تغیّر

(افضال سید کے نام )

اک تغیّر ہر اک شے کو ہے لازمی
زندگی چاک پر گھومتی گھومتی
خاک ِ آدم بنی
خاک اڑتی رہی
روح کو خاک میں باریابی ملی اور بدن بن گئی
پھر اذاں دی گئی اور اِک کن میں یہ آسماں بن گیا
کہکشائیں بنیں اور زمیں بن گئی

خاک پِھرتی رہی
چاک چلتا رہا اور دِل بن گیا
دل سے دھڑکن بنی
دھڑکنوں میں عجب سلسلہ چل پَڑا
بات آگے بڑھی اور زبان بن گئی
دل پہ رازِ محبّت کا پردہ کھلا
اور اظہار کو راستہ مل گیا

راستہ جو بنا تو ہوا چَل پڑی
دھول اڑتی رہی
دھول نے رقص کرتا بگولا چھوا اور میں بن گیا
میں سے حسرت بنی
حسرتوں سے یہ کون و مکاں بن گئے

حسرتوں سے یہ تیرہ شبی بن گئی
پھر دیا بن گیا اور دئیے سے دھواں
رقص چلتا رہا اور تو بن گئی

پھر یہ آنکھیں بنیں
محویت سے بھری
منظروں میں گھری
آنکھ حیرت بنی
حیرتوں نے تیرے جسم کو چھو لیا ، آئنہ بن گیا
پیچ کھاتی ہوئی خواہشوں کا دھواں آنکھ میں بھر گیا
صیقلی چَل پڑی

ایک انگور کی بیل پر بیخودی ناچتی ناچتی دھم سے نیچے گِری اور صراحی بنی
پھر صراحی سے مَے ، مے سے پھر میکدہ
ہائو ہو مَچ گئی
مے لہو بن گئی
زندگی اس کی تخصیص پر چل پڑی
اور سبو بن گئی

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*