چند بنیادی سوالات

 

میں عموما اپنی کم علمی کے خیال سے زیادہ بات نہیں کرتی لیکن کچھ دنوں سے چند سادہ سے سوالات ذہن میں گھومتے ہی چلے جا رہے ہیں اور چھوٹی موٹی لاجک جو میرے اندر فٹ ہے انہیں حل کرنے میں یکسر ناکام ہے۔۔۔۔ مثلا فرض کیجیے آپکا بچہ سکول کے کسی ساتھی کی پنسل اٹھا لائے تو لازما آپ اسے ڈانٹیں گے اور پنسل واپس کرنے کو کہیں گے۔۔۔ اور اگر وہ یہ کہے کہ چونکہ میرے دوست کی جیومیٹری کھلی تھی میں نے پنسل کو دیکھا مجھے اچھی لگی میں کنٹرول نہیں کر سکا تو کیا آپ کے اندر کا اخلاقی نظام اس دلیل پر ایمان لاتے ہوئے کہے گا کہ ہاں جیومیٹری بکس کھلا چھوڑنے والے کا قصور ہے۔۔۔ آپ یہی کہیں گے کہ نہیں بیٹا جیومیٹری کھلی ہو یا بند پنسل تمہاری نہیں ہے تو نہیں ہے۔۔۔۔ یہ سادہ سا عام فہم اصول ہے کہ جو کچھ آپکا نہیں اسے دوسرے کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا آپ کا حق نہیں ہے۔۔۔۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر جنسی نظام ایسا ہی خودکار ہے کہ مردوزن ایک دوسرے کو دیکھ کر آپا کھو دیں تو پوری دنیا میں لوگ کیسے بازاروں گلیوں دفتروں ہوٹلوں سینما ہالوں اور تفریح گاہوں میں بڑے سکون سے اپنے کام سے کام رکھے چلتے پھرتے ہنستے کھیلتے نظر آتے ہیں۔۔۔ تیسرا سوال یہ کہ گھروں میں عورتوں مردوں کے اکٹھے رہتے کئی بار ایسا ہو جاتا ہے کہ عورتیں چادر دوپٹے کے بغیر بھی سامنے آ جاتی ہیں سخت گرمی میں گھر کے کام کاج کے دوران کون عورتیں برقع پہنے گھومتی ہیں تو یہ اصول کہ کم کپڑوں سے تحریک مل گئی وہاں اپلائی کیوں نہیں ہوتا ۔۔۔۔ چوتھا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم سڑک پر چلتے آتی جاتی گاڑیوں کے سامنے احتیاط کرتے ہیں کہ کچلے جائیں کیونکہ گاڑی تمیز نہیں کر سکتی ہم سانپ بچھوؤں چیتوں کے سامنے آزادانہ نہیں گھومتے کہ ان میں دماغ نہیں ہے۔۔۔ لیکن جیتے جاگتے انسانوں سے تو یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ یہ بات سمجھیں کہ جہاں ان کی ناک ختم ہو ان کی حدود بھی ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور اگر اپنی حدود کی ذمہ داری ان پر عائد ہی نہیں ہوتی تو چوروں قاتلوں کو جیلوں میں کیوں ڈال دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آخری سوال یہ کہ کیا انسان پر جنس کا حملہ اتنی بُری طرح سے ہوتا ہے اور یہ دورہ ایسا ہی شدید پڑتا ہے کہ وہ مرنے مارنے پر اتر آئے ۔۔۔۔ اور اگر ایسا ہے بھی تو ہمارے ہی ہاں کیوں۔۔۔۔ پچھلے پندرہ برسوں سے کسی آنکھ نے مجھے گھور کر دیکھا نہ رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چٹکی کاٹی بس میں کسی مرد کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کوئی مسئلہ نہیں ہوا ۔۔۔۔ یا تو یہاں پر اس بیماری کی ویکسین لگوا کر پھرتے ہیں لوگ یا پھر ہمارے پانیوں میں مغرب نے سازش سے کوئی ایسی دوا ڈال دی ہے جس نے ہمارے مردوں کے اندر جنسی خواہشات کی آگ کو خوب بھڑکا دیا ہے۔۔۔۔ میں یہ نہیں کہتی مغرب جرائم سے خالی ہے لیکن ان کاموں کے لیے انہوں نے مجرم رکھ چھوڑے ہیں ۔۔۔۔ نہ ہی میں کسی مذہبی بحث میں پڑتی ہوں یہ سادہ سی سماجیات یا اخلاقات سے متعلق بنیادی سے سوالات ہیں لہذا دوست نہ تو مغرب کی برائیوں میں سر کھپائیں نہ ہی مذہبی دلیلوں سے عورتوں کو بدکار ثابت کرنے کی کوشش کریں بس ممکن ہو تو میرے ان سوالات کے جواب دے دیں ۔۔۔۔ وہ بھی اگر کسی کے پاس ہیں تو۔۔۔۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*