ثمینہ راجا

 

ثمینہ راجا کی ، جواں سال موت کی خبر ، بہت تکلیف وہ تھی۔
ہم ایک دوسرے کو جانتے نہ تھے۔ میں نے تو جینوئن شاعرہ کے بطور اس کا نام سن رکھا تھا مگر وہ تو پہلے مجھ سے بالکل ناواقف تھی۔ جینوئن میں نے اُسے سوچ سمجھ کر لکھا۔ بے نیاز وبے طمع طبیعت کی مالک ثمینہ نے تمغہ، فرنٹ سیٹ اور ہر جگہ موجود ہونے کو کبھی ضروری نہیں سمجھا۔ کوئی نظریاتی وابستگی تو نہ تھی مگر دربار سے قربت کی کوشش نہ کی۔ دنیاوی دکھوں مصیبتوں سے سیراب اس کی روح کبھی بھی درباری خوشکا بے کے لیے نہ للچائی۔
ایک بار میں جب اسلام آباد گیا تو ایک مشترکہ دوست کے کہنے پر اس نے مجھے رات کا کھانا کھلایا ۔ ہم ایک مدہم روشنیوں والے خوبصورت ہوٹل میں ملے جس کا نام مجھے یاد نہیں ۔ سرخ لباس میں ملبوس، بلند قامت ، گورا رنگ، لمبے بال اور سیاہ چشمے لگائے وہ متاثر کن شخصیت لگ رہی تھی۔ وہ صرف شکل وصورت میں ہی پرکشش نہ تھی، وہ روح ودل کی بھی بہت اچھی انسان تھی ۔۔۔وہ خود کو ہمیشہ تروتازہ رکھتی تھی۔
لوگوں میں مشہور عام تاثر کے بر خلاف ، وہ بالکل بھی کم گونہ تھی۔ مردم زدگی نے اسے ایسا بنالیا تھا۔ ورنہ جس سے فریکوئنسی مل جائے، کوئی اعتماد اورباہمی احترام کے جذبے والا انسان مل جائے تو ثمینہ راجا ایک ریڈیو بن جاتی ، خوبصورت آواز والی، ٹھہراﺅ اور روانی کو ہم آہنگ بنانے والی۔ اس نے پرتکلف کھانا کھلایا، شروع میں پرتکلف مگر بعد میں ذراسی relaxگفتگو کی ، اپنی شاعری سنائی۔ ہم دوست بن گئے ۔ (کاش بلوچی زبان میں مردوزن کے مابین احترام ومقدس دوستی کے لیے کوئی اصطلاح ہوتی!)۔
راجا جنوب پنجاب کی رہنے والی تھی ۔ یہ ایک نیم قبائلی نیم فیوڈل ماحول والا علاقہ ہے ۔ اور پھر زمین اور جاگیر تو بدنما جنسی تفریق وامتیاز پیدا کرنے میں مشہور مظاہر ہیں ۔اس نجی ملکیت نے یہاں بھی اپنا اثر ڈالا اور مفروضوں پہ قائم اخلاقی نظام کو شگاف شگاف کردیا۔ یوں کہ،باپ سے میراث میں ملنے والی زمین کے چھوٹے ٹکڑے کے لیے بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہوا تھا۔ اور یوں جائیداد ووراثت سے بے دخل کردہ دربدر ثمینہ نے تعلیم حاصل کی (اس نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا)۔
تعلیم ایک پسماندہ فیوڈل ماحول میں شخصی تباہی کا باعث بنتی ہے ۔ تعلیم اپنے علمبردار کو بغیر سپاہ کا باغی بنا ڈالتی ہے ، پورے سماج کا باغی۔ راجانے یہی بغاوت کی اور اپنی پسند کی شادی کی۔ یہ اس کی شخصی تباہی کا آغاز تھی۔ سماج سے رشتے ٹوٹ گئے اور یہ تنہا عورت اپنی محبت کے سہارے قیودوممانعات ومسلمات کی تمام دیواروں سے ٹکرا گئی۔ اُس پہ دوسری تباہی اُس وقت آئی جب چند ہی برسوں میں خاوند سے علیحدگی ہوئی۔
اسلام آباد جیسے بے مہر اور شاطر شہر میں تین کم سن بیٹوں کی ماں، یہ نوجوان عورت کن کن عذابوں سے گزری ہوگی، ہم اندازہ ہی نہیں کرسکتے۔ ایک بداخلاق طبقاتی معاشرے میں باوقار زندگی کے لیے اس کے پاس ایک ہی سہارا تھا: اُس کا فولادی کیریکٹر ۔ اِس کیریکٹرکو ایک وفادار ساتھی ملا، اُس کی تعلیم۔ چنانچہ اُس کی ستھری روح نے اپنے کیریکٹر اور تعلیم کو سخت محنت سے جوڑ دیا اور راجا کو ایک اچھا، خودار اور نجیب انسان بنادیا۔
اس نے 13برس کی عمر میں شاعری شروع کی۔ مگر سخت ماحول کے باعث عرصے تک چھپاتی رہی(1)
اسی لیے وہ پابندیوں بندشوں سے نفرت کرتی تھی، خواہ وہ بطور عورت ہوں یا بطور شہری ۔ ضیاءالحق کے خلاف کتنا کچھ لکھ چکا ہے۔ مگر ثمینہ نے ” ضیا ءالحق سے تو مجھے بے حد چڑ ہے“۔کے بعد جو آدھا جملہ لکھا وہ مجھے چھ کتابوں سے بھی اچھا لگتا ہے ۔ابھی پڑھواتاہوں آپ کو مگر اُس کا آخری لفظ ہی سب کچھ ہے میری نظر میں:ایک شقی القلب، جھوٹا اور خود غرض سیاستدان“(2)۔
راجا نیشنل بک فاﺅنڈیشن میں بھی رہی۔ اس نے مقتدرہ اردو میں بھی کام کیا۔ وہ کچھ اور اداروں سے بھی وابستہ رہی۔ مگر جب بھی اسے دوسرے کی نظروں میں بے ایمانی نظر آجاتی ، یا اپنی اناوخوداری کو خراش لگنے کا خطرہ نظر آیا،وہ فوراً وہاں سے پیچھے کھسک گئی ۔ اس نے ہر شخص کو کشیدہ قامت دیکھ کر اُس سے جھک کر ملنے سے اجتناب کیا۔
اس نے اپنی ایڈیٹری میں چلنے والے ضخیم ادبی رسالے ”آثار“ کے کئی شمارے مجھے دکھائے تھے۔ یہ رسالہ بین الاقوامی ادبی معیار کا رسالہ تھا۔ ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار صفحوں والے شمارے ۔ اور کیا خوبصورت گیٹ اپ ہوتا تھا۔اس رسالے میں ادب سے متعلق ہر سیکشن الگ الگ دیا ہوتا، درمیان درمیان میں بہت خوبصورت پینٹنگز کے صفحے ہوتے تھے ۔ ایک ہی رسالے میں سینکڑوں خطوط ایڈیٹر کے نام ہوتے تھے۔ایک خط میں فاطمہ حسن نے اس کے بارے میں یہ خوبصورت فقرہ لکھا:
”خدا نے تمہیں شاعری کرنے اور رسالے نکالنے کے لیے پیدا کیا ہے “۔ میں نے اس کی ایڈیٹری والے دوسرے رسالے (مستقبل ، اور ، کتاب) البتہ نہیں دیکھے۔
ثمینہ نے انگریزی نثری ادب کو اردو میں ڈھالنے کا کام بھی کیا۔ اس نے ایڈورڈسید کی کتاب Orientalismکو ”شرق شناسی“ میں بدل دیا۔ دوسرا ترجمہ اس نے Verdict of Indiaکا کیا جو انگریز مورج بیورلے نکولس کی لکھی ہے : برطانوی ہند کا مستقبل۔
اس نے 1973سے شاعری لکھنی شروع کی۔ اور اُس کے بارہ مجموعے چھپے۔ اوردوکلیات۔
مجموعے یہ ہیں: ہویدا (1995) ، شہرِ صبا(1997)، اور وصال (1998)، خوابنے(1998) ، باغ شب ( 1999) ، باز دید(2000) ہفت آسمان (2001) ، پری خانہ (2002) ، عدن کے راستے پر (2003) ، دل لیلیٰ (2004)، عشق آباد (2006) ، ہجرنامہ (2008)۔
کلیات میں سے ایک کا نام ”کتابِ خواب“ ہے جو 2004میں چھپی اور دوسرے کا نام ”کتابِ جاں“ ہے جو 2005میں چھپی۔
اس کی کندن شاعری شخصی دکھوں محرومیوں اور ناکامیوں کی اذیت گاہ میں سے جنم لیتی تھی ۔ اس کے الفاظ سنورنے اور لائن میں لگنے کے پراسیس سے گزر کر ہی کاغذ پر جم جاتے تھے ۔ یوں بہت اذیت ناک کوشش کے بعد ذاتی دکھ کسی حد تک انسانیت کے مجموعی مسائل میں ضم ہوجاتے ہیں اور اس کے کلام کو بھر پور تاثیر بخشتے ہیں۔
وہ نظم وغزل دونوں میں ادبی رکھ رکھاﺅ اور رسوم وقیود کی بہت پابندی کرتی تھی۔ اُس نے نثر میں بہت کم لکھا۔ بنیادی طور پر وہ ایک شاعرہ تھی۔ عام انسانی شاعری، دکھ سکھ کی ، وصال وفراق کی ۔۔۔۔ایسی خوبصورت و گہری شاعری جو اس کے وجود کے ایک ایک خلیے کی بربادی سے رنگ کر نکلتی تھی ۔ ایسی رنجیدہ درماندہ وسودائی روح جسے زندگی نے کبھی دل سے نہ چاہا، بس چھو کے چھوڑ دیا۔ زندگی جو محض مادی اشیاءکی فراہمی نہیں ہوتی۔ زندگی جو ایک تھامنے والا ہاتھ بھی ہوتی ہے ، جو دل کی بات کا مخاطب ہوتی ہے ۔ جہاں مشکل میں ہوں تو کوئی دوست ِدل ہو جس کے سامنے رویا جائے ، خوش ہوں تو دامانِ شکر ، دیدہِ نم اور قلبِ مطمئن اس کو دکھایا جائے۔ ایسا نہ ہو تو زندگی ایک بیوہ کی چوڑی بن جاتی ہے۔

یہ دستیاب عورتیں
ثمینہ راجہ
یہ بے حجاب عورتیں
جنہوں نے سارے شہر کو
کمالِ عشوہ وادا سے
شیوہِ جفا نما سے
بے قرار اور نڈھال کر رکھا تھا
جانے کون چور راستوں سے
کوچہ ِسخن میں آکے بس گئیں
کسی سے سُن رکھا تھا ۔۔۔”یاں فضائے دل پذیر ہے
ہر ایک شخص اس گلی کا ، عاشقِ نگاہِ دلبری
معاملات ِ شوق وحسن وعشق کا اسیر ہے
کہ سینکڑوں برس میں پہلی بار ہے
زنانِ کوچہ ِسخن کو اِذن شعرو شاعری
بس ایک دعوی ءسخن وری کی دیر ہے کہ پھر
تمام عیش ِزندگی
قبولِ عام ۔۔ شہرتِ دوام کی اضافی خوبیوں کے ساتھ
پیش ہوں گے طشت ِ خاص میں سجے ہوئے
مگر یہ ہے کہ دعوی ءسخن وری کے واسطے
کہیں کوئی کمال ہونا چاہیے
خریدنے کو مصرعہ ہائے تربتر
گِرہ میں کچھ تو مال ہونا چاہیے“

یہ پُر شباب عورتیں
چھلک رہی تھیں جو وفورِ شوق سے
تمام نقدِ جسم۔۔۔

زلف وعارض ولب ونظر لیے ہوئے
مچل گئیں۔۔ متاع شعر کے حصول کے لیے
سخن کے تاجروں کو اس طلب کی جب خبر ہوئی
تو اپنے اپنے نرخ نامے جیب میں چھپائے ۔ ۔ پیش ہوگئے
”نگاہ ِناز کے لیے یہ سطر ہے
یہ نظم، مسکراہٹوں کی نذر ہے
یہ ایک شعر ، ایک بات کے عوض
غزل ملے گی۔۔۔ پوری رات کے عوض“

نہ پاسبان ِ کوچہِ سخن کو کچھ خبر ہوئی
نجانے کب یہ مول تول۔۔ بھاﺅ تاﺅ ہوگیا
نجانے کب مذاق ِحسن وعشق
اپنامنہ چھپاکے سوگیا
کمال ِفن ۔۔لہو کے اشک روگیا
یہ کیا ہوا کہ پوری طرح روشنی سے قبل ہی
تمام عہد ۔۔۔ایک سردتیر گی میں کھوگیا

اور اب جدھر بھی دیکھیے
ہیں بے حساب عورتیں
ہر ایک سمت جگنوﺅں کی طرح ٹمٹما رہی ہیں
شب کے سارے راستوں پہ
دستیاب عورتیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*