ظلم، عشق اور جرات کی داستان : می سوزم

تاریخ دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک بتائی جانے والی تاریخ اور ایک چھپائی جانے والی تاریخ۔اول الذکر تاریخ کو مقتدر طبقات نامور مورخین کی مدد سے خود ستائشی حاشیوں میںقید کر کے، بڑے شوق سے اپنے محلات، درباروں اورمقبروں میں آویزاں کرتے ہیں جب کہ موخر الذکر تاریخ کویہی مقتدر طبقات گمشدہ زمانوں کی گرد کا کفن دے کر وقت کی گہری کھائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ہر دور میں ظلم ، جبر، نا انصافی اور بے اعتدالی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے ایسی کئی بے نام قبریں وجود میں آتی ہیں جن پر اس زمانے کی اشرافیہ، یا مقتدر طبقات کا کڑا پہرہ ہوتا ہے۔ان تلخ حقائق کے ساتھ تاریخ کے ان فریب خوردہ ، بوسیدہ،مبالغہ آمیز سیم زدہ ستونوں کی بنیاد تلے ،بڑی جرا ¿ت اور بہادری سے اپنی بقاءکی جنگ لڑتا ایک سچ اور بھی ہے۔ یہ سچ مظلوم کی اس آواز سے گونج اٹھتا ہے جو حلق میں گھونٹ دی جاتی ہے اور اُس خون سے نمو پاتا ہے جو پانی کی طرح بے مول بہادیا جاتا ہے۔ یہ سچ تاریخ کے ان تمام تیقنات کے کفن پھاڑ کر سامنے آتا ہے جو مقتدر طبقات کے، ظلم، جبر اور نا انصافیوں کے سامنے ہاتھ باندھے ، سر جھکائے، صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سچ حق سے متشکل ہوتا ہے اور اپنے ظہور کے لیے ان بصیرت آمیز روشن دل محققین ، ناقدین اور تخلیق کاروں کا منتظر ہوتا ہے جو وقت کے تاریک زمانوں کی گرد میں اس کی ماند پڑتی چمک کا سراغ پا لیںاور اپنی عمیق بصیرت اورغائر بصارت سے سچ کے تمام ممکنات کو حال کی روشنی میں لے آئیں جو ماضی کی گرد میں گم ہو جانے کو ہیں۔
بلوچستان کے ایک ہزار سال قبل کی تاریخ میں مدفن ، عربی و فارسی کی معروف شاعرہ رابعہ خضداری کی جرا ¿ت مندانہ زندگی کو ،حال ہی میںانٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ہونہار ، قابل اور باصلاحیت استاد ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے، ناول کی شکل میں ادبی حلقوں میں متعارف کرایا ہے۔ ناول کیا ہے تاریخ کا ایک د ل سوز باب ہے۔ ایک ہزار سال پہلے کا بلوچستان، جہاں جنم لینے والی رابعہ ، جو وہاں کے مایہ ناز حکمران امیر کعب کی بیٹی ہے، حق، سچ جرا ¿ت ، بہادری اور بے باکی کا وہ نام ہے جسے تاریخ رابعہ خضداری کے نام سے جانتی ہے۔ جو فارسی کے معروف شاعر رودکی کی ہم عصر معروف شاعرہ ہے۔ عربی و فارسی پر یکساں گرفت رکھنے والی،علم و دانش میں یکتا، فنونِ سپہ گری کی ماہر، رموزِ سلطنت میں اپنے والد کی بہترین مشیر، ذہانت و حسن میں بے مثل، رابعہ بنتِ کعب،جو بلوچستان کی دھرتی پہ آباد قبائل کی بقاءکی جنگ اور عشقِ کے سفر میں خود سے بیگانہ ہوئی، جس نے اپنے خطے میں ہونے والے مظالم پر خود اپنے بھائی کے خلاف آواز اٹھائی، اور جو اسی جرم کی پاداش میں اپنے سگے بھائی حارث کے ہاتھوں قتل کردی گئی۔
حد تو یہ کہ ہمت ، جرات اور شجاعت کی مثال یہ بہادر شاعرہ دمِ مرگ بھی اپنے رستے لہو سے گرمابے کی دیواروں پر ظلم، جبر، زیادتی اور بربریت کے خلاف اشعاررقم کرتی رہی۔ یہ اشعار آج بھی مظلوم کی آواز کی صورت تاریخ کے ان بوسیدہ اوراق میں گونجتے ہیں جو ظلم کی حشر سامانیوں کے بوجھ تلے دبے سسک رہے ہیں۔ رابعہ خضداری کا کلام آج بھی حق اور سچ کے عمیق فلسفے کا امین ہے۔ اس کے کچھ اشعار کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:
اس عشق نے دوبارہ مجھے قید میں ڈال دیا۔ (آزاد ہونے کی) بہت زیادہ کوشش کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔
عشق ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں، اے شخص ، تو جو کہ دنیاداری سے آشنا ہے، کیونکر اس میں تیر سکے گا؟
اگر تم چاہتے ہو کہ عشق تمہیں اپنی انتہا تک لے جائے تو ہر پسندیدہ شے کو نا پسند کرنے لگو۔
تم بد صورتی کو دیکھو اور سمجھو کہ یہ حسن ہے۔ تم زہر کھاﺅ اور سمجھو کہ تم نے شکر کھائی ہے۔
میں( عشق کی باگ) سرکش گھوڑے کی طرح کھینچ رہی تھی، نہیں جانتی تھی کہ کھینچنے سے پھندہ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے۔(1)
’می سوزم‘ میں رابعہ خضداری کی دردناک اور دل سوز کہانی کو پڑھنا، بلوچستان کی تاریخ کے سنگ ریزوں سے دردو دانش کے قیمتی گوہر چننے جیسا تجربہ ہے۔ جنھیں چھاننے کے دوران نہ صرف انگلیاں فگار ہوتی ہیں بلکہ دل بھی خوں چکا ہوتا ہے۔ لیکن وقت کو الٹا گمانے کا شوق، ماضی میں اتر کرجبر زدہ محکوم طبقات کے درد سمیٹ لینے کا شوق قاری کے پیر جمائے رکھتا ہے۔ وہ رابعہ خضداری کو اپنی آنکھوں سے ماضی کے عہد میں زندہ اور موجود محسوس کرتا ہے، وہ اس کی جرا ¿ت اور بیباکی کا اقرار کرتا ہے، اس کی خوبصورتی کے سحر میں کھوجاتا ہے اور اُس کے عشق کے سفر میں خود کو اس کا ہم سر پاتے ہوئے عشق و مستی کے عرفان میں گم ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے ناول کا یہ مکالمہ ملاحظہ کیجیے:
” امام خاتون! بس ایک شخص کے لیے سب کچھ چھوڑ دینا، یہ مشکل کام نہیں؟“
”وہ ایک شخص تو دنیا کی نظر میں ہوتا ہے، محب کی نظر میں وہ کل کائنات ہوتا ہے۔ ۔ پیاری رابعہ! ایک چاہت اس سے بھی بڑی ہوتی ہے، وہ بگولے کی طرح اس مجاز کی محبت کو اڑا لے جاتی ہے اور پھر آخرِ کار اسے خود میں ضم کر لیتی ہے۔ “ (2)
رابعہ خضداری کے سونحی حالات و واقعات پر مشتمل یہ تاریخی ناول’ می سوزم‘ اپنی منفردتکنیک ،بیان کی روانی، موضوع پر گرفت اور تاریخی حقائق کی ناول کی صنف میں کمال بنت اور پیشکش سے ، ایک نادر فن پارے کی صورت سامنے آتا ہے۔حمیرا اشفاق نے اس ناول میں بڑی مہارت سے خود کلامی کی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ اردو ناولوں میں اس تکنیک کو برتنے کا رجحان خال خال ہی نظر آتا ہے۔ ترکی کے معروف ادیب اورحان پامک نے اپنے ناول ’میرا نام سرخ‘ میں اس تکنیک کا بڑی مہارت سے استعمال کیا ہے۔ اس ناول میں پروف کی کچھ اغلاط کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو بیان کی یہ تکنیک ناول کے ہر کردار کو بھرپور موقع دیتی ہے کہ وہ آئے، اپنا قصہ سنائے اور کہانی کا تسلسل اگلے کردار کو سونپ کر آگے نکل جائے۔یہاں کردار اپنی زندگی جیتے ہیں، دکھ اور مصائب برداشت کرتے ہیں اور اپنے تمام المیے خود اپنی زبانی سنا کر قاری کو دکھ میں مبتلا کرتے ہوئے، بلوچ قبائل کے مصائب اور ہمت کی یہ داستان اگلے کردار کے حوالے کر جاتے ہیں۔ مثلاً سالم خان کی یہ خود کلامی دیکھیے:
”میرے ذہن میں یکلخت رات کا واقعہ بجلی کی طرح کوندا۔ یہ خاموشی یقیناً پر اسراریت لیے ہوئے ہے۔ رات کو اللہ بخش نے جس طرح حارث کو سختی سے جواب دیا تھا، کہیں وہ اس کی پاداش میں مارا تو نہیں گیا!۔۔۔۔ اچانک میرے پیچھے سے کسی نے تلوار کا دستہ میرے سر پر مارا تو خون کا ایک فوارہ، میری آنکھوں سے ہوتا ہوا ، میرے ہونٹوں کو تر کرتا چلا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ سبھی منظر میرے سامنے دھندلاتے چلے گئے۔(3)
ناول میں بنیادی انسانی حقوق کا پرچار ایسی مہارت سے کیا گیا ہے کہ قاری اسے پڑھتا کم ہے اور محسوس زیادہ کرتا ہے۔ رابعہ خضداری کا اپنے سپہ سالار بکتاش کو خود کو غلام کہنے سے منع کرنا ، اس کی اُس روشن فکر کی جانب اشارہ کرتا ہے جو اس زمانے کے بہادر اور آزاد خیال بلوچ قبائل کی بصیرت آمیز سوچ کا نمایاں پہلو لیے ہوئے ہے۔ بلوچ قبائل جوآج بھی اپنی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے اور اسی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی جان بھی دینے سے دریغ نہیں کرتے کہ یہ آزادی ہر انسان کا بنیادی انسانی حق اور فطرت کا وہ تحفہ ہے جس پر ان کا ازلی حق مسلمہ ہے۔ بکتاش اور رابعہ کے اسی موضوع پر مشتمل مکالمے پرناول کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے:
”حوادث اور زمانے کے حالات نے تمہیں غلام بنا دیا۔ اس سب کے باوجود تم ایک آزاد روح ہو۔ ۔۔۔ پوری سلطنت میں تم وہ واحد شخص ہو، جس کا حق ہے کہ میں اس کے لیے شعر کہوں اور اپنے دیوان کو تمہارے نام زینت کر دوں“ (4)
ناول جہاں خواتین کے حقوق کی سر بلندی کا تعین کرتا ہے وہیں ناول کے کرداروں میں اپنی تراش خراش اور بنت کے حوالے سے ایک نہایت عمدہ توازن بھی موجود ہے۔ ناول کے مرد کردار مثلاً بکتاش، سالم ، میوہ، اللہ بخش جہاں اپنی جگہ مضبوط، شجاعت ، ہمت اور دلیری کی مثال نظر آتے ہیں وہیں ناول کے عورت کردار بھی اپنے اپنے دائرے میں فعال ، پختہ اور باہمت ہیں۔ رابعہ خضداری کے مرکزی کردار کو ہی دیکھا جائے تو وہ اپنی ہمت اور بے باکی بناءپر پورے ناول پر حاوی دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح امام خاتون، گلِ رعنا اور شاہ بانو کے کردار بھی بھرپور اور زندہ دل کردار ہیں۔ یہ کردار ناول میں کہیں بھی مرد کرداروں کے سامنے ماند نہیں پڑتے، جہاں اپنے ہونے کا یقین دلاتے ہیں وہیں اپنی جرا ¿ت، بے باکی اور بہادری سے ، ظلم اور جبر پر آمادہ مدِ مقابل کو گھائل بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً گلِ رعنا کے کردار کا اپنی جان پر کھیل کر بکتاش کو حارث کی قید سے آزاد کرانے کا منظر اس بلو چ خاتون کی بہادری اور ذہانت کی دلیل ہے۔
ناول کے مقتدر طبقات سے تعلق رکھنے والے طاقتور کرداروں کی نخوت کی عکاسی بھی متن میں خوب ملتی ہے۔ امیرِ کعب کے بیٹے حارث اور اس کے دوست سارنگ کے کردار جہاں طبقہ اشرافیہ کے غرور اور تکبرزدہ لہجوں اور مکالموں کی صورت اپنا آپ ظاہر کرتے ہیں وہیں اپنے اندازِ فرعونیت میں وہ تمام جبربھی آشکار کرتے ہیں جو اس مقتدر طبقے کے مسلط کیے جہل اور لایعنیت کا غمازہے۔ نال میں بکتاش پر شک ہوجانے پر حارث اور سارنگ کا نخوت زدہ لب و لہجہ و انداز ملاحظہ کیجیے:
”گھوڑے تو بدلے جا سکتے ہیں مگر ذہن میں رکھوہم اپنے گھوڑے کو جان سے مار دیتے ہیں، لیکن اس پر کسی اور کو سواری نہیں کرنے دیتے، اس لیے گھوڑے کو اپنے سوار کو خوب پہچان لینا چاہیے۔ ورنہ نئے سواروں کے ہاتھوں گھوڑوں کی ہڈیاں اکثر ٹوٹ جایا کرتی ہیں اور ہاں گھوڑے کو خود سوار بننے کی بھی جرا ¿ت نہیں کرنی چاہیے۔ اپنی حیثیت کی پہچان ہونی ضروری ہے، ورنہ جان جا سکتی ہے۔ “ (5)
جبر کے اس ماحول میں ناول کے متن کے کئی حصے مظلوم طبقے کی آواز کی صورت گونجتے ہیں۔ رابعہ خضداری کے ساتھ بکتاش، سالم اور خدا بخش کے جرا ¿ت مند بیانات جہاں مظلوم کو حوصلہ دیتے ہیں وہیں انسانی حقوق کی سر بلندی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ ناول کے متن میں سالم خان کا یہ خطاب ملاحظہ کیجیے جو وہ محکوم طبقات کو اپنے حق کے لیے یکجا ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے کرتا ہے۔
”یہ کوئی ایسی فوج نہیں جو کسی سلطنت کو فتح کرنے کے لیے بنائی گئی ہو، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی انسان کسی سردار کی غلامی نہ کرے، کسی غریب کی بیٹی لَب کے بدلے میں نہ اٹھائی جائے۔ کسی انسان کو سرِ عام کوڑے مار کر اس کی تذلیل نہ کی جائے، جس کی محنت ہو اس کا حق ہو۔۔ آپ میں سے جو ہمارے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے، اور جو جانا چاہتا ہے چلا جائے، اس لیے میں خاموشی سے اندھیرے میں یہ شمع گل کیے دیتا ہوں۔“ (6)
’می سوزم‘ صرف رابعہ خضداری کی جرا ¿ت کی کہانی نہیں، یہ بلوچ قبائل کی بقا ءاور تشخص کے لیے لڑی جانے والی جنگ اور استعمار کے خلاف ایک ہوجانے کی داستاں بھی ہے۔ اپنی عزت، وقار اور شناخت کی بقاءکے لیے جان دینے والے بلوچ قبائل ، جنھیں اپنی آزادی اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے،جو ظلم و جبر کے خلاف اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑنے کو تیاررہے ہیں، جو تختِ لاہور کو خراج یا تاوان کے بدلے اپنے ایک ہزار آدمی دینے کو تیار نہیں، جو امن چاہتے ہیں، جو محبت کا خواب دیکھتے ہیں۔
ناول کے کئی مقام ایسے ہیں جہاں رابعہ تلواروں سے نجات چاہتی ہے، وہ پرندوں کو ہوا میں آزاد دیکھنا چاہتی ہے، اسے نیزہ، ذرہ، خنجراور زنجیروں کی چھنکار سے خوف آتا ہے۔ وہ امن کی داعی ہے پھر چاہے اس کے لیے اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ اس کے امن کا یہی خواب ،اسے اپنے بھائی کے ظلم کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتا ہے۔ رابعہ اور بکتاش کے مابین ہونے والے مکالمات کا یہ حصہ دیکھیے جہاں وہ اپنے باپ کے طرزِ حکمرانی کی مثال دیتی ہے، جو جنگ نہیں بلکہ لوگوں کے دل جیت کر کی جاتی ہے ۔ اسی لیے اپنے بھائی کے ظلم کے خلاف جنگ کے لیے وہ بکتاش کو کچھ یوں آمادہ کرتی ہے:
”امید ہے تم میری بات کو پا گئے ہو گے۔ میں جنگ صرف امن کے لیے چاہتی ہوں، حصولِ دولت یا اقتدار کے لیے نہیں۔ مجھے خضدار کے آسمان پر خونی ہواو ¿ں کے نشان نظر آرہے ہیں۔ میرے والد ایک عظیم راہنما تھے۔ انھوں نے حملہ آور بن کر نہیں بکہ لوگوں کے دل جیت کر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ انھوں نے قبائلی نظام کی ہمیشہ پاسداری کی، لوگوں کے طرزِ زندگی کا احترام کیا۔ ۔“ (7)
یہ ناول اپنے موضوعات میں جہاں انسانی حقوق کی سر بلندی، بلوچ قبائل کی اپنی بقاءو شناخت کے لیے جنگ، محکوم طبقے کی آواز، حقوق نسواں کا تحفظ، تانیثی شعور کا اپنی آزادی و حق گوئی کے لیے علمِ بغاوت اٹھانے جیسے حقائق کا بڑی جرا ¿ت سے احاطہ کرتاہے وہیں تاریخ کی تہوں سے ا ن تمام حقائق کو بھی بازیافت کرتا ہے جو رابعہ خضداری جیسی ذہین اور بہادر شاعرہ کی شناخت کا معتبر حوالہ ہیں اور آج بھی کسی نہ کسی داستان یا حکایت کی صورت اپنی بقاءکا جواز تراشے ہوئے ہیں۔
اگرچہ اردو ناول نگاری کا فسوں آج بھی اپنے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہے تاہم موجودہ اردو ناولوں میںتاریخی ناول لکھنے کا رجحان خال خال دکھائی دیتا ہے۔عصرِ حاضر میں تاریخی ناول کی تصنیف کا کم ہو جانا ایک قابل ِ فکر بات ہے۔اس المیے کی وجوہات کا تعین کرنے کی بحث میں جائے بغیرہمارے لیے یہ امر لائقِ تحسین ہے کہ موجودہ حالات میں حمیرا اشفاق کا ’می سوزم‘ جیسے تاریخی ناول کااردو ادب کو تحفہ دینا،نہ صرف ادبیاتِ اردو کے لیے ناول کی صنف میں ایک گراںقدر اضافہ ہے بلکہ خود ان کے تخلیقی تجربات میںبھی ایک وقیع کارِ لائقہ ہے۔
ریفرنسز
1۔ ’رابعہ خضداری کے شعری تراجم‘، مترجم: فہمیدہ ریاض، مشمولہ ’بلوچستان کا ادب اور خواتین‘، وعدہ کتاب گھر،کراچی۔
2۔ حمیرا اشفاق، ڈاکٹر، ’می رقصم‘، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2021۔(ص۔38)
3۔ ایضاً۔(ص۔ 49)
4۔ ایضاً۔(ص۔۹۱۱)
5۔ ایضاً۔(ص۔۶۴۱)
6۔ ایضاً۔(ص۔۷۴۱)
7۔ ایضاً۔(ص۔۹۲)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*