کنکر اور آنند

 

معبد کا آخری ٹمٹماتا چراغ بھی گل ہوا
پجاری کی خاموش مناجات ختم نہیں ہوئی تھی
تب مجاور کے ننگے پیر کے نیچے راہداری کی دھول کے اڑنے کی آہٹیں اسے سنائی دیتی ہیں
اسے نروان نہیں، آنند چاہیے تھا
سو وہ اسے مل چکا تھا
اس نے خاموشی سے اپنے تھکن سے چور جسم کو ایک طاقت کے ساتھ وہاں سے اٹھایا اور خود کو معبد سے باہر نکالا
گلی گلی پھرتا ہوا
پرچھائیں بن گیا
ہزار سال بعد پرچھائیں کنکر میں تبدیل ہو جاتی ہے
کنکر ایک پتھر کی دیوار میں چنوادیا جاتا ہے
۔۔۔ معبد میں روز کوئی آتا اور چلا جاتا مگر وہ پرچھائیں۔۔۔
ایک دن مجاور نے شام ڈھلنے سے پہلے معبد کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک خاموشی کونے میں آکر بیٹھ جاتی ہے
چراغ جلنا شروع ہوجاتے ہیں
پرچھائیں سانس لیتی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*