شیخ ایاز کی نظم

تم نہ مجھے تسلیم کرو گر
مجھ کو تو پرواہ نہیں ہے۔
میں کل کی خاطر لکھتا ہوں
جوکہ آخر آنا ہی ہے۔
میلہ برپا ہونا ہی ہے۔

بارش کھل کر برسے گی جب
صحرا ریت پہ برسوں گا میں
*کارونجھر چوٹی کے اوپر
بادل سے ٹکرائوں گا میں۔

(میں جو تیرا گانے والا
تیرا ہوں، خوشقسمت ہوں)

جیسے لوگوں کے سب آنسو
میری *وائی سے برسے ہیں۔
قریہ قریہ ہر اک باڑ میں
گیت میرے ہی گونجے ہیں۔

میرے گیت گلابوں جیسے
جو اپنے بالوں میں لگاکر
آئیں حسینائیں پن گھٹ سے
پیاروں کی خاطر سج دھج کر
تیرے دل کو بہلائیں گے۔

دیس کے باسی چاندنی راتیں
پاکر صحرا صحرا میں
میرے گیت ہی گائیں گے
بسنت رت میں میری وائی
گلی گلی میں پھیلائیں گے۔

جیسے بجلی کڑکی ہو
بے اختیار ہنسی بھی ہوں میں
پھول کھلے *رابیل ہوں جیسے
دھرتی کی مہکار بھی ہوں میں۔

اور یہ دھرتی مہک اٹھے گی
کل آخر گلزار بنے گی۔
لکھتا ہوں اب
جس کی خاطر۔

کارونجھر: تھرپارکر ضلع میں ایک خوبصورت پہاڑ
وائی: سندھی شاعری کی قدیم صنف
رابیل: رائے بیل/ ایک پھول
——————۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*