دیپک راگ

 

ایک دن میرے ابی جو کہ بہت بیمار تھے مجھ سے کہنے لگے
”مرنے سے پہلے میں تمہارے دوست  طاہر یعسوب سے ملنا چاہتا ہوں“۔
میرے ساتھ ستر کی دہائی میں ہم سبق بے شمار دوستوں میں سے ابھی نے صرف طاہر ہی کو کیوں منتخب کیا۔ یہ سوال میرے ذہن میں گونجا۔
میرے دوست ابی کے بھی دوست بن گئے تھے ۔ ابی چونکہ پروفیسر تھے اس لیے بہت آسانی سے نوجوانوں کے ساتھ سلسلہ کلام پیدا کرلیتے تھے اور گھل مل جاتے تھے ۔ کچھ دوست تو ایسے بھی تھے جو صرف اُنہی کے ہو رہے تھے اور اُنہی سے ملنے آتے تھے ۔
یعسوب طاہر اُن میں سے ایک تھا۔ وہ ابی کے لفظوں کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ وہ ان کے نقطہ نظر سے متاثر تھا۔ دونوں میں ایک بہت شاندار ہم آہنگی تھی ۔ وہ ابی بھی کی طرح بہت کمزور تھا۔ دونوں ہی کسی سنگ تراش کا شاہکار تھے ۔ وہ ابی ہی کی طرح دل و دماغ میں موسیقی کو بسائے رکھتا۔ اور اُنہی کی طرح خوش آواز تھا۔ ہار مونیم بجانے کا ماہر تھا اور جب آنکھیں بند کر کے وہ کوئی گیت الا بتا تو اُس کی سندرتا اور آواز کے سوز سے مسحور ہونے والے صرف ابی نہیں تھے ۔
زمانہ طالبِ علمی میں جب بھی وہ ہمارے گھر آیا ہم سب اُسکے میزبان ہوتے ۔
ہم نے اس کا نام کوئیل رکھا ہوا تھا۔ اُس کے آنے سے ہماری شامیں خوبصورت ، پُر رونق اور خوشگوار ہوجاتیں۔
طاہر یونیورسٹی میں بھی ایک محبوب شخصیت تھا۔ خوش لباس خوش آواز اور ذہین ذہن۔ اُس کے پاس وہ سب کچھ تھا جو اُسے کامیاب انسان بننے میں مدد دے سکتا تھا۔ یونیورسٹی میں اپنی ان دیکھی لیکن جلد ممکن ہوجانے والی کامیابیوں کی شان و شوکت میں گھومتا پھرتا، خوبصورت گفتگو کرتا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لطیفے لاتا جس میں کسی روائتی خیال یا عادت کا مذاق اُڑایا گیا ہو۔ اُسے ہر وہ خیال ،عادت اور روایت مضحکہ خیز لگتی تھی جو انسان کی ذہنی ترقی میں رکاوٹ بنے۔ وہ تصور اسے عجیب لگتا جو نتیجہ خیز نہیں ،یا پھر ایسے نتائج دے رہا ہو جو ذہنی بلوغت کا ساتھ نہ دے رہا ہو۔
وہ ایک انتہائی پڑھا لکھا طالب علم تھا۔ ہم سب دوست اس کا بہت احترام کرتے تھے ۔ اس کی لیاقت سے مرعوب تھے ۔
یونیورسٹی کے امتحانات ختم ہوئے سب گھروں کو روانہ ہوگئے ۔ کبھی کبھار فون پر دوستوں سے رابطہ رہنے لگا۔ لیکن روز و شام ملاقاتوں کا سلسلہ ختم ہو کر یا دوں میں بدلنے لگا۔
نتائج آنے پر سب روزگار کی تلاش میں جُت گئے ۔ دھیرے دھیرے ہم سب اس سسٹم کا آلہ کار بننے لگے جس سسٹم کو یونیورسٹی کے دنوں میں غلط سمجھتے تھے ۔
جاگیرداروں کو غلط سمجھتے تھے ۔ اُن سب طبقوں کو غلط سمجھتے تھے جنوں نے انسان کے گلوں میں طوقِ غلامی ڈال رکھا تھا۔
چین اس وقت ایک اُبھرتی عوامی طاقت ہمارے لیے ایک Role Modelتھا۔ چین میں عوام کی بہتری کے لیے کیا کیا جتن اور اسباب ہورہے تھے ۔ انسانوں کی ذہنی اور جسمانی تربیت کیا کیا معجزے دکھا رہی ہے۔ یہ سب ہم ایک میگزین ”چین با تصویر “میں غور سے پڑھتے اور متاثر ہوئے۔ انسانوں نے انسانوں کی بہتری اور ترقی کے لیے جو خواب دیکھے وہ چین میں تجربات بن کر نتائج دے رہے تھے ۔ کبھی کبھار اس میگزین میں لوک موسیقی کی سی ڈی بھی ہوتی۔ چین کے آلات موسیقی اور موسیقی بہت مدھر ہے ۔
مختصر اً یہ کہ گراں خواب چینی سنبھلنے لگے تھے اور ہمالیہ سے جنم و فراست کے نئے نئے چشمے پھوٹ رہے تھے اور دنیا کو سیراب کر رہے تھے ۔ لوک راج قائم ہونے کی خوشخبری دے رہے تھے ۔ ناممکنات ممکن ہو رہے تھے ۔ انسانوں کی بہتری کا عزم اور جوش ہم پر سحر طاری کردیتا ۔
ہم نوکری تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ کم خوش قسمت لوگوں کی تقدیر بدلنے کی راہیں بھی تلاش کرتے ۔
بدقسمت لوگوں کی تقدیر کو بدلنے میں ہاتھ بٹانا اور اس کی آرزو رکھنا ہمیں ایک اور نگر کی طرف لے جارہے تھے۔
ہمارے آپس کے رشتے بھی اس تربیت گاہ میں نئی نئی اشکال بنا رہے تھے ۔ کوشش تھی کہ اقتصادی اور ذہنی طور پر ہم ایک Parasiteکی زندگی نہ بسر کریں۔ بلکہ دنیا کو ، دنیا کے لوگوں اور اپنے آپ کو خوبصورت اور بامعنی بنائیں۔ وہ بت جو طبقات کے نام پر بنائے جاتے ہیں وہ توڑ دیئے جائیں۔
ہم بت شکن لوگوں کا ایک بڑا گروہ آپس میں دوستی کے خوبصورت رشتے میں بندھا ہوا تھا ۔ ایسی دوستی جس میں ہمارے ideasسانجھے تھے ۔ visions۔ ہم آہنگ تھے ۔ ہم ایک ترقی پذیر آئیڈیالوجی کے پلیٹ فارم پر اکھٹے تھے ۔ یہ آئیڈیالوجی نئی اقدار تخلیق کر رہی تھی۔ سب سے اہم قدر انسان کی تعمیر و ترقی تھی ۔
پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے فارغ تحصیل طلبہ وطالبات کا یہ گروہ اپنی ذاتی بہتری کے علاوہ انسانوں کی بہتری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس بہتری کے حصول کے لیے کوشاں تھا۔ اس گروہ کے پاس ایسی آنکھ تھی جو ہم عصر انسانی علم اور تجربات کو نہ صرف دیکھ سکتی تھی۔ بلکہ متاثربھی ہوتی تھی۔ اسی آنکھ سے ہم دیکھ رہے تھے کہ پاکستان میں ایسا معاشرہ جنم لے رہا ہے جہاں نفرت اور مایوسی کو ذہن کی عادت بنایا جارہا ہے ۔
ایک دن میں نے کھڑکی سے ابی کو ایک شخص سے محو گفتگو دیکھا جو پنجاب کے کسانوں کے لباس میں ملبوس تھا۔
تھوڑی دیر بعد ابی اندر آئے اور مجھے یہ کہہ کر باہر لے گئے کہ آﺅ ایک شاندار مہمان اور انسان سے ملو۔
باہر برآمدے میں طاہر یعسوب بیٹھا تھا۔ ایک دیہاتی کسان کے روپ میں ساتھ والی کرسی پر اس کا ہارمونیم رکھا تھا۔
اس کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ تو کب کالا ہور چھوڑ کر بہاولنگر کے ایک چھوٹے سے گاﺅں میں جابسا ہے ۔ وہیں دیہات کے غریب اور پسماندہ لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ زندگی بسرکررہا ہے۔ اُن کی شامیں لوگ گیتوں کو سننے گاتے گزر رہی ہیں۔ دن کو وہ اُن کے ساتھ کھیتوں میں کام کر رہا ہے ۔ اُن کے بچوں کو پڑھا رہا ہے اور ان کو موسیقی سکھا رہا ہے ۔
لوگوں کے شاعروں کے مقبروں پر ہونے والے عرسوں میں شریک ہورہا ہے ۔ یہ عرس عوام کے ثقافتی اظہار کا بہت خوبصورت ذریعہ ہیں۔ جہاں وہ رقص و موسیقی میں پناہ لیتے ہیں۔ اپنی بنجر اور بے روح زندگی سے کچھ لمحوں کے لیے نجات حاصل کرتے ہیں۔ کچھ دیر اپنے دُکھوں سے دور اپنی ذات کی خوبصورتی دریافت کرتے ہیں۔
دیہات کی زندگی نے طاہر کے چہرے کو سنولا دیا تھا۔ لیکن وہ بے حد خوش تھا۔ اپنی زندگی کو بامعنی سمجھ رہا تھا۔ اپنے فیصلے پر پورے یقین سے عمل پیرا تھا۔
ابی اسے مل کر بہت خوش تھے ۔ شاید ابی کو یہ محسوس ہورہا تھا کہ یہ زندگی تو وہ جینا چاہتے تھے ۔ مگر جی نہ سکے ۔ لیکن طاہر اُن اقدار کو جی رہا ہے ۔ مجھے ابی اور طاہر دونوں ہی انسان دوستی کی کسی داستان کے شاندار کردار لگ رہے تھے ۔
ابی کی زندگی میںبھی اُن کی اقدار راستہ بناتی رہیں۔ وہ غریب لوگ جو علم اور محنت سے اپنی زندگی کو بدلنے کی جدوجہد کر رہے ہوتے ابی اُن کے لیے ایک شفیق اور مددگار ہاتھ تھے۔
لیکن طاہر پر ابی نچھاور ہورہے تھے ۔ طاہر جس نے اپنے وجود میں طبقے اور طبقے سے جڑے مفادات کو جڑ نہیں پکڑنے دیا تھا ۔ طبقے کے پڑھائے اسباق کو unlearnکر رہا تھا ۔ وہ اسباق جو ہمیں لوگوں کی گردنیں کاٹنی سکھاتے ہیں، لوگوں کی زندگیاں برباد کرنی سکھاتے ہیں۔ ان اسباق کی سب سے خوفناک اور خون آشام شکل جنگ ہے ۔
طاہر ایک ننھے سے دیے کی طرح ایک گھنگھور تاریکی میں جگمگا رہا تھا۔ اپنے انسان دوست دل پر مکمل اعتماد کے ساتھ۔
کچھ دن پہلے یہ خبر آئی کہ یعسوب طاہر اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ وہ بھی وہیں جا بسا۔ جہاں ابی اس سے پہلے جابسے تھے ۔
دونوں نے زندگی اپنی شاندار اقدار کے مطابق جینے کی کوشش کی۔ اپنے پسماندگان میں ان گنت کان، ان گنت آنکھیں اور ان گنت دل سوگوار چھوڑ گئے ۔

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*