سائے کے پیچھے دوڑتے پاﺅں

اس نے روبوٹک انداز میں پوچھا، کیا تم نے انسٹرکشنز پڑھ لیں؟
میرے جواب کا انتظار کیے بغیر لا تعلق سے لہجے میں کہنے لگا میں دھرا دیتا ہوں، اس فارم پر سائن کر دو ایڈمیشن کی کاروائی مکمل ہونے پر نرس تمہیں روم میں لے جائے گی۔
ظاہر ہے کہ یہ اُس کے لیے روز کا معمول تھا اور جسے میں لا تعلقی سے معمور کر رہی تھی وہ اس کا پروفیشنل ازم تھا مگر میں اپنے آپ میں ہی کہاں تھی جو منطقی انداز میں سوچ پاتی، ذہن میں تو ایسا طوفان بپا تھا کہ جس نے سب کچھ تلپٹ کر کے دیا تھا۔
میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا اتنی انگریزی مجھے آتی ہے کہ یہ سب پڑھ کر سمجھ سکوں، کچھ دھرانے کی ضرورت نہیں، میں کچھ جاننا ہی نہیں چاہتی، سائن کہاں کرنے ہیں؟۔
اسے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی گڑ بڑا کر بولا معاف کرنا میرا وہ مطلب نہیں تھا، کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے؟ میرا مطلب کوئی رشتہ دار وغیرہ؟۔
نہیں ہر انسان دنیا میں اکیلا ہی آیا ہے اور اکیلا ہی جاتا ہے، میں وقتی سہاروں کی بیساکھیاں اپنے ساتھ نہیں رکھتی ۔انسان سہاروں کا عادی ہو جائے تو کبھی اپنے قدموں پر چل نہیں پاتا۔ اس نے پیپرز سے توجہ ہٹا کر حیران کن نظروں سے مجھے دیکھا پر خاموش رہا جیسے اسے میری بات سے کلّی اتفاق ہو یا میری دماغی صحت پرشک ہو۔
تمام کاروائی مکمل کرنے کے بعد بولا کیا کوئی وزٹر پاس چاہیے؟۔
نہیں، میں نہیں چاہتی کوئی مجھ سے ملنے یہاں آئے، میں تنہائی پسند ہوں آنکھوں میں لکھی ہمدردی اور رحم کی تحریر پڑھنے سے مجھے شدید کوفت ہوتی ہے۔ یوں بھی رحم ایک نا پائیدار اور وقتی جذبہ ہے اس سے دوری ہی بہتر ہے اوّل تو یہ کہ کوئی نہیں آئے گا کہ میرے قریبی لوگ میری فطرت سے بخوبی واقف ہیں اور اگر کوئی آ بھی جائے تو میرے کمرے کے باہر لکھ کر لگا دیا جائے کہ ملاقات کی اجازت نہیں۔ بس اتنا بتا دو کہ مجھے کتنے دن یہاں رہنا ہوگا؟۔
ہم بلا ضرورت مریض کو یہاں نہیں رکھتے مگر پالیسی کے حساب سے میں تمہیں کوئی دورانیہ نہیں بتا سکتا۔ کل تمہارا ایک بہت اہم ٹیسٹ ہونا ہے۔ صبح آٹھ بجے تیار رہنا میں کل تمہیں مزید بریفنگ دوں گا۔
سنا ہے کہ نیند کانٹوں پر بھی آ جاتی ہے پر نجانے کیوں وہ اسپتال کے آرام دہ بستر پر آنکھوں میں اترنے سے کتراتی رہی اور ذہن خلیل جبران کی نظم “خوف “ میں اٹکا رہا۔ساری رات خوف کے پرندے کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کانوں میں گونجتی رہی۔
اگلی صبح وہ وقت پر موجود تھا۔ اس نے نرسنگ سٹاف کو کچھ ہدایات دیں پھر میری جانب مڑ کر بولا یہاں سے تمہیں ایک اور روم میں لے جایا جائے گا وہاں پر ایک بڑی سی سکیننگ مشین ہے جس کے ذریعے ٹیسٹ ہوگا، اگر تم کوئی ڈس کمفرٹ محسوس کرو تو ایک بٹن دبا دینا میں کمپوٹر پر کنیکٹڈ ہوں سپیکر پر بات کر لوں گا۔
کیا تم میرے ساتھ وہاں تک چل سکتے ہو؟ میں نے لجاجت بھرے لہجے میں کہا۔ اس نے چونک کر میری جانب دیکھا اور فقط اتنا کہا کیوں؟ کوئی وجہ ؟ نرس ہو گی وہاں، تم جانتی ہو یہ میرے کام کا حصّہ نہیں ہے۔
میں نے صرف امکان کی بات کی ہے کیوں کہ میں تمہیں جانتی ہوں نرس کو نہیں، پلیز۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر بولا ہاں امکان پر تو زندگی آگے بڑھتی ہے، اچھا پہلے میں اپنا شیڈول چیک کر لوں اگر کوئی اپوائنٹمنٹ نہیں ہے تو چلوں گا پر یاد رہے کہ یہ ایک فیور ہے اور اس کی توقع ہمیشہ نہیں کی جاسکتی۔
وہ جب تک واپس نہیں آیا میں یہ سوچتی رہی کہ کیا یہ لوگ پروفیشنل ازم سے ہٹ کر انسان کو انسان کی نظر سے بھی دیکھتے ہیں یا نہیں؟۔ ایک معمولی سی فیور کے لیئے اتنی حجت! ابھی اسی سوچ میں ہی غلطاں و پیچاں تھی کہ وہ واپس آ گیا۔ میں نے ممنونیت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور کچھ ہی دیر میں ہم ایک بڑے سے کمرے میں تھے جہاں ایک بڑی سی ہیبت ناک مشین لگی ہوئی تھی جسے دیکھ کر ہی دِل اچھل کر حلق میں آ جائے۔
وہ بولا، اس سٹریچر پر چپ چاپ لیٹ جانا اور آنکھیں موند لینا ۔نرس ایک بٹن دبائے گی اور یہ سٹریچر خودکار طریقے سے مشین میں چلا جائے گا اور جب تک مشین کے اندر ہو کوئی جنبش کوئی حرکت نہیں کرنا۔ تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا کہ تم سے پہلے ایک مریض اور ہے۔یہ ایکسرے مشین کی طرح تمہارے اندرونی اعضاءکے امیجز لے گی جن سے ہمیں پتہ چلے گا کہ کہیں کوئی لیژنز یا گروتھ تو نہیں، یاد رہے کہ حرکت کی صورت میں امیج واضع نہیں رہتا تو ٹیسٹ دوبارہ کرنا پڑتا ہے۔
اس مشین کا یہ ہی اصول ہے، اس کے لہجے کی قطعیّت مجھے ہیجان میں مبتلا کر رہی تھی۔
میں شدید تذبذب میں گرفتار تھی چشمِ تصّور اپنے آپ کو اس میں سپن ہوتا ہوا دیکھ رہی تھی، عجیب بولائی سی کیفیت میں لفظ خودبخود زبان سے پھسل رہے تھے۔ یہ جسم بھی تو اِک مشین ہے اس کے ان ضابطوں کا کیا جن کے تحت یہ کام کرتی ہے؟ ان کل پرزوں کا کیا؟ جن کی ہر حرکت اضطراری ہے۔ نروس سسٹم اسے کنٹرول کرتا ہے اگر وہ ہی پرسکون نہ ہو تو یہ جاندار سسٹم بھلا کیسے ساکت رہ سکتا ہے؟
نہیں یہ مجھ سے نہیں ہوگا، مجھے تو اسے دیکھ کر ہی ٹیکی کارڈیا ہو رہا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ڈوبنے والا ڈوبتا چلا جائے اور کوئی جنبش نہ کرے، ہاتھ پائوں بھی نہ مارے۔
سانس اگر رکنے لگے گی تو پھرحرکت تو ہوگی یہ تو کسی بلیک ہول کی مانند ہے جو کسی کو بھی نگلنے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہو یا کوئی ایسی قبر لگتی ہے جس کی دیواریں ابھی سے جکڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں بھلا کوئی زندہ انسان قبر میں دفن ہونا کیوں چاہے گا؟۔
نہیں نہیں میرا دم تو ابھی سے گھٹنے لگا ہے، میں کلاسٹروفوبک ہوں، مجھے بند اور تنگ جگہوں سے خوف آتا ہے۔ میں تو لفٹ استعمال کرنے سے بھی گھبراتی ہوں یہ تو اس سے بھی زیادہ تنگ ہے، میرے لہجے میں سراسیمگی تھی۔
وہ چپ سادھے میری بڑبڑاہٹ سنتا رہا مگر اس کی نیلی آنکھوں میں ہلکی سی پریشانی تھی۔
تو پھر یہ سای مشق ہی بیکار ہوگی اور ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے، اب کی بار اس کا لہجہ قدرے سرد تھا۔
کچھ دیر خاموش رہا جیسے صورتحال پر غور کر رہا ہو پھر کچھ سوچ کر نرم لہجے میں بولا، تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا کہ تم کلاسٹروفوبک ہو۔ پہلے پہل اکثر لوگوں کو ڈر لگتا ہے پر یقین رکھو کچھ نہیں ہوگا۔
دیکھو ہم سب کو جینے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی سوچ کر یہ بھی کر ڈالو۔ یہ ٹیسٹ بہت ضروری ہے۔ علاج میں تو اس سے بھی زیادہ مشکل مراحل درپیش ہو سکتے ہیں، تم تو ابھی سے گھبرا رہی ہو۔ تمہاری میڈیکل ہسٹری میں جو کچھ لکھا ہے اس کے مطابق تو تم آٹھ گھنٹے کی سرجری سے گزر چکی ہو اور اس کے آگے تو یہ ایک چھوٹا سا پروسیجر ہے۔
تمہاری بات درست مگر اس دورانیے میں میں بے ہوش تھی۔ کیا کوئی اور حل ہے؟
وہ مستحکم لہجے میں بولا، نہیں، اِس مشین میں جائے بنا کوئی چارہ نہیں۔ اس کے علاوہ کئی اور دوسرے ٹیسٹ بھی ہوں گے کیا تمہیں اپنے معالج اور اِس مشین پہ اعتبار نہیں جس کے ذریعے ہزاروں ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
تجربات اعتبار کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں، مجھے ایک بار کسی نے کہا تھا کہ اعتبار کا ڈسا پانی نہیں مانگتا وہ یا تو مر جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔ انسان اگر زندہ بھی رہتا ہے تو اندر سے مر جاتا ہے تو ایسی زندگی کس کام کی؟ مجھے تو اپنے آپ پر بھی اعتبار نہیں تو کسی اور پر کیا ہوگا؟ زندگی قدم قدم پر ہمیں فریب دیتی ہے اور ہم زندگی کے نام پر اپنے آپ کو تو کوئی جھوٹی آس جگانے کا کیا فائدہ؟
یہ زندگی اعتبار پر چلتی ہے اور امید زندہ رکھتی ہے، ہم چاہیں یا نہ چاہیں کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں اعتبار تو کرنا پڑتا ہے۔ جب تمہیں اپنے آپ پر بھی اعتبار نہیں تو اس پر کیسے اعتبار ہے جس نے یہ کہا ہے؟ وہ جھنجھلا کر بولا۔
تمہارے اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ ہم مشرقی لوگ تھوڑے سے پاگل ہوتے ہیں ہمیں فریب کھانے کی عادت ہو جاتی ہے جس پر اعتبار ہوتا ہے بس بلا وجہ ہی ہوتا ہے۔
وہ ہنس کر بولا یہ کوئی نئی بات نہیں یہ سب انسانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
کیا مرنے سے ڈرتی ہو؟ بتانا پسند کرو گی وہ کون ہے کوئی رشتہ دار یا دوست؟ یا تمہارے تخلیقی ذہن کی کوئی اختراع؟۔ تم مشرقی لوگ کافی گھما پھرا کر باتیں کرتے ہو۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا، وہ تمہارے ساتھ کیوں نہیں آیا؟۔ اسے بلا لو، اس کی موجودگی میں تم بہتر محسوس کرو گی کیا تم نے کبھی خلیل جبران کو پڑھا ہے؟
اس نے الجھی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھ کر کہا، نہیں پر نام ضرور سنا ہے مگر اس وقت اس کا کیا ذکر؟۔
تمہارے سوال سے تعلق ضرور ہے، وہ کہتا ہے تم غلام ہو اس شخص کے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ یوں سمجھ لو کہ وہ ایک سایہ ہے کوئی ایسی قوّت جس کا دِل و دماغ پر قبضہ ہے۔ جو بیک وقت اندھیرا بھی ہے اور روشنی بھی، زندگی بھی ہے اور موت بھی جس کے بغیر کچھ اور سوجھتا ہی نہیں۔ ایسا تصور جو ہر پل بے کل اور بے چین رکھتا ہے اور وہ یہاں نہیں ہے، کچھ تعلقات میں زمان و مکان سے زیادہ روح کا ربط اہم ہوتا ہے۔ ممکن ہے میری بات تمہیں لوجیکل نہ لگے، تم سائنس کے آدمی ہو اور سائنس ایسی باتیں عموعاً رد کر دیتی ہے جن کی کوئی توجیح نہ ہو۔
اس کی آنکھوں کی پتلیاں شدید حیرانی سے پھیلنا شروع گئیں، تو پھر وہ کہاں ہے؟ کیا تمہیں اس سے محبت ہے؟ ت±م مشرقی لوگوں میں عجیب سی روحانیت ہوتی ہے جو کبھی اچھی لگتی ہے تو کبھی بہت خوفزدہ بھی کر دیتی ہے۔ سائے نقوش نہیں رکھتے، تم نے اسے کبھی دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ سنا ہے تم لوگوں میں شادیاں بھی بغیر دیکھے ہو جاتی ہیں تو کیا تم لوگ محبت بھی بغیر دیکھے کرتے ہو؟۔
میں نے جھلّا کر کہا، تم سوال بہت کرتے ہو، اور تمہارے ہر سوال کا جواب دینا ممکن نہیں ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم لوگ ابھی تک غاروں میں رہتے ہیں؟ مانا ہم فرسودہ روایات سے چمٹے ہوئے ہیں تمہاری طرح ترقی یافتہ نہیں مگر ایسا بھی نہیں جیسا تم سمجھتے ہو۔
میری بات پر وہ کھل کر ہنسا اور بولا ت±م کے کمال ہوشیاری سے میرے سوال کو ٹال دیا ہے۔
میرا جواب یہ ہے کہ میں نے اسے دیکھا ہے پر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم جسے مسلسل دیکھتے ہیں وہ لوگوں کے ہجوم میں ہمیں کبھی نہیں دیکھ پاتا۔ وہ اس وقت کہاں ہے مجھے نہیں معلوم۔ ہم وقت کو اپنی مٹھی میں قید نہیں کرسکتے۔قیدی پرندوں کو اڑتے پنچھی اچھے لگتے ہیں، وہ اپنے پنجروں کا دروازہ کھول کر اڑ نہیں سکتے تو خیالوں میں ہی اڑنے کی کو شش کرتے ہیں۔ محبت بھی ایک طرح کی قید ہے جو انسان اپنے لیے خود چنتا ہے۔ آزاد پنچھی قید میں رہنا پسند نہیں کرتے۔
کیا یہ تمہارا پرسیپشن ہے یا ڈیسیپشن؟۔ وہ شش و پنج کی کیفیت میں گرفتار گویا ہوا۔
یہ گمان ہے یا خود فریبی مجھے نہیں معلوم مگر من کی کھڑکی کھول کر میں جب چاہوں اسے محسوس کر سکتی ہوں اور دیکھ بھی سکتی ہوں، اب تو اِن آنکھوں کو انتظار کی عادت سی ہو چلی ہے۔ ت±م مغربی لوگ اِن باتوں کو نہیں سمجھ سکتے اس کے لیے ایک خاص قسم کے مائنڈ سیٹ کی ضرورت ہے۔ ہمارا کلچر ، ہماری سوچ کے پیمانے مختلف ہیں اور میرا جواب تمہیں بالکل مطمئن نہیں کر پائے گا۔
بڑی فلسفیانہ گفتگو کرتی ہو لگتا ہے بہت رومنٹک ہو، کیا خوابوں کی دنیا میں رہتی ہو؟ ایسی گفتگو عموماً ادیب یا شاعر کرتے ہیں۔ عام آدمی اتنی گہری اور م±شکل باتیں نہیں کرتا۔
خوابوں اور رومانس کے بنا زندگی بیکار ہے، یہ ہی تو جینے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ اِن کے بغیر تو زندگی کی کڑواہٹ جھیلنی مشکل ہو جاتی ہے۔ خواب دیکھنے یا رومانس کے لےے ادیب یا شاعر ہونا ضروری نہیں احساسات کا ہونا کافی ہے مگر شاید یہاں کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں یہ بات تمہیں لا یعنی سی لگے۔
میری بات پر وہ زیرِ لب مسکرایا اور بولا، اور تم نے اپنے تئیں یہ فرض کر لیا ہے کہ ہمارے جذبات و احساسات نہیں ہوتے، کیا یہ زیادتی نہیں ہے؟ رومانس اور خواب تو ہر انسان کی فطرت کا حصّہ ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ ان کی معروضی نوعیت الگ ہو سکتی ہے۔ بنیادی فطرت تمام انسانوں کی ایک سی ہے فرق صرف ہمارے ذہن کی پیداوار ہے، ہمارا ذہن کچھ مفروضے تراش لیتا ہے جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے۔ کیا مشرق اور مغرب کے انسانوں کو بنانے والے خدا الگ الگ ہیں؟ یا ہماری رگوں میں کسی اور رنگ کا خون دوڑتا ہے؟۔
اس کے منطقی انداز اور پے در پے سوالات سے گفتگو نئے رخ کی جانب چل پڑی تھی اور مزید الجھنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں تھا۔
ٍ میں نے گھبرا کر کہا میرا وہ مطلب نہیں تھا، دراصل میں اس وقت الجھی ہوئی ہوں اور تمہاری باتیں مزید الجھا رہی ہیں۔ تم نہیں جانتے ہماری کہانیاں زیادہ تر الجھی ہوئی ہوتی ہیں۔ اِن کہانیوں میں ہمارے کردار بھی الجھے ہوئے ہوتے ہیں اور ہم اپنے کردار نبھاتے نبھاتے کہانیوں کو اور الجھا دیتے ہیں اور خود بھی مزید الجھ جاتے ہیں۔ کہنا صرف یہ تھا کہ ہمارے اور تمہارے طرز زندگی اور سوچ میں بہت فرق ہے
طرز زندگی کی حد تک تمہاری بات درست ہے مگر تم بھی تو یہاں کافی عرصے سے رہ رہی ہو۔ جب زندگی ہی سیدھی نہیں ہوتی تو زندگی سے لپٹی کہانیاں کیسے سیدھی ہو سکتی ہیں؟ ۔کہانی کہیں کی بھی ہو سیدھی نہیں ہوتی اور سیدھی ہو تو کہانی نہیں ہوتی، سادہ اور سیدھی کہانیاں وقت کی بھول بھلیوں میں غائب ہو جاتی ہیں کوئی انہیں یاد نہیں رکھتا۔ اندر کا خوف اور حالات اچھے بھلے انسانوں کو الجھا دیتے ہیں۔ الجھنیں معمّوں کی طرح ہوتی ہیں انہیں حل کرنا پڑتا ہے۔ مانا یہ اتنا آسان نہیں پر حل تو ہر معِمّے کا ہوتا ہے، لگتا ہے حالات سے ہار مان کر تم نے زندگی کے معمّے کو حل کرنے کی کوشش ترک کر دی ہے۔
اندر اور باہر کے اَن گنت عفریتوں سے لڑتے لڑتے انسان تھک جاتا ہے۔ اس وقت کی بات اور تھی جب ہمت تھی قویٰ مضبوط تھے اب پندرہ سال بعد مٹی کے اس ڈھیر میں مقابلے کی سکت نہیں رہی۔ ریڈی ایشن اور کیمو۔۔۔۔نہیں نہیں اور نہیں۔۔۔۔۔
تم ہر بات فرض کیوں کر لیتی ہو؟ ابھی تو ٹیسٹ بھی نہیں ہوا اور رزلٹ خود ہی فرض بھی کر لیا۔ یہ ٹیسٹ اسی لیے ہے کہ اگر کچھ ہے تو بروقت علاج ممکن ہو۔ کیا سچ کا سامنا کرنے سے ڈرتی ہو؟ تمہاری گفتگو کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہیں علم نہ ہو کہ ڈر انسان کو وقت سے پہلے مار دیتا ہے
ہمیں سچ کی تعلیم تو دی جاتی ہے پر سچ بولنے سے منع کیا جاتا ہے اسی لیے ہم ساری زندگی سچ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اس کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ تم بھول رہے ہو کہ سچ بھی ہر ایک کا الگ الگ ہوتا ہے، میں مرنے سے نہیں ڈرتی پر ایک گھنٹے تک اس مشین میں نہیں رہ سکتی نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ اس مشین سے میں زندہ واپس نہیں نکلوں گی اور یہ ہی اس لمحے کا سچ ہے
وہ مایوس کن لہجے میں بولا تو اب کیا ارادہ ہے، اپوائنٹمنٹ کینسل کر دوں؟ مگر اگلی اپوائنٹمنٹ کب ملے گی کچھ کہا نہیں جا سکتا اور تاخیر تمہارے لیے اچھی نہیں۔ ابھی کچھ وقت ہے تم سوچ لو
تم بہت اچھے انسان ہو جو مجھ جیسی خبطی عورت کی باتیں برداشت کر رہے ہو، سنو اِک درمیانی راہ ہے، تم میری مشکل آسان کر سکتے ہو، مجھے نیند کا انجیکشن لگا کر سلا دو، پھر مشین میں ڈالو یا قبر میں کیا فرق پڑتا ہے! سارا عذاب ہی آگہی کا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ انسان آگہی سے پناہ مانگتا ہے کہ آگہی کرب لاتی ہے اور انسانوں میں خوف بھر دیتی ہے۔ بہت سی انفارمیشن انسانی دماغ پروسیس نہیں کر پاتا تو ایسی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے جن سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ لا علمی نقصان دہ سہی پر اندیشوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ انسان پیش منظر سے کٹ جائے تو آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ ہوتا ہے۔ میرے اندر کا انتشار اور گھبراہٹ مجھے مسلسل بولنے پر مجبور کر رہی ہے یہ لا یعنی سی گفتگو تمہاری طبیعت پرگراں تو نہیں گزر رہی؟
نہیں ہرگز نہیں، گفتگو کے بنا ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ اور ہاں یہ ممکن ہے، اگر یہ بات پہلے کہہ دیتیں تو اتنا وقت ضائع نہیں ہوتا۔ انجیشن لگانے کے تین چار گھنٹے بعد ہوش آئے گا جب تک یہ پروسیجر مکمل ہو جائے گا۔
مجھے منظور ہے، ہوش آئے نہ آئے کیا فرق پڑتا ہے بس مجھے کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ کہاں ہوں، ہوں بھی یا نہیں ہوں کہ سارا فساد اِس ہونے کا ہی ہے۔ جب گرد و پیش کا منظر کرب ناک ہو جائے تو فراریت کی بانہیں کیف آور ہوتی ہیں۔
گرد و پیش سے کٹ جانا مسائل کا حل نہیں ہوتا البتہ وقتی سکون ضرور مِل جاتا ہے۔ بہر حال یہ تمہاری ترجیح ہے اور تمہارا حق بھی۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں میرا تعلق صرف پروسیجر سے ہے۔ اتنی مایوسی اچھی نہیں، کیا تم ہمیشہ سے ہی اتنی مشکل ہو یا آج کا دِن ہی خراب ہے؟ لو اس فارم پہ دستخط کرو اور ساتھ ہی اس نے نرس کو انجیکشن لانے کی ہدایت کی۔
پھر اس نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ چپ چاپ سرنج بھرنے لگا اور انجیکشن میرے بازو میں اتار کے پوچھنے لگا، کیا سوچ رہی ہو؟
سرِ دست تو میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی، یہ گرد و پیش مجھے سرینڈر کی نہج پر لے آیا ہے۔ سوچنا تو اب تمہیں ہے کہ میں تو اب تمہارے رحم و کرم پر ہوں
پھر مسکرا کر بولا تمہارا اندازِ گفتگو خاصا دلچسپ ہے، اس کے لیے کوئی پیغام ہے تو بتائو؟ ویسے اس کا نام کیا ہے؟
مجھے علم ہے کہ تم میرا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہے ہو، ذرا سی دیر میں میرے پپوٹے بھاری ہونے لگے اور اس کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہونے لگی اور چہرے کے نقوش دھندلا گئے۔ میں نے ڈوبتے ہوئے ذہن کے ساتھ ساتھ صرف اتنا کہا
کچھ نہیں۔۔۔ تصویر ۔۔۔۔ آنکھوں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ دیکھ۔۔۔۔۔
چار گھنٹے بعد میری آنکھ کھلی اور میری نظر فوکس ہوئی تو وہ وہاں موجود تھا کہنے لگا شرارتی لڑکی تو تم صرف اپنی نیند پوری کرنا چاہتی تھیں، میں نے خِفّت مٹانے کے لیئے منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ پھر وہ قدرے سنجیدگی سے بولا، پریشان نہیں ہونا سب ٹھیک ہو گیا ہے تفصیلی رپورٹ تین دن بعد ملے گی۔ میں خاموش رہی
پھر ہنس کر کہنے لگا اب تو بتا دو کہ وہ کون ہے؟ میں کوشش کے باوجود تمہاری آنکھوں میں اس کی تصویر نہیں ڈھونڈھ پایا شاید میری آنکھوں کا لینز اتنا طاقتور نہیں کہ اس کی تصویر دیکھ پاتا، ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم سب کی آنکھوں میں کوئی نا کوئی ایسی تصویر ضرور ہوتی ہے جسے کوئی اور نہیں دیکھ پاتا اور شاید ہم چاہتے بھی نہیں کہ کوئی دوسرا وہ تصویر دیکھے کیوں کہ وہ تصویر ہمارے لیے زندگی کا اِستعارہ ہوتی ہے اور اس معاملے میں ہم سب ایک جیسے ہیں۔ اور ہاں ان چار گھنٹوں میں میں نے خلیل جبران کی نظم fear ڈھونڈ نکالی اور تمہارے خوف کوسمجھنے کی کوشش کرتا رہا، بہت گہری نظم ہے۔
خلیل جبران ہی نہیں رومی اور بلہے شاہ بھی اتنی ہی گہری باتیں کرتے ہیں۔ بعض معاملات میں ایسا ہی ہوتا ہے، واپسی کی راہ نہیں ہوتی، میں نے نحیف سی آواز میں کہا
اور یہ دونوں کون ہیں؟
دونوں کا شمار فلاسفرز میں ہوتا ہے، جانے دو پھر کبھی سہی، ابھی مجھ میں ہمت نہیں
اب سمجھ میں آیا کہ تم اتنی گہری باتیں کیوں کرتی ہو فرصت ملی تو مزید پڑھوں گا۔ مشرق و مغرب میں رہنے والوں کی نظریں صرف فرق ڈھونڈنے پر لگی رہتی ہیں کچھ معاملات سب انسانوں میں مشترکہ ہوتے ہیں
We are more alike than we are different
یہ الفاظ میرے نہیں مایا انجلو کے ہیں اور ہاں جب اسے مِلو تو میرا سلام کہنا، وہ یقیناً بہت خوش قسمت انسان ہے
میں چپ چاپ ٹکر ٹکر اس کا منہ دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ کون خوش قسمت انسان؟ یہ المیہ اسے کیسے بتاوں کہ خیال کا کوئی وجود نہیں ہوتا وہ تو صرف ذہن میں ہوتا ہے۔ آوارہ گرد ذہن بہت سے پیکر تراش لیتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی پیکر آسیب کی طرح اندر بس جاتا ہے اور ہم پاگلوں کی طرح سرپٹ اس کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں اور دوڑتے ہی چلے جاتے ہیں۔ انجانے راستے پر بھاگنے سے پاوں بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں۔ وجود فنا ہو جائے تو صرف کھنڈر بچتا ہے جسے ایک نہ ایک دِن ڈھنا ہی ہوتا ہے۔ لا حاصل کی تلاش میں تنکا تنکا ہو کر انسان کب بکھر جاتا ہے پتہ بھی نہ چلتا۔ اب تو کتابِ زندگانی کے سارے حروف دھندلے پڑتے پڑتے مِٹنے لگے ہیں۔ میں ہی کیا میرے جیسے کئی لوگ اپنے اندر پھیلتے دکھ کے لامتناہی صحراوں کی ویرانی سے گھبرا کر سایوں کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں پر اس بھاگم دوڑ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے ان آدم خور مکڑیوں کے گنجلک جالوں کے جو سارے وجود میں کینسر کی طرح پھیل جاتے ہیں۔ یہ مکڑیاں دھیرے دھیرے سارا خون چوس لیتی ہیں اور ہڈیاں اتنی بھربھری ہوجاتی ہیں کہ انسان اپنا وزن سہارنے کی سکت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
اس کے جانے کے بعد دیر تک ایک ہی سوچ ستاتی رہی کہ اب مجھے کس بات کا خوف ہے؟
(خوف)
کہتے ہیں کہ دریا
سمندر میں ضم ہونے سے پہلے
خوف سے تھرتھراتا ہے
تا حد نظر سامنے ہے سمندر
اور پیچھے وہ بل کھاتی ایک لمبی گزرگاہ
وہ اونچی چوٹی، جنگل بیاباں اور اَن گنت بستیاں
لے آیا کہاں سے کہاں تک سفر
اب پلٹوں تو کیسے
بقا اور فنا کے درمیاں ڈولتی زندگی
پھر یہ دریا نے سوچا
راستہ تو پلٹتا نہیں
کناروں کو چھوڑے بنا دریا سمندر میں ڈھلتا نہیں
خطروں سے کھیلے بنا خوف ٹلتا نہیں
بنا جو سمندر تو پھر اس نے جانا
ڈر فنا کا نہیں
ڈر تھا تو پھیلائو کا
بحر بیکراں کی وسعت میں ڈھلنے کا ڈر
(خلیل جبران)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*