دریا

میں دیوتاؤں کے متعلق زیادہ نہی جانتا
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دریا ایک طاقتور مٹیالا دیوتا ہے
تند مزاج’ غصیلا
اپنے موسمو‌ں اور اپنے غیظ و غضب کا مالک’ تباہ کن اور ان چیزوں کی یاد دلاتا رہتا ہے
جنھیں انسان بھول جانا چاہتے ہیں

خاتمہ کہاں ہے——- بے آواز چیخوں کا
خزاں میں خاموشی سے مرجھاتے پھولوں کا
جو چپ چاپ اپنی پنکھٹریاں گراتے ہیں
جہاز کے بہتے ہوے شکستہ ٹکڑوں کا خاتمہ کہاں ہے؟
خاتمہ کہیں نہیں ہے’ صرف اضافہ ہے
مزید دنوں اور گھنٹوں کا گھسٹتا ہوا تسلسل

ہم نے کرب کے لمحوں کو ڈھونڈ نکالا
(سوال یہ نہیں کہ یہ کرب غلط فہمی کا نتیجہ تھا یا غلط چیزوں کی تمنا کا یا غلط چیزوں کے خوف کا)
یہ لمحے مستقل ہیں جس طرح وقت مستقل ہے
ہم اس بات کو بہ نسبت اپنے کرب کے دوسروں کے کرب میں
بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں

کیونکہ ہمارا اپنا ماضی کرم کی دھاراؤں میں چھپا ہے
لیکن دوسروں کی اذیت ایک غیرمشروط تجربہ ھے
جو کبھی فرسودہ نہیں ہوتا
لوگ بدل جاتے ہیں’مسکراتے ہیں مگر کرب موجودرہتا ھے
لاشوں اور خسں و
خاشاک کو
اپنی موجو‌ں میں بہاتے ہوے دریا کی مانند

وقت جو تباہ کن بے’ قایم بھی رکھتا ھے

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا کرشن کا یہی مطلب تھا
کہ مستقبل ایک مدھم گیت ھے
اور ان کے واسطے جو ابھی پچھتانے کے لیےپیدا نہیں ہوۓ
پچھتاوے کا گل سرخ
جو ایسی کتاب کے پیلے اوراق میں رکھا بے’ جو کبھی کھولی نہیں گئی

ٓاگے بڑھو مسافرو’ ماضی سے بھاگ کر
تم مختلف النوع زندگیوں یا کسی قسم کے مستقبل کی طرف
رواں نہیں ہو-
آگے بڑھو’تم جو سمجھتے ہو کہ سفر میں ہو

تم وہ نہیں جنھوں نے بندرگاہ کو پیچھے ہٹتے دیکھا
تم وہ نہیں جو دوسرے ساحل پر اترو گے

اس لمحے کہ دونوں کناروں کے درمیان وقت معطل ھے
مستقبل اور ماضی پر یکساں دھیان کرو
یہ لمحہ کرم یا نہہ کرم کا نہیں’ جانو
کہ موت کے سمے انسان کا دماغ وجود کے جس نقطے پر مرکوز ہو(اور موت کا سمے ہر لحظہ بے)
وہ محض ایک کرم ھے
جو دوسروں کی زندگیوں میں بارآور ہو گا
کرم کے پھل کاخیال نہ کرو’ آگے چلو

"مسافرو اور ملاحو؛
تم’ جو گھاٹ پر اترو گے اور
تم’ جن کے جسم سمندر کے فیصلے سہیں گے
یا جو کچھ بھی تم پر بیتے گی’ یہ تمہاری منزل ھے
کرشن نے ارجن سے میدان جنگ میں کہا؛
الوداع__________نہیں_______بلکہ آگےبڑھو
مسافرو”

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*