لیکن

        ”سردار ہمارا جگر پارہ ہے، اور ہم سردار کے دل میں رہتے ہیں، تم بھی سردار کی قربت حاصل کر سکتے ہو، لیکن……“بڑی مونچھوں والے شخص نے میر بخش کی آنکھوں میں آنکھیں ملاتے ہوئے اپنی بات بس یہیں پر ختم کر دی۔ میر بخش کے ہونٹوں پر کسی سوال کی لرزش تھی، لیکن وہ کچھ نہ پوچھ سکا۔ یقیناً اس کا مدعا اسی ”لیکن“ کا جواب ہی تھا۔ مونچھڑ نے اپنا موبائل کانوں پر لگاتے ہوئے رعب دار لہجے میں کہا: ”کیا ہوا اس کام کا جو میں نے تمہارے ذمے لگایا تھا، کوئی تمہیں کسی کام کی ذمہ داری دے اور بھول جائے…… خانہ خراب! تم کسی دن سردار کو ہی بھول جاؤ گے…… لیکن۔

اس ”لیکن“ کے بعد ایک جوابی جملہ تھا۔ ”لیکن…… تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سردار کے کام میں اگر مگر کرنا اس کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ سردار اپنے دشمن کے ساتھ کیا سے کیا کر سکتا ہے۔“

میر بخش نے حیرانی کی حالت میں سوچا کہ اس ”لیکن“ کا جواب تو بہت جلد مل گیا۔ میرے بارے میں آنے والے ”لیکن“ کا جواب عدالت کی ملتوی ہونے والی سماعت کی طرح، اور وہ بھی غیر معینہ مدت کے لئے۔

مونچھڑ نے موبائل بند کر لیا تو میر بخش کے ہونٹ کسی سوال کے لئے دوبارہ لرز اٹھے۔ لیکن ”لیکن“ دوبارہ رکاوٹ آڑے آئی۔

مونچھڑ اب آپے سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔ وہ زوآوری دکھا رہا تھا۔ اب اس کا نشانہ پائندو تھا۔ پائندو کا نام پائند خان تھا۔ سردار کے اوطاق میں پائند خان کا نام پائندو تھا۔ ویسے اس سے بہت پہلے، بچپن میں بھی اس کے والدین اور لڑکپن میں اس کے اڑوس پڑوس والے اسے پائندو کہہ کر پکارتے تھے۔ مگر جونہی وہ جوان ہوا، اس کے گلے کی آواز بدل گئی تو اس کا اصل نام لوٹ آیا۔ وہ پائند خان تھا۔ پائند خان۔ اگر کوئی اسے پائندو کے نام سے پکارتا تو وہ ایسے گزر جاتا، جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں۔ ’لیکن‘ سردار کے اوطاق میں اس کے بچپن کا نام دوبارہ لوٹ آیا تھا۔ اس کے بچپن کا نام زندہ ہو گیا تھا۔ اس ڈیرے پر اس کا نام پائندو تھا۔ کیونکہ پائند کے بعد ’خان‘ کا لاحقہ سردار کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ پائندو سردار کے علاوہ اس کے خاص آدمیوں کا خدمت گار تھا۔

مونچھڑ نے تیز آواز میں پائندو کو مخاطب کیا اور کہا ”کب سے چائے کا کہا ہے تمہیں …… دیکھتے نہیں، میر صاحب کب سے بیٹھے ہیں۔ خانہ خراب! کبھی دانٹ ڈپٹ کے بغیر بھی کام کر لیا کرو۔ جلدی چائے لاؤ، چائے ہے یا گائے کا گوشت کہ اب تک تیار ہی نہیں ہو رہا۔“

میر بخش پہلے حیران ہو گیا کہ اس مونچھڑ نے مجھے میر صاحب کہہ کر کیوں پکارا؟ ’لیکن‘ جلد ہی اسے یاد آیا کہ میرا نام میر ہے تو میر صاحب پکارنا غلط نہیں ہے۔ اس نے ایک بار پھر کچھ کہنے کے لئے ہونٹوں کو ہلایا ’لیکن‘۔ اس ’لیکن‘ کے جواب سے پہلے ایک اور ’لیکن‘ آڑے آگئی۔ مونچھڑنے اس سے پوچھا…… ”تم لوگ تو آپس میں گہرے دوست تھے۔ اسے کیا ہوا کہ اس نے تمہارے ساتھ یہ کام کیا۔“

میر بخش کا سوال ایک لمحے کے لئے اس کے وجود میں مر گیا۔ اور مونچھڑ کا جواب دینے کے لئے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس بار مونچھڑ آڑے آٰیا نہ ہی اس کا ’لیکن‘…… میر بخش نے بولنا شروع کیا ”اب پہلے جیسی باتیں نہیں رہیں۔ اس نے جو کچھ بھی کیا ہے اس کے بدلے کے لئے اُسے تیار رہنا ہوگا۔ اسے بدلے کی تپش سہنی ہوگی…… میرے بھائی کا کیا قصور تھا، اس نے کوئی گناہ کیا تھا یا نہیں۔ ان باتوں نے اپنا معنی ہی کھو دیا ہے۔ اس سوال کے لئے بھی وقت نہیں رہا کہ اس نے میرے بھائی کو کیوں قتل کیا…… اس نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب تو بس یہی بات ہے کہ اس نے ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تو اسے بھی اتنی ہی بڑی دکھ اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس نے مجھے دکھ دیا ہے۔ اب میں بھی اسے نہیں چھوڑوں گا۔ اسے دکھ جھیلنا ہوگا۔“ میر بخش آپے سے باہر ہو رہا تھا۔

”مطلب یہ کہ تم اسے مارنا نہیں چاہتے……؟“ مونچھڑ نے پوچھا۔

”تمہارا کیا خیال ہے، میں اسے مار کر دکھوں سے آزاد کردوں ……؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ نہیں۔ میں اسے نہیں ماروں گا۔ اس کا کوئی بازو کوئی وارث ہی قتل کردوں گا، اس کے جگر کا کوئی ٹکڑا نوچ لوں گا۔ جس طرح اس نے میرا وجود جلا دیا ہے۔ میں بھی اس کے وجود کو بھسم کردوں گا۔……لیکن“۔

اس بار ’لیکن‘ مونچھڑ کی طرف سے نہیں تھا، اس نے تو صرف بھوؤں سے اشارہ ہی کیا، گویا اشارہ ہی سوال تھا۔

میر بخش دوبارہ پھٹ پڑا ”تم بتاؤ، کیا اسے قتل کر دینے سے میرے دل میں ٹھنڈک پیدا ہو سکتی ہے۔ اس نے تو میرے وجود کو بھسم کر دیا ہے۔ میں اسے آسانی سے مرنے نہیں دوں گا۔ اگر میرے بس میں ہو تو ملک الموت کو بھی راستے سے ہی واپس کردوں۔ جس طرح میں اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر تڑپا ہوں۔ اسے بھی یہی تڑپ دکھاؤں گا۔ اسے بھی یہی دن دیکھنے ہونگے۔ تم کیا کہتے ہو……؟“

مونچھڑ کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ وہ ہنسنا چاہتا تھا۔ ’لیکن‘ موقع محل ایسانہیں تھا۔ اسے اپنی مسکراہٹ چھپانی پڑی۔

”میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ تمہارے دل میں ٹھنڈک پڑ جائے۔ میں تمہارے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں۔ تمہارا بہی خواہ ہوں۔ میں بھی تمہاری طرح تمہارے دشمن کو شاد نہیں دیکھنا نہیں چاہتا، ’لیکن‘……“ مونچھڑ کا یہ ’لیکن‘ نے بدلے کی آگ میں دہکتے میر بخش کے سرخ چہرے اور وجود کو اس طرح ٹھنڈا کر دیا جیسے لوہار دہکتے لوہے کو پانی میں ڈال کر ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ وہ نرم پڑ گیا۔ اس کے ہونٹوں کی لرزش پہ ایک اور سوال رقصاں تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ پائندو کمرے میں داخل ہو گیا۔ وہ دو کپ چائے اور ایک پلیٹ بسکٹ لایا تھا۔ ”اش شاباش، خانہ خراب! چائے کے انتظار میں آنکھوں میں ریش پڑ گیا، اور تو اب چائے لا رہے ہو۔ سردار صاحب موجود ہوتے، تو اتنی دیر سے چائے لانے پر تمہاری ناک کاٹ دیتے۔ مہمان کو جلدی چائے پلانا اصولوں کے خلاف ہے، ’لیکن‘ اپنوں کو آتے ہی چائے پیش کرتے ہیں۔ اتنے عرصے میں اوطاق کی روایات نہیں سمجھ سکے؟ عمر گزر گئی، یہ بال دھوپ میں سفید کئے ہیں کیوں کہ تم ڈرپوک تو تھے ہی ’لیکن‘…… تم اچھے خدمت گار بھی نہیں رہے۔ لڑاکو عورت کی طرح، تم سے بس ہر دن لڑتے ہی رہیں کیا؟“

مونچھڑ نے اپنے پرانے ’لیکن‘ کو رفع کرنے کے لئے ایک اور ’لیکن‘ کا سہارا لیا۔ ”لیکن، تمہیں ایک کام کرنا ہوگا۔“ اس بار ’لیکن‘ درمیاں میں موجود نہیں تھا، ابتداء میں جگہ بنا لیا تھا۔ لیکن ’لیکن‘ ہی تھا، کیونکہ میر بخش کی تجسس اب بھی ختم نہ ہو سکی تھی۔ اس کا دماغ چکرا گیا۔ ’لیکن‘ وہ تو سردار کے خاص بندے کے سامنے بیٹھا بے بسی کی تصویر بن چکا تھا۔ وہ اپنا غصہ بھی نہیں دکھا سکتا تھا۔ اس نے اپنا غصہ پی لیا۔ اس نے چائے کا کپ اٹھایا اور ایک دو گھونٹ بھر کر کہنے لگا ”جی جناب! مجھے کیا کرنا ہوگا؟“۔ اس بار اس کے سوال کے درمیان کوئی بھی حائل نہ ہو سکا۔ مونچھڑ نے  بسکٹ منہ میں ڈالتے ہوئے چائے کا ایک گھونٹ لیا۔ اور مونچھوں کو صاف کرتے ہوئے کہنے لگا۔ ”تمہیں بدلہ لینا ہے، یا بندہ مارنا ہے۔ پہلے یہ طے کر لو۔“ میر بخش نے پلک جھپکنے سے پہلے ہی کہہ دیا ”بدلہ لینا ہے۔“

”پھر بھی اچھی طرح سوچ لو، اپنے دل سے مشورہ کر لو۔ جو بھی فیصلہ کرنا ہے، اطمینان سے کر لینا۔“ مونچھڑ چائے پیتے ہوئے بولا۔

”میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں نے طے کر لیا ہے، میں نے خود سے، اپنے ضمیر سے، اور اپنے بھائی کی لاش سے ’قول‘ کیا ہے، کہ بدلہ لینا ہے۔“

”تو سنو…… تمہارا بدلہ آج کے بعد سردار کے ذمے ہے۔ اب تم نہیں سردار بدلہ لے گا۔ تمہارے دشمن سے۔ ’لیکن‘۔“ بار بار کے ’لیکن‘ سے میر بخش تلملا گیا تھا۔ ’لیکن‘ اسے صبر کرنا تھا۔ خاموش رہنا تھا۔ وہ آنکھوں میں اشارے سے بھی سوال نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ وہ ایک عام آدمی تھا۔ بے بس ہو گیا، چائے کا گھونٹ حلق کے پار کیا، اور بولا ”جی“۔

”تم اب تسلی کرلو، آرام سے سو جاؤ۔ سمجھو تمہارا بدلہ لے لیا گیا۔“

میر بخش نے ایک سرد آہ بھری۔ اور کہنے لگا ”کاش یہ درد اسے دیتے  ہوئے میں خود بھی دیکھ سکتا۔“

”تمہارے دل کی ٹھنڈک مرنے والے کی لاش دیکھنے سے نہیں، مرنے والے کے پسماندگان کی تڑپ اور تکلیف سے جڑی ہوئی ہے۔ میں نے تمہیں کہہ دیا کہ اب تمہیں کچھ نہیں کرنا۔“

میر بخش نے اپنے سارے راستے بند کر دیئے تھے۔ اسی وجہ سے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

کچھ دنوں بعد میر بخش کو اطلاع ملی۔ مونچھڑ نے اسے پیغام بھیجا۔

”تمہارا کام ہو گیا ہے۔ ’لیکن‘ اب تمہیں چھپ جانا ہے۔ قتل کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ وہ بھی اتنا بے غیرت نہیں کہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ کچھ عرصے کے لئے چھپ جاؤ۔ سردار صاحب نے معاملہ سنبھال لیا ہے۔ تمہارے پاس چھ مہینے کا وقت ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہارے پاس آبائی گھر اور زرعی زمینوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم نے تمہارے گھر اور زمینوں کے لئے گاہک ڈھونڈ لیا ہے۔ اس کے بیچنے سے جو رقم حاصل ہوگی۔ اس سے ’خون بہا‘ ادا کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*