تاتاری

 

نوشکی اپنی مثال آپ ہے ۔یہ گرما میں اس قدر گرم ہوتا ہے کہ آگ برستی ہے ۔ اور زمستان میں اس قدر سرد ہے کہ دانت منہ کے اندر بھی بجنے لگتے ہیں۔اور اگر واجہ خدا مہربان ہو تو برف بھی پڑتی ہے ۔
اور موسم بہار کی ہوا تو بہ تو بہ ۔ مغرب کی طرف سے بڑے بڑے طوفان ابھر آتے ہیں اور نوشکی کے لوگوں پر خاک پاشی کرتے ہیں۔ کیا پتہ کس گناہ کی سزا ہے جو خدا نے نوشکی کے لوگوں کو دی ہے ۔ ان کی قسمت میں ایسا خطہ دے دیا۔ مگر اسی طرح کے بہت سے موسموں کے باوجود یہ بہت اچھا ہے ۔ کہتے ہیں نا ”وطن کی سوکھی لکڑی بھی اچھی “ ۔
موسم گرما کی بہت گرم دوپہر تھی کہ گاﺅں میں آہ و فریاد بلند ہوئی۔ لوگوں کے بھاگنے کی آواز یں ، بولنے کی آوازیں، کیا ہوا؟ ۔
ایک نے کہا ” در محمد کنوئیں میں گر گیا“۔
کونسا در محمد؟
تاتاری در محمد، ناں!
تاتاری در محمد کنوئیں میں گر گیا۔ گاﺅں کے سارے لوگ سردار کی کھیتوں کی طرف میجر صاحب کے کنوئیں کودوڑتے جارہے تھے۔
خدا کرے کہ زندہ ہو۔
کیسے زندہ بچے گا ۔ وہ کنواں نہیں بلا ہے ۔ کون جانے کتنا گہرا ہے ۔
در محمد نوشکی کی بے آبی کا شکار ہو کر مر گیا۔ در محمد واجہ کا کسان تھا۔ اُس کے گھر میں کام کرتا تھا۔ ندی خشک ہوچکی تھی۔ وہ سردار کے کھیتوں میں جہاں میجر صاحب کا کنواں تھا، واجہ کے لیے پانی بھرنے گیا تھا۔ اس نے مشک بھر لیا تھا۔ کسی دوسرے کا مشک بھرنے کے لیے ڈول ڈال دی۔ ڈول باہر آیا تو اس نے ہاتھ لمبا کیا ،ڈول پکڑ لیا کہ توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ڈول کے ساتھ کنوئیں کے اندر لے گیا ۔
اس کا نام در محمد تھا۔ مگر لوگ اسے ”تاتاری “ اور ”درو“ کہتے تھے اس لیے کہ اس کی شکل تاتاری جیسی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس کی دادی تاتاری تھی اور افغانستان سے لائی گئی تھی۔ ہنستی تھی تو شکل اس طرح کی بنتی جیسے کہ رورہی ہو۔ وہ ہر ایک سے در محمد کے لیے کہتی تھی مگر کسی نے اُسے داماد نہیں بنایا۔ تاتاری کی دو بہنیں تھیں ۔ ایک بختو اور دوسری بزرگو۔
پتہ نہیں خدا نے کس طرح درناز اور کریمک کے دل میں رحم ڈال دیا کہ انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی جماعتی سے تاتاری کو داماد کرلیا۔ سب یہی کہتے تھے کہ کریمک نے تاتاری کو دھوکہ دیا اس لیے کہ جب تک جمک بڑی ہوگی در محمد بوڑھا ہوجائے گا اور مرجائے گا۔
ایک روز درناز بی بی ایک کام کے سلسلے میں ہمارے پاس آئی ۔ بی بی نے اس سے کہا ”تم لوگوں نے بے چارے در محمد کو کیوں ورغلایا ہے ۔ جب تک تمہاری جمک بڑی ہوجائے گی تو وہ بوڑھا ہو کر مرجائے گا“۔ درناز نے کہا ۔” ناں بی بی ! میری بیٹی اب بڑی ہوگئی۔ در محمد لائے مجھے ہزار روپے دے دے ،میں ابھی ابھی بیاہ دوں گی ۔
” در محمد کے پاس ہزار روپے ہیں؟“۔
”ہاں، بہت دولت ہے ۔ اگر وہ اور نہیں کر سکتا تو اپنے مالک سے ہزار روپے لے لے۔ مالکوں کا تو اپنے کسانوں پر پانچ پانچ چھ چھ ہزار کا قرض ہوتا ہے۔ وہ ایک ہزار لے تو کیا ہوگا“۔
ہاں ایسا ہی ہوا۔ جمک بڑی ہوگئی۔ در محمد نے اپنے مالک سے ہزار روپے قرض لیے ۔کریمک کو دےے اورشادی کر لی۔ آج دولڑکیاں ایک پانچ سال کی اور دوسری ڈھائی برس کی اپنے پیچھے چھوڑ کر جاں بحق ہوگیا۔
بے بس بہنوں اور بیوی نے رو دھو کر بس کرلیا۔ خدا تک کس کا ہاتھ پہنچتا ہے ۔
چھ ماہ سال گزرا ۔واجہ نے اب در محمد کی بیوی کو تنگ کرنا شروع کیا کہ ”لاﺅ میرا قرض واپس کرو۔ نرینہ اولاد تیری ہے نہیں جو اپنے باپ کی جگہ میرا کام کرے۔ جیسے بھی کرو میرے پیسے لاﺅ“۔
”واجہ میں کہاں سے پیسے لاﺅں ۔ میری حالت تو آپ جانتے ہیں۔ یہ دونوں بچیاں بڑی ہوجائیں تو میں انہیں لب پہ فروخت کر کے تمہارے ہزار روپے دے دوں گی“۔
” تم خود جوان ہو ۔کیوں کوئی دوسرا شوہر نہیں کرتیں۔ ہزار تمہارا لب ہوگا اور ہزار تمہاری بڑی بیٹی کا ۔میں نے ایک شخص دیکھا ہے جو تمہیں اور بیٹی دونوں کو لے گا۔ تمہیں اپنے لیے اور تمہاری بیٹی کو اپنے بیٹے کے لیے ۔ بوڑھا ہے تو کیا ہوا۔ درو کہاں جوان تھا“۔
”نہیں نہیں واجہ ۔ خدا کا واسطہ ہے ۔ میری بیٹی اپنی خالہ کے بیٹے کے نام ہے ، تمہارے پیسے دے دوں گی جونہی میری بیٹیاں بڑی ہوجائیں“۔
واجہ ناراض ہوگیا۔ ”میں اتنا صبر نہیں کرسکتا کہ جب تک تمہاری یہ ناک بہتی بیٹی بڑی ہوجائے ۔ مجھے بزگر کی ضرورت ہے ، میں یہ پیسے تم سے لے کر دلشاد کو دوں گا تا کہ وہ اِن پیسوں سے اپنے مالک کا قرضہ چکا دے اور آکر میرا بزگر بن جائے ۔ میں نے کریمک سے بات کی اور اس نے میری بات مان لی۔ زیادہ آہ و زاری نہ کرو مجھے تمہارے آنسوﺅں کی پرواہ نہیں ہے “۔
بختو تک بھی بات پہنچی ۔ وہ فریاد کرنے لگی کہ میرے بیٹے کی منگیتر نہ چھینو۔ وہ اِس واجہ اور اُس واجہ کے پاس گئی ۔مگر بختو کی فریاد کون واجہ سنتا ہے ۔ اُس کے بد قسمت وجود پہ کون اپنے کسی بھائی بند کو یہ کہہ کر ناراض کرے گا کہ بختو حق پہ ہے ۔ یہاں حق نہیں چلتا رواج چلتا ہے ۔ کریمک خود اس واجہ کے قرض تلے ڈوبا ہوا تھا۔ اُس کا بیٹا تھا نہیں کہ اس کا بوجھ کچھ کم کرتا ۔لہذا جو کچھ بھی واجہ کہتا ، وہ ”جی واجہ جی واجہ “کہتا۔ بس پھر جو کچھ واجہ کہتا وہی ہو کر رہتا۔
جماعتی بیٹی کے ساتھ فروخت ہوگئی۔ بادینی کے گاﺅں کے ایک شخص نے ماں ، بیٹی خرید لیں۔ ماں اپنے لیے ،بیٹی اپنے بیٹے کے لیے ۔
جماعتی اور بیٹی اب تک زندہ ہیں اور وہ واجہ بھی شکر ہے حیات ہے ۔ مگر ایسی زور آوریوں کے بعد نوشکی کی ندی سوکھ گئی۔ اب واجہ لوگ روتے ہیں کہ کوئی ان کی بزگری نہیں کرتا۔ اب کہتے ہیں کہ کوئی خود کو 20سیر غلہ کے عوض بندی نہیں کرتا۔ اب تو دوسرے شعبوں میں مزدوریاں بہت ہیں۔ خدا ہمارے ہاتھ پاﺅں سلامت رکھے ”سر سلامت دستار بسیار“۔ کسی کو بزگری کی پرواہ نہیں، کھیت ویران ہیں۔
میں کہتی ہوں شکر ہے خدا تمہیں ایسا ہی کرے۔

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*