ناول ”ہڑپہ “ کا ایک باب

صنوبر ان تین چار برس میں اپنے بدن میں برپا ہونے والی شرمناک تبدیلیوں کی عادی ہو چکی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ہر مہینے کے اختتام پر اسے گندی ٹاکیاں چوری کرنی ہیں۔ یہ ٹاکیاں وافر تعداد میں نہ ملنے کی وجہ سے اطراف بدل بدل کر بار بار استعمال کرنا ہیں۔ جب وہ شرابور ہو کر ٹپکنے لگ جائیں تو پھر پہلے سے استعمال شدہ خشک اکڑی ہوئی ٹاکیوں کو دوبارہ جاہنگوں کے بیچ پھنسا لینا ہے۔
بچپن میں جب اسے باہر نکلنے کی اجازت تھی تو انہی کی ہر سوورل پڑی رہتی تھی۔ ہراڑوڑی کے ڈھیڑ پر کھیتوں میں، رڑے میدانوں میں۔ خصوصاً بارش کے بعد تو جیسے ہر کہیں دھوبی گھاٹ لگا ہو جیسے خدا کی پوری زمین سندھی رلی میں تبدیل ہو چکی ہو۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ جھاڑو لے جاتی اور پھیر کر اس نایاب خزانے کو سمیٹ لیتی۔ اس وقت اس سے قیمتی کوئی دوسری شے نہ ہو سکتی تھی لیکن وہ اس خزانے کی مالک کیسے ہو سکتی تھی۔ اسے تو اس جھیت میں سے بھی جھانکنے کی اجازت نہ تھی۔ جس میں سے باڑے کی صورت حال کا جائزہ لینے کو بڑی بی بی جی دن میں کئی بار جھانکتی تھیں۔ وہ تو اپنی جان کے دشمن اس تبدیل شدہ بدن کو اکلوتی گرم چادر میں کس کے باندھے رکھتی۔ ریڑھ کی ہڈی دوہری کیے گچھا مچھا گرمیوں کی امس بھری طویل دوپہریں ہوں کہ حبس نچڑتی، وجود کا پسینہ پگھلاتی جہنم خیز راتیں ہوں۔ اس گھٹڑی وجود کی گرہ سوتے میں بھی کبھی ڈھیلی نہ پڑتی۔
بڑی بی بی جی کی نظروں سے وہ خود کو کونوں کھدروں میں چھپائے رکھتی۔ لیکن ان کے غصے کی کمان سے چھٹے طنز کے تیر اسے ہدف کر تے ہی رہتے۔
”پاگل! گرمیوں میں بھی گرم چادر لپیٹے رکھتی ہے۔ نہ ممے نکالتی نہ چھپانے پڑتے۔ جا دفع ہو جھلے ملی کے ساتھ جا کر بیٹھ جا۔ پاگل گدھی۔
ان جسمانی تبدیلیوں کو مکمل ہوئے بھی تین چار برس گزر گئے۔ لیکن اس ناکردہ گناہ کی سزا اسے شاید عمر بھر بھوگنا تھی۔ کاش اسے ملی کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت مل جاتی۔ تو خوشی کے احساس سے بھی وہ واقف ہو جاتی۔ اس کے محسوسات کو دکھ کا پہلا احساس بھی اسی ملی نے ہی بخشا تھا۔ یہ ملی ہی تھا جس نے اس کے اندر تحقیر اور تذلیل سے نفرت پیدا کی تھی۔ یہ ملی ہی تھا جس کی وجہ سے بہت بچپن میں اس کے اندر ممتا کا جذبہ بیدار ہوا تھا۔ ٹیڑھی لرزتی ٹانگوں چھوٹے سر اور ٹیڑھے جبڑے سے رالیں ٹپکاتا ہوا ملی پیچھے لگے بچوں کے غول __ پتھر روڑے تھپڑ گھونسے لاتیں کھاتا وہ ڈھینچوں ڈھینچوں ہنستا تو اسے ہنسی سے نفرت محسوس ہوتی۔ ہنسی سے نفرت بھی اسی ملی کی دین تھی۔ جب وہ پتھر چھمکیں کھاتے ہوئے تکلیف سے روتا، رالیں اور آنسو ٹیڑھے جبڑے پر آمیز ہوتے کھلے منہ سے لعاب کے تار تالو اور زبان کو ترازو کر دیتے۔ اسے آنسوو¿ں کا دکھ بھی پہلی بار اس ملی سے ہی ملا تھا۔
ملی کی ہیت کذائی پر قہقہے لگاتے کسان چرواہے اور گلیوں سے گزرتے مرد و زن۔۔۔ اسے قہقہوں سے نفرت بھی تبھی ہوئی تھی۔ قہقہہ احساس برتری کا تحکمانہ اظہار، برتری اور تضحیک کے احساس کی سرخوشی۔ اسے سرخوشی کے احساس سے نفرت بھی اس ملی نے دلائی تھی۔
ان سارے جذبوں کا پہلا پہلا احساس اس کے اندر ملی نے ہی جگایا تھا۔ پھر یہ سارے احساسات اس کے وجود کو یوں لپیٹ گئے تھے۔ جیسے سوئیاں چنی کوئی گڑیا۔
ملی جو اپنی اکلوتی جھلی لپیٹے ٹیڑھی کمزورٹانگوں اور کمزور دماغ کے ساتھ دن رات گرتا پڑتا لیکن یہ بوسیدہ جھلی کبھی بدن سے جدا نہ کرتا۔ نجانے یہ جھلی کہاں سے اس کے ہاتھ آئی تھی۔ اسے تو خدا نے کبھی کچھ نہ بخشا تھا۔ انسان کیا دے سکتے تھے۔ پھر یہ کٹھور دل انسان__ وہ بھی بدن ڈھانپنے والی جھلی۔ گاو¿ں کی عورتیں پرانے کپڑوں کو تہ در تہ اوپر نیچے جوڑ کر باریک باریک ٹانکوں سے انہیں سی لیتیں اور ایک موٹی دبیز چادر بنا لیتیں۔ کناروں پر کپڑے کے کٹاں بنا کر لیس لگاتیں جسے جھلی کہا جاتا۔ جس میں ہر رنگ اور ہر قسم کے پرانے کپڑے کا ٹوٹا جڑا ہوتا ہے۔ اس گاو¿ں میں پرانے کپڑے دھجیاں ٹوٹے ٹاکیاں کس قدر اہم تھے۔
ملی اسی جھلی میں کہرا زدہ سرد راتیں مویشیوں کے کسی باڑے میں ٹھٹھرتے ہوئے گزارتا۔ گرمیوں کی خاکستر دوپہریں بھی۔ گرمی سردی کی بارشیں بھی جیسے ڈرتا ہو کہ یہ شریر لڑکے چھین کر بھاگ نہ جائیں۔ اس کی کل کائنات یہ بوسیدہ جھلی۔۔۔ وہ بھی اس گرم چادر کو ملی کی جھلی کی طرح کبھی خود سے جدا نہ کرتی۔ اگر ہڑپہ کے ھاڑ جیٹھ میں گرم چادر لپیٹنا پاگل پن ہے۔ تو بڑی بی بی جی اسے کوئی ٹھنڈی چادر کیوں نہیں بخش دیتیں۔ جس میں وہ اپنے واہیات وجود کو گرہ بند کر سکے۔ اس کے سبھی گناہ اس جسم کی دراندازی کی بنا پر ہیں تو بڑی بی بی جی پل پل اسے تکلے میں پرونے کی بجائے ایک ہی بار دفن کیوں نہیں کر دیتیں۔ جیسے گندی ٹاکیاں گڑھا کھود کر دفنا دی جاتی ہیں۔ جو ہر بارش میں ناحق خون کی طرح خود کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ سرزمیں__ وہ اگر ان گندی ٹاکیوں کی طرح دفنا دی جائے تو پھر وہ اپنی برتری، عظمت حاکمیت کی نفسیاتی تسکین کو بار بار کیونکر حاصل کر سکیں۔
وہ ہر طعنے کوسنے کا منطقی جواب رکھنے کے باوجود بولنے کی جرا¿ت نہ رکھتی تھی۔ سکڑتی سمٹتی۔ بدن کی غلاظتوں کو گھونٹتی لیکن انہی غلاظتوں کی اکڑ اکڑ کر نمائشیں لگاتی یہ ساری خادمائیں جیسے یہ غلاظتیں نہیں زینتیں ہوں۔ اسے چنی یاد آئی جس کی مجلی کا ٹوٹا کھل کھل پڑتا تھا اور چرواہے چھوکرے دھینگا مشتی میں ُکرتا بھی چیر ڈالتے اور وہ الف اللہ کھڑی انہیں خود پر حملہ آور ہونے کو اکساتی رہتی۔ وہی بدن چنی کے بدن سے کہیں خوبصورت بدن گرم شال میں سکڑ سمٹ کر بھی صنوبر کے لیے باعثِ شرمندگی کیوں تھا۔ فطری جبلتوں کو اپنے اظہار کی یہاں اجازت نہ تھی۔ اس کے دونوں بازو خود کو چھپاتے چھپاتے بغلوں اور پسلیوں سے چپک گئے تھے۔ سینے کی ہڈی باہر نکل آئی تھی اور شانے جھک کر ُکب کی شکل بنا گئے تھے۔ آخر وہ اس مکوڑا سے وجود کو کس بِل میں اتار دے۔ اس وقت اس کی زندگی کی قیامت خیز پریشانی یہی متجاوز وجود تھا۔ لیکن اس کا دماغ ہر صورت حال کو جانچنے، ہر شخص کے دماغ کو پڑھنے، ہر ارادے سوچ اور حرکت کو وقوع پذیر ہونے سے بیشتر جان لینے کی عجب صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*