ظہیر کاشمیری

۔  21اگست 1919 ء تا 12 دسمبر1994ء کی ایک سو دوسری سالگرہ کے موقع پر مندرجہ ذیل مضمون شائع کیا جارہا ہے

 

ظہیر کاشمیری کی تنقیدی جہات

ظہیر کاشمیری بحیثیت ترقی پسند شاعر، نقاد، صحافی، سیاسی کارکن، مارکسی مفکر، ڈرامہ نگار اور ادیب کے برصغیر کے فکری تناظر پر تقریباً نصف صدی سے زائد تک چھایا رہا۔ ان جملہ شعبوں میں مصنف نے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے اور یہی وجہ ہے منفرد و ممتاز حیثیت سے اس کا نام نامی ایک درخشاں ستارے کی طرح ابھرا۔ ہم یہاں اس کی تنقید نگاری کا بالتفصیل جائزہ لے کر اس کی ترقی پسند تنقیدی بصیرت اور ژرف نگاہی کو واضح کریں گے کہ اردو ادب میں ترقی پسند تنقید کو اس نے کیا کیا نئی جہتیں دے کر نئے نئے سوالات اُٹھائے ہیں،جو نہ صرف ترقی پسند ادبی تنقید میں گراں قدر ہیں بلکہ مارکسزم کے فلسفیانہ مباحث میں بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

ظہیرکاشمیری کی تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ادب کے مادی نظریے 1946ء میں پہلی مرتبہ کمال پبلشرز مال روڈ لاہور نے شائع کی تو اس میں مندرجہ ذیل مضامین تھے:

۔1۔ دیباچہ

۔2۔ادب اور معاشرہ

۔3۔اردو شاعری کا سماجی پس منظر

۔4۔لینن اور لٹریچر

۔5۔ارو نثر کا سماجی پس منظر

۔6۔تاریخ کی ادبی روایتیں

اُس وقت اس کتاب کی تائید اور مخالفت میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا۔ یہ مارکسسٹ نقطہِ نظر سے اپنی نوعیت کی منفرد کتاب تھی۔ جس میں ادب کو مارکسزم سے مربوط کیا گیا۔ اس کا اسلوب سنجیدہ فلسفیانہ تھا۔ اس کتاب میں مارکس، اینگلز، لینن، گورگی، ماؤزے تنگ ایلک ویسٹ، رالف فاکس، کرسٹوفر کاڈویل اور جیمز ٹی فیرل کے علاوہ بہت سے مارکسسٹ مفکرین اور ادبی نقادوں کے حوالے اور مباحث جا بجا ملتے ہیں، جو کتاب کے مواد کی اہمیت اور افادیت کو چار چاند لگاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی مصنف کی وسعتِ مطالعہ اور موضوع پر مضبوط گرفت کا پتہ دیتے ہیں۔جس نے نہ صرف اردو ترقی پسند تنقید میں انقلاب برپا کیا بلکہ اردو ادب اور عالمی ادب کو جانچنے پر کھنے کا نیا مارکسی نقطہ نظر بھی فراہم کیا۔

جب27 برس بعد 1975ء میں اس کتاب کی دوسری اشاعت ہوئی تو اس میں تین اور مضامین عوامی جمہوریہ روس کا قومی ادب، مارکسی نظریہ ادب اور پاکستان میں بدلتی ہوئی ادبی قدریں اور سوشلسٹ آگہی کا اضافہ کیا گیا۔ مصنف نے اشاعت دوم کے پیش لفظ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل الفاظ میں لکھا:

”ادب کے مادی نظریے آج سے کم و بیش ستائیس برس پہلے شائع ہوئی تھی۔ اس وقت اس میں چھ مضامین شامل تھے۔ لیکن زیرِ ِنظر ایڈیشن نو مضامین پرمشتمل ہے۔ ان میں سے دو پرانے ہیں اور ایک تازہ لکھا ہوا ہے۔“ (1)

اس کتاب کی اشاعت دوم میں تو ضیحات کے عنوان سے کتاب کے آخر میں کچھ اضافے کرکے اس کے اختصار کو کم کرنے کوشش کی گئی۔ اور مصنف نے اس کے پرانے مواد میں کسی قسم کا کوئی اضافہ یا ترمیم نہیں کی اور کتاب کی Orignality، معصومیت اور برجستگی کو جوں کا توں رہنے دیا۔(2)

اردو ادب میں مارکسی تنقید کی بنیاد رکھنے والوں میں ظہیر کاشمیری کا نام اس لیے بھی نمایاں ہے کہ اس کی مذکورہ بالا کتاب اختر حسین رائے پوری کی کتاب ادب اور انقلاب کے بعد دوسری کتاب ہے،جو ادب کو ماکسزم سے مربوط کرتی ہے۔لیکن اول الذکر کتاب میں کلاسیکی شاعری، ٹیگور اور اقبال کے بارے میں انتہاپسند رویہ اختیار کیا گیا ہے۔جب کہ موخرالذکر کتاب میں کلاسیکی ادب اور اقبال کے بارے میں بہت متوازن رویہ اپنایا گیا ہے۔ مارکسی تنقید ان اصولوں پرمبنی ہے جنہیں مغرب میں ادب کی مارکسسٹ تھیوری کے مباحث کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جس میں ادب کا انحصار خاص طور پر کسی سماج میں ادبی پیداوار کے ذرائع، تقسیم اور تبادلہ کے مسائل پر ہوتا ہے کہ کس طرح سے کتب شائع ہوتی ہیں؟ ان کے مصنفین اور قارئین کی سماجی تشکیل کیونکر ہوتی ہے؟، خواندگی کی سطح کیا ہے؟، اور ادبی و جمالیاتی ذوق کے سماجی تعینات کس طرح متعین ہوتے ہیں؟،

مارکسی تنقید ادبی متون کا مطالعہ ان کے سماجی متعلقات کی روشنی میں کرتی ہے جو ایک سماجی موّرخ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ لیکن سماجیات ادب  یا ادب کا عمرانی نظریہ مارکسی تنقید کا صرف ایک پہلو ہے کیوں کہ مارکسی تنقید نہ صرف سماجیاتِ ادب ہے جس کا انحصار اس بات پر ہوکہ ناول کس طرح سے شائع ہوتے ہیں اور وہ محنت کش طبقے کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کامقصد ادبی شہہ پارے کو مکمل طور پر زیرِ مطالعہ لانا ہے،۔اس کی ہیئتوں، اسلوبوں اور معانی وغیر ہ کو بھی بلکہ  انہیں خاص تاریخ کی پیداوار کے طور پر بھی سمجھنا ہے۔ یعنی مارکسی تنقید ادب کا تاریخی مطالعہ بھی کرتی ہے، جس کی بنیادتاریخی مادیت کے اصولوں پر ہوتی ہے اور ادب کو سماجی تشکیل کی مادی  زندگی سے بھی مربوط کرتی ہے، جس کی بنیادیں جدلیاتی مادیت کے اصولوں سے متعین ہوتی ہیں۔ ظہیر کاشمیری نے بھی اپنی کتاب میں ادب کو اس کے سماجی پس منظر کے ساتھ ساتھ تاریخی طور پر بھی زیر مطالعہ لاکر مارکسی تنقید کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ظہیر کاشمیری نے ’اردو شاعری کا سماجی پس منظر‘ اور ’اردو نثر کا سماجی پس منظر میں‘میں اردو شعر و نثر کا مطالعہ نہ صرف سماجیات ادب یعنی سماجی متعلقات اور پس منظر میں کیا ہے بلکہ ان کی ہیئتوں، اسالیب اور مواد و معانی کو تاریخی پیداوار کے طور پر بھی پرکھا ہے۔ عہدِ جاگیرداری سے لیکر عہدِ سرمایہ داری اور عہد عوامی تک ان کے ارتقاء اور مقداری و وصفی تبدیلیوں کا احاطہ کیا ہے۔ اول الذکر مضمون کا مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظہ کیجئے:

”تخت و ریاست میں گدی نشینی تھی تو شعر میں کیوں نہ ہوتی۔ اگر فنِ شعر عام ہوجاتا تو شاعر کے کسبِ کمال میں رخنے پڑجاتے۔ کلاسیکی عروض و بحور کی پابندی، مشکل قوافی کی تلاش، باریک سے باریک موضوع پر خیال آرائی نے شاعری کو حساب کا سوال بنادیا دربار کے ساتھ درباری روایتیں فرسودہ ہوگئیں تو فن شعر(استعارہ، تشبیہہ اور دیگر محاسن) میں تکرار آ گئی۔ پہلے تو شعر سوچ کر لکھے جاتے تھے لیکن اب مشین میں ڈھلنے لگے۔ یہ تھا اردو شاعری کا عہد جاگیرداری“۔ (3)

اور ثانی الذکر مضمون کا درج ذیل اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیے:

”اگلے دور کے ناشروں کا ذہن فورٹ ولیم کالج کی سرپرستی کی وجہ سے سرکاری پالیسی کا پابند تھا لیکن یہ دور فکری طور پر قدرے آزاد تھا۔ چنانچہ تنوع، ندرت اور جامعیت کے لحاظ سے یہ عہد بہت اہم ہے۔ مذکورہ رجحانات کے علاوہ حالی کی حیات جاوید، مرزا رسوا کی منطق و فلسفہ کی کتابیں بھی اسی زمانے کی ذہنی ترقی کا ثبوت ہیں۔ سوانح نگاری، طنز و تنقید اور ناول، یہ چیزیں بھی اسی دور کی ودیعت کردہ ہیں۔ ناول تو وقت کے خاص الخاص ضرورت تھی۔ مختصر سے متوسط طبقے کے علاوہ ملک ابھی تک پرانے انداز کی سُست زندگی بسر کررہا تھا۔ چنانچہ فسانہ آزاد، جیسی ضخیم کتابیں کبیدکی خاطر کے بجائے تسکین طبع کا سامان مہیا کرتی تھیں۔ اس دور کا ناول تکنیک کی نظر سے ناقص اور موضوع کے اعتبار سے بلند نہیں کیونکہ ہندوستانی معاشرہ میں اس کی روایتیں موجود نہیں تھیں۔ بہرحال کلکتہ کے سرکاری سکول والی مافوق الفطرت اور غیر ذہنی داستانوں کے بعد ان ناقص ناولوں کی تخلیق کو بھی ایک ”انقلابی ترقی“ کہنا پڑیگا۔“ (4)

محولہ بالا ہر دو اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے ادب، ادبی ارتقاء اور ادبی متون کے مواد و ہیئت کو نہ صرف ان کے معاشرتی پس منظر میں پرکھا ہے بلکہ انہیں تاریخی پیداوار قرار دے کر مارکسی تنقید کے اصول و قواعد کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ اسی طرح سے اس کتاب کے ایک اور مضمون تاریخ کی ادبی روایتیں‘ میں بھی مصنف نے تاریخ کے عہد غلامی سے لیکر موجود دور تک کے عالمی ادب کی روایات کو سماجی و تاریخی تناظر میں واضح کیا ہے۔اور حقیقت پسندی، بین القوامیت اور انسانیت پرستی ایسی ادبی روایات کے امتزاج کو عوامی عہد کے ادب کے اجزائے ترکیبی قرار دیا ہے۔ کیوں کہ یہ سب روایات تاریخ کی ودیعت کردہ ہیں اور عوامی ادب ان کے بغیر ادھورا ہے۔ اور عوامی ادیب کی تاریخی طور پر ان ادبی روایات کے بغیر کوئی تعریف نہیں ہوسکتی ہے۔

جمہوریہ روس کا قومی ادب میں بھی مصنف نے سوویت یونین کی مختلف زبانوں کے ادب کو 1917ء کے بالشویک انقلاب کے عہد سے لے کر اپنی کتاب ادب کے مادی نظریے کی اشاعت تک تاریخی وجدلی نقطہ نظر سے پرکھا ہے۔ اور اس کے تاریخی ارتقاء کا جائزہ بھی لیا ہے۔ جس میں سوویت حکومت کے ادب کے فروغ کے سلسلے میں پالیسی اور اقدام کو بھی تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔

مارکس اور اینگلز کے مطابق ادب کا تعلق معاشرے کے بالائی ڈھانچے سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں مارکس کی کتاب The German Ideologyمیں اور دوسری کتاب A Cotribution to the Critique of Political Economyکے دیباچے میں وضاحت کی گئی ہے۔ بالائی ڈھانچہ ہر دور میں معاشرے کی معاشی بنیاد سے ابھرتا ہے۔ اور اس پر استوار ہوتا ہے۔ اور سماجی شعور کی کئی متعینہ شکلوں (سیاسی، مذہبی، اخلاقی، جمالیاتی وغیر ہ) پر مشتمل ہوتا ہے۔ جسے مارکسزم میں نظریہ حیات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جس کا وظیفہ معاشرے میں حکمران جماعت کے اقتدار کو جائز قرار دینا ہے۔ یعنی آخراً معاشرے کے غالب نظریات حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں۔ ادب معاشرے کے بالائی ڈھانچے کا حصہ ہوتا ہے یعنی اس کے نظریہ حیات کا حصہ:۔ سماجی ادراک کے پیچیدہ ڈھانچے کا ایک ایسا عنصر جو اس صورتحال کو یقینی بناتا ہے جس میں ایک سماجی طبقہ دیگر سماجی طبقات پر حکمرانی کرتا ہے۔ وہ اکثر ارکان معاشرہ کو یا تو فطری لگتی ہے یا بہت سے ارکان کو غیر فطری۔ ادبی ادراک کے معانی اس سارے سماجی سلسلہ عمل کے ادراک کے ہیں جس کا ادب بذات خود ایک جزو ہوتا ہے۔

ادبی شہ پارے نہ تو معجزانہ طور پر وجود میں آتے ہیں اور نہ ہی مصنفین کی نفسیاتی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ وہ ادراک کی وہ شکلیں ہیں، جو دنیا کو دیکھنے کے خاص انداز یا دنیا کو دیکھنے کے غالب انداز سے تعلق رکھتی ہیں جو دراصل کسی عہد کی سماجی ذہنیت یا نظریہ حیات ہے اور نظریہ حیات ان ٹھوس سماجی تعلقات کی پیداوار ہے جن میں انسان ایک خاص زمان و مکان میں داخل ہوتے ہیں۔یہ وہ طرز ہے جس کے تحت طبقاتی تعلقات کا تجربہ ہوتا ہے، انہیں جواز ملتا ہے اور انہیں دوام ملتا ہے۔ علاوہ ازیں انسان سماجی تعلقات کے انتخاب میں آزاد نہیں ہیں وہ مادی لزوم، فطرت اور طریق پیداوار کے ارتقائی مرحلے کے ہاتھوں ان میں مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ سمجھنا بھی قطعاً غلط ہوگا کہ مارکسی تنقید میکانکی انداز میں متن سے نظریہ حیات، اور سماجی تعلقات سے پیداواری قوتوں کی طرف پیش قدمی کرتی ہے، بلکہ اسکا انحصار معاشرے کی ان سطوح کے اتحاد پر ہے۔ ادب بالائی ڈھانچے کا حصہ تو ہے مگر معاشرے کی معاشی بنیاد کا محض بے جان انعکاس نہیں ہے۔

ظہیر کاشمیری نے بھی مذکورہ بالا مارکسی تنقیدی اصول کے معاشی بنیاد اور بالائی ڈھانچے کے درمیان جدلیاتی عمل و رد عمل کو ظاہر کرتے ہوئے ادب کی جمالیاتی اقدار کو قائم رکھنے اور پرکھنے پر بحث کی ہے۔ اس سلسلے میں وہ مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر کرتا ہے:

”…… ہر مارکسی ادیب کو ادب میں آدرشی معیار رکھنے کے لیے دو اصولوں سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے:

(الف) سماج کی بنیاد اور بالائی ڈھانچہ کن اصولوں کے تحت ایک دوسرے پر عمل اور رد عمل کرتے ہیں۔

(ب) سماج کی بنیاد اور اس کے بالائی ڈھانچے کے عمل اور رد عمل سے آدرش اور نصب العین کس طرح وجود میں آتے ہیں۔“ (5)

اور دوسری جگہ لینن کے نظریہ انعکاس کی وضاحت محولہ ذیل الفاظ میں کرتا ہے:

”لینن علم انسان کو حقیقت کا عکس سمجھتا ہے۔موزوں ذہنی تصویریں اور حسین اسلوب خارجی دنیا کے عکس ہیں۔ فطرت و معاشرہ انسان کی پیدا کردہ مختلف علمی صورتوں کا نتیجہ ہیں۔ علم و ادراک کا یہ عمل مردہ اور بلا واسطہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے اندر کئی تضاد رکھتا ہے۔ ادراک سے تعلق رکھنے کے علاوہ احساس اور خیال سے بھی متعلق ہوتا ہے اور آخر کار عمل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ ادب میں جمالیاتی صورتیں فطرت اور انسانی معاشرہ کے عکس سے پیدا ہوتی ہیں۔ خارجی ماحول کی تصویریں جب آرٹسٹ کی تخلیقی ذات سے گزرتی ہیں تو ہر اس نصب العین، نظریہ اور احساس کو اپنا لیتی ہیں جو آرٹسٹ کی ذات میں مضمر ہو۔“ (6)

ظہیر کاشمیری نے ادب کی مختلف معاشرتی سطوح اور فطرت کے جدلیات سے روابط کو انتہائی باریک بینی سے سمجھا اور اس تناظر میں ادب کے مختلف مسائل اور اقدار و روایات کو قارئین کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے نزدیک ادب محض سماج کی معاشی بنیاد کا بے جان اور نامکمل عکس نہیں ہے،جو صرف معاشی ڈھانچے سے متاثر ہوتا ہے اوراس پر اثرانداز بالکل ہی نہیں ہوتا۔جیسا کہ مختلف نا پختہ یا ولگر مار کسی نقادوں نے سمجھ لیا تھا۔ اس ناپختہ رجحان کی تردید و مخالفت کارل مارکس کے نظریاتی دست و بازو فریڈرک اینگلز نے 1890ء میں جوزف بلاخ، کورناڈشمتھ اور دیگر کئی مفکرین کے نام مکاتیب میں کی۔ اور مارکسی دانشوروں کو اس سے باز رکھنے کی تاکید کی۔ کیونکہ مادی ارتقاء اور فکری ارتقاء کا جدلی رابطہ متوازی اور براہ راست نہیں ہوتا ہے بلکہ اول الذکر کی رفتار موخر الذکر سے تیز تر ہوتی ہے۔ اور دونوں کے درمیان تعلق بہت ہی پیچیدہ اور متضاد ہوتا ہے۔ ظہیر کاشمیری نے بھی اپنی تنقید میں اس نکتے کو خاص طور پر ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بہت سے سوالات کے جوابات فراہم کئے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ تحریر کرتا ہے:

”دماغ اگر خارجیت کا عکس ہے اور اس کی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے تو ایک عہد کے ادیبوں کو ایک ہی طریق پر فکر کرنا چاہیے اور ان کے ادب کے موضوعات بھی ایک ہی ہونے چاہئیں؟۔

اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ دماغ اور گرد و پیش کی رفتار متوازی نہیں ہوتی۔ خارجی ماحول تبدیل ہوتے ہی بہت بڑھ پھیل جاتا ہے اور انسانی دماغ جو اس کی تبدیلی کا باعث ہوتا ہے اپنی سُست رفتاری کے سبب پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جہاں عوامی ادب کا غلغلہ بلند ہورہا ہے وہاں جاگیری اور سامراجی عہد کے ادیب بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔“ (7)

ظہیردوسری جگہ لکھتا ہے:

”معاشی ارتقاء اور انقلاب کا عمل ادبی ارتقاء اور انقلاب کے ساتھ ہمیشہ متوازی نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر معاشی تبدیلی فوری طور پر ادبی ارتقاء میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ معاشی تبدیلی اور ادبی تبدیلی کا واسطہ بڑا پیچیدہ، تخلیقی اور ٹیڑھا میڑھا ہوتا ہے۔ کبھی تو ایک چھوٹا سا معاشی اور تہذیبی حادثہ ادب کو گہرے طور پر متاثر کردیتا ہے اور کبھی ایک بڑا معاشی انقلاب آہستہ آہستہ فنکاروں کے شعور و احساس کا حصہ بنتا ہے اور دیر کے بعد ادب میں تخلیق کاری کا باعث بنتا ہے۔“ (8)

مارکسی تنقید میں ادب کی فارم اور کانٹنٹ کے درمیان تعلق کا مسئلہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ آیا اول الذکر کو موخر الذکر پر اولیت حاصل ہے یا موخر الذکر کو اول الذکر پر؟ مارکسی تنقید ہر دو کو جدلیاتی طور پر مربوط دیکھتی ہے۔ اور کانٹنٹ فارم  پر اولیت دیتی ہے۔ جو ہیئت کا تعین کرتا ہے۔ رالف فاکس اپنی کتاب   The Novel and The People میں تحریر کرتا ہے:

”فارم کانٹنٹ کو جنم دیتا ہے جو اس کے ساتھ مشابہہ ہوتی ہے اولیت اگرچہ کانٹنٹ کو ہی حاصل ہوتی ہے، لیکن فارم اس پر رد عمل کرتی ہے اور کبھی بے مزاحمت نہیں رہتی ہے۔“(9)

اس کے اعلیٰ الرغم روسی فارملسٹوں نے کانٹنٹ کو فارم کا محض ایک وظیفہ قرار دیتے ہوئے ہر دو کے درمیان جدلیاتی رشتوں کو نظر انداز کردیا۔ اور ناپختہ مارکسی نقادوں نے بھی فارم اور کانٹنٹ کے جدلیاتی رشتوں کو سمجھنے میں غلطی کی۔ اس قسم کی غلطی کرسٹوفر کاڈویل کی کتابوں

Studies in a Dying Culture اورFurther Studies in a Dying Cultureمیں بھی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کاڈویل کہتا ہے کہ سماجی ہستی انسانی تجربے اور معاشرے کے شعور کی شکل کا طاقتور جبلی مواد ہے۔ انقلاب اس وقت واقع ہوتا ہے جب وہ شکلیں سخت اور فرسودہ ہوجاتی ہیں تو سماجی ہستی کے متحرک، اور منتشر طوفان سے پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں۔ کاڈویل سماجی ہستی (کانٹنٹ) کو بے صورت اور صورتوں کو محدود سمجھتا ہے۔ اس کی یہ تفہیم دراصل ہیئت اور کانٹنٹ کے جدلیاتی رشتوں سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ وہ اس بات کا ادراک نہیں کرسکا کہ فارم محض کانٹنٹ کے خام مواد کا سلسلہ عمل ہی نہیں ہے بلکہ یہ مواد (آیا کہ سماجی ہو یا ادبی)، مارکسزم کے لیے پہلے سے ہی معلوم شدہ ہوتا ہے اور ایک معنویاتی ساخت کا حامل ہوتاہے۔ کاڈویل کا نظریہ بورژوا تنقید کی اس سطحیت پر مبنی ہے کہ ”ادب حقیقت کے انتشار کو منظم کرتا ہے“۔ اس کے برعکس مشہور فرانسیسی نقاد پیئر ماشیرے بے مرکز ہیئت کی بات کرتا اور امریکی مارکسی نقاد فریڈرک جیمسن مواد کی داخلی منطق کی بات کرتا ہے۔ سماجی و ادبی صورتیں جس کی تبدیل شدہ پیداوار ہیں۔

ظہیر کاشمیری ہیئت اور مواد کے جدلیاتی رشتوں کی منطق کو سمجھتے ہوئے ناپختہ اور ولگر مارکسی نقادوں اور بورژوا نقادوں پر مندرجہ ذیل الفاظ میں تنقید کرتا ہے:

”غلط ناقد جماعتی تجزیہ کرنے کے باوجود ادب کی فنی شکل کو سماجی رشتوں سے لاتعلق سمجھتے ہیں۔ اور آرٹسٹ کی فنی عظمت کو ایک تکلف بتاتے ہیں۔ جس کا تاریخی ارتقاء سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ہر زمانہ اپنے ساتھ نئی پیداواری طاقتیں اور نئے جماعتی رشتے لے کر آتا ہے۔ یہ پیداواری طاقتیں اور جماعتی رشتے افراد کے شعور کو ایک خاص انداز میں ڈھال دیتے ہیں۔ چونکہ ہر زمانے کا مخصوصاسلوب فکر اپنی فارم خود پیدا کرتا ہے۔ فارم مواد سے پیدا ہوتی ہے اوراس کے ساتھ (Identical) ہوتی ہے۔ تقدم اگرچہ مواد کو ہی حاصل ہوتا ہے لیکن فارم اس پر رد عمل کرتی ہے۔ اس لیے غیر منطقی اور غیر ضروری نہیں ہوتی۔ جس طرح ماحول کی پابندی کے باوجود ایک بڑاآرٹسٹ تمام جماعتوں پر محیط ہوسکتا ہے۔ اُسی طرح فارم بھی کئی ادوار، کئی جماعتوں کے لیے قابل قدر ہوسکتی ہے۔ رومی اور یونانی ادب آج بھی زندہ ہے کیونکہ اس ادب نے لازوال شہرت کی ذہنی تصویریں فن کے سانچے میں ڈھال دی ہیں۔“ (10)

علامہ اقبال کی شاعری کی فنی اقدار کو پرکھنے کے سلسلے میں ترقی پسند نقادوں میں بھی دو قسم کی آراء منظر عام پرآئیں۔ اختر حسین رائے پوری نے اپنی کتاب ادب اور انقلاب میں اسے فاشسٹ اور رجعت پسند شاعر قرار دیا اوراس کے برعکس پروفیسر عزیز احمد نے بھی اپنی کتا ب ترقی پسند ادب اور علی سردار جعفری نے اپنی کتاب ترقی پسند ادب میں اقبال کو ترقی پسند شاعرومفکر ثابت کرنے کی کوشش کی۔  لیکن ظہیر کاشمیری نے لینن کے اس تنقیدی طریق کار کو اپنایا،جو اس نے لیوٹالسٹائی کی فنی اقدار کو پرکھنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ وہ علامہ اقبال کے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتا ہے:

”پہلی عالمگیر جنگ کے بعد ہندوستان بھی جماعتی الجھن کے دور سے گزر رہا تھا۔ ایک طرف روس اور چین کا انقلاب جماعتی شعور پیدا کررہا تھا اور دوسری طرف صنعتی ترقی کے باعث دھیرے دھیرے درمیانہ طبقہ پیدا ہورہا تھا۔ چنانچہ اقبال کا مطالعہ کرتے ہوئے مذکورہ مادی ماحول کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ٹالسٹائی میں آزادی عوام اور صلح جوئی کا تضادموجود ہے۔ اقبال میں آزادی جمہور اور ناقابل تشریح عقائد کا تضاد موجود ہے۔ یہ تضاد غیر فطری نہیں ان سے دونوں آرٹسٹوں کے ماحولی تضاد کا پتہ چلتا ہے۔“ (11)

مارکسی تنقید نہ تو جاگیرداری عہد کے ادب کی اقدار و روایات کو یک قلم مسترد کرتی ہے اور نہ ہی بورژوا عہد کی اقدار و روایات کو بلکہ خذ ماصفاودع ماکدّر یعنی To adopt the good and to reject the badایسے آفاقی اصول کے مصداق ان میں جاندار اور ترقی پسند اقدار و روایات کو اختیار کرتی ہے اور فرسودہ و رجعت پسند اقدار و روایات کو مسترد کرتی ہے۔ ظہیر کاشمیری نے بھی اسی اصول کو اختیار کرتے ہوئے پرولتاری ادب کو مالا مال کرنے پر زور دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

”جاگیردارانہ ادب کی وہ روایتیں جو شہنشاہی آمریت اور زرعی نظام کی جبریت کی آئینہ دار ہیں۔ ہمارے لیے کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔ اس کے برعکس ادب کا وہ حصہ جس میں سماجی فراستیں ہیں۔ جہاں زبان و ابلاغ کے تخلیقی تجربے ہیں، جہاں جبر اور ظلم کے خلاف احتجاج ہے، جہاں مجازی یا حقیقی رنگ میں قاری کو مثالی اور باہمت کردار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے لیے قابل قبول ہے۔ ہماری تاریخ ادب کا زندہ حصہ ہے۔ اس کی علمی اور تخلیقی اہمیت مسّلم ہے اور سوشلسٹ حقیقت نگاری میں ہم اس سے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح بورژوا ادب کی انانیت پرستی، جنسی نراج، ناقابل فہم نیورثوں اور مبہم علامت پسندی کے تو ہم خلاف ہیں۔ لیکن اس ادب کے جمہوری اور ہمہ گیر روّیوں، قابل فہم علامتوں، صورت گری کے تخلیقی تجربوں اور گہرے نفسیاتی مشاہدوں کو ہم رد نہیں کرسکتے اور انہیں جاگیردار دور کی قابل قبول ادبی روایتوں کے درمیان ایک مضبوط اور زندہ کڑی کی حیثیت سے تسلیم کرسکتے ہیں۔“ (12)

مارکسی تنقید میں ادب کی پیداوار کے سلسلے میں داخلیت اور خارجیت کے جدلیاتی امتزاج کا مسئلہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ بورژوا نقاد صرف ادیب کی داخلی نفسیات،کیفیات اور ذہنی استعداد کو ادب کی پیداوار کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اور اس کے خارجی معاشرتی ماحول کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں اور ناپختہ مارکسی نقاد صرف معاشرے کے خارجی حرکات کو ادب کی پیداوار سمجھتے ہوئے ادیب کی ذہنی و نفسیاتی کیفیات اور اس کے منفرد اسلوب فکر کو رد کرتے ہیں۔ ظہیر کاشمیری ہردو کی تردید میں لکھتا ہے:۔

”اگر انسان کا ذہنی عمل کلیتہً داخلی ہے۔ تو خارجی حقیقتوں اور محرکوں کی تبدیلی اور پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتا پھیلتا کیوں ہے؟ ………… یا اگر انسانی ذہن کلیتہً خارجی حالات کا غلام ہے تو خارجی حقیقتیں ایک آدمی کی ذات میں منفرد طریقے سے کیوں ترتیب پاتی ہیں؟ اور ایک ہی ماحول میں رہتے ہوئے تمام انسانوں کا ذہنی معیار اور طریق استدلال ایک ہی انداز کا کیوں نہیں ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ پیدائش کے وقت انسان کا ذہن خالی تختی کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن اس کی ذات میں ذہنی ارتقاء اور ترقی کی قوتیں وراثتاً موجود ہوتے ہیں خارجی ہیجات اس کے حسی آلات پر اثر کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ انکا رد عمل کی شکل میں جواب دیتا رہتا ہے۔ اس عمل اور رد عمل کی وساطت سے پہلے وہ ابتدائی تصورات کا شعور حاصل کرتا ہے۔ پھر مختلف اشیاء کے خواص میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اور اس طرح بڑھتے بڑھتے اپنی منفرد ذاتی صلاحیتوں کے مطابق بڑے سے بڑے استدلال تک پہنچ جاتا ہے۔

انسانی ذہن کا ہر مواد جہاں خارجی محرکات سے ترتیب پاتا ہے وہاں اس میں اس کی ذاتی قوتوں کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی ذہنی کیفیت نہ تو قلیتہً خارجی ہوتی ہے اور نہ داخلی۔ بلکہ اس میں خارجی اور داخلی عنصر بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ ………… یہی وہ تھیوری ہے جس پر مارکسی ادب کی بنیاد ہے۔ مارکسی ادیب نہ تو اتنا داخلیت پسند اور انا پرست ہے کہ ادب کو تحت الشعور یا لاشعور کی بجھارت بنا دے اور نہ ہی اتنا خارجیت پرست کہ انسان کے منفرد فکر اور منفرد اسلوب نظر کی بالکل نفی کرکے مضحکہ بن جائے۔ مارکسی ادیب کے نزدیک ہر ادب پارہ خارجی اور داخلی دونوں عناصر کا مرکب ہوتا ہے۔“ (13)

لیکن اس کامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ادیب کی انفرادی آزادی کو یکسر نظر انداز کردیا جائے۔ یا اسے بورژوا سوچ کا نتیجہ قرار دیا جائے اور اجتماعیت یا سیاسی جماعت کے منشور پر قربان کردیا جائے۔ یا کسی حکم کا پابند کرکے اسے محدود کردیا جائے۔ صحیح مارکسی نقادوں نے ہمیشہ ادیب کی انفرادی آزادی پر زور دیا ہے اور ادبی عمل کو جمہوریت اور آزادی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس طرح سے انہوں نے ہمیشہ  سیاست اور ادب کے نظم و ضبط میں تمیز کرتے ہوئے ادیب کی انفرادی آزادی کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ کیوں کہ ادب کسی سیاسی نظریے، حکم یا سرکاری پالیسی کے تحت وجود میں نہیں لایا جاسکتا، نہ ہی سخت قسم کی پابندیوں، سنسر شپ اور سیاسی و ریاستی جبر میں پروان چڑھ سکتا ہے۔ بلکہ ادب آزاد جمہوری فضا میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں پروان چڑھ کے ارتقاء کی منازل طے کرتا ہے۔

ظہیر کاشمیری نے اپنے ایک انٹرویومیں سہیل احمد کے اس سوال کہ ”ہر ادیب کی اپنی ایک انفرادی سوچ ہوتی ہے۔لیکن سیاسی گروہ میں تو فیصلے کسی دوسری سطح پر ہوتے ہیں تو خود ترقی پسندوں نے بتایا کہ تنظیمی سطح اور تخلیقی سطح کے درمیان بعض اوقات خلا یا تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس خلا کو پُر کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟“ کا جواب دیتے ہوئے کہا:

”آپ کا یہ سوال بے حد اہم ہے اور میرا خیال ہے کہ آج کے ادب کے طالبعلموں کو اس سوال کا جواب آنا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ سیاست کا اپنا ایک ڈسپلن ہے۔ سیاست کا ڈسپلن سنٹرل کمیٹیوں، پولٹ بیوروؤں اور مختلف کمیشنوں سے ہوکر آتا ہے لیکن ادب کا ڈسپلن خارجی محرکات کے حوالے سے ادیب اور تخلیق کار کے ضمیر، شعور، آگہی اور اندرونی پرتوں سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ دونوں ڈسپلن بنیادی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔ اب اگر ادب کو سیاسی ڈسپلن کا پابند کردیا جائے اور وہ سیاسی لائین اور کمانڈ لے کر چلے تو تاریخی طور پر ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اس قسم کے ادبی معیارات پرسیاسی فیصلے منفی طور پر اثر اندا ز ہوتے ہیں اور معیارات میں کمی آجاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ادب سے سیاست آگہی حاصل کرتی ہے او ر سیاسی تحریکیں ادب سے آگہی اور رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ کسی ایک دور میں گہری افہام و تفہیم کے نتیجے میں ادب اور سیاست ساتھ ساتھ چلتے ہیں جس طرح شاعر سماج میں پھیلے ہوئے دوسرے شعبوں کے محرکات کو قبول کرتا ہے اسی طرح شاعری سیاسی نقطہ نظر کے اثرات سے بھی متاثر ہوتا ہے لیکن وہ ان اثرات کو پہلے اپنی ذات کا حصہ بناتا ہے۔ جب وہ اس کی ذات کا حصہ بن جاتے ہیں تو پھر اس کا جو مطالعہ ہے، اس کی جو سوچ ہے، اس کی جو ہنر مندی ہے، اس کا جو ادبی تصور ہے ان سب کے امتزاج سے اگر وہ ادب تخلیق کرتا ہے تو یہ درست کاوش ہوتی ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لکھنے والے کی ذات کا مسئلہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ فن، جمالیاتی اقدار اور اسلوب کے محاسن پر کتنی قدرت رکھتا ہے، زبان پر کتنی قدرت رکھتا ہے، اظہار کے طریقوں کو کتنا سمجھتا ہے اور جو بھی اسے باہر سے مواد ملتا ہے اس کو وہ کس طرح شعری سانچے میں ڈھالتا ہے، دیکھئے آپ ایک سیاسی خیال کو اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کہ وہ آپ کے فکر و خیال کو بہت آگے لے جائے، اسے ترفع بخشے اور آپ ایک سیاسی خیال کو یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ وہ سیاسی نعرہ بن جائے یا وہ سیاسی تقریر بن جائے۔ تو بات یہ ہے کہ ادیب کو سیاست اور ادب کے رشتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اُسے تشبیہہ، استعارہ، اور بیان کی دیگر نزاکتوں سے بھی واقف ہونا چاہیے۔“ (14)

اور دوسری جگہ اپنے ایک مضمون ادب اور جمہوریت میں اسی مسئلے کو ظہیر کاشمیری مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کرتا ہے:

”تخلیق ادب صرف ایک جمہوری عمل ہی نہیں بلکہ یہ معاشرے میں جمہوری اقدار کو فروغ دینے اور صحتمند سائیکی پیدا کرنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ شعر و ادب کی تخلیق کسی خارجی حکم، کمانڈ، یا فرمان کے تحت پیدا نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ خارجی ماحول کے حوالے سے ادیب یا شاعر کے علم و آگہی اور بصیرت سے آزادانہ طور پر پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ بعض شعبوں کی طرح ادب و شعر بھی انفرادی، آزادانہ اور غیر مشروط فکر و احساس سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ خالص جمہوری آزادی کے ذریعے ہی وجود میں آسکتے ہیں۔“ (15)

ظہیر کے نزدیک مارکسزم صرف سمای تبدیلی کا فلسفہ یا سائنس ہی نہیں ہے۔ بلکہ  سماجی انقلابات کا فن بھی ہے۔وہ اس کے بارے میں لکھتا ہے:

”مارکسیت ایک فلسفہ بھی ہے اور ایک آرٹ بھی ہے۔ بہ حیثیت فلسفہ یہ ان اصولوں کی تشریح کرتی ہے جو کائنات میں کوانٹییٹواور کوالٹیٹوتبدیلیاں لانے کا باعث ہیں۔ اور بہ حیثیت آرٹ یہ سیاسی، معاشرتی اور معاشی انقلابوں کو بروئے کار لانے کی تکنیک ہے۔ اگر موجودہ دور کے حالات کا صحیح تجزیہ کرکے ان پر ان اصولوں کا سائنسی انداز میں اطلاق کیا جائے تو ایک ایسا عالمی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، جو رنگ و نسل کے تفرقے مٹا دے، طبقاتی تقسیم ختم کردے، جوع الارض اور بالادستی قائم کرنے کے رجحانات کی نفی کردے اور ایک پر امن خوشحال بین الاقوامی معاشرہ قائم کرنے کی ضمانت بن جائے۔“ (16)

ظہیر نے ہمیشہ ادب میں بورژوانفرادیت پسند رویوں کے بجائے اجتمائی آفاقی رویوں کی اہمیت پر زوردیاہے۔اس کے نزدیک بڑا ادب صرف اجتماعیت پسندی پر مبنی ہوتا ہے۔جیسا کہ وہ کہتا ہے:

”اس طرح ادب جب انسان کی اجتماعی زندگی کی طرف آتا ہے تو وہ انسان کے سماجی، سیاسی ثقافتی اور ریاستی وغیرہ رشتوں سے اپنے موضوعات تراشتا ہے۔ غم جاناں سے غمِ دوراں تک پہنچنے کے لیے اور ذات سے کائنات تک کا سفر کرنے کے لیے ادیب کو کافی مطالعے، ریاض اور مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ ایک پختہ فلسفیانہ اور فکر پسند ذہن ہی ذات کے خول کو توڑ کر انسانوں کے عالمگیر رزمیوں پر قلم اٹھا سکتا ہے۔ اور انسانی ارتقاء کے لیے نئے اور صحت مند نقشے تخلیق کرسکتا ہے۔ دنیا بھر کا سارا بڑا ادب اس لیے بڑا ہوتا ہے کہ وہ اجتماعِ انسانی کی ذہنی اور بدنی احتیاجوں کو موضوعِ فن بناتا ہے اور نسل انسانی کے مادی اور تصوراتی پہلوؤں کو جمالیاتی یا ارتقائی نقطہِ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔“ (17)

ظہیر کاشمیری کی تنقید مارکسزم کے جدلیاتی ومادی اصولوں پر مبنی ہے۔اس نے ان اصولوں کا فن وادب پر اطلاق و انطباق کرکے ہمیشہ انہیں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی اس کی تنقید کے متعلق ایسی ہی رائے دیتے ہوئے لکھتاہے:”ظہیر کاشمیری نے اپنی تنقید میں ترقی پسند تنقید کے اصل خدوخال کو نمایا ں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی تنقید کی بنیاد مادی جدلیات پر رکھی۔ لیکن اسلوب کی اہمیت کو رد نہیں کیا۔۔۔۔۔

’وفاداری بشرطِ استواری ظہیر کاشمیری کی تنقید کا اصل ایمان ہے۔ ان کی تنقید بیشتر ترقی پسندوں کے برعکس شروع سے آخر تک ادب کو تاریخی جدلیات اور اشتراکی نقطہِ نظر سے دیکھنے کی قائل رہی۔ وہ معاشرتی تبدیلی کے لیے طبقاتی تقسیم کے خاتمے کے خواہش مند ہیں۔ ان کی نظر میں ادب کو صرف اور صرف مزدوروں، کسانوں اور کچلے ہوئے طبقے کی بہتری کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔“ (18)

بعض بورژوا دانشور مارکسی تنقید پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ ماضی کے کلاسیکی فن وادب کو مسترد کرتی ہے۔حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ظہیر لکھتا ہے:

”مارکسی تنقید میں ایک طرف تاریخی جدلیاتی نظریے کا ادب پر اطلاع کیا جاتا ہے اور کلاسیکی ادب کی عملی اور روایتی حیثیت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف مارکسی تنقید میں جمالیاتی قدروں، استعاروں، تلازموں اور دیگر محاسنِ اسلوب کا جماعتی انقلابوں کا حرکی رشتہ تلاش کیا جاتا ہے اور انہیں بدلتے ہوئے خارجی حالات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“ (19)

ظہیر کاشمیری نے ان سرکاری و درباری شاعروں،ادیبوں اوردانشوروں کے نظریات پر تنقید کی جو اپنی شاعری اور تحریروں میں تصوریت پسندی،وجودیت اور اس قسم کے بورژوا نظریات کا پرچار کرکے بالائی طبقات کی خدمت کرتے ہیں اور محنت کش عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ظہیر کے مطابق ایسا ادب بے کار ہے،جس میں محنت کش طبقے کے مسائل کا بیان نہ ہو۔وہ ان ادیبوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے،جو محنت کش طبقے کے مسائل کے بجائے اپنے ذاتی داخلی تجربات اور مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔وہ ان کے متعلق لکھتا ہے:

”پاکستان کے جو ادیب و شاعر اور دانش ور معاشرے کے طبقاتی تضادات سے بالاتر ہو کر ادب میں وجودیت، نظریہ ورائے تاریخ اور موضوعیت کا پرچار کررہے ہیں۔ وہ درحقیقت پاکستان کے بالادست طبقات کے نظریات سے ٹکرانا اپنی ذاتی مصلحتوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اور اپنے بے جہت اور ورائے تاریخِ ادب سے بالواسطہ عالمی سامراج اور ملک کے جابر اور بالادست طبقوں کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اور اپنے ان غیر ارتقائی اور رجعت پسند مقاصد پر پردہ ڈالنے کے لیے انہوں نے ادب میں ابدیت اور آفاقیت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔“(20)

ایسے ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں کے بارے میں ظہیر مزید لکھتا ہے:

”ان میں بعض ادیب بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور ہر دور میں حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے ادب میں موڈرن صوفی ازم کا پرچار شروع کیا ہوا ہے۔ ان کا ملک کے پس ماندہ عوام یعنی محنت کشوں اور زرعی مزدوروں کے احساس و شعور سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ملک کی اکثریت کی آسوں پیاسوں کو موضوعِ فن نہیں سمجھتے اور تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک اور پاکستان کی تقدیر سے بے نیاز ہوکر باطنی ریاضت کے ذریعے ملائے اعلیٰ سے اپنا رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں۔“(21)

اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ظہیر لکھتا ہے:

”اس طرح بعض ادیبوں کا براہِ راست زمین دار طبقے سے تعلق ہے یا اس طبقے کے نظریاتی جال میں گرفتار ہیں۔ اس لیے یہ ادیب ایک طرف تاریخ کے قیاسی فلسفوں، دیومالائی اندازِ فکر اور قدیم بھارت کے ویدانتی افکار کو متاعِ فن سمجھتے ہیں۔ ان کے افکار و خیالات کا چوں کہ جدید طبقاتی اور سماجی تناظر اور جدید احساس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے ان کے فن کے نیلے پیلے غبارے مسائل پسند عوام کے کسی کام نہیں آتے اور قارئین کو قومی و بین الاقوامی ایپک سے دور لے جاکر آخر الامررجعت پسند قوتوں کو ہی مضبوط بناتے ہیں۔“ (22)

ظہیر کاشمیری کے تنقیدی نظریات اس کی کتابوں ادب کے مادی نظریے، اور جہان آگہی کے علاوہ اس کے شعری مجموعوں کے دیباچوں، خطبات، انٹریوز، خطوط اور مضامین میں جابجا منشتر پائے جاتے ہیں۔ اردو ادب کی ترقی پسند تنقید میں ظہیر کاشمیری کا طریقِ تنقید فلسفیانہ،  سنجیدہ، گہرا، اچھوتا اور نیا ہے۔ انداز تحریر خطیبانہ، پُر تاثیر اور پُر خلوص ہے۔ اس کی تنقید نگاری منفرد و ممتاز ہے۔ افسوس کہ اردو ترقی پسند تنقید کو جہاں ظہیر کاشمیری نے چھوڑا ہے وہ آج تک اس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے اور اس کا خلا پُر نہیں ہوسکا۔

 

ریفرنسز

۔1.۔ظہیر کاشمیری۔ادب کے مادی نظریے۔  لاہور:کلاسیک1975ء۔ص6۔

۔ 2 ۔ایضاً ص7

۔3۔ایضاً ص19

۔ 4.۔ایضاً ص 70

۔5۔ایضاً ص، 169

۔ 6۔ایضاً صفحہ نمبر 91

۔ 7۔ایضاً ص نمبر 16

۔ 8۔ایضاً ص نمبر 166

.Fox. R. The Novel and The People, London: Cobbett Publishing  & Co., 1948, p.. 60.

۔10۔اظہیر کاشمیری۔ ’ادب کے مادی نظریے۔ص ص 47-48

۔11۔ایضاً۔ص 47

۔ 12۔ایضاً۔ص ص 147-148

۔ 13۔ایضاً۔ ص ص 147-148

۔14۔ظہیر کاشمیری۔ انٹرویو مطبوعہ طلوع افکار۔کراچی شمارہ نمبر 13-12، دسمبر، جنوری 1989ء۔ص ص۔ 16-17

۔ 15۔ ظہیر کاشمیری۔ ادب اور جمہوریت۔ماہنامہ نوکیں دور۔کوئٹہ، شمارہ نمبر 1-2، جنوری، فروری، 1995ء۔ص 81۔

۔16۔ظہیرکاشمیری۔ دیباچہ ڈاکٹر خیال امروہوی، سوشلزم اور عصری تقاضے۔ لاہور: کلاسیک، 2002ء۔ص، 4۔

۔ 17۔۔ظہیرکاشمیری۔ خطبہِ صدارت۔ سالانہ اجلاس 48، لاہور: حلقہ ارباب ذوق، 24اپریل، 1987ء، ص 2۔

۔ 18۔ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی۔ پاکستان میں اردو تنقید۔ ملتان: بیکن بکس، 2015ء۔ ص ص 94-96

۔19۔ظہیر کاشمیری۔ پاکستانی ادب۔ تنقید حصہ پانچ سر سیدین مجلہ۔ فیڈریل گورنمنٹ کالج راولپنڈی۔ ص 87

۔20۔ظہیر کاشمیری۔ جہانِ آگہی۔ لاہور: مکتبہ میری لائبریری، 1988ء۔ ص 157۔

۔21۔ ایضاً۔ ص 157

۔22۔ ایضاً۔157

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*