اس شہر میں

 

اس شہر میں، میں اجنبی یوں تو نہ تھی میرے خدا
اس کی زمیں ،اس کے فلک ، اس کی ہوا کو کیا ہوا؟
پہچان میں آتا نہیں، پہچان بھی پاتا نہیں مجھ کو کوئی
بدلا ہوا سارا آسماں
بے روشنی اتنی مگر کچھ بھی نظر آتا نہیں
گھر تھے یہاں
رہتے تھے جن میں کچھ مکیں
اک پیڑ تھا اِس جاکھڑا
جھولا پڑا تھا ڈال پر
اک دوست رہتا تھا یہاں
کیوں مٹ گئے سارے نشاں؟
اب تو فقط ہر موڑ پر ہر گام پر
بازار ہے ، بازار ہے ، بازار ہے

بازار میں ہر روز عید
سستی فروخت، فوری خرید
میلے دکاں داروں کے ہیں
اشیاء کا جوبن ہے عیاں
چھڑ کاؤ ان کے صحن میں ، خوشبو لٹاتا موگرا
پھر شور اٹھا نا گہاں
لولڑ پڑے گاہک نئے
خنجر چھری پستول نکلے، بم پھٹا، پھیلا دھواں
دوڑ اپولس کا آدمی ، سیٹی بجی

بازار کے اوپر تنا ہے آسماں نیلم جڑا
اُبھری سمندر سے ہوا
نکلا ہے تارا شام کا
اور چاند ہے پیلا پڑا
بازار کے اندر مگر فرصت کسے، دیکھے اِدھر
ساگر کے تٹ چھا گیا ، سانسوں کی حد تک آگیا
جو ہر طرف بازار ہے
بازار ہے ، بازار ہے

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*