جنگِ فلسطین: کرونا وبا کا سائیڈ ایفیکٹ

امریکہ اوربرازیل میں انسانی سروں کی بڑے پیمانے پہ کٹائی کے بعد کرونا نے ہندوستان میں تباہی مچادی ہے ۔ ان تینوں ممالک کے رجعتی حکمران اس عالمی مہلک وبا کو مذاق قرار دیتے رہے ہیں ۔ اور جمگھٹے سے پرہیز کرنے کے بجائے اپنی نگرانی میں بڑے پیمانے کے سیاسی اور مذہبی اجتماعات منعقد کرواتے رہے ۔
فاشسٹ کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ خود کو ، اپنے زیر اثر علاقے کو،یا ملک کو ایک عجوبہ بنانے کے چکر میں رہتا ہے ۔عجب لگنے کا جنون ۔فاشسٹ سیاسی مکالمہ کو بے ہودگی کی طرف لے جاتا ہے ۔ وہ سیاسی معاملات پہ رائے نہیں فتوی سناتا ہے ۔وہ تھوک کے حساب سے لوگوں کو غیر محب ِوطن، غیر محب ِقوم ، غیر محب ِفرقہ ہونے کے سر ٹیفکیٹ دیتا پھرتا ہے ۔چنانچہ ٹرمپ ” امیررے کا“ اور مودی ”ہندووتا“ کے مہانیشنلزم کی آڑ لے کر مخالفین کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ کورونا وائرس کو پنپنے کے لیے یہ ماحول بہت اچھا لگا۔
فاشسٹ عوامی بہبود کے ہر کام سے نفرت کرتا ہے۔ وہ لاٹھی ،گالی اور گندی زبان استعمال کر کے ہر جمہوری اور روشن فکر آواز کو دبوچتا جاتاہے۔ چنانچہ جدید ریاست کا ہر تصور ملیا میٹ کرتے ہوئے ٹرمپ اور مودی اپنے ممالک میں شہری آزادیاں ، قومی خود مختاری اور اقلیتوں اور عورتوں کے حقوق بد تہذیبی کے ساتھ دباتے رہے ۔ امریکہ میں افریقیوں ،برازیل میں ٹریڈ یونین اور انڈیا میں کسان تحریک کو تھکا کر مارنے کے لیے اُن کے اجتماعات کو جاری رہنے دیا گیا ۔
اٹلی میں بھی رائٹ ونگ کی حکمرانی ہے ۔ اس نے ویٹیکن کو ہسپتال سے زیادہ اہم قرار دیا اور یوںاپنی آبادی کو موت کے حوالے کردیا۔
انہی چار اہم ،مگر بدقسمت ترین ممالک میں کرونااس قدر تباہی کے ساتھ گھس آیا ۔امریکہ فاشسٹ ٹرمپ کے زمانے میں برباد ہوا۔ اس لیے کہ وہاں کے نفسیاتی طور پر بیمار صدر نے اس تباہ کن وبا کو معمولی زکام قرار دے کر لوگوں کو ”پرواہ نہ کرو“ پہ لگادیا تھا اور انڈیا فرقہ پرست مودی کے زمانے میں مرگھٹ بن گیا۔ انڈیا کے حکمران نے وبا کی کوئی روک تھام نہیںکی ، کوئی تیاری ہشیاری نہیںکی ۔ الٹا اس مذہبی جنونی نے کروڑوں لوگوں کو گنگا کے ”پاک پانی “ میں اکٹھے ڈبکیاں بھرنے کے سرکاری انتظامات کیے ۔ ریاستی طور پر سائنس کا مسلسل مذاق اڑانے اور اُس کی ہدایات کو ہوا میں اڑا دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں نہ ہسپتالوں میںگنجائش بچی نہ مردہ خانوں میں جگہ ۔اور نہ شمشان گھاٹ ذرا سا بھی سستا لیتے ہیں۔
کووِڈ 19، ایک ایسا المیہ ہے جس نے پوری انسانیت پہ افسردگی طاری کر رکھی ہے۔عالمی طور پر اس وبا نے بورژوا حکمرانی کے سیاسی معاشی اور سماجی بحران کو شدید کردیا۔ ”انسان ایک سماجی جانور ہے “ والے فقرے کو دوسال سے ممنوعہ فقرہ قرار دیا جاچکا ہے ۔ پارک و سینما ، ٹمپل مندر، شادی وجشن ، کسرٹ وسپورٹس ، جہاز وریل، سکول وکالج سب کچھ کوتالالگ چکا ہے۔
بہت تکلیف دِہ زمانے ہیں۔ ہمہ وقت اور ہمہ سمت کہرام مچی ہوئی ہے ۔ مجبور انسان کا آخری سہارا یعنی عبادت گاہ تک پہ تالا لگ چکاہے ۔ صنعتیں ،منافعے اور سود پہ کھڑا کپٹلزم ونٹی لیٹر میں پڑا آخری سانسیں لے رہا ہے ۔ اِس کا سر پلس ویلیو ایک معمولی وائرس کے حملے سے بری طرح ڈگمگا گیا ہے ۔ اس کے اندر پیدائشی طور پر موجود بے روزگاری اب حدو حساب سے بڑھ چکی ہے ۔ مہنگائی ساری مہاریں توڑ چکی ہے ۔ جھوٹ بولنے کا اُس کا سارا نظام درہم برہم ہوچکا ہے ۔ پنڈت ، پیر جیسے کپٹلزم کے ازلی ابدی اتحادیوں کی دکانیں بند ہوچکی ہیں۔۔۔۔پہلی بار پوسٹ ٹکنالوجی والا انسان سیاہ ناامیدی میں سے گزر رہا ہے ۔
کپٹلزم ایک ناکام نظام ہے ۔ وہ صدیوں سے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ”توجہ ہٹاﺅ“ مہمیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اور اِس بار ،کپٹلزم نے کووِڈ 19کے پیدا کردہ بدترین حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے فلسطین پہ حملہ کردیا۔ اور یہ بالکل سوچا سمجھا حملہ تھا ۔ اس حملے کی ابتدا تو اسرائیلی مسلح شہریوں نے کی تھی ۔ انہوں نے نہتے فلسطینی شہریوں پہ ”عرب لوگ مردہ باد“ کے نسل پرست نعرے لگاتے ہوئے حملوں سے آغاز کیا۔ یہ لوگ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر کے پورے علاقے کو عربوں سے ”پاک “ کرنے کا حربہ استعمال کر رہے تھے ۔ اس عمل میں اسرائیلی پولیس اُن کی مدد گار تھی ۔ اور گلی سے بہت دور امریکہ اور دیگر یورپی وغیر یورپی سرمایہ دارانہ نظام کے سارے ممالک اس کی حمایت کرتے رہے ۔
فلسطین اسرائیل کی کالونی ہے ۔ یہ محض دواطراف کی جھڑپیں نہ تھیں بلکہ یہ کالونیل اسٹ کا اپارتھائڈ تھا۔
کپٹلزم نے دس دن تک جنگ کے ہولناک مناظر دکھانے کے لیے اپنے میڈیا کے دھانے کھول دیے ۔ ہمارے ہاںمذہبی جذبات بھڑکا بھڑکا کر دوچار جلوس اِدھر اُدھر نکلے ۔بس ۔اسی طرح مشرقِ وسطی کے شاہ وشیوخ اپنے چوغوں عماموں کے ساتھ ”امہ، امہ “کی گردان دوہرانے کی منافقت کی بتیسیاں دکھا تے رہے ،اپنی جگ ہنسائی کرواتے رہے ۔
نہتے عوام پر اسلحہ استعمال کر کر خود عالمی کپٹلزم سوائے معصوم جانوں کی ضیاءکے کچھ حاصل نہ کرسکا۔ الٹا اُن کے اپنے ہاں اسرائیل کی اِس نسل کش جنگ کے خلاف شعور بڑھنے لگا۔ وہاں کاسوشل میڈیا اسرائیلی مظالم کی تصویروں ، مضامین اور خبروں سے بھرنے لگا۔ کپٹلسٹ دارالحکومتوں میں اُن کی جنگبازی کے خلاف ملینوںپہ مشتمل عوامی جلوس نکلتے رہے ۔ بلاشبہ انسانی شعور بی بی سی کے پروپیگنڈوں سے بہت بلند ہے ۔
اب؟ ۔ اس محدود جنگ کے بعد کیا کیا جائے گا۔ انسانوں کی توجہ موجود ہ بحران سے ہٹانے کے لیے مسلسل جنگیں کی جائیں گی ؟۔یا کوئی نیا کرتب دکھایا جائے گا؟۔ وائرس کپٹلسٹ سسٹم کی اینٹ سے اینٹ تو بجا چکا ہے ۔ اور یہ برباد کر دینے والا دشمن اب بھی اُسی طرح موجود ہے ۔ موت اسی طرح سرگرمی اور کامیابی کے ساتھ انسانی سروں پہ حملہ آور ہے ۔
سائنس نے ویکسین جیسی نعمت انسان کو مہیا کردی ہے۔ مگر کپٹلزم کی خاصیت ہے کہ وہ اِس نعمت کو چند ہاتھوں میں ہی مرکوز رکھے گا۔ یہ زبردست انجکشن عوام الناس کو میسر نہ ہوگا ۔ کسی بھی کپٹلسٹ ملک میں ویکسین لگانے کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ ویکسین لگانے کے حق میں کوئی سرکاری مہم شروع نہ کی گئی۔ بلکہ الٹا اِس کے خلاف رائے بنانے کی آزادی دی گئی۔ یوں ،مشہور کردیا گیا کہ :
* ویکسین نامرد کردے گا( مردانگی تو دیکھو!)
* ویکسین جسم میں جا کر کمپیوٹر چِپ بن جائے گا اور یوں جاسوسی کرے گا ۔(کس چیز کی جاسوسی؟۔ سب چیزیں تو انہی کی دی ہوئی ہیں)۔
ہم سب گواہ ہیں کہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے خود وائرس کی موجودگی کو جھوٹ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ لاکھوںانسانی لاشوں، آہوں، کراہوں اور سسکیوں کے باوجود وائرس کے جعلی ہونے کا پروپیگنڈہ جاری ساری رہا۔ اور اب سارا زور ویکسی نیشن کے خلاف لگایا جارہا ہے ۔
اور اب صاف نظر آرہا ہے کہ حکومتیں ویکسین لگانے کو لازمی قرار نہ دیں گی ۔ اسے مفت اور وافر مہیا نہیں کیا جائے گا ،اور اس کو لگانے کے انتظامات ناقص وناکافی ہی رہیں گے۔ سرکار و اشرافیہ تو کہیں سے بھی خرید کراپنی زندگی بچالیں گے مگر عوام الناس کے گھر کافی عرصہ تک ماتم کدہ ہی رہیں گے۔ ”ہرڈامیونٹی “حاصل کرتے کرتے تین چار سال مزید اموات جھیلنی ہوں گی۔
ہمیں اس عالمی وبا کے اثرات یہ بھی توجہ کرنی چاہیے؟ ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑے پیمانے کی عالمی تباہی آتی ہے تو دنیا میں بنیادی سماجی معاشی اور سیاسی بڑی تبدیلی آجاتی ہے ۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد دنیا میں سوویت یونین کی شکل میں اولین سوشلسٹ ریاست وجود میں آگئی ۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں قومی آزادی کی تحریکوں کو زبردست ایڑ لگی اور ایشیا افریقہ اور لاطینی امریکہ میںبے شمار ممالک نے آزادی اور سوشلزم حاصل کی۔
اب یہ اپنی نوعیت کی تیسری بڑی عالمی تباہی ہے ۔اور اس کے نتیجے میں دیکھنا ہے کہ اب دنیا کا کیا ہوگا ، یہ کس طرف جائے گی؟۔ ہر ملک کے عوام بپھرے ہوئے ہیں۔ مہنگائی ، اموات ، اور ماتموں نے پوری انسانیت کو اپنی حکومتوں کے خلاف لاکھڑا کر دیا ہے ۔ عوام بہت کچھ مانگتے ہیں اور حکومتوں کے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ۔ لہذا تصادم اپنی انتہائی صورت میں برپا ہوگی۔
راستے دو ہیں:
ایک : کپٹلزم اِس بحران کو سہہ جائے گا اور اپنے معاشی سیاسی نظام کو بچا پائے گا۔ مگر بحران اتنا بڑا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ کپٹلزم ثابت سالم نکل آئے۔
دوسری صورت :سوشلزم برپا ہوجائے گا ۔ اس کا امکان بھی بہت ہے ۔ یہ درست ہے کہ ہر جگہ ”سب جیکٹو “فورس یعنی انقلابی پارٹی بہت کمزور اور بری طرح بٹی ہوئی ہے ۔ مگر عوامی لہریں کبھی کبھی اپنے بہاﺅ کے رومیںخود ہی ایسی قوت منظم کر لیتی ہیں ۔
کپٹلزم ایک تیسری صورت پیدا کرنے کی زبردست کوشش کرے گا۔ ایسی صورت کہ عوام کو بہت سی سہولتیں (سیاسی ، معاشی اور سماجی) دے کر اپنا نظام بچالے ۔ وہ اُس کے لیے سوشل ڈیموکریسی کی اصطلاح جھاڑ پونچھ کر دوبارہ مارکیٹ میں لاسکتا ہے ۔ویلفیر کا سکینڈ نیو یائی ماڈل دوبارہ جاری کرسکتا ہے۔
ایسا کرنے کے لیے وہ مزید جنگیں کراسکتا ہے ۔ مذہبوں کے درمیان، نسلوں قوموں اور رنگوں کو بنیاد بنا کر۔ وہ ہر حربہ استعمال کر کے مفلوک الحال انسانوں کی توجہ بم ،آگ اور میزائلوں کی طرف کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔ مگر تیسرا راستہ تو پہلی صورت ہی ہے ۔ لہذا صورتیں وہی دو ہی ہیں۔
1۔ سوشلزم ،یا،2۔بربریت
چونکہ سوشلزم ،کپٹلزم کی موت ہوتا ہے ۔ اس لیے کپٹلزم اُسے روکنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادے گا۔ طے بات ہے کہ وہ پوری دنیا تو کیا، ایک تحصیل تک میں بھی سوشلزم کو کامیاب ہونے نہ دے گا ۔ چنانچہ سوشلزم کے لیے پیاسے عوام الناس کو کچلنے کے لیے وہ قہرو جبر کے ہر ہتھیار کو استعمال کرے گا۔
ایک ایسی عوامی لہر ابھرے گی جو موجود تمام پارٹیوں تنظیموں سے بھاری ہوگی۔ ایسی یُدھ جس میں ”اگر مگر “ کی ساری گنجائش صفر رہے گی۔ ہر لحاظ سے برباد شدہ عوام کو اِس کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ نتیجہ سوشلزم نکلے گا یا انار کی پھیلے گی۔ وہ بنیادی تبدیلیوں کے لیے ضرور اٹھیں گے۔ اور صرف بلوچستان میںنہیں بلکہ صنعتی مغربی ممالک میں یہ تحریک ابھرے گی۔ یہ حتمی بات ہے۔
کاش انقلابی پارٹیاں منظم ہوتیں، مقبول ہوتیں اور مضبوط ہوتیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ورکنگ کلاس کی آزادانہ سیاسی مداخلت بہت پہلے ہوچکی ہوتی ،عوام کا نقصان ذرا کم ہوتا ،اُن کی قربانیوں بھری جدوجہد کا عرصہ ذرا مختصر ہوتا ۔۔۔۔اور سماج کی مُسکان قریب تر ہوتی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*