مٹی سے

 

اے ری مٹی
تو کیوں جلتی
آگ اگلتی،
روتی
روکر چشمہ ہوتی
اڑتی
آگے بڑھتی، مڑتی
رہتی ہے!۔
ایسا مت کر
میری مٹی!۔
اے ری مٹی!۔

آگ تجھے کندن کردے گی
لہر تجھے روشن کردے گی
تجھ پر بیٹھی دھول اڑا کر
تیز ہوا تجھ کو وہ پہلی اصلی مٹی
چھن کر، دے گی!
جھونک رہی ہے جو آنکھوں میں
یہ وہ دھول ہے
تیری بھول ہے
میری مٹی
اے ری مٹی!۔

پانی میں مل گارا ہوکر
چاک پہ آکر
تیز ہوا کی خنکی سہہ کر
اور پھر جلتی آگ میں رہ کر

کوزہ ہوکر
تو بازار میں لائی جائے
بزم یار میں پائی جائے
ان نازک ہونٹوں کی پیاس بجھائی جائے
یوں بھی کب ہونا ممکن ہے
ناممکن ہے!۔
میری مٹی
اے ری مٹی!۔

آگ تجھے خاکستر کردے
اور پھیلا دے
لایعنی کے گم صحرا میں
موجِ آب تجھے تر کردے
اور بہادے
غم کی نامعلوم دشا میں
تیز ہوا تجھ کو پر کردے
اور اڑا دے
اس بے مطلب سی دنیا میں
تیری مٹی
اے ری مٹی!۔
میری مٹی!۔
تو کیوں جلتی
آگ اگلتی،۔
روتی
روکر چشمہ ہوتی
اڑتی
آگے بڑھتی، مڑتی
رہتی ہے!؟

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*