آج عمر خیام کا یوم پیدائش ہے

ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشاپوری کا اصل میدان علم ہیت یا علم نجوم، ریاضی اور فلسفہ رہا لیکن ان کی عالمی شہرت کا باعث ان کی رباعیاں بنیں۔

ان کی رباعیوں کا دنیا کی تقریباً تمام تر بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ اردو میں تو منظوم ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔
1970 میں چاند کے ایک گڑھے کا نام عمر خیام رکھا گیا۔ یہ گڑھا کبھی کبھی زمین سے بھی نظر آتا ہے جبکہ سنہ 1980 میں ایک سیارچے (3095) کو عمر خیام کا نام دیا گیا۔

عمر خیام کے اشعار پر انگریزی کے معروف شاعر یوجین او نیل، اگاتھا کرسٹی اور سٹیون کنگ وغیرہ نے جہاں اپنی تصانیف کے نام رکھے وہیں معروف افسانہ نگار ہیکٹر ہیو منرو نے عمر خیام سے متاثر ہوکر اپنا قلمی نام ہی ‘ساقی’ رکھ لیا۔

بالی وڈ کے سپرسٹار امیتابھ بچن کے والد اور ہندی کے معروف شاعر ہری ونش رائے بچن کی مشہور کتاب ‘مدھوشالہ’ (مئے خانہ) میں بہت سی چیزیں خیام کا محض ترجمہ ہیں۔

عمر خیام پر فلمیں بنی ہیں ، مغرب میں ان کے نام پر بہت سے مئے خانے بھی نظر آتے ہیں. فلم مغل اعظم میں ایک مکالمہ ہے

‘عمر خیام کی رباعی کو اگر سنہرے ورق کے بجائے پتھریلی زمین پر لکھ دیا جائے تو کیا اس کا معنی بدل جائے گا؟’

عمر خیام خود کو حکیم کہتے ہیں ۔ ان کی ایک ربا‏عی :

خیام کہ خیمہ ہای حکمت می دوخت
در کوزہ غم فتادہ ناگاہ بسوخت

مقراض اجل طناب عمرش بہ برید
دلال قضا بہ رائگانش بفروخت

(خیام جو کہ علم و حکمت کے خیمے سیتا تھا وہ غم کے پیالے میں اچانک گر گیا اور جل گیا۔ موت کی قنیچی نے جب اس کی عمر کی ڈور کاٹی کہ قضا و قدر کے دلال نے اسے بے مول ہی فروخت کر دیا)

عمر خیام خراسان کے مشہور شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ خیام خیمہ سینے والوں کے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے ہم عصر ابو ظہیر الدین بیہقی جو عمر خیام سے ذاتی طور پر واقف تھے انھوں نے جو تفصیلی کوائف پیش کیے اس کے مطابق ان تاریخ پیدائش 18 مئی 1048 نکلتی ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے بڑے استاد موفق نیشاپوری سے تعلیم حاصل کی اور 26 سال کی عمر میں بادشاہ سلطان ملک شاہ کے مشیر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد انھیں وزیر نظام الملک نے اصفہان مدعو کیا جہاں کی لائبریری سے انھوں نے استفادہ کیا اور اقلیدس اور اپولینیس کے علم الحساب کا بغور مطالعہ شروع کیا اور انھوں نے اس سلسلے میں کئی اہم تصانیف چھوڑیں۔

ریاضی کے میدان میں مکعب اور متوازی کے نظریے پر ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ انھیں اقلیدس میں جو اشکالات نظر آئے ان پر ایک کتاب تحریر کیا جس کا عنوان ‘رسالہ فی شرح اشکال من مصدرات کتاب اقلیدس’ تھا۔

وہ علم نجوم کے ماہر تھے لیکن سمرقند کے ان کے ایک شاگرد نظامی عروضی کا کہنا ہے کہ انھیں علم نجوم اور اس کے علم غیب پر یقین نہیں تھا۔ لیکن انھوں نے سلطان ملک شاہ کے کہنے پر اصفہان میں ایک آبزرویٹری (رصدگاہ) قائم کیا۔ ملک شاہ کے کہنے پر انھوں نے جو کیلنڈر تیار کیا اسے جلالی کیلنڈر کہا جاتا ہے اور جو ایک زمانے تک رواج میں رہا۔ جلالی کیلنڈر شمسی کیلنڈر ہے اور سورج کے مختلف برجوں میں داخل ہونے پر شروع ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رائج انگریزی یا گریگورین کیلنڈر سے زیادہ درست ہے اور اسے آج تک سب سے زیادہ درست کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ اس میں 33 سال پر لیپ ایئر آتا ہے جبکہ گریگورین میں ہر چار سال پر اضافی دن والا سال آتا ہے جب فروری 29 دنوں کا ہوتا ہے۔

آج عمر خیام کی شہرت کی واحد وجہ ان کی شاعری ہے جو گاہے بگاہے لوگوں کی زبان پر آ ہی جاتی ہے لیکن ان کو زندہ کرنے کا کارنامہ انگریزی شاعر اور مصنف ایڈورڈ فٹزجیرالڈ کا ہے جنھوں نے سنہ 1859 میں عمرخیام کی رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور اس کا عنوان ‘رباعیات آف عمر خیام’ رکھا اور عمر خیام کو فارس کا نجومی شاعر کہا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فارسی کے پروفیسر عراق رضا زیدی نے کہتے ہیں ‘عمر خیام کی شہرت گرچہ مغرب کی مرہون منت ہے لیکن جس طرح انھیں پیش کیا گيا ہے وہ اصل نہیں ہے۔ ان کی مشرقیت کہیں کھو گئی ہے۔ لہذا اب جب ہم جب انھیں جان چکے ہیں تو ہمیں انھیں اپنی روایت کے اعتبار سے سمجھنا چاہیے۔ جس طرح شبلی نعمانی یا سید سلیمان ندوی نے انھیں پیش کیا ہے۔’

عمر خیام کی رباعیوں کی تعداد ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ان میں بہت سی رباعیات دوسروں کی شامل ہوگئی ہیں.
عمر خیام کے اہم ماہر صادق ہدایت کا کہنا ہے قطیعت کے ساتھ 14 رباعیات کو عمر خیام کی رباعیات کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ بعض دوسروں نے ان کی تعد 100 تک بتائي ہے جبکہ فروغی نے ایک تعداد 178 بتائی ہے تو علی دشتی نے محض 36 بتائی ہے۔

بہر حال ان کی چند رباعیاں ملاحظہ فرمائيں:

گویند مرا چو سرباحور خوش است
من می گویم کہ آب انگور خوش است
این نقد بگير و دست ازان نسیہ بدار
کاواز اہل شنیدن از دور خوش است

شوکت بلگرامی نے اس کا منظوم ترجمہ مئے دو آتشہ میں اس طرح پیش کیا ہے

زاہد دیوانے خلد اور حور کے ہیں
عاشق میخوار آب انگور کے ہیں

لے جام شراب، بول واعظ کے نہ سن
چھوڑ ان کا خیال ڈھول یہ دور کے ہیں

آورد بہ اضطرابم اول بہ وجود
جز حیرتم از حیات، چیزی نفزود

رفتیم، بہ اکراہ، ندانیم چہ بود
زین آمدن و بودن ورفتن مقصود

(پہلے میں اضطراب کے ساتھ پیدا ہوا اور پوری زندگی میں حیرت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ بہ مجبور یہاں سے لے جائے گئے اور یہ بھی معلوم نہ سکا کہ آنے، رہنے اور جانے کا مقصد کیا تھا۔

شیخ محمد ابراہیم ذوق کا مندرجہ ذیل شعر اس کی بہت حد تک ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔

لائی حیات، آئے، قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

مرزا اے بی بیگ : بی بی سی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*