آخر کوئی بات ہوگی

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے، اندھیر نگری میں دن دہاڑے ایک لڑکی کو ایک دیو بہانے سے بلا کر گاڑی میں گھسیٹ کر گاڑی چلا دیتا ہے۔ وہ چیختی ہوئی لڑکی گیٹ پر کھڑے چوکیداروں کو نظر نہیں آتی، نہ ہی شاہراہ پہ سگنل پر رکی دسیوں گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو۔ نہ کوئی اس وقت اس کی مدد کرتا ہے جب وہ گاڑی سے نکل بھاگنے کی کوشش کرتی ہے اور کھینچ تان میں زخمی ہو جاتی ہے۔ اسی حالت میں وہ اسے اپنے غار میں لے جاتا ہے اور لاتوں گھونسوں سے اس کی خوب خاطر کرتا ہے۔ خدام کو تیزاب لانے کا حکم دیتا ہے کہ “اس کی شکل کسی اور کے لائق نہیں چھوڑوں گا” گھر میں موجود اس کی ماں سب جانتی ہے۔لڑکی کے کچھ دوست پریشانی میں پیچھے پیچھے پہنچ کر سوال کرتے ہیں تو دیو کی ماں کہہ دیتی ہے “یہاں کوئی نہیں ہے”۔ ظاہر ہے۔ سچ تھوڑی بول سکتی ہے!

لڑکی کا قصور؟ ہاں کر کے ناں کرنا۔

جیسے شاید نور کا تھا۔

اسکے بارے میں بھی سنا ہے کہہ دیا گیا تھا “یہاں کوئی نہیں ہے”۔

ایک ذہنی طور پر تھوڑی سیدھی تھی جس کو خدا کے ایک نیک بندے نے کمرے میں لے جا کر شادی کا جھانسا دے کر تعلق بنا لیا۔ اور دوسرے نیک بندے نے اس تعلق کی فلم بنا لی۔ اب ہر ہفتہ اس کی حاضری ہوتی کہ نہ جاتی تو فلم باپ بھائیوں کے ہاتھ لگتی۔ وہ معصوم یہی کہتی رہی “وہ مجھ سے شادی کر چکا ہے۔ ہمارا نکاح ہوا ہے ۔ اس نے خود نکاح پڑھایا تھا”۔ یہ معاملہ جانے کتنا عرصہ چلا اور پھر سنا اس کی اصلی والی شادی ہو گئی۔ اور سال بعد اس کے باورچی خانے کا چولہا پھٹ گیا۔ ظاہر ہے ۔ پھٹنا ہی تھا۔

سو ریت یہ ٹھہری کہ لڑکی کے کسی نرم جذبے کی زد میں آنے کی سزا موت۔ کیوں؟ ظاہر ہے ۔ بھائی کو غیرت آ گئی تھی۔

مرضی کی شادی کی سزا موت۔ کیوں؟ ظاہر ہے- والدین کی ناک کٹ گئی تھی۔

کسی درندہ صفت وحشی کے چنگل سے بھاگنے کی سزا موت۔ کیوں؟ کیونکہ ظاہر ہے! اندر کا جانور جاگ گیا تھا۔ ۔

کبھی کبھی عزت لٹ جانے کی سزا بھی موت!

کبھی اکیلے گلی میں کھیلنے کی سزا موت!

کبھی بس زندہ ہونے کی سزا موت۔

یہ جو خالصتاً عورتوں کے قاتل ہوتے ہیں ناں؟ ان کی اپنی ایک الگ منطق ہے ۔اس کو سمجھنے کے لیے سیریل کلرز کے انٹرویو پڑھ لیں ۔ یہ ذہنی “ بیمار” نہیں ہوتے۔ بہت ذہین فطین ہوتے ہیں۔ یہ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں اپنی سچائی اور اپنے افعال کے درست ہونے پر صد فی صد یقین رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر سب کو بیوقوف بنا لیں گے۔ یہ جو کرتے ہیں ان کے اپنے ذاتی حساب کتاب میں بالکل درست ہوتا ہے اس لیے ان کو اپنے کیے کا بال برابر پچھتاوا نہیں ہوتا۔ میں نے نور کے قاتل کو کیمرے پر کہتے سنا کہ “میں چاہتا ہوں سب کچھ کھل کے سامنے آئے”۔ ظاہر ہے کیونکہ اس کی اپنی منطق اس کے اپنے ذہن میں باقی سب چیزوں پہ بھاری ہے ۔ قتل پر بھی۔ یہ لوگ بیمار نہیں خطرناک ہوتے ہیں۔

افسوس اور خوف کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کمنٹ دیکھیں، تو خطرناک قاتل ذہن میں بننے والی عورت کی شبیہہ اور ہمارے یہاں کی عام سوچ کے درمیان فرق زاویے کا نہیں صرف شدت کا لگتا ہے۔ عورت کا ملکیت بن جانا ایک تاریخی سچائی ہے۔ گو کہ وہ بنیادیں نہیں رہیں جہاں واقعتاً ملکیتی رشتہ قائم رہ سکے مثلاً زمین پر قبضہ کرنے ہل چلانے وغیرہ کے لیے بہت سی اولاد اب درکار نہیں۔ آپ ہم بس سر پہ چھت جتنی زمین چاہتے ہیں اور زمانہ کم بچے خوشحال گھرانے کا ہے۔ مگر حقیقت بدلنے کے باوجود ابھی عورت کی حیثیت نہیں بدلی۔ موجودہ نظام میں عورت مرد کی جاگیر نہیں اس کے گھر کی مزدور ہے۔ پہلے بس گھر کے کاموں اور بچے پیدا ہونے کی زمہ دار تھی۔ اب چار پیسے بھی کما کر لے آتی ہے۔ ظاہر ہے۔ایسے میں یہ سوچ عام ہے کہ عورت ایک کمتر مخلوق ہے جو مرد کی مرضی کی پابند ہے۔ عورت ناسمجھ ہے اور اس کو ایک سیدھی لکیر پر چلانا ضروری ہے اور اس کام کے لیے ہر طرح کا سلوک جائز ہی نہیں ضروری بھی ہے۔ اور اگر وہ پٹری سے اترتی محسوس ہو ۔ جو کہ ہو گا ہی۔ تو ظاہر ہے نا۔ اس کو سزا دینا بھی عین واجب ہے۔ یہ بھٹہ مزدوروں کے ساتھ بھی ہو تا ہے کہ ان کی آزادی سلب کر کے انہیں غلامانہ اطوار سے برتا جاتا ہے۔ غصہ آ جائے تو بھٹے میں پھینک دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ظاہر یہ ہے کہ اس ضابطے کے تحت عورت کے ہر کردہ ناکردہ گناہ کے قاضی،منصف، اور جلاد اس کے آس پاس کے مرد ہیں ۔ اور مردوں میں زیادہ حقِ منصفی ان کا ہے جن کی وہ ملکیت ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اللہ رسول کے نام سب اسی کام کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مجال ہے جو یہ نام کسی مرد کے بیہودہ فحش فلم بنانے یا دیکھنے کی راہ میں حائل ہوں، نا چرس شراب جوا بھتہ خوری منافع خوری جھوٹ رشوت یا کسی بھی اور گناہ پہ ان کا اثر ہوتا ہو ۔ ہاں قتلِ نسواں کی بات ہو تو ظاہر ہے یہاں دینِ مرداں کے اصول دینِ یزداں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔

اوپر سے یہ باطل دینِ ملکیتی اتنا آفاقی ہے کہ زبان رنگ نسل بلکہ سیاسی اور معاشی اختلافات بھی نہیں دیکھتا۔ اور کیوں نہ ہو؟ عورت وہ آخری ملکیت ہے جو بلا امتیاز سب ہی کے پاس ہے۔ تو ظاہر ہے ان کا مذاق ہی اڑایا جائے گا جو سمجھتے ہیں کہ مذہب، روایت، حیاتیات، جینیات، ہر علم سے لائی گئی دلیلیں عورت مرد کا ملکیتی رشتہ برقرار رکھنے کے بہانے ہیں۔ جو سوچتے ہیں کہ اس نئی دنیا میں اس رشتے کی بہتر صورت موجود ہو بھی سکتی ہے۔ جو رشتہ بادشاہ اور ملکہ میں ہوتا ہے وہ بادشاہ اور کنیز میں ہو ہی نہیں سکتا۔ غلام آقا سے محبت نہیں کرتا۔ مزدور فیکٹری مالک پہ کیسے جان چھڑک سکتا ہے؟

ہاں یہ غلام، یہ گھر کے مزدور، یہ اپنی جان بچانے کو اور مالک کے سامنے اچھا بننے کو، ظاہر ہے، مالک کی ہاں میں ہاں ضرور ملاتے ہیں۔ جیسے سکول میں بچے کسی زور آور کے ساتھی اس لیے بن جاتے ہیں کہ خود محفوظ رہیں۔ یہ سروائیول انسٹنکٹ ہے۔ ظاہر ہے۔

اس باہمی اتحاد کے ذکر پہ یاد آیا ایک آدھا سال پہلے انٹرنیٹ پر کسی کے خلاف طوفانِ بدتمیزی کھڑا ہوا تھا۔پوچھنے پر پتا چلا کہ ایک حضرت کو خود بخود پیہم یقین ہے کہ جن خاتون نے ان سے قطع تعلق کر لیا ہے ان کو کوئی اور پسند ہے۔ اس لیے سزا دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ دلیل ہمارے عوام کے دل کو لگی اور وہ خاموش ہو گئے۔

ایک اور جگہ سوشل میڈیا پر بیٹھے افلاطون اور افلاطونیوں کو، جو پڑھے بھی تھے لکھے بھی تھے اور اپنے آپ کو انتہائی ہڈدھرمی سے پروگریسو بھی مانتے تھے، ایک عورت کی کھلی ہراسگی کے معاملے پر یا تو بغلیں جھانکتے پایا گیا یا پھر “بڑے بھائی” کا ساتھ دیتے۔ کیونکہ دینِ مرداں کی رو سے ظاہر ہے قصور تو تھا۔ غیر مرد سے بات کی ہی کیوں تھی؟ بات کی تھی تو برداشت کرتی رہتی۔ تنگ کر رہا تھا تو بولی کیوں؟ بڑے بھائی کو غصہ آ گیا اپنی بدنامی پر! شکایت کی کیا ضرورت تھی؟ اس کے سامنے آ کر اسے اکسا کیوں رہی تھی؟ غائب کیوں نہیں ہو گئی؟ تصویریں بھی خود ہی دیں ہوں گی۔

پس اصولِ ملکیتی کی رو سے یہ جائز ٹھہرا کہ اس پر حملے کیے جائیں۔ اسے دھمکایا جائے، بدنام کیا جائے۔ اس کی زندگی کا تباہ کر دی جائے۔

اس کا جرم: بات کر لی تھی تو پیچھے کیوں ہٹی۔ حملہ آور جو خطوط میں لکھ رہا تھا اس کی شکایت کیوں کی؟

ایک اور جو اب “یہاں نہیں ہے” اپنے جگر کے ٹکڑوں کو دل سے لگائے پردیس سے بھاگ کر اپنی ماں کی چھاؤں میں پناہ لینے آئی تھی۔ خدا جانے کس طرح جان سے گئی۔ بس سب چپ رہے اور وہ پھول سی نازک منوں مٹی تلے جا سوئی۔ ظاہر ہے یہی ہونا تھا۔

پتا نہیں کسی کو ان معصوموں کا خیال بھی آتا ہے جن کی دنیا چھن گئی۔ کوئی جانتا ہے کہ بڑے ہو کر وہ کیا بنیں گے؟ ظاہر ہے وہ سرگوشیوں تو سنیں گے۔ کیا وہ اپنے باپ، دنیا، رشتے داروں کی بات پر یقین کر کے یہ وحشتوں کی میراث نسلوں میں منتقل کریں گے؟ اور جو بچ گئی ہیں ان کی نسلوں کا کیا ہو گا؟ کس کرب میں رہتی ہو گی ماں جسے ہر لمحے دھڑکا ہے کہ اس کی اولاد اس کے کارن کسی مصیبت میں نہ پھنس جائے۔

کوئی ایک کہانی ہے؟ کوئی ایک نور، قرت العین، زینب نور، صائمہ، ہے؟ نام بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اور اب باہر ہے ناموں کو چھپائے رکھنا انتہائی سنجیدہ ضرورت بن گیا ہے۔ نام اسی کا کھل کے بتا سکتے ہیں جو “یہاں نہیں رہا”۔ جن کے نام نہیں لیے خدا انہیں محفوظ رکھے۔

بات یوں ہے کہ “لڑکی خراب تھی” ایک دھوکہ ہے۔ “ایسی عورتوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے” خام خیالی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم سب نشانے پر ہیں۔ ہم سب گھر میں بھی اتنے ہی غیر محفوظ ہیں جتنے موٹر وے پر۔ اور ہاں۔ اتنے ہی انٹرنیٹ پر۔

چاہے وجہ “اس کی اتنی ہمت کہ مجھ سے بات کرنے، میرے ساتھ رہنے، یا میری بات ماننے سے انکار کرے!” ہو، یا “میں مار ڈالوں گا کیونکہ میری انا تمہاری مرضی کو برداشت نہیں کر سکتی”۔ یا پھر صرف اتنا کہ “مجھے تم پر شک ہے کہ تم کسی اور مرد کے ساتھ ہو”۔یا پھر “وہ بدکردار تھی۔”

اور سب سے کڑوا سچ یہ ہے کہ قتل ہونے، جلائے جانے، برباد کر دیے جانے سے ایک لمحہ پہلے تک عورت سے دشمنی کرنے والے، اور اس پر حملہ آور مجرم کا ساتھ دینے والے بھی جرم اور قتل میں برابر شریک ہوتے ہیں۔ وہ ماں جو بیٹے کے ساتھ مل کر لڑکی کو گالیاں اور دھمکیاں دیتی ہے ، وہ جو جان بوجھ کر “انجوائمنٹ” کے لیے معاملہ بگاڑتے ہیں، لگائی بجھائی کرتے ہیں۔ وہ فیس بک فرینڈز جو “ہمیں کیا پتا حقیقت کیا ہے” کہہ کر اپنے سامنے عورت کو ہراساں ہوتے دیکھتے رہتے ہیں ہیں۔ اس کے کردار کے بارے میں سوال کرتے رہتے ہیں۔ اس کی غلطیاں ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ وقت کے امامِ دینِ مرداں کے فتاوہ کی پیروی بہم ہو سکے۔ وہ لوگ جو وحشیوں کا ساتھ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ بھی ظلم کی زد میں نا آ جائیں۔ وہی سب جو “نیوٹرل” ہوتے ہیں اور مختلف طریقوں سے مجرم کو حوصلہ دیتے ہیں اپنے “سپورٹ” کا یقین دلاتے ہیں۔ پہلے مجرم کے ساتھ مل کر عورت کو گالیاں دیتے ہیں کمزور کرتے ہیں۔ پھر “بعد میں” مجرم کو گالیاں دینے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے ، بلکہ شاید لاشعوری خواہش یہ ہے، کہ مجرم جرم کر ڈالے! ایسا لگتا ہے کہ وہ اصل پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہیں اس فلم کے۔ بس فلم چلنی چاہیے۔ ان کا کوئی دین ایمان نہیں یہ ہوا کے رخ کے ساتھ ہیں۔ “تھرل” اور “انٹرٹینمنٹ” کے لیے ہر ظالم مظلوم ساگا میں آگ پر تیل ڈالتے پائے جاتے ہیں۔ وہ عورت مرد کا ہو یا امیر غریب کا۔ یہ نہیں جانتے کہ قتل تک پہنچنے تک کے سو قدموں میں سے ننانوے قدم قاتل کا راستہ ہموار کرنے کا جرم ان کا ہے۔جو پہلی گالی پر سب کھڑے ہو جاتے تو کیا ہاتھ اٹھتا؟ جو پہلے تھپڑ پر سزا دیتے تو کیا گلا کٹتا؟ ہمت بخشنے والی یہی زبانِ خلق ہے جو اب نقارہِ خدا نہیں ظاہر ہے ندائے شیاطین بن چکی ہے۔

ہمارا اور معاشرے کا وہ تکلیف دہ حصہ جو ہم اپنے آپ سے چھپاتے ہیں ۔ جس کی حقیقت کو مان لینے سے ہمیں شرم آتی ہے۔ وہ سب کچھ جس کو ہم “اپنا” ماننے سے دور بھاگتے ہیں۔ وہی سب باہر نکل کر نوٹنکی کرتا نظر آتا ہے۔ ہمارے باطن کا ایک نظرانداز ہوا گھناؤنا حصہ اب “ظاہر” ہے۔ اور جب تک ہم یہ قبول نہیں کر لیتے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں ہم سب کا حصہ ہے تب تک نور اور ظلمت کی جنگ جاری رہے گی اور اندھیرا روشنی نگلتا رہے گا۔

آج سونے سے پہلے سوچئے گا کسی کے اجڑنے میں، کسی کے غائب ہو جانے میں، کسی کا منہ تیزاب سے جھلس جانے میں، کسی کا سر تن سے جدا ہو جانے میں کہیں آپ تو ملوث نہیں ہو رہے؟ کہیں “وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی”، “آخر کوئی بات ہوئی ہوگی جو شوہر نے قتل کیا” کی تال پہ تھرکتے کسی اور کے لاش بننے کا سامان تو نہیں کر رہے؟

ظاہر ہے۔

یا کوئی اور بھی ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*