حق دو

 

( شونگال سنگت جنوری 2022)

ایک عرصے سے دعویٰ رہا کہ سمندر بلوچستان کی سیاست کو لیڈکرے گا۔ یقین رہا کہ معدنی مزدور اور ماہی گیر بلوچستان کی عوامی تحریک کا مستقبل ہیں۔ مگر یہ دونوں طبقات چونکہ شہروں ،آبادیوں سے دور ہیں( اور معدنی مزدور مقامی بھی نہیں ہے ) اس لیے سیاست میں پٹ فیڈر کا کسان یا پھر شہروں میں طالب علم ہی سرگرم نظر آتے رہے ہیں۔اِس طرح گزشتہ 70برسوں میں سمندر نے قیادت تو نہ کی ، بلکہ الٹ کام کیا۔سمندر نے اپنی قیادت ابھاری ہی نہیں۔ وہ فیوڈل لیڈر امپورٹ کر کے گزارہ کرتا رہا۔
ایک بڑی تبدیلی یہ آئی کہ گوآدر کونے کھدر ے سے نکل کر شہر اور توجہ بن گیا۔ اور یوں استحصالی نظام کا سارا وحشی پن دنیا کے سامنے آگیا۔ سی پیک کے نام کو جگمگا جگمگا کر اُس کا دودھ اور مکھن تو پنجاب لے جایا گیا مگر بھوک وہیں رہ گئی۔ اُسے شفٹ کرنے کا ارادہ تھا ہی نہیں۔ افلاس وہیں رہا۔ ناحقی بے انصافی نہ شفٹ ہوسکی، اور نہ اس کے گاڑھاپن میں کمی آئی۔
یہ درست ہے کہ وہاں ابھی تک ماہی گیری کے علاوہ کوئی اور انڈسٹری نہیں لگی۔ اس کا پورٹ ابھی آپریشنل نہ ہوا۔ خالص اُس کے لیے ”مختص“ موٹرویز ،پنجابی ہتھیا گئے۔ اکنامک زون وغیرہ سب نواز شریف اپنے صوبے لے گیا۔ ۔۔۔چین اس ساری استحصالی سٹریٹجی میں معاون رہا۔
اور جب گوآدر اور سی پیک سارے کا سارا لٹ گیا تب ہی لوگوں کو نظام کی تلچھٹ نظر آئی ۔ ٹرالر نظر آئے ، چیک پوسٹ نامی توہین گاہیں نظر آئیں، منصوبہ بند منشیات کا نیٹ ورک نظر آیا ، کوسٹ گارڈ کا نو آبادیاتی مائنڈ سیٹ نظر آیا۔
ماہی گیرکی گذر بسر کے لیے کچھ نہ بچا تو بالآخر سمندر نے انگڑائی لینی شروع کردی۔
ہوا یوں کہ سی پیک کے نام پہ چینی کالونی وجود میں آئی۔ ایک فائیوسٹار ہوٹل قائم ہوا۔ گوآدر کی ساحلی زمین ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے لینڈ مافیائی نان لوکل سیٹھوں کی آمد ورفت بڑھ گئی ۔ ۔ ۔ اُس ” سب“ کی سیکورٹی کے لیے وزیرستان کی بہت ہی ”مہذب اور تعلیم یافتہ “سپاہ مکران کے کونے کونے میں پھیلادی گئی۔ اِن چیک پوسٹوں پر ’کہاں سے آرہے ہو کہاں جا رہے ہو ‘جیسے بے شرف کردینے والے سوالات کا صرف ونحو ہونے لگا۔ لوگوں کی تلاشیاں مشغلہ بن گئیں۔ راہگیروں دکانداروں مچھیروں کی توہین اور بے عزتیاں ٹائم پاسی ٹھہریں۔کوسٹ گارڈ کی ”عوام دوستی “تو پہلے ہی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھی۔ اب کے اُس نے ماہی گیروں کی کشتیوں پہ قبضہ کرنا بھی شروع کردیا۔ ماہی گیروں کی بستیاں روزی کی جگہ یعنی سمندر سے ہٹادی گئیں ۔انہیں سمندر میں ماہی گیری جیسی روزی تلاش کرنے کے لیے زمین والوں نے ”ٹائم ٹیبل “تھما دی ۔اور اُن کی ماہی گیری غیر ملکی دیوہیکل دشمن ٹرالروں کے حوالے کی گئی۔گوآدر کو منشیات مافیا کے حوالے تو بہت عرصے سے کیا گیا ۔ یہ دور افتادہ مقام پاکستان کی مصنوعات کی پہنچ سے دور رہا۔ اسی کے سبب گوآدرساری چیزیں پڑوسی ایران سے خریدتا ہے ۔ اور پھر اچانک ، متبادل دیے بغیر ،رومانٹس ازم کے شکار وفاقی حکام نے ایران بارڈر بند کردیا۔ پیاز ٹماٹر تو چھوڑیے لوگ آٹا ملنے سے بھی محروم ہوگئے ۔
۔۔ اور پھر ، بالآخر گوآدر کی اتاہ خموشی میں خلل پڑ ہی گیا۔ سماج میں اتنے بڑے پیمانے کی دخل در معقولات تو گراں خواب چینیوں کو جگا چکی تھی ، گوآدر تو کوئی چیز ہی نہیں۔ سخت گیر آ ہنی صندوق میں بند رکھا گیا گوآدری معاشرہ چاروں طرف سے کپٹلزم کی چکا چوند سے ہڑ بڑا کر اٹھا۔ ۔۔۔ مگر اُس وقت تک اُس کے ساحل الاٹ ہوچکے تھے ۔اُس کے پانی پہ ٹنڈر ہوچکے تھے ۔ اور آئندہ کئی دہائیوں تک آمدن کا ایک ایک سکہ دُور مشرق منتقل ہوتے رہنے کے انتظامات مکمل ہوچکے تھے۔
وہاں ابھار روکنے والوں نے دہائیوں تک روکنے کے اقدامات کیے۔ اِسی طرح ابھار ابھار نے والے طویل عرصے سے استطاعت سے بڑھ کر محنت کرتے رہے تھے ۔ مگر عوامی ابھار ابھرنے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ معروض نے اپنے قوانین کے مطابق حرکت کرنا ہوتا ہے ۔کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیاں نظر نہیں آتیں ۔ کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیوں کو اوجھل رکھ کر ، محبوبہ کے خیمے تک جانے کی ساری احتیاط اور خموشی اپنا کر گوآدر نے بالآخر کوالی ٹے ٹو انگڑائی لے ہی لی۔
ایک 70سالہ بوڑھی ماہی گیر عورت زینب لدے ہوئے اونٹ کی کمر پہ آخری تنکا ثابت ہوئی ۔ غربت و بھوک اور توہین و بندش سے تنگ آکر وہ باہر نکلی، ماہی گیر عورتوں کو پکارا ۔دیکھتے دیکھتے عورتوں کا لشکر بن گیا یہ لشکر مطالبوں کی ایک لسٹ کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ گیا۔اور اُسے دھرنے کا نام دیا گیا۔ اس کمال اقدام سے بلوچ کلاسیک سے لے کر آج تک عورت کے بارے میں سارے تصورات باطل ہوگئے۔
عورت ماہی گیروں کے اس احتجاج نے سارے ماہی گیروں کو اس دھرنے کے گرد جمع کیا۔ زینب صرف احتجاج کی راہنمائی ہی نہیں کررہی تھی وہ تو دھرنے والوں کے لیے روٹیاں بھی پکاتی رہی ۔ اُس کی قیادت میں ہزاروں عورتیں گھر سے نکلتی رہیں اور دھرنے میں شامل ہوتی رہیں۔ وہ اس پوری تحریک کی بانی ٹھہری ۔
زینب نہ سویڈن میں ٹریڈ یونین کا کورس کر چکی تھی، نہ اُس کے پاس عوام سے خطاب کرنے کی کوئی یونیورسٹی ڈگری تھی ۔ وہ تو محض بھوک کی پی ایچ ڈی تھی۔خود گذشت تذلیل کی سکالر تھی۔ چنانچہ استحصال جیسی منفی مظہر کی پیداوار زینب ، اس نظام کی نفی بن گئی۔
نفی نے نفی کو پکارا۔ نظام کی نفی امڈ آئی۔ دھرنا بن گیا، 30دن تک چلا ۔”حق دو“ کا نعرہ اپنایا ، اورساحلی مخصوص زندہ دلی نے تحریک کو دوام دیا۔ محنت کش سمندر کی مست لہروں کی نقل زمین پر کرتے رہے۔ اپنی تحریک کسی قبضہ گر سیاسی میلہ گر کو ہائی جیک نہ ہونے دینا ایک زبردست کارنامہ تھا۔ بلوچی مقامی رنگ۔ ساحلی رنگ، گوآدری رنگ۔ ۔ ۔گوآدر زندہ باد!۔
مولوی ہدایت الرحمن تو بہت بعد میں اِسی زینب کے کہنے پر اس دھرنے میں شامل ہوا۔سمجھنے کی بات ہے کہ ”حق دو تحریک“ کوئی ناگمان، کوئی دفعتاً ، کوئی ”اچانک “نہ تھی۔ اس کے پیچھے تو جبرو استحصال کے خلاف ایک لمبی ناراضگی تھی۔ گھٹن اور حبس میں نسلوں گزارے پھیپھڑوں نے بالآخر اپنی زندگی یعنی آکسیجن مانگ ہی لی۔ باہر نکلو اور لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلو اور سردیوں کا ایک پورا ماہ دھرنا دو، تب ہی چھ ماہ بیدار اور چھ ماہ نیند والا دیوجاگ پائے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ روایتی انداز اپنا کر میڈیا کوریج نہ کرنے دی گئی۔ میڈیا پہ دھرنا سے توجہ ہٹاﺅ آئٹم بھی پیش کیے گئے ، اُس کے بارے میں شکوک بھی پھیلنے دیے گئے ۔ ۔۔ مگر جدلیاتی عمل اپنا دائرہ پورا کر چکا تھا۔ دھرنا کا میابی سے چلنے لگا۔
مگر یہ انقلاب نہیں تھا ۔ اس نے تو بس لاکھوں لوگوں کو متحرک کردیا۔ اور ایک ماہ تک متحرک کیے رکھا۔ اس دھرنے نے عوام کو اپنی طاقت پر اعتماد مہیا کردیا ۔ خوف کی فضا ختم کی ۔ اور اپنے اندر سے نئی قیادت پیدا کرائی۔
یہ والا کوالی ٹے ٹو مظہر اب خود سبب (Cause)میں بدلے گا۔ یہ ”نتیجہ “ اگلے نتیجے (Result)کی طرف جانے کی ”وجہ “بنے گا۔ اس نے ایک بار پھر ، ایک بڑے عرصے تک مزید کوانٹی ٹے ٹو تبدیلیاں ٹٹولنی ، چُننی ہوں گی۔ اس نے ایک اور کوالی ٹے ٹو تبدیلی کو حقیقت بنانے کے لیے ایندھن بننا ہوگا۔اس سلسلے میں معروض کے دائرے میں رہتے ہوئے وقت اور انسانی محنت کا آپس میں معکوس تعلق رہے گا۔
معروض کی گھمبیرتا نے عوام الناس کو ایسے باہر نکالا کہ ساری ایسٹیبلشڈ لیڈر شپ بائی پاس ہوئی۔ سیاسی پارٹیاں بائی پاس ہوگئیں۔اس پہ فتوی بازی کے بجائے غور کرنا چاہیے ۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اچھا ہوا ۔ ایسا ہونا ہی چاہیے تھا۔ اگر اس تحریک کی قیادت بلوچستان کی جانی پہچانی پارٹی یا لیڈر کر رہی ہوتی تو کب کا اُس کا گلا دبا دیا جاچکا ہوتا۔ بہت سے سرگرم لوگ گم کردہ ہوجاتے ۔ ایک آدھ بگڑی میت تو یقینی ہوتی ۔
سیاست پہ اجارہ نہیں ہوتا۔ سیاست زمینی سرگرمی ہوتی ہے ۔اور زمین پر لوگ رہتے ہیں، عوام بستے ہیں۔ اس لیے سیاست کا تعلق براہِ راست عوام سے ہوتا ہے ، عوامی مسائل سے ہوتا ہے تو جو بھی شخص یا پارٹی عوامی مسائل کو اٹھائے گا لیڈر وہی ہوگا ۔اگر میڈیا کی ضد ہے کہ زینب کے بجائے مولوی ہدایت کو اس کا لیڈر سمجھا اورمانا جائے تو یہ بہت ہی ناجائز بات ہوگی ۔ مگر بات یہ ہے کہ ملّا ہدایت الرحمن سیاست کرتا ہے ، ایک سیاسی پارٹی سے وابستہ ہے ۔ اس لیے وہ سیاست تو کرے گا۔ اُس میںکوئی شک نہیں۔ نہ اس میں کوئی اچھنبے کی بات ہے ۔
مگر انتہائی شک و شبہات کی فضا کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ گوآدر مزدور دھرنا فیض آباد دھرنا بالکل بھی ثابت نہ ہوگا۔ ٹھوس عوامی مطالبات پر مشتمل تحریکیں دور رس اثرات چھوڑتی ہیں ۔ اس تحریک کے ۔ نہ تو لیڈر” اوپر“ سے آئے تھے نہ ورکر کرائے کے لباس اور وردی بدل کر مظاہرین بن گئے ۔بے آواز لوگوں نے خود اپنی صفوں میں سے اپنا نظام خود بنایا۔ اپنے میں سے لیڈر اور ترجمان سطح پہ لا اچھالے۔
تاریخی عمل کا موضوع اور محرک دونوں عوام ہوتے ہیں ۔ تاریخ میں فرد کے کردار کو بہت بڑھا چڑھا دینے سے عوام کے کردار کی اہمیت کم ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ گوآدر میں عوام ہی نے نقارہ بجادیا۔ ایک ماہ طویل دھرنا ہوا۔ اس دھرنے کے مقرر اپنے تھے ، اناﺅنسر اپنے تھے ۔یہ کمال دھرنا تھا کہ اس میں باقاعدہ ڈرامے پیش کیے جاتے رہے، شاعری سنائی جاتی رہی، ترانے بنائے گئے اور گیت گائے گئے ۔ تعجب یہ بھی کہ اس میں پیش کیے گئے سارے ڈرامے اور ترانے بلوچی زبان میں تھے ۔ اُن کو لکھنے والے دھرنے ہی میں موجود اُس کے اپنے شرکاءتھے ۔ ڈراموں میں کردار ادا کرنے والے لوگ دھرنے کے محنت کش ہی تھے۔ نعرے بنانے والے اپنے ، اور نعرے لگانے سننے والے دھرنے کے اپنے تھے ۔ دھرنے کی نانبائی بھی ماہی گیر، تھی اور اس کی رپورٹر بھی سمندری محنت کش تھی۔ اس کے مطالبے بھی اپنے ،اس کے ڈائنامکس بھی اپنے ۔ جو اچھی بات ہوئی وہ یہ تھی کہ سیاسی پارٹیاں اس میں شامل بھی ہوئیں،اس میں تقریریں بھی کیں۔ مگر وہ اسے خواہ مخواہ ”اپنی “ تحریک بنانے کے لیے بھیڑیے بن کر اُس پہ حملہ آور نہ ہوئیں۔ بڑی بڑی شخصیات نے اِس امڈ آئے عوام کو ”اپنے “ پیچھے لگانے کی کوشش نہیں کی ۔ اور یوں اُس بہت بڑی اور بہت طویل المدت تحریک میں خراش نہ ڈالی جاسکی ۔
مگر آئندہ کے لیے اس تحریک میں ابھر آنے والی لیڈر شپ کو اپنے اندر بھرتی کرنے کے لیے بھرتی کے سارے ادارے یقینامتحرک رہیں گے۔” حق دو تحریک“ کی ساری لیڈر شپ ٹارگٹ پہ ہے ۔ جماعت اسلامی کی طرف سے ، پیپلز وں کی طرف سے۔۔ اور اداروں کی طرف سے۔ظاہر ہے ملکی پیمانے پر ٹریڈ یونین تحریک اس قابل نہیں کہ اپنی اس تحریک کو سنبھالے ، لیڈ کرے اور مستقبل کا ساتھی بنالے۔
سب کو معلوم ہے کہ اس تحریک سے فوری اور فروعی معاملات جزوی طور پر حل ہوں گے ۔مگر اس سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس لیے کہ ابھی عالمی کپٹلزم بہت مضبوط ہے ۔ ابھی دیگر جگہوں پہ جمود کی قوتیں حاوی ہیں۔ ابھی تبدیلی لانے والی قوتیں کمزور ہیں۔ ۔۔مقامی طور پر زبردست کامیابی کے باوجود ابھی اندھیر رہے گی ۔ابھی سویر دور ہے ۔

مگر گوادر کے ماہی گیر عالمی تاریک رات میں جگنو ضرور بنے ۔۔۔ ۔۔ جگنو سلامت رہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*