*

راستہ ایسا بچھایا گر پڑے ہم گر پڑے
منزلوں نے یوں اٹھایا گر پڑے ہم گر پڑے

وقت کے زینوں سے اٹھے تھے ہمارے تو قدم
اس نے کیا چکّر چلایا گر پڑے ہم گر پڑے

مست بے خود جھومتے ہی جا رہے تھے رقص میں
جوں جوں ہم کو ہوش آیا گر پڑے ہم گر پڑے

عشق اک پتھر ہے بھاری مِیرٓ صاحب کہہ گئے
بات نہ مانی اٹھایا گر پڑے ہم گر پڑے

چاک پر میرا سنبھلنا دیکھ کر گھبرا گیا
کوزہ گر بے پھر گھمایا گر پڑے ہم گر پڑے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*