غور طلب بات

 

بنگلہ دیش کی کچی آبادیوں میں رہنے والی لڑکیوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ "اگر کوئی لڑکی جسم فروش ہے تو خوش قسمت ہو گی اور اگر بدقسمت ہے تو گارمنٹس انڈسٹری میں ورکر ہو گی”. فیشن انڈسٹری اس وقت چند بڑے کاروباروں میں شامل ہے، اِس میں بہت دولت ہے. دنیا بھر میں کپڑوں اور لباس کی صنعت دیکھ لیجیے مزدور، محنت کش اور ملازمین غربت کا شکار ہوتے ہیں. ہمیں بتایا جاتا ہے کہ شدید محنت و مشقت کے بغیر امیر ہونا ممکن نہیں ہے، مگر فیشن انڈسٹری کے ورکر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی مشقت کے بعد بھی امیر ہونا تو درکنار غربت کے چکر سے ہی باہر نہیں نکل پاتے. یقیناً امیر ہونے کیلیے استحصال کرنا اور ہزاروں ورکرز کی محنت کو استعمال کرنا پڑتا ہے. یہی سرمایہ داری ہے.
ایک مرتبہ مائیکل جارڈن نے Nike کمپنی کے جوتے کی مشہوری میں کام کرنے کیلیے 40 ملین ڈالر لیے تھے. یعنی ایک تصویر میں مائیکل جارڈن بھاگ رہا ہے اور اُس نے Nike کے جوتے پہن رکھے ہیں. مائیکل جارڈن نے 40 ملین ڈالر کمانے کیلیے شدید محنت کی تھی، دن رات کی شدید محنت، پسینے میں شرابور، فیکٹری میں کئی سال کئی گھنٹے لگاتار کھڑا رہا تھا…. نہیں بالکل بھی نہیں. وہ مشہور امریکی باسکٹ بال کا کھلاڑی ہے اور Nike کے پاس 13 ارب ڈالر کی دولت ہے، لہذا مائیکل جارڈن کو 40 ملین ڈالر دینا کوئی بہت بڑا سودا نہیں تھا. اِس سے زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ جس سال مائیکل جارڈن نے Nike سے اشتہار میں کام کرنے کے عوض 40 ملین ڈالر لیے تھے، اُس سال Nike کے انڈونیشیا میں 30 ہزار ورکر کام کر رہے تھے، اگر اُن تیس ہزار ملازمین کی ایک سال کی مجموعی تنخواہ لی جائے تو وہ 20 ملین ڈالر سے بھی کم ہے. یعنی Nike اپنے تیس ہزار ملازمین کی سال بھر کی شدید ترین محنت کے عوض اتنے پیسے بھی خرچ نہیں کرتی جتنا مائیکل جارڈن Nike کیلیے ایک تصویر بنوانے کی قیمت لیتا ہے. جبکہ اِسی کمپنی کے مالک "فِل نائٹ” نے گزشتہ سال 553 ملین ڈالر منافع کمایا. یہ ہے سرمایہ داری.
بچے بچیوں کے خوبصورت لباس اور زیب تن تیار کرنے والی ایک مشہور کارپوریشن ڈزنی (Disney) کی مثال لے لیں. یہ کارپوریشن دنیا کی پینتیسویں اور امریکہ کی بیسویں بڑی کارپوریشن ہے. اِس کارپوریشن میں اکہتر ہزار ملازمین اور مزدور کام کرتے ہیں. اِس برانڈ کے کپڑوں کی خاصیت اِن پہ بنے ہو خوبصورت کارٹون کردار ہیں. اِن کارٹونوں کو اِن کپڑوں پہ سیا جاتا ہے یا کڑھائی کی جاتی ہے. اِس کمپنی کے سی ای او کا نام مائیکل آئزنر ہے. مائیکل آئزنر بطور سی ای او اپنی کارپوریشن سے ایک لاکھ بتیس ہزار امریکی ڈالر فی گھنٹہ تنخواہ لیتا ہے. جبکہ کارپوریشن کے اکہتر ہزار ملازمین کو فی گھنٹہ ایک ڈالر فی چار ملازمین تنخواہ دی جاتی ہے.
یہ استحصال کی لمبی کہانی ہے. ایسا استحصال تیسری دنیا کے خستہ حال ممالک یا ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں ہوتا، بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں بھی یہ استحصال بڑی شدت سے جاری ہے.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*