سیمک و نتھا

Saimak O Naththaa

 

بلوچی قدیم ادب کے اندر خواتین کی زبردست شاعری موجود ہے ۔ مگر سیمک کا لہجہ بالکل جدا ہے۔ اس کاالگ ہی غم الگ ہی طریقے سے بیان کیا گیاہے۔ایسا بیان جس کا تاثر تادیر آپ کے دل کو پکڑے جکڑے رکھتا ہے ۔یوں سمجھیے کہ بلوچ شاعری میں محبت کی نوحہ گری بہت کم دیکھنے میں آتی ہے‘ ماسوائے سیمک کے ۔ اسی لےے وہ بہت نازک احساسی کے ساتھ غم و اندوہ بھری ایسی حسرت بھری شاعری کرتی ہے کہ یہ پڑھنے والے کو بہت عرصے تک اپنی کیفیت میں لپیٹے رکھتی ہے۔آپ درندگی کے بالکل الٹ ہوجاتے ہیں۔ انسان !، اشرف، نجیب، نرم دل، ہم درد۔
بلاشبہ یہ شاعری حتمی طور پر داخلیت والی شاعری ہے مگر نئی اور انوکھی تشبیہات و استعارات نے اسے آفاقی بنا ڈالا۔ ایسی تشبیہیں ،ایسے استعارے جو مکمل طور پر فطری ہیں،بلوچی ہیں ، اور لہذا عالمگیرہیں۔ بلوچ حیرت کے بیکراں سمندر میں ڈوب کر اُسے سنتے ہیں۔
سیمک کی شادی نتھا نامی ایک نوجوان سے ہوئی تھی۔ وہ اُس سے بے انتہا پیار کرتی تھی ۔
کچھ ہی عرصے میں نتھاایک قبائلی جنگ میں شمشیروں کی خوراک بن گیا ۔ سیمک کے لئے یہ ایک عظیم صدمہ تھا۔ سیمک کو اُس کی یادیں تڑپا دیتی ہیں۔ سیمک نے اُن جلتی یادوں کو الفاظ میں ڈھال دیا۔ ایسے الفاظ جو محبت کی گہرائی و گیرائی کی لامحدود یت بتاتے ہیں، جو رومان کے اعلیٰ ترین احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ سیمک کی شاعری عشقیہ شاعری کا بے مثال نمونہ ہے ۔بالخصوص بادلوں کے موسم میں۔ بادل کے گاڑھے ایستادہ حصے (اِستین) کو دیکھ کر تو اسے بے ساختہ نتھا یاد آجاتا ہے :
ژہ مُژاں اِستینے سرہ کشی
بُڑزیں چو مارانئے محکمیں کوہا
کوکر تہ نتھا ئیے سر ہ پاغیں
درین تئی ملّ ئے سیمریں واغیں
جیہرتئی ہُمبوئیں گلُالکاں!
ترنپ تئی موڑتیں جا بہئے تیراں
شف گروخ میانئے گہنوریں تیغاں
گرند تہ نتھا توپکہ گوانکاں
ترجمہ:
دھند میں سے سفید اجلے بادل کا ٹکڑا ابھرتا ہے
سر بلند جیسے ماران نامی محکم پہاڑ
بادل کا یہ سفید اجلا ٹکڑا‘تو نتھا کے سر کی پگڑی ہے
قوسِ قزح تیرے گھوڑے کی رنگین لگام ہے
موسلا دھار بارش‘ تیرے سر کے گھنے بال ہیں
بارش قطرے‘ جیسے تیرے کمر بند میں لگی کارتوس ہوں
چمکتی بجلیاں‘ تیری آبدار تلوار کی چمک ہیں
گرج‘ نتھا کی بندوق چلنے کی آواز ہے
کیا تشبیہات ہیں!! اور فطرت کے مظاہر کا کیا ماہرانہ جڑائو ہے۔میں نے عشقیہ شاعری میں رزمیہ مظاہر کی اس قدر لطیف اور صناعانہ پیوستگی اور کہیں نہیں دیکھی۔سیمک کی شاعری کی مثال خود بلوچی شاعری میں بھی نہ ملے گی ۔ حالانکہ ہم نے بادل برسات کے موسم کو بہت سے بلوچ شعرا کی شعر گوئی کے لیے ایک مہمیز کی صورت دیکھا ہے۔ بالخصوص توکلی مست کی شاعری کے لئے۔ مگر جس نرالے انداز میں سیمک بادوباراں کی کیفیات بیان کرتی ہے،اُس سے تو انسان مبہوت ہوکے رہ جاتا ہے:
تانہی نوذاں گوں شوا عرضیں
”لُنڈو“ او شانکئے مینغت فرضیں
آں شہیذانی زیارتاں مینیں
یہ دمے مونگا ڑّو کن انت ترنمپاں
شوا زواذبوئیں جینہراں بِلیں
اش سمینانی گلگل وھُلّاں
ترجمہ:
دور دراز کے بادلو تم سے ایک عرض ہے
لُنڈو اور شانک کو بھگوڈالنا تم پر فرض ہے
اُن شہیدوں کی زیارتوں کو بھگوڈالو
ایک بار اپنے قطروں کی بوچھاڑ کر دو
تم زباد کی خوش بُوبھری پھوار برساد و
بادلوںکی رم جھم اور گرج چمک میں

ہم آپ کی توجہ ایک بار پھر اُس حسین عجوبے کی طرف موڑتے ہیں جہاں بلوچی شاعری میں آپ بھرپور ڈرامہ اور مکالمہ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ ہم یہ بھی بتا چکے ہیں کہ مکالمے کے لےے اطراف کا انسان ہونا ضروری نہیں، نہ ہی جاندار ہونا۔ بلوچ ،فطرت کے ہر مظہر کو جاندار اور اپنے مقابل کا گردانتا ہے۔ یہاں آپ اس برستی بارش کے پس منظر کے بعد نتھا اور بادلوں کے بیچ مکالمہ کی طرف متوجہ ہوں ۔ نتھا جوقبر میں پڑاہے بادلوں سے یوں گویا ہوتاہے :
(اوریہ بلوچ مائتھا لوجی کاایک بہت بڑا عنصر ہے ۔ بے جان جاندارسے گفتگوکرتاہے ، بے جان بے جان سے باتیں کرتاہے ۔ غیر ناطق جانور غیر ناطق جانور سے سوال جواب کرتا ہے )۔
گال و بولی بی گوں تانہی نوذاں
شواکئی تُنی ایں دلہ کائیں
شوا کئی چمئے گریثغیں انڑسیں
پہ کئی منت آں مناں مینتو
ترجمہ:
وہ دور دیس سے آئی بارش سے گویاہوتاہے
تم کس کے پیاسے دل سے آرہی ہو
تم کس کی آنکھ کے روئے ہوئے آنسو ہو
تم نے کس کی طرف سے کی گئی مِنتیں کرنے پر مجھے بھگویا ہے
خوبصورت مکالمہ بازی توبلوچی کلاسیک کی امتیازی خصوصیت ہے۔خوبصورت ڈرامہ ۔ فلمایا جاسکنے والا ڈرامہ۔
اب ذرا نتھا کوبارش کا جواب دیکھیے:
اے جواو داثہ تانہی نوذاں
سیمکئے تُنی ایں دلہ کائوں
ماسیمکئے چمہ گریثغیں انڑسوں
ما سیمکئے منّتاں ترامینتہ
ما جَنِ ویران گونغیں دِیثہ
پر توّے ” نتھایا“ گنوخ بِیثہ
رنگِ چو آسانی پُرا بِیثہ
ترجمہ:
دور دیس سے آئی بارش نے جواب دیا
ہم سیمک کے پیاسے دل کی طرف سے آئے ہیں
ہم سیمک کی آنکھ کے روئے ہوئے آنسو ہیں
ہم نے سیمک کی طرف سے کی گئی منت سماجت پہ تمہیں بھگودیا ہے
ہم نے اس عورت کو ویران دیکھا ہے
نتھا ، وہ تم پر پاگل ہوگئی ہے
اُس کی رنگت راکھ کی سی ہوگئی ہے
اب ذرا اگلا منظر دیکھیے۔آپ ہل کررہ جائیں گے جب آپ قبر سے باہر نکلتے ہوئے مردہ نتھا سے سیمک کا مکالمہ پڑھتے ہیں۔شاید عالمی ادب میں آپ کو یہ منظر کہیں اورنہ ملے:
درکفی سالوک دروشمیں نتھا
نہنکثی آ ژہ تنک دفیں گورا
”شَر نہ ئیے براہندغ ہواں گیغاں
گپتغئے گورئے کلّرو ہیساں!
دنزمں ڈالشاہیں بروتاناں
من بروتان و برنگلیں ریشاں
چوٹوّاِت دنزو ایں زواذ بوئیں“
ترجمہ:
دولہا صورت نتھا ،نکلتا ہے
بڑی مشکل سے تنگ دھن قبر سے
”اچھے نہیں ہو ساتھی پہلے کی طرح
قبر کی کلّراور میل تمہیں لگ گئی
تمہاری بڑی بڑی مونچھیں گرد آلود ہیں
مونچھیں بھی اور گھنی داڑھی بھی
تمہارے زبادبُو گیسو بھی دھُول آلود ہیں
یہ ہے سیمک کی شاعری ۔ وہ اٹھتے بیٹھے ، سوتے جاگتے اپنے مرحوم محبوب شوہر کی یادوں کی چتا اپنے پیروں تلے جلائے رکھتی ہے ۔ اسے ہر مظہر اور ہر شئے میں نتھا دِ کھتا ہے ۔
آیئے ایک اور منظر نامہ بھی دیکھتے جاتے ہیں ۔ ایک نوجوان وحسین بیوہ کب تک آزاد رہنے دی جاتی ہے ۔ چنا نچہ شادی کے طلب گا رمردمکھیوں مچھروں کی طرح بھنبھناتے آتے ہیں۔ نوجوان لوگ طرح طرح کی ترغیبیں دیتے ہیں:
ورنا سینگھارنت وثی بوراں
کاراں مئیں کُلانی گوئرہ تاشاں
پر منہ کاراں چیٹ و چنّیاں
حُلواں رنگیں پکغیں ونگاں
ترجمہ:
نوجوان اپنی گھوڑیاں سجاتے ہیں
لا کر میرے خیمے کے گرد دوڑاتے ہیں
(وہ)میرے لئے چھینٹ اور چنیاں لاتے ہیں
مجھے خوبصورت پکی سجی دیتے ہیں

سیمک کو بستی کی عورتیں، مرداوربوڑھے دوسری شادی کی ترغیب دیتے ہیں ۔سیمک ایک شعر میں اس حالت کو یوں بیان کرتی ہے:
ہررغیں رانڈھو باز مناں ریفاں
کہ دیروئے ورنایاں گِشیں یکّے
ترجمہ:
دوغلی بڈھیاں مجھے بہت بہت ورغلاتی ہیں
کہ بستی کے جوانوں میں سے کسی ایک کو چن لو
جواب سننا ہے ؟۔ یارا ہے ؟ تو سنیے عشق داسی کیا کہتی ہے۔ ( اب اِس پہ فیوڈل محبت کا ٹھپہ نہ لگائیے، ادب پارہ، فن پارہ ہے، محظوظ ہوئیے!)۔ سیمک، عشق کی ماری انہیں کیسے بتائے ۔ نتھا کی یہ باندی انہیں کیا کہے، کیسے انہیں سمجھائے کہ :
دیروئے ورنا تہ کُل منی براثاں
آنکہ مئیں عاریفیں پثی ہنداں
سرمنی چنیّاں نہ ویث باڑا
پاذوںپہ لہڑی رتکغیں کوشاں
بلاں کہ چموں پہ سیرمغا ں سکنّت

ترجمہ:
بستی کے جوان تو سب میرے بھائی ہیں
اور کچھ میرے محترم والد کی جگہ ہیں
میرا سرچُنی کے لےے نہیں ہے خواہش مند
نہ میرے پیر لہڑی کے سلے پاپوش کے لےے
میری آنکھیں بے سرمہ ہی بھلی

سو، ہر ترغیب پاﺅں کی ٹھو کرپر۔ ہر دلیل بحیرہِ انکا رمیں ۔عشق انکا رہے ، عشق استر داد ہے ، عشق تر دید ہے ۔ عشق ضدِ تسلیم ہے ، عشق خلافِ مسّلم ہے…….. اور حتمی عشق دیکھئے:

ما وثی جیغ پہ نہمتے بستہ
موث بوژی یا سورہ ایں نتھا
ترجمہ:
میں نے اپنا جیغ (گریبان)ایک ارادہ کر کے مقفل کردیا ہے
کہ اُسے یاتو موت کھولے گی یا سورمانتھا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*