صفر

زندگی کے پنے پر

خواب بھی نہ لکھوں کیا؟

روشنی کے منظر کو

آنکھ موند کر دیکھوں،

سوچ بھی خریدوں تو

مفلسی کے دامن سے

گرہیں جوڑ کر رکھ دوں،

چیخ بھی دبا لوں کیا؟

چپ سے بیٹھ کر تنہا

راز بھی چھپا لوں کیا؟

کس طرح سے آئینہ

دیکھتا ہے تو مجھ کو

عیب بھی دکھا دوں کیا؟

دیکھ کیوں نہیں سکتی؟

دیکھ۔۔۔ کیوں نہیں سکتی؟

بات بھی کروں تو سب

بولنے سے پہلے ہی

اتنا پست کرتے ہیں

لو ہی بجھتی جاتی ہے،

پھر سے اپنے ہونے کا

حوصلہ ٹٹولوں کیا؟

کس یقیں سے میں نے یہ

بات ساری کہہ ڈالی

جاننے کا مطلب بھی

جانتے نہیں ہو کیا؟

چاند کی طرف دیکھو

دیکھنے سے لگتا ہے

وہ بھی مجھ کو تکتا ہے۔۔۔

روشنی، جنوں اور عشق

سامنے بھی رکھ دو تو

بات کیوں نہیں بنتی؟

عکس گہرے پانی میں

دیکھنے میں پورا ہے،

آنکھ کے سمندر میں

ایک بوند آنے سے،

دھند ساری چھا جائے۔۔۔

ایک چھوٹا کنکر بھی،

دور سے اگر پھینکو

دائرے میں پورا عکس

گھومتا ہی رہ جائے،

اور سوال آنکھوں میں

ذہن کو یوں الجھائے

دل کے اس جزیرے میں،

جسم کو فنا کر دے۔۔۔

جسم کو فنا کر دے،

حق کی بات کہہ ڈالے

میں نہیں ہوں تجھ میں بھی۔۔۔

میں نہیں ہوں خود میں بھی۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*