ایک کُتا جو مر چُکا ہے

 

میرا کُتا مرچکا ہے
اور اپنے باغیچے میں
زنگ زدہ مشین کے پہلو میں
اُسے دفن کر چُکا ہوں

ایک دن میں بھی
اس کے ساتھ وہیں جا ملوں گا
وہ تو اپنے کھردرے بالوں ،
بدتمیز رویوں
اور بہتی ناک کے ساتھ چلا گیا
اور مادہ پرست میں،
جو آسمانوں میں وعدہ کئے
انسانوں کے لئے
کسی بھی بہشت سے انکاری تھا
لیکن میں یقین رکھتا ہوں
اک ایسی جنت پہ
جہاں میں داخل نہ ہوں گا
مُجھے یہ یقین ہے
کہ کتوں کی جنت وجود رکھتی ہے
جس کے دروازے پر
اپنی دُم دوستانہ ہلاتے ہوئے
میرا ساتھی میرا انتظار کرتا ہے

ہائے،
میں اس دُنیا کے
غم کے قصے نہیں سناوں گا
اُس ساتھی کے کھو جانے کے
جو کبھی مغلوب نہ تھا
اُسکی سنگت میرے لئے
مانند اک ساہی کے تھی
جو اپنے اختیار کو محفوظ رکھتا تھا
اُسکی سنگت میرے لئے
اک ستارے کے جیسے تھی
بغیر کسی زیادتی کے
اُتنی ہی تکلف برتتا تھا
جتنے کی خواہش کی جاتی تھی
اپنی باس یا بالوں سے
مُجھے آلودہ کرنے کو
وہ کبھی کپڑوں پر نہیں چڑھا
اُس نے کبھی خود کو
میری ایڑیوں پہ نہ رگڑا
جیسے دوسرے کُتے
پُر اشتہا کئے جاتے ہیں

نہیں!
میرا دوست مُجھے گھورتا تھا
اور مُجھے اتنی اہمیت دیتا
جتنے کی مُجھے طلب ہوتی تھی
اور مُجھ جیسے جاہل انسان کو
یہ بھی سمجھا دیتا تھا
کہ بطور اک کُتے کے
جنم لے کر
وہ وقت ضائع کر رہا ہے
لیکن اپنی آنکھوں سے
جو میری آنکھوں سے بھی زیادہ
گہری اور سچی تھیں
وہ ُمجھے گھورے جاتا تھا
اُس مخصوص انداز سے
جو صرف میرے لئے تھا
اپنی پرُرنگ و مستانہ زندگی
وہ میرے ساتھ رہا
میرے ہی پاس رہا
کُبھی مجھے تنگ نہ کیا
نہ ہی کوئی طلب کی

ہائے ،
کتنی ہی بار میں نے اُسکی دم کو سہلایا
جب ہم ساحل پہ چہل قدمی کرتے تھے
جزیرہِ نیگرا کی تنہاء زمستاں میں
جہاں سرد موسم کے پرندے
آسماں کو بھر دیتے ہیں
اور سمندر کی طوفانی لہروں کو دیکھ کر
میرا دوست خوشی سے اُچھلنے لگتا تھا
میرا پُرتجسس دوست ،
اپنی سرُمئی دم ہوا میں اٹھائے
پانیوں کی چھنکار کے روبُرو
سونگھتا پھرتا تھا

خوشی سے ،
خوشی سے ،
خوشی سے ،
کیونکہ صرف کتوں کو پتا ہے
کہ اپنے ہی بدمزہ وجود سے
بادشاہی کرتے
خوش کیسے رہنا ہے

میرے مُردہ کتُے کے لئے الوداع نہیں
کہ ہم نے پہلے اور نہ آج تک
اک دوسرے سے جھوٹ بولا ہے

کہ اب تو وہ بھی جا چُکا ہے
اور میں نے اُسے دفن کردیا
سو یہ ہی اختتام ہے۔۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*