آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

 

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی سمتوں سے اَن جان آوازیں آتی ہیں
روشنیوں کے دائرے ٹوٹتے رہتے ہیں

کہنے کو تو کتنا کچھ انسان کے دستِ بیش بہا میں ہے
کتنے سیّاروں کی روشنیاں اِ ن آنکھوں کی قید میں ہیں
کتنی دنیاو¿ں کی آوازیں اِن کانوں کے قفل میں ہیں
پھر بھی اَن جان آوازیں آتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون امید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

اَن جان آوازیں آتی ہیں
جیسے آفاق پہ کوئی دَیو دھاڑتا ہے
جس کی سانسیں سہمے سینوں میں پھنکارتی ہیں
جس کے دانت اِن جسموں کے پاتال سے پیوستہ ہیں
جس کے پنجے پشت کی گہرائی تک اتر گئے ہیں

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی روشنیوں کے سائے
سورج کو گہنا دیتے ہیں
اور آواز وں کے تعاقب میں
ہم شہرِ عدم تک آجاتے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*