غزل

اپنے اپنے ضمیر کی آواز

کون سنتا ہے ضمیر کی آواز

 

کون سنتا ہے آہ مسکین کی

سُنتے سب ہیں امیر کی آواز

 

کوئی آواز قید ہے شاید

وہ سنو تو اسیر کی آواز

 

ہر طرف نفرتیں ہی پلتی ہیں

دو دلوں میں لکیر کی آواز

 

انقلابیوں کا گیت ہوتا ہے

ایک قیدی زنجیر کی آواز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*