زیر تعمیر منگلا ڈیم

 

منگلا ڈیم زیر ِ تعمیر تھا۔ صدیوں سے کھڑی پہاڑیاں آہستہ آہستہ غائب ہورہی تھیں۔ پرانے مناظر کی جگہ نئے مناظر اُبھر رہے تھے ۔ نئی نئی شاندار سڑکیں بن رہی تھیں۔ پگڈنڈیاں غائب ہورہی تھیں۔ پہاڑی پگڈنڈیاں جو انسان کے قدموں نے کئی سالوں سے گھڑی تھی۔پہاڑوں میں پگڈنڈیاں بونہی بنتی ہیں۔ نئی راہیں کھل رہی تھیں۔ نئی تعمیراتی ٹیکنالوجی اپنے پورے طمطراق سے عمل پیرا تھی۔ بڑی بڑی مشینیں نیلے آسمان کے پس منظر میں ایک حیرت انگیز اورعبرت ناک تجربہ بن رہی تھیں۔
ہمارے گاﺅں کے لوگ آتے جاتے چند لمحوں کے لیے رُک کر ان فلک بوس مشینوں کو حیرت سے دیکھتے اور پھر اپنے گاﺅں کی پگڈنڈی پر گاﺅں کی طرف چل دیتے ۔ وہ گاﺅں جہاں زندگی صدیوں سے ایک ہی ڈھنگ سے چلی جارہی تھی۔
مجھے اپنا یہ گاﺅں جیتے جاگتے لوگوں کا گاﺅں نہیں لگتا تھا۔ یہ گاﺅں مجھے ایک گاﺅں کی پینٹنگ کی طرح محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کسی فنکار نے بہت سے انواع و اقسام کے رنگ لے کر نیلے آسمان کے نیچے اس گاﺅں کے خوبصورت پھول ، اشجار پینٹ کر دیے ۔ اُڑتے خوش رنگ بکھیرو بنادیے۔ جانور بنادیے ۔ پینٹنگ میں ایک کنواں بھی ہے ۔ عورتیں بھاری بھاری گھڑے سر پر رکھ گھروں کو جارہی ہیں۔ اُن کے چہرے بھی ایسے انسانوں کے چہرے تھے جن کا کام کبھی ختم نہیں ہوتے ۔تھکن اور پریشانی ان چہروں پر ہر وقت موجود ہے ۔ جیسے کسی بت تراش نے جو احساس ایک دفعہ چہرے پر گھڑ دیا وہ مستقل ہے ۔ کچھ ہل چلاتے لوگ بھی اس پینٹنگ میں ہیں۔ کچھ پرندے ہیں جو نئی نئی کھدی زمین میں اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔
شام کے مناظر میں تندور سے اُٹھتا دھواں ، روٹیاں پکانے کی تیاری میں مصروف عورتیں ۔ صحن میں چارپائیاں مرغیاں ، گائیں، بھینس، گدھے گھوڑے سب موجود ۔ چار پائیوں پر حقے سے لطف اندوز ہوتے مرد ۔ یہ سب ایک پینٹنگ کی طرح تھا۔ ایسی پینٹنگ جہاں وقت رُک گیا ہے ۔ یہ ایک منجمد بہاﺅ کی تصویر تھی۔
تھکن اور بے آرامی چونکہ زندگی کا مستقل حصہ تھیں اس لیے اس گاﺅں کے لوگوں میں کچھ نیا کرنے کی ،کچھ نیا سوچنے کی ذہنی صلاحیت بظاہر غائب ہوچکی تھی۔ انسانی زندگی جانوروں کی میکانکی زندگی کے بہت قریب تھی۔
پھر یوں ہوا کہ اس گاﺅں کے قریب منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوگیا۔ لوگ دینہ سٹیشن پر اترتے اور اونٹوں اور گھوڑوں پر کئی گھنٹے سفر میںرہ کر گھر پہنچتے۔ منگلا ڈیم نے کشادہ سڑکوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ گاﺅں کے لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہ آسانی بھی اُنہیں دستیاب ہوگئی ہے کہ دینہ سے بس میں بیٹھیں اور ایک گھنٹے میں گھر کا سفر طے کر لیں۔ گاﺅں کے جوان مرد اور عورتیں محنت مزدوری کے لیے منگلا ڈیم کی تعمیر کا حصہ بھی بن رہے تھے۔
منگلا ڈیم کی تعمیر میں مصروف سفید فام مرد اور عورتیں بھی اُن کے لیے حیران کن تجربہ تھے ۔ خاص طور پر سفید فام انجینئر عورتیں جو بڑی بڑی مشینوں کو شاقی سے چلا رہی ہوتیں۔ مرد عورتیں مل جل کر کام کر رہے ہوتے ۔ گاﺅں کے لوگوں کو عورتوں اور مردوں کے درمیان وہ لکیریں نظر نہیں آتی تھیں جو اُنہیں اپنے گاﺅں میں ہر جگہ نظر آتی تھیں۔ عورت مرد کے درمیان لکیر ذات پات کے لکیر، غریب امیر کے درمیان لکیر۔
منگلا ڈیم ابھی زیرِ تعمیر ہی تھا کہ لوگوں کی زندگی بدلنے لگی۔ لوگ اس بدلاﺅ کے لیے تیار نہ تھے ۔ اس لیے اپنی بدلتی ہوئی زندگی کے سامنے بے بس تھے یا پھر اس تبدیلی کے خلاف ثقافت کے نام پر ذہنی تعصبات اور تنگ نظری کے ہتھیاروں سے لیس حملہ آور تھے ۔ لیکن تبدیلی کا شب خون دن بدن طاقت پکڑرہا تھا۔
ابی اس تبدیلی کے کلچر کے بہت پُر جوش حامی تھے اور بے حد خوش تھے ۔لوگ جب اپنے بدلتے ہوئے اندازِ زندگی سے گھبراتے تو ابی اُن کو تبدیل ہونے کی کوشش میں مدد دیتے ۔
منگلا ڈیم نے یہ بھی ممکن کردیا کہ چھوٹی سی پہاڑی سڑک ہمارے گاﺅں تک پہنچ پائے ۔ سڑک کیا آئی لوگ نہال ہوگئے ۔اگر چہ پیروں اور مقبروں کے کاروبار ڈھیلے پڑ گئے ۔ گاﺅں مین روڈ سے جاملا۔ بے شمار کاروباری مراکز کھل گئے ۔ ڈاکٹروں کے پاس جانے میں آسانی ہوگئی۔ بکریوں کے ریوڑ بڑھ گئے ۔ مرغوں اور انڈوں میں اضافہ ہونے لگا۔ دودھ مکھن کی مقدار بڑھنے لگی ۔گندم کی کاشت میں اضافہ ہوگیا۔ گندم کی بوائی اور کٹائی میں ٹریکٹر اور تھریشر استعمال ہونے لگے۔ معاشی اور معاشرتی سرگرمی کی راہیں کھل گئیں۔ لوگ خوش حال ، خوش لباس ہونے لگے۔ چہروں پر بھی رونق بڑھنے لگی۔
جب منگلا ڈیم مکمل ہوا تو دریائے جہلم جو بڑی شان سے نامعلوم کب سے ہمارے گاﺅں کے قریب سے بہہ رہا تھا۔ بڑی بڑی جھیلوں میں بدلنے لگا۔ بہت سے خالی گاﺅں ،درخت ، مندر، مسجد اورقلعے زیرِ آب آگئے ۔ پانی بظاہر ٹھہرا ہوا نظر آتا لیکن دریائے جہلم تو بہہ رہا ہے ۔ وہ سیدھا بہاﺅ پہاڑوں کے درمیان آکر اب بہت سی نئی صورتیں بنانے لگا۔ بہت سی نئی ترتیبیں جنم لے رہی تھیں۔ امیدوں کے نئے گاﺅں بسنے لگے۔
پھر یوں ہوا کہ اچانک ایک شام جب میں اور ابی چھت پر ٹہل رہے تھے کہ ایک گھر سے جھگڑا لو آوازوں کا شور اُٹھا ۔
شام کا وقت تھا۔ پرندے درختوں پہ بیٹھے ہوئے رخصت ہوتی دن کی روشنی کے لیے الوداعی گیت گا رہے تھے ۔ گیتوںکے ارکسڑا میں یہ غصیلی اور جھگڑا لو آوازیں ہم آہنگ نہیں ہورہی تھیں۔
ابی کہ سدا کے جگت باپ فوراً اس گھر کی طرف چل پڑے ۔ اور ساتھ میں بھی۔
محنت مزدوری کرنے والے افراد کا گھر تھا۔ کچھ جوان مرد زیر تعمیر منگلا ڈیم میں مزدوری کر تے رہے ۔ نوجوان لڑکیاں سفید فام گھر وں میں گھریلوں ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ معاوضہ اچھا مل رہا تھا۔ والدین خوش تھے ۔گھر بھی صاف ستھرے تھے ۔ خوش حالی نظر آرہی تھی۔ لڑکیاں بخیر وعافیت اپنے گھروں کو لوٹ آئی تھیں۔ پھر یہ خوفناک سا جھگڑا کیوں سَر اُٹھا گیا۔
یہ سوچتے سوچتے میں نے ابی کے ساتھ اس گھر کے صحن میں قدم رکھا۔
ہمیں دیکھ کر والدین اور بھائی خاموش ہوگئے ۔ مگر بہنوں میں سے ایک بہن کہ نام جس کا زیتون تھا مسلسل رو رہی تھی۔ کچھ ایسا محسوس ہوا کہ والد نے شاید ہاتھوں کا بھی استعمال کیا ۔زیتون یوں نظر آئی کہ جیسے کسی نے لفظوں اور ہاتھوں سے خوب بھنبھوڑا ہو۔
دھان پان سی زیتون اس تشدد کے سامنے بے بسی کے آنسو بہا رہی تھی۔ لیکن کمزور یا بے بس بالکل نہیں محسوس ہورہی تھی۔ اُس کے آنسو بھی شاید اس طاقت کے محافظ تھے جو اُس کے دُبلے پتلے وجود کے اندر زندہ تھی۔ وہ ایک اُس چوزے کی طرح تھی جس کو اس کی اجازت کے بغیر زبردستی اُٹھا کر ہتھیلی پررکھ لیا گیا ہو۔ اس کے انتخاب اور فیصلے کے حق کو چھین لینے کی کوشش کی گئی ہو۔ وہ ہتھیلی پر ٹکے چوزے کی طرح اپنے آنسوﺅں کی نازک سی چونچ سے حملہ آور تھی۔ بے خوفی اور نہتے پن کی یہ ترتیب اور مرکب مجھے مسحور کر گیا۔
ابی نے اُس کی ماں سے اس سارے جھگڑے کی وجہ پوچھی تو وہ گویا پھٹ پڑی۔
اس کے چچا کا بیٹا اس سے شادی کا خواہشمند تھا۔ یہ بھی تیار تھی۔ اب جب ہم اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں تو اس نے انکار کردیا۔
اس انکار کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ہمیں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرنی پڑی چونکہ زیتون کی ماں کا اگلا جملہ تھا۔
”میں اس کے لیے انگریز کہاں سے ڈھونڈ کر لاﺅں“۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*