نظم

سوچنے سے بچنے کے

بہت سے طریقے ہیں

تم یوں اپنے قدم

گن رہے ہو

جیسے!۔

لوگ پیسے گنتے ہیں

تم خوف سے بچنا چاہیے ہو

تو سوچنا چھوڑ دو

اور!

سوچنے سے بچنے کے

بہت سے طریقے ہیں

تم زندگی گزارنے کے

اصولوں کے بارے میں مت سوچو

کیونکہ!۔

کسی نے تمہیں وہ اصول

سکھائے ہی نہیں

اب تمہیں خود بہت کچھ

سیکھنا ہے

مگر!۔

تمہارا ذہن پھر خوف سے

ماوف ہو رہا ہے

سوچنے سے بچنے کے

بہت سے طریقے ہیں

جیسے تارے گننا

جیسے تم تارے نہیں

اپنی دولت گن رہے ہو

اور پھر

امیر سے امیر تر ہوتے چلے جاؤ

بیشک بہ حیثیت انسان

تمہیں بہت سے حقوق

حاصلِ ہیں

ان میں سے ایک

حصول مسرت کا حق ہے

تو چلو پھر تم کوئی

گیت گنگناؤ

یا پھر تم لوگوں کو

اپنی بہادری کے قصے سناؤ

اور!۔

کسی کو بھی کبھی مت بتانا

کہ!

تم اندر سے کتنے خوف زدہ ہو۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*