عوام باشعور اور وفادار ہوتے ہیں
وسیع پروپیگنڈہ کے زیر اثر اکثر لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ عوام اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور مکمل طور پر سرکار کے منظم و منصوبہ بند پروپیگنڈے میں رنگ چکے ہیں۔ ایک غلط فہمی یہ بھی پیدا کی گئی تھی کہ عوام سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ سیاست کو جھوٹ سمجھتے ہیں، اسے دھوکہ اور ذاتی مفاد کے حصول کا راستہ سمجھتے ہیں۔ عام کا خیال ہے کہ گذشتہ 20،30سال سے سارے پاکستان کے ذہنوں میں بٹھا دیا گیا کہ عوام اپنے نمائندوں سے ٹھیکے، اورینج لائن ، اورموٹرویز لگانے کی توقع کرتے ہیں۔ اور ہر لیڈر بھی اپنے یہی کار نامے بیان کرتا نہیں تھکتا ۔۔۔
مگر یہ تو بڑی غلط فہمی نکلی ۔عثمان کاکڑ نے تو ایسا ایک کام بھی نہیں کیا۔ نہ اُس نے سڑکیں بنائیں ،نہ وہ فنڈز لایا۔ اور نہ اپنے حلقے میں کوئی انوکھی سکیم متعارف کی۔۔ ۔
وہ تو بس سینیٹ میں تقریریں کرتا تھا ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ عوام ترقی کے بجائے اپنے نمائندوں کی تقریر سننا چاہتے ہیں۔
مگر پھر یہ دیکھیے کہ بہت سارے ممبر تو بس تقریر یں ہی کرتے رہتے ہیں ۔زوردار تالیوں گالیوں سے بھر پور پیشہ ور مقرر کی طرح کی تقریریں۔ مگر عوام انہیں کیوں پسند نہیں کرتے ، عثمان کی ایمبولینس کیوں چومتے ہیں؟۔ پتہ چلا کہ عوام سیاسی تقریریں سننا چاہتے ہیں ۔
مگر سیاسی تقریریں بھی تو بے شمار سینیٹرز کرتے ہیں۔ چیخ چیخ کر ، یا دھیمی ، ”مدلل“ تقریریں۔ پھر انہیںکیوں پذیرائی نہیں ملتی؟۔
عثمان خان تو کوئی بڑی بڑی ٹرمنالوجی استعمال نہیں کرتا تھا۔ لمبی چوڑی فلاسفی نہیں جھاڑتا تھا۔ حوالے اور ریفرنسز نہیں دیتا تھا ۔ وہ تو بس سیدھی بات کرتا تھا ۔ دو ٹوک بات جو بہت عام فہم ہو۔مگر ایسی تقریریں تو روزانہ ممبر، سٹیج اور ٹی وی پہ ہوتی رہتی ہیں۔ لوگوں کو رلانے کے لیے یا مخالف فرقے کو مارنے مٹانے کے واسطے آہن و آتش دے کر لاکھوں کی تعداد میں باہر نکالنے کو ۔ مگر اُن میں کوئی بھی عثمان کیوں نہیں بنا؟ ۔
پتہ چلا کہ جس تقریر میں آپ کا دل دماغ اور ایمان شامل نہ ہو وہ لفاظی ہوتی ہے ۔ عوام الناس لفاظی پسند نہیں کرتے۔ عثمان کے گفتار میں اُس کے جسم اور روح کا ایک ایک ذرہ شامل رہتا تھا۔ وہ اپنے فکر و نظریے کے چوکھٹ میں رہ کر ساری صلاحیتوں کو یکجا کر کے ، انہیں مرکوز کر کے بولتا تھا۔
یوں معلوم ہوا کہ عوام جنوں پر یوں والی تقریریں نہیں بلکہ جمہوریت اورپارلیمنٹ کی بالادستی ،قومی و طبقاتی آزادیوں ، اور ون یونٹ سے بہت پرے ایک فیڈریشن جیسے موضوعات کے حق میں اپنے نمائندوں سے سننا چاہتے ہیں۔عوام ایک خالص سویلین اور منتخب حکومت قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں ۔ اور وہ یہ عزم اپنے نمائندے سے صاف و بلند آواز میں چاہتے ہیں۔
کاکڑ صاحب میں ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ ضعیف طبقات کی بات کرتا تھا ۔ محکموں مظلوموں اور کمزوروں کے حق میں آواز اٹھاتا تھا۔ وہ خستہ تنوں اور اجاڑے گئے طبقات کے حق میں بولتاتھا۔
وہ موروثی فیوڈلوںکی طرح دس دس بار سینیٹر نہیں بنا تھا ۔ وہ صرف چھ سال کے لیے سینٹ میں تھا۔وہ 2015میں سینٹ کا ممبربنا۔ اور مارچ2021تک وہ اس منتخب ادارے کارکن رہا۔اور انہی چھ سالوں میں دیکھا گیا کہ وہ اپنی ساری توان اور قوت سے عوام کے جمہوری حقوق کے حق میں بولاتھا ۔
اور وہ نہایت بہادری، بے باکی سے اور برملا بولتا تھا۔ وہ بے خوف بولتا تھا۔انسان جبر و استبداد کے خلاف ڈٹ جانے والے بہادر وںکی بڑی عزت کرتا ہے ۔
یہ بہادر عوامی سیاست دان ابھی ساٹھ برس کا بھی نہیں ہوا تھا ( پیدائش 21جولائی1961) ۔کا کڑ تو یوسف زئی کے بعد پشتونوں کا سب سے بڑا قبیلہ ہے ۔ اور عثمان کا والد عبدالقیوم خان ،کاکڑ کے ایک قبیلے سَرگڑی کا سربراہ تھا۔ اس نے وکالت کی تعلیم پائی تھی ۔ سٹوڈنٹ لائف ہی میں پشتون نیشنلسٹ سیاست میں شامل ہوا۔
بلوچستان میں نیشنلسٹ سیاست اس لیے دلچسپ ہے کہ یہ شروع سے ہی سامراج دشمن اور مارشل لا مخالف رہی ہے ۔ اس سیاست سے وابستہ سارے ورکرز اور لیڈرز انصاف، برابری اور قوموں کی حق خود اختیاری کی جدوجہد کرتے رہے ۔پڑوسی افغانستان میں1978کے جمہوری انقلاب کی حمایت اس ساری سیاست کا خوبصورت اظہار تھی ۔بلوچستان ایک طرح کی سامراج دشمنی ، آمریت مخالفت ، اور پارلیمانی نظام کی بالادستی والی سوچ رکھنے والوں کا صوبہ ہے ۔
عثمان خان نے نیشنلزم کی تنگ نظر قسم سے ابتدا کی تھی۔ مگر وہ بعد میں خود کو خوب ڈویلپ کرتا گیا۔ آخری برسوں میں تو وہ اپنی قوم کے حقوق کے ساتھ ساتھ تمام محکوم قوموں کا ترجمان بن گیا۔ اس نے شاید بہت زیادہ کتابیں تو نہیں پڑھی تھیں مگر سٹڈی سرکلوں ، باشعور لیڈروں کی محنت ، عمومی عوامی سیاست اور عوامی اجتماعات میں اُس کی سیاسی و نظریاتی تربیت ہوئی ۔
عوام سے اُس کی محبت ، بھروسہ اور وابستگی گہری ہوتی رہی ، اُس کے دل میں دوسری محکوم قوموں اور نچلے طبقات سے ہمدردی اور طرفداری کے جذبات پیدا ہوگئے ۔ برسوں قبل جب وہ سیاسی بلوغت تک پہنچا تو وہ اظہار ِ رائے ، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا ایک بہادر سپاہی تھا۔
اس کا کمال یہ تھا کہ وہ عوام کے ساتھ باندھا ہوا پیمان ساری زندگی نبھاتا رہا۔
وہ گھر میں پر اسرار طور پر لگے مہلک زخموں سے بے ہوش پایا گیا، اور اسی بے ہوشی میں وہ بالآخر 19جون 2021کو کراچی میں وفات پاگیا۔ اُس کے لوگوں نے زبردست فیصلہ کیا کہ اس کی میت زمینی راستے سے اس کے آبائی گاﺅں تک جائے گی۔
اور یہیں وہ معجزہ ہوگیا جس نے ہر سوچنے والے انسان کو خوشگوار یت میں بھگوڈالا ۔ کراچی کے وسطی حصے سے نکلا تو آگے بلوچ تھا، بلوچستان تھا ۔ اور اِس بلوچستان کی سڑکیں وفا کا دریا بن گئی تھیں۔ باوقار بلوچ ہزاروں کی تعداد میں اپنے اپنے گاﺅں سے نکل کر سڑک پہ احترام کی قطاریں لگائے سنجیدہ ورنجیدہ گھنٹوں اس کی میت کا انتظار کرتے رہے۔بلوچ عوام نے اُس کے ایمبولنس کو مقدس عبادت گاہ کے بطور تکریم کیا۔ عثمان کے بیٹے کے گالوں اور پیشانی پہ بوسہ شماری ناممکن ہوگئی۔ پھولوں کے من اور ٹن تھے جو عثمان کی میت پہ نچھاور کیے گئے ۔ منرل واٹر، برف اور خوردونوش کی اشیا سے ماتمی اور تلخ کارواں کی گاڑیاں اوور لوڈ ہوگئیں۔عوام الناس کو اُس شخص کی فکری ستھرائی ، عوام دوستی اور حق و انصاف کی طرفداری جون کی گرمی میں بھی گھنٹوں تک سڑک پہ کھڑا کر گئیں۔
سحر کا سورج گواہی دے گا
کہ جب اندھیرے کی کوکھ میں سے
نکلنے والے یہ سوچتے تھے کہ کوئی جگنو
نہیں بچاہے
تو تم کھڑے تھے!
زندگی میں وہ جلسوں میں کھڑا ہو کر خطاب کرتا تھا، اور عوام بیٹھے اُسے سن رہے ہوتے ۔آج (تابوت میں )وہ لیٹا ہوا تھا، اور عوام کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔ اسے تعظیم دینے پورا بلوچستان ایستادہ تھا ۔پھر نہ کہنا عوام بے شعور ہیں، بے وفا ہیں! ۔پھر نہ کہنا کہ بلوچستان اپنی اصل اولاد کی شناخت سے محروم ہے ۔
اور یہ سب کچھ بے ساختہ تھا۔ کوئی تصنع اور بناوٹ نہ تھی۔ کوئی حکم اور آرڈر نہ تھے ۔ کوئی سرکاری ، سرداری جبر نہ تھا ۔یہ تو خالصتاًعوامی شعور کی بجتی مقدس سیٹیاں تھیں جنہوں نے حب سے لے کر کوئٹہ تک، اور پھر وہاں سے لے کر مسلم باغ تک انسانوں کے انبوہ کو متحرک کردیا۔ اسی عوامی شعور نے احترام کی پوشاکیں پہنا کر عوام الناس سے میت کے کاروان کو سلیوٹ دلوائے۔جابجا اُس کی ایمبولنس کو باوقار طور پر رکوایا گیا، بہت تعظیم کے ساتھ اُس کے بارنٹ کو چوما گیا اور پھر احترام کے ساتھ اس کی گاڑی آگے جانے دی گئی۔
جو کچھ سوشل میڈیا میں آیا وہ تو محض زیرہ تھا۔ لوگوں کا والہانہ پن تو کیمرہ بازی کے لیے نہیں ہوتا۔ integrityکی بارش ہوگئی اس روز بلوچستان پہ۔ کمٹ منٹ کے جھکڑ چلے اُس روز بلوچستان میں ۔ایک نقصان کو عوامی اجتماعی نقصان سمجھا گیا اُس روز بلوچستان میں ۔یک جہتی کی بہار آئی اُس روز بلوچستان میں۔نفاقیوں کا یومِ شکست تھا اُس دن بلوچستان میں ۔
تصور کیا جاسکتا ہے کہ جو قوتیں گذشتہ ستر برسوں سے محنت کش عوام کے بیچ دراڑیں پیدا کرنے میں اپنے وقت ، پیسہ ، محنت او ردماغ کی سرمایہ کاری کرتی رہیں انہیں عثمان خان نے کتنا بڑا نقصان پہنچایا۔ عوام کی طرف سے نہ زبان کا فرق اہم تھا نہ نسل اور فرقے کی تفریق کو خاطر میں لایا گیا۔ایک میت نے انسان دشمنوں کی منظم اور مستقل محنت سے پیدا کردہ ہر دراڑ کو بھر دیا۔ پاک ہیں وہ لوگ جو انسانوں کو متحد کرتے ہیں، اچھی نہیں ہیں وہ روحیں جو عوام الناس کے پیچ دیواریں کھڑی کرتی ہیں۔
ایک اور بات اس سلسلے میں اہم ہوئی۔ اُس کا بیٹا راستہ بھر امڈ آئے لوگوں سے خطاب کرتا رہا۔ اوپر نیلا آسمان ، نیچے باپ کی میت اور وسیع بلوچستان کی طویل ترین سڑک پر ناواقف عوام الناس کی والہانہ وابستگی سے بیٹا کتنا متاثر ہوا ہوگا، وہ ہمیں اُس کی اُن تقریروں سے معلوم ہوتا ہے ۔ پاک الفاظ ، خلوص بھرے جذبات اور آئندہ کے لیے مصمم ارادے ۔ دنیاداری سے بہت بلند باتیں۔فی البدیہہ باتیں۔ کاش میت کے ساتھ ساتھ راستے میں استقبال کرنے والوں سے اُس کی اُن مختصر تقاریر کو کاغذپر لکھا جائے ۔ وہ الفاظ ، وہ فقرے اور وہ عزم اگلے طویل مستقبل کے لیے بلوچستان بھر کے سیاسی لوگوں کا منشور بن جائیں گے۔
ہم عثمان خان کاکڑ کی جدائی پہ غمزدہ ہیں۔ اس لیے کہ وہ ایک سیاسی کارکن تھا۔ ایک سامراج دشمن، جمہوریت دوست، فیوڈل مخالف ،مظلومی ومحکومی کا دشمن سیاستدان تھا۔ وہ پارلیمنٹ کی سیاست میں غیر منتخب مداخلتوں کا سخت ترین مخالف تھا ۔ وہ ون یونٹ کے برخلاف و فا قیت کا ساتھی تھا ۔ عثمان قوموں کے خود اختیاری کا جھنڈا بردار تھا۔ ۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ زور آوروں کی جانب سے ایک سیاست دشمن فضا بنا نے کی راہ میں رکاوٹ تھا۔وہ سیاست کا بچہ تھا۔اور آخری سانس تک ایک مبارز سیاسی کارکن رہا، مصلحت پسندی کو مسترد کرنے والا سیاسی کارکن۔
عوامی سیاست زندہ باد ہوگئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*