اور بھی غم ہیں زمانے میں

………جانے ہم پاکستانیوں کی اکثریت خود کو طالبان کی ترجمان ثابت کرنے کوکیوں بے تاب رہتی ہے۔ ایسا کرتے ہوے فراموش کردیا جاتا ہے کہ افغانستان نام کی ریاست قیام پاکستان سے تقریباََ دو سو سال قبل دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی تھی۔اس ریاست نے دلی میں بیٹھے مغل شہنشاہ کو کمزور تر بنایا تھا۔کشمیر سے لے کر آج کے پنجاب اور سندھ کے وسیع تر علاقے بھی مذکورہ ریاست کے باجگزار رہے ۔افغان قوم پرستی اس حقیقت کو یاد رکھے ہوئے ہے۔

ہمیں اس گماں میں مبتلا ہونے سے احتیاط برتنا ہوگی کہ طالبان کی کامرانی کے بعد تاریخ کا پہیہ الٹا چل پڑا ہے۔ایسا واقعہ فقط ایک بار رنجیت سنگھ کے دور میں ہوا تھا۔اس کا اقتدار مگر طورخم پار نہیں کرپایا تھا۔آج کے خیبرپختونخواہ کو ہتھیانے پر ہی اکتفا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔سیلاب کی صورت دنیا کے کئی ملکوں میں پھیلتا برطانوی سامراج بھی بالآخر افغانستان کو اس زمانے کے انڈیا اور روس کے درمیان اپنے تحفظ کو یقینی بنانے والی نام نہاد ’’بفرسٹیٹ‘‘ کی حیثیت دینے کو مجبور ہوا۔

محض سوشل میڈیا کے ذریعے ذہن سازی کے عادی ہوئے افراد مگر تاریخ کی گہرائی اور گیرائی کو زیر غور لانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔ فرض کرلیا گیا ہے کہ ابلاغ کے تمام تر ذرائع کو کامل طورپر اپنے قابو میں لانے کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں فقط وہ سوچ بٹھائی جاسکتی ہے جو حکمرانوں کو آسانیاں فراہم کرے۔1857میں لیکن اخبار بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔اس کے باوجود برطانیہ کے زیر تسلط علاقوں میں بنگال سے خیبر تک ایک بیانیہ فروغ پایا۔ اس کی وجہ سے جنگ آزادی ہوئی جسے سامراج نے غدرپکارا اور اس پر نہایت سفاکی سے قابو پانے کے بعد مزید ایک سو برس تک ہم پر راج کیا۔

مذہب کی بنیاد پر جو بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے اپنے فروغ کے لئے دورِ حاضر میں ذہن سازی کے مؤثر ترین Toolsشمار ہوتے ذرائع کا ہرگز محتاج نہیں ہے۔یہ مساجد اور مدرسوں کے خیرہ کن حد تک پھیلے نیٹ ورک کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ محض ریاست کی رٹ قائم کرنے والا ورد اس بیانیے کا مؤثر توڑ نہیں ہے۔جوابی بیانیہ فروغ دینے کے لئے ابلاغ کے تخلیقی ذرائع ڈھونڈنا ہوں گے۔ہمارے میڈیا کی اجتماعی ساکھ کو موجودہ حکمرانوں نے مگر اپنے ہاتھوں نہایت لگن اور یکسوئی سے تباہ کیاہے۔ صفائی ستھرائی کے بعد بندے کا پتر بنائے اس میڈیا سے اب یہ امید نہ رکھیں کہ وہ خوف و بے یقینی کے عالم میں موجودہ حکومت کا کسی بھی صورت مددگار ہوسکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*