70ہزار آدمی مروائے ۔ شرم کدھر گئی ۔ سوات میں صوفی محمد کی متوازی حکومت پہ بغلیں بھی بجاتے ہیں اور بہ یک وقت  شرمندہ بھی ہوتے ہیں۔
فیض آباد دھرنے میں انتہا پسندی کی کون سی ”ادا “ تھی جو ادا کیے بغیر رہ گئی۔ اوپر سے افسر جلسے میں روپے بانٹتا رہا ۔ اب کس بات کی شرمندگی ۔ ”آپا“ نثار فاطمہ جیسی بنیاد پرست کے بیٹے احسن اقبال پر گولی چلائی گئی ،اصلی مولوی خواجہ آصف نامی وزیر کا منہ کالا کیا گیا، ایک اور بنیاد پرست وزیر کو استعفے دینے پر مجبور کیا گیا۔امیر المومنین بنتے بنتے رہ جانے والے نواز شریف کو جوتا مارا گیا۔ اور بالآخر نواز حکومت اسی مذہبی انتہا پسندی میں چلی گئی۔ بھٹو اور بے نظیر کے قتل اسی انتہا پسندی میں ہوئے ۔ شرمندگی تو کہیں نہ تھی۔
سری لنکا والے کو جلادیا گیا تو اوپر اوپر سے دین دنیا کے سوداگر شرمندگی کے بیانات دے رہے تھے مگر یہی تاجر اور سوداگر سری لنکن کے قاتلوں کو جیل میں کھانا اور بستر کمبل پہنچا تے رہے ہیں۔۔۔
اور کون کہتا ہے کہ سری لنکا والا مذہب کی توہین پہ جلا دیا گیا۔ فیکٹری والوں اور بڑے بڑے تاجروں کی رقابت ، محنت کشوں کے بے رحمانہ استحصال،گلا گھونٹے والی مہنگائی ، بدترین ڈکٹیٹر شپ اور ٹریڈ یونین پہ پابندی سب نے مل کریہ قتل کیا اور پھر جلادیا ۔
کوئٹہ میں عورتیں اغوا کر کے برہنہ وڈیو پہ بھی سب وزیر شرمندہ ہوئے۔ اور پھر فیصل آباد میں عورتیں بازار میں ننگی کر کے گھمائی گئیں۔ پھر شرمندگی ، اسلام کی بدنامی ، پاکستان کی بدنامی کے رٹے رٹائے الفاظ کی قوالی ہوئی۔ ایک بھی فرد پیچھے نہ رہا۔ سب شرمندہ ہوگئے۔
مہنگائی کی تباہ کاریوں کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ ہر گھر کا چولھا دن میں تین بار اس مہنگائی کے ہاتھوں آنسو بہاتا ہے ۔ مگر میڈیا گھر گھر کی اس خبر کو دباتا ہے ۔ کیوں؟ ۔ اس لیے کہ مہنگائی کا تعلق معاشی نظام سے ہے ۔ اور معاشی نظام عالمی کپٹلزم سے منسلک ہے۔ ہمارا سارا معاشی سسٹم آئی ایم ایف چلارہا ہے ۔ وزیر خزانہ اور سٹیٹ بنک گورنر آئی ایم ایف کے باقاعدہ ملازم ہیں۔ ہمارا سارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے ۔ ٹیکس وہی لگاتا ہے ، پیٹرول اور بجلی اور گیس وہی مہنگی کرتا ہے ۔
مگر، الزام عمران خان پہ۔ کیوں؟ یہاں تو عمران حکومت ہے ہی نہیں۔ حکومت تو براہِ راست آئی ایم ایف کی ہے ۔ ۔ بین الاقوامی کپٹلزم کی ہے ۔تو محض عمران کی ناکامی کیسی؟ ۔ بھئی یہ سعودی ، برطانوی اور امریکی ناکامی ہے ۔ حکومت جو اُن کی ہے ۔ کپٹلزم کی ناکامی ۔
مہینے میں تین تین بار پٹرول مہنگا ہوتا ہے ۔ ہر تین چار ماہ بعد اربوں کے نئے ٹیکس لگانے کے لئے منی بجٹ تیار ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے لئے پیش کردیا جاتا ہے ۔کپٹلزم کی لونڈی ساری پارٹیاں اس بجٹ کے حق میں ووٹ دیتی ہیں ۔کیا سرکاری ، کیا نیم سرکاری ، اور کیا بظاہر غیر سرکاری مگر اصل میں سرکاری ممبران منی بجٹ کی دل وجان سے منظوری دیتے ہیں ۔وہ خود بخود ایسا کرتے ہیں ۔۔۔۔ اگر پس و پیش کریں بھی تو ایک فون کال پہ  حاضر ۔اس دوران دھواں دھار تقریروں کو بعید از امکان قرار نہیں دیا سکتا۔ اور الزام عمران پہ ۔عدلیہ انتظامیہ ، میڈیا، پیر اور ملا، سیاست کار اور آئی ایم ایف سب کی مشترکہ حکومت کو ناکام کہنے کے بجائے ”عمران ناکام “کا غوغارہتا ہے۔ کیوں؟ ۔ اس لیے کہ پیچھے حکمران طبقہ ضرورت کے وقت اُسے ”قربانی کا بکرا“ بنا کر پھر ایک اور بکرا سامنے لائے ۔ ایسا مگر ، عالمی کپٹلسٹ نظام کے اجازت سے ہی ہوتا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*