سیاہ ترین رجعت کا دور

1908سے لے کر 1911تک کے برس روس کے رجعت کی حتمی درندگی کے سال تھے ۔ بادشاہ نے انقلابیوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی حد کردی ۔ انہیں سٹری ہوئی جیلوں میں اُن کی Capacityسے کئی گنا بڑی تعداد میں ٹھونس دیا گیا تھا ۔ موت کی سزاﺅں کی طویل قطاریں ختم ہونے میں نہ آتی تھیں ۔
دوسری طرف 1905میںبے تربیت لوگوں کے انقلاب میں کود آنے سے پارٹی کا انڈر گراﺅنڈ رہنا ہمیشہ ناقص ثابت ہورہا تھا ۔ بادشاہ کے جاسوس پارٹی میں داخل کرنے کی زبردست کوششیں جاری تھیں۔ اِن جاسوسوں اور ایجنٹ پرو وو کیٹیئرز نے بے شمار انقلابی پکڑوا دیے۔ اسی طرح کے نقلی انقلابیوں کے ذریعے پارٹی کو اشتعال دلا کر قبل از وقت کچل ڈالنے کی کاروائیاں جاری تھیں۔ ٹریڈ یونین اور پریس مسلسل دباﺅ کے شکار تھے ۔
اسی زمانے میں لینن خفیہ اخبار ”پرولتاری “ جنیوا سے نکالنے میں کامیاب ہوا ۔ اُس کے اولین شمارے میں لینن نے لکھا:”ہم انقلاب سے قبل طویل سالوں سے کام کر سکنے کے قابل تھے ۔ یہ بلاوجہ نہ تھا کہ کہاجاتا تھا کہ ہم گرینا ئٹ کی طرح سخت ہیں۔ انقلابیوں نے ایک ایسی پرولتاری پارٹی بنادی ہے جو ”پہلے فوجی حملے “ کی ناکامی پر نا امید نہیں ہوئی : بدحواس نہ ہوئی اور مہم جوئی کی طرف نہیں جائے گی۔یہ پارٹی بورژوا انقلاب کے اِس یا اُس دور کے نتیجے پہ عقیدہ رکھے بغیر سوشلزم کی طرف مارچ کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بورژوا انقلابیوں کی کمزوریوں سے آزاد ہے ۔ اور یہ پرولتاری پارٹی فتح کی طرف مارچ کر رہی ہے “۔
1905کے انقلاب کی شکست اور باولے رجعتی ماحول میں خود پارٹی کے اندر ایسی شدید نظریاتی کنفیوژن پیدا ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔ حتی کہ مارکسزم کے یونیورسل اصولوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جانے لگا۔ مارکسزم کی جڑ یعنی مٹیریلزم پہ کلہاڑیاں چلائی جانے لگیں۔ ایک نیا مذہب متعارف کر نے کی زبردست ہل چل شروع ہوئی۔ (1)۔رجعت پرستی کے اس سیاہ زمانے میں اور اِس شکست پذیری کے زمانے میں خود پارٹی کے کئی دانشوروں پہ زوال ، شک اور بے یقینی کے سائے منڈلانے لگے ۔ وہ اس حد تک سڑاند کا شکار ہوئے کہ سوشلزم کا چوغہ اوڑھ کر سوشلزم کے بنیادی فلسفہ پہ چھریاں چلانے لگے ۔ وہ حالات پہ تو قابو پانے کے قابل نہ تھے ، اور کوئی موضوعی بڑا نقص بھی ہاتھ میں نہ تھا ۔ چنانچہ وہ سائنس کے بنیادی اصولوں ہی کے متعلق شک شبہ لکھنے لگے ۔ بھئی مارکسزم سے ہسٹاریکل میٹریلزم نکال دیا جائے تو پھر کیا بچتا ہے ۔ مارکسزم کا علامہ بن کر اس ستون کو ڈھا دینے کی کوشش آسٹریا کے ارنسٹ ماخ اور روس کے بوگدانوف نے کی ۔ اس استادانہ چالبازی سے پارٹی کے عام ورکروں کا تو بیڑہ غرق ہوجانا تھا۔ لہذا مارکسی فلسفے کی مدافعت کی سخت ضرور پیدا ہوئی ۔
کپری
اپریل 1908 میں لینن میکسم گورکی کی دعوت پر اُس سے ملنے اٹلی کے جزیرے کیپری گیا ۔ دراصل گورکی نے بوگدانوف اور لینن دونوں کو اپنے ولّا میں آکر ٹھہر نے کی دعوت دی تھی ۔وہاں پہنچنے پر لینن نے گورکی سے کہا کہ وہ کپری میں موجود بوگدانوف ، لونا چرسکی اور بازاروف اور ان کے حامیوں سے اس کی صلح کرانے کی کوشش نہ کرے ۔وہ تو گورکی کو ”پرولتاری“ میں زیادہ سرگرم حصہ لینے پہ راضی کرنے آیا تھا۔ لینن نے گورکی سے روس کے بارے میں بہت سی باتیں کیں ۔ اس نے گورکی سے اس کے بچپن ، جوانی اور آوارہ گردیوں کے قصے بڑی توجہ سے سنے اور اس کو مشورہ دیا کہ وہ ان کے بارے میں لکھیں ۔لینن نے اُس سے اپنی سوانح حیات لکھنے کا کہا۔ اس کا ہی نتیجہ تھا کہ گورکی نے بعد میں ایک ٹرایا لوجی لکھا: بچپن ، میرا لڑکپن ،اور میری یونیورسٹیاں ۔ لینن کے ساتھ تبادلہ خیالات نے گورکی پر بڑااثر ڈالا اور اس کے غلط نقطہ ِنظر کو دور کرنے میں مدد دی ۔ گورکی نے لکھا :” مجھ سے اس کا رویہ ایک سخت استاد اور خیر خواہ دوست جیسا تھا “۔(2)
لینن نے اُن کے خلاف بھی جدوجہد کی جو اپنی موقع پرستی پر انقلابی لفاظی کا پردہ ڈالتے تھے ۔ اس جدوجہد کے درمیان بالشویک پارٹی نے اپنی صفوں کو مضبوط بنایا اور اپنی انقلابی پالیسی اور طریقہ کار کو برقرار رکھا۔ بعد کو اپنی کتاب ” کمیونزم میں ، بائیں بازو ، کی طفلانہ بیماری “ میں لینن نے لکھا کہ انقلاب کی شکست کے بعد بالشویک ” انقلابی لفاظی کو بے دھڑک بے نقاب کرنے اور اس کو نکال باہر کرنے “ کی وجہ سے ہی اپنی صفوں کو صحیح سلامت رکھ کر باقاعدگی کے ساتھ پسپا ہو سکے ۔(3)
زار شاہی کا تختہ الٹنے کے بعد اس کو کسانوں کے بلا معاوضہ استعمال کے لئے ریاست کے سپرد کر دینا چاہیے ۔ اس زمانے میں لینن نے جو تصانیف کی ہیں ان میں اس کی کتاب ”1905—07 کے پہلے روسی انقلاب میں سوشل ڈیمو کریسی کا زرعی پروگرام “ کو خاص مقام حاصل ہے ۔(4)

میٹیریلزم اور ایمپیریو کرٹسزم

1908 کے آخر میں اخبار ” پرولتاری “ کی اشاعت پیرس سے ہونے لگی جو اس زمانے میں روسی تارکین وطن کا مرکز بن گیا تھا۔ اس سلسلے میں لینن اور کروپسکایا بھی وہاں پہنچ گئے ۔ ( ماری روز سڑک ، مکان نمبر 4، جس فلیٹ میں وہ رہتے تھے اب وہاں لینن میوزیم قائم کر دیا گیا ہے )۔
کروپسکایا اور لینن کی زندگی بہت دشوار تھی ۔ بڑے قومی کتب خانے میں اخبار ، رسالے اور کتابیں پڑھنے کے لئے ولا دیمیر ایلیچ کو اس علاقے سے سائیکل پر تقریباً سارے شہر سے گذر کر جانا پڑتا تھا ۔ اس میں بڑاوقت لگتا تھا اور کام پر منفی اثر ہوتا تھا ۔ پیرس میں روسی تارکین وطن کافی تھے اور بہت ہی مختلف رجحانات رکھتے تھے ۔ بیکار کا شورو غوغا ، ہنگامہ اور بد نام کن باتیں ہوتی تھیں جن سے ولا دیمیر ایلیچ پریشان ہو جاتا تھا۔ آرام کے لئے وہ کبھی کبھی شہر کے باہر جانے کی کوشش کرتا تھا ۔(5) دسمبر 1908میں کروپسکایا اور لینن پیرس منتقل ہوگئے مگر وہ بھی اب بدمزہ تھا۔ لینن اب کے اپنی جلاوطنی کے تقریباً ہر مقام کو ”سٹرا ہواسوراخ “ قرار دینے لگا(6) ۔ پچھلی جلاوطنی کی بہ نسبت اب کے مغربی یورپ میں جلاوطنی کا دوسرا عرصہ اُسے سخت لگا ۔اس لیے کہ 1905کی شکست تو ایک لحاظ سے امید کی شکست تھی۔ 1905کے انقلاب سے پہلے ” پر امید“ جلاوطنی تھی۔ مگر اِس انقلاب کی ناکامی کے بعد یہ جلاوطنی کئی گنا مشکل محسوس ہونے لگی۔
یہ لوگ تقریبا ساڑھے تین سال فرانس جلاوطن رہے۔
لینن نے اپنی کتاب ” میٹیریلزم اور ایمپیریو کرٹسزم۔ ایک رجعت پرست فلسفے پرتنقیدی نوٹ “ لکھی ۔ ( یہ کتاب فروری ۔۔۔۔ اکتوبر 1908 میں لکھی گئی اور مئی 1909 میں ” ولا دیمیر ایلین“ کے فرضی نام سے شائع ہوئی )۔ یہ کتاب لینن کے زبردست علمی کام کا نتیجہ تھی ۔ اس نے جرمن، فرانسیسی ، انگریزی اور روسی زبانوں میں مختلف مصنفوں کی فلسفے ، علم طبیعی اور طبیعیات کی سینکڑوں کتابوں کا مطالعہ کیا ، مارکس اور اینگلز کی فلسفیانہ تخلیقات اور پلیخانوف ، مہرنگ ،فیور باخ اور دوسرے فلسفیوں کی تصانیف کا دوبارہ مطالعہ کیا ۔
مئی 1908 میں لینن جنیوا سے لندن گیا جہاں اس نے تقریباً مہینہ بھر تک برٹش میوزیم کی لائبریری میں کام کیا ۔ وطن سے لینن کی جو خط و کتابت ہوتی اس سے پتہ چلتا ہے کہ روس میں قانونی طور پر اس کتاب کی اشاعت کتنی مشکل تھی ۔(7)
اپنی تصنیف میں لینن نے مارکسی فلسفے کے مخالفین کو بے نقاب کیا ۔ اس نے دکھایا کہ فلسفے اور سیاست کے درمیان گہرا تعلق ہے ، کہ مارکس ازم ،سائنسی نظریے اورانقلابی عمل کا اٹوٹ اتحاد ہے ۔ لینن نے بورژوا فلسفیوں (ماخ اور اویناری اوس ) اور کچھ سوشل ڈیمو کریٹوں کے رجعت پرست خیالات پر ، جو مارکس ازم کے فلسفے سے منحرف ہو گئے تھے ، بہت سخت تنقید کی ۔ فلسفے کے شعبے میں مارکس ازم سے گمراہ ہونے والے ان سوشل ڈیمو کریٹوں (اے ۔ اے ۔ بوگدانوف وغیرہ ) نے سیاست میں بھی غلط راستہ اختیار کیا ۔” میٹیریلزم اور ایمپیریو کرٹسزم “نے مارکسی فلسفے کی مدافعت کرنے اور اس کو فروغ دینے اور پارٹی کے کارکنوں کو نظریاتی طور پر مسلح کرنے میں نمایاں رول ادا کیا ۔اس کتاب نے مارکسی فلسفہ کو بھی زبردست ڈویلپ کیا۔ یہ کتاب اب بھی موجودہ بورژوا آئیڈیلسٹ فلسفے اور ہرطرحکی ترمیم پرستی کے خلاف جدوجہد کے لئے تیز نظریاتی ہتھیار ہے ۔(8)

ریفرنسز
1۔کروپسکایا memories of lenin حصہ دوئم ۔ صفحہ2.
-2او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر98
-3او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر99
-4او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر(101
5۔CW37 451
-6او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر92
-7او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر96
-8او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر97

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*