صحت اور غذا سے محروم خواتین اور بچے

صحت کی سہولیات کے حوالے سے پورے بلوچستان میں کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں بلوچستان کے ضلع کوہلو میں بھی صحت کی سہولیات سے خواتین و بچے ذیادہ تر محروم ہیں
ضلع کی کل آبادی سرکاری اعداد شمار کے مطابق 214350 لوگوں پر مشتمل ہے ضلع کا کل رقبہ 7456 مربع میل (19310مربع کلومیٹر)ہے جبکہ رجسٹر ووٹوں کی تعداد69474ہے جن میں مردوں کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 43411اور خواتین رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد26063ہے
ضلع میں تین تحصیلیں اور دو سب تحصیلیں جبکہ ساتھ یونین کونسل ہیں ضلع میں سرکاری سطح پر صحت کی سہولیات کے حوالے سے پورے ضلع میں ایک ہی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قائم ہے
جہاں پورے ضلع اور قریبی اضلاع کے مریض بھی کثیر تعداد میں آتے ہیں جہاں پر صرف 12میڈیکل آفیسر تعینات ہیں ضلع کے واحد ہیڈکوارٹر ہسپتال میں خواتین مریضوں کی علاج کے لئے کوئی بھی لیڈی میڈیکل آفیسر تعینات نہیں ہے
واحد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں لیڈی میڈیکل آفیسر صفر لیڈی ہیلتھ ورکر صفر لیڈی ہیلتھ وزٹر 1 جبکہ صرف دو دائی تعینات ہیں اگر دیکھا جائے تو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال سمیت ضلع کے کسی بھی جگہ میں سرکاری سطح پر خواتین کی علاج و معالج کے لئے کوئی انتظامات نہیں ہیں جو لمیہ فکریہ ہے
ضلع کے 7 یونین کونسل میں سے صرف 3آر ایچ سی ہسپتال موجود ہیں ضلع میں دولاکھ چودہ ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل لوگوں کے لئے51بی ایچ یوز اور33سی ڈی(سیول ڈسپنسری) موجود ہیں ضلعی ناظم صحت اور ان بی ایچ یوز ،سی ڈیز میں صرف6 لیڈی میڈیکل آفیسر، 18میڈیکل آفیسر،102 لیڈی ہیلتھ ورکرز،10 لیڈی ہیلتھ وزٹر 43دائی تعینات ہیں
خواتین رجسٹرڈ ووٹوں کے مطابق دیکھا جائے تو 4343خواتین کے لئے پورے ضلع میں صرف ایک ہی لیڈی میڈیکل آفیسر تعینات ہے ڈی ایچ کیو کے علاوہ پورے ضلع میں صرف 18 میڈیکل آفیسر تعینات ہیں
جو کہ خواتین رجسٹرد ووٹوں کے علاوہ دیگر آبادی کے مطابق 10460 افراد کے لئے صرف ایک ہی میڈیکل آفیسر تعنات ہے خواتین کی رجسٹر ووٹوں کے مطابق اگر دیکھا جائے تو پورے ضلع میں 255 خواتین کے لئے ایک ہی لیڈی ہیلتھ ورکر تعینات ہیں
جبکہ اس اعداد شمار کے مطابق 2369 خواتین کے لئے صرف ایک ہی لیڈی ہیلتھ وزٹر موجود ہیں اور اسی اعداد شمار کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے علاوہ 606 خواتین کے لئے صرف ایک ہی دائی تعینات ہے جو کہ لمیہ فکریہ پہ لمیہ فکریہ ہے
ضلع میں صحت کے حوالے محروم طبقے میں ذیادہ تر خواتین ہیں جو ایل ایم او اور بہترین علاج نہ ہونے کی وجہ سے اپنے موضی مرض سے لڑتے لڑتے دم توڑتے ہیں ضلع میں جہاں خواتین صحت کی سہولت کے حوالے سے مختلف مسائل کے شکار ہیں وہاں پر غذائی قلت کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جارہا ہے
نیشنل نیوٹریشن کی 2018 سروے کے مطابق اس وقت ضلع میں 18.9فیصد بچے غذائی قلت کے شکار ہیں جس میں خوراک کی کمی،لاغرپن ،بچوں کی وزن عمر کے مطابق بہت کم خون کی کمی کے شکار بھی شامل تھے خوراک اور غذا کے کمی کی وجہ سے بچوں اور خواتین کو ذہنی اور جسمانی نشودنما سے شدید متاثر کرتی ہے حکومت کو چاہئے کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات شروع کرنے کے لئےصحت کی سہولت کے حوالے سے بلڈنگ بنانے کی بجائے یہاں پر تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں
صحت کے حوالے سے دور دراز علاقوں کے خواتین کی علاج و معالج کے حوالے سے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ انہیں ان کے دہلیز پر صحت کی سہولت میسر ہوسکیں غذائی قلت کے بارے میں عملی اقدامات اٹھائے جائیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*