سنڈے پارٹی کی نشست پروفیسر ڈاکٹر بیرم غوری کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔اس اجلاس کے ایجنڈا میں دو نکات شامل تھے؛ پہلا سنگت اکیڈمی کا سماجی کردار، اور دوسرا چائنا کی کمیونسٹ پارٹی کا صد سالہ جشن اور بلوچستان۔ وقت کی قلت کے باعث دوسرے نکتے کو اگلے اجلاس کے لیے مؤخر کیا گیا۔ پہلے نکتے پر حاضرین نے سیر حاصل بحث کی اور فرداً فرداً اپنی رائے دی۔ خصوصاً نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے صاحبہ بلوچ نے کہا کہ سنگت ہمارے لیے فیملی کی طرح ہے۔ اس میں ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ابھی تنقید کی کمی ہے۔ ہمیں تنقیدی رویوں پہ بات کرنی چاہیے۔ نوجوانوں کو خاص طور پر ڈسکشن کرنی چاہیے کہ خود کو سنجیدہ اور تخلیقی کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

بیورغ بلوچ نے کہا کہ میں 2018ء سے سنگت سے وابستہ ہوں۔ میرا خیال ہے کہ دانش ور تاریخ مرتب کرتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اہم ایشوز پر مین سٹریم دانش ور مختلف بحث کر رہا ہوتاہے، جب کہ مقامی پروگریسو دانش ور کہیں اور کھڑا ہوتا ہے۔ سنگت کو اس خلیج کو کم کرنا چاہیے۔

عابد میرنے کہا کہ سنگت اکیڈمی ایک منظم تنظیم ہے، اس پر بات کرنے کے لیے اس کے اپنے ادارے موجود ہیں، میں سنگت اکیڈمی پہ بات کرنے کے لیے اس فورم کو مناسب نہیں سمجھتا۔

ڈاکٹر منیر رئیسانی نے کہا کہ سنگت سے میری وابستگی کو سولہ سال ہو چکے ہیں۔ مرکزی سیکریٹری جنرل بھی رہ چکا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے سخت ترین وقت میں اس کی موجودگی ہی بڑی بات ہے۔ اور صرف موجودگی نہیں بلکہ کام بھی ہوا ہے۔ نشستوں کا انعقاد ہوتا رہا ہے، کتابیں شائع ہوئی ہیں، تراجم ہوئے ہیں۔ البتہ اسے مزید بہتر بنانے پر بات ہو سکتی ہے۔

محمدنواز کھوسو نے کہا کہ سنگت پڑھے لکھے ادیبوں اور دانش وروں کی نمائندہ تنظیم ہے لیکن معروضی حالات پہ اس کا کوئی پالیسی بیان سامنے نہیں آتا۔ میرا خیال ہے سنگت کو تمام معاملات پہ اپنا پالیسی بیان سامنے لانا چاہیے۔

سکندر جیلانی کا کہنا تھا کہ سنگت ایک نظریاتی تنظیم ہے مگر اس میں مختلف الخیال لوگ جمع ہیں۔ جس سے شاید کام کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ مگر چوں کہ میں خود عملی طور پر زیادہ سرگرم نہیں رہا اس لیے تنقید نہیں کر سکتا۔ تنظیم کا نظری وفکری حوالہ اہم ہے۔

کامریڈ رفیق کھوسو نے کہا کہ میں بنیادی طور پر ایک سیاسی کارکن ہوں۔ سنگت کو ایک نمائندہ علمی ادبی مرکز سمجھتا ہوں۔ یہ بلوچستان کا اجتماعی شعور اور اجتماعی ضمیر ہے۔ اس سے بہت سی توقعات ہیں۔  سنگت کو چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں کا قبلہ درست رکھنے کے لیے ان کی رہنمائی اور غلطیوں کی نشان دہی کریں۔ اور سیاست کو شجر ممنوعہ نہ سمجھیں۔

نوجوان محمد علی کا کہنا تھا کہ سنگت کا شکریہ کہ ہم سب کو بولنے کا موقع دیا۔ مجھے لگتا ہے کہ عام طور پر ظاہری کانٹینٹ کو اہم رکھا جاتا ہے اور اند ر کی، انسائٹ کی بات نہیں ہوتی۔

اکرم مینگل نے کہا کہ یہ سائنس کا دور ہے، اس لیے اداروں کو بھی جدید سائنسی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ اسی طرح سپیشلائیزیشن کا دور ہے۔ نوجوانوں کو متوجہ کرنا چاہیے اور ان میں تنقیدی اپروچ کو پروان چڑھایا جائے۔

جیئند خان کا کہنا تھا کہ ادارے بھی سوسائٹی کا ریفلیکشن ہوتے ہیں۔ سوسائٹی میں گھٹن ہے تو اس کے اثرات اداروں پر بھی پڑتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کچھ سستی آئی ہے تو اس کا سبب حالات تھے جس سے ساری دنیا متاثر ہوئی۔

جمیل بزدار نے کہا کہ سنگت نے بہت اچھی اور کتابیں شائع کی ہیں مگر یہ عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیے۔ خصوصاً دور دراز کے علاقوں اور یونیورسٹی کے طلبا تک کتابیں پہنچنی چاہئیں۔ دوسرا مجھے لگتا ہے کہ ٹیم ورک کی بھی کمی ہے۔ اسی طرح خواتین کی شمولیت بھی کم ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال بڑھانا چاہیے۔ اور نوجوانوں کی شمولیت زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیے۔

مرتضیٰ بزدار نے کہا کہ میں ایک طالب علم ہوں اور حال ہی میں سنگت کا ممبر بنا ہوں۔ اس سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے سنگت کا کام اچھا لگا ہے۔

سالم بلوچ نے کہا کہ میں 2018ء سے سنگت سے وابستہ ہوں، سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے، اب نئے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ نوجوانوں کو تیار نہیں کیا جا رہا ہے، ان کی تربیت نہیں کی جا رہی۔ سنگت کا رسالہ بھی کم پڑھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔

ڈپٹی سیکریٹری ڈاکٹر عطااللہ بزنجو نے کہا کہ سنگت سے ہم سب کا گھر کا رشتہ ہے۔ ہم نے یہیں نشو و نما پائی ہے۔ 27سال سے یہ تسلسل سے موجود ہے۔ اس کی آبیاری ایسے لوگوں نے کی ہے جن کی جڑیں اپنی زمین میں موجود رہی ہیں۔ ہم اس تسلسل کو نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور ہم قطعاً مایوس نہیں ہیں۔ نہایت سخت اور کٹھن حالات میں بھی اپنا وجود قائم رکھا اور اپنے مؤقف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔ آئندہ بھی اکیڈمی کے آئین و منشور کے مطابق جو کچھ ہم سے ہو سکا، ضرور کریں گے۔

مرکزی سیکریٹری جنرل پروفیسر جاوید اختر نے کہا کہ سنگت اکیڈمی کے دروازے نوجوانوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔ نوجوان خود آگے بڑھیں اور اس کی باگ ڈور سنبھالیں۔ مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا کہ دو باتیں دیکھنے کی ہیں۔ ایک یہ کہ ہم بطور ایک ذمے دار تنظیم کے سماج کو جواب دہ ہیں کہ اس کے سفر میں ہمارا حصہ کیا ہے۔ ہم کچھ قبروں کو بھی جواب دہ ہیں کہ سنگت اکیڈمی ان کی امیدوں کے مطابق کام کر رہی ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی کچھ آنے والی قبروں کی تمنا کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ، میں مایوسی کی بات نہیں کرتا مگر یہ سچ ہے کہ سنگت رسالہ سنگت اکیڈمی میں نہیں پڑھا جا رہا ہے، خود اس کے عہدے دار نہیں پڑھ رہے۔ اسی لیے کوئی سوال نہیں ہو رہا، کوئی بحث نہیں ہو رہی اور اگر سوال نہیں ہو رہا تودیکھنا چاہیے کہ 1920ء کا تسلسل کہاں ہے؟!

تمام آرا و تجاویز سننے کے بعد صدر مجلس پروفیسر ڈاکٹر بیرم غوری نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ سنگت اکیڈمی خود کو 1920ء کا تنظیمی تسلسل سمجھتی ہے، اور اس نے خود کو اس وراثت کا اہل ثابت بھی کیا ہے۔ ادب سمیت تمام علوم کے ڈھانچے میں بنیادی کام ہوا ہے۔ سو سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں جو محض کتابیں نہیں بلکہ ایک پوری فکری تحریک کا تسلسل اور تاریخ ہیں۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد یہ تھا کہ دیکھا جائے کہ یہ جدوجہد درست سمت میں اور عصری مسائل سے جڑی ہوئی ہے یا نہیں، یا اس میں مزید بہتری کے کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ادیب اور دانش ور کا کردار مستقبل بین کا ہوتا ہے۔ وہ آئیڈلوجی بناتا ہے جس میں پوری زندگی آتی ہے۔ میرا خیال ہے اس وقت مستقبل کے حوالے سے تین بنیادی معاملات ایسے ہیں جن پر ہمیں غور کرنے اور ان پہ بات کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا، آرٹی فیشل انٹیلی جنس جو مستقبل کی دنیا کا چہرہ ہے۔ دوسرا گرین ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے ماحولیاتی مسائل، جن سے نمٹنے کو مشترکہ انسانی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ تیسراپینڈمک ریسپانس۔ انسانی مستقبل سے جڑے یہ اہم موضوع ہیں۔ ایک اکیڈمی آف سائنسز کے لیے جتنا ضروری مٹی سے جڑ کر رہنا ہے، اتنا ہی ضروری اس مٹی اور اس سے جڑے انسانوں کے مستقبل پہ بات کرنا بھی ہے۔ امید ہے کہ ہم مستقبل میں ان موضوعات کو اپنی نشستوں میں مکالمے کا حصہ بنائیں گے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*