ایک نظم کسی چندر کُنج میں

 

آج پڑھنت کے پھیر میں ایسے
من دیپک کے دھیان میں کھویا
اِس دیپ جلن کی آنچ میں بُلھیا
مست کے ساتھ الست رہا پھر
ایکم نقطہ
من موج کی صورت
مَیں رنگ ریز_______ ست بھوگ رہا ہوں
جیون کو بل دے کر بُلھیا
مست کا رقص
کالی درپن میں
جُمبیل کی لہروں میں بِلویا خود کو
سمو بھی لہر سروپ بنی اور
ہم شنگریلے اگن سراپا
اور اس تاپ کرن سمے یوں
مجھ میں اور ہی منتر مہکے
اور اِس مہکار میں جانے کب سے
بول رہا ہوں………
بُلھیا بے کل ہرسو ایسے
جیون کھوج رہا ہے خود میں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*