ہفت روزہ عوامی جمہوریت

7مارچ 1973کے شمارے میں ”سامراجی قرضے پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں“ کے نام کا مضمون ہے ۔اسی طرح ”سامراج سا لمیت کا محافظ نہیں ہوسکتا “ 24مارچ کے شمارے کا اہم مضمون ہے ۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 23مارچ کو متحد محاذ کے جلسے پر حملہ کیا گیا جس میں جانی نقصان ہوا۔ اس واقعے پر 31مارچ کے عوامی جمہوریت میں ایک لیڈنگ مضمون شائع ہوا ۔ اس مذمت کا اعادہ 14اپریل کے شمارے میں بھی کیا گیا ۔7اپریل کے شمارے میں کارل مارکس کی زندگی پہ ایک مضمون ہے ۔ لینن کے یوم پیدائش پہ 21اپریل کے شمارے میں ایک پورا مضمون دیا گیا۔ اسی شمارے میں بھٹو کے زرعی اصلاحات کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک پورا صفحہ وقف کیا گیا۔ اِس کا آخری پیراگراف دیکھیے:
”پیپلز پارٹی کی زرعی اصلاحات نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اوروڈیروں کے مفادات کی نگران اور ترجمان جماعت ہے ۔ وہ مزارعوں ہاریوں مزدوروں اور محنت کش دانشوروں کے مسائل حل کرنا نہیں چاہتی ۔ یہ مسائل محنت کش عوام کی جدوجہد سے ہی حل ہوں گے جس کی راہنما قوت مزور کسان محنت کش دانشوروں کی سیاسی پارٹی کے سوا کوئی بورژوا پیٹی بورژوا پارٹی کی قیادت نہیں ہوسکتی۔ اس لیے بنیادی ضرورت پارٹی کی تشکیل تنظیم اور استحکام ہے “۔
5مئی کے شمارے میںمزدوروں کے بین الاقوامی دن (یومِ مئی ) کی تاریخ بتائی گئی۔ اینگلز کے مضمون ”انسان کی تعمیر میںمحنت کا حصہ “ کا ترجمہ چھاپا گیا ہے ۔
بارہ مئی کے شمارے میں جہلم کے رہنے والے کمیونسٹ رہنما لال خان کی ساتویں برسی پر ایک مضمون دیا گیا ہے ۔ 26مئی کے شمارے میں ایک اہم مضمون ” شاہ ایران اور پاکستان “ سے کے موضوع پر دیا گیا ۔ اسی طرح ملک بھرمیں یوم مئی پر ہونے والے جلسوں جلوسوںکی رپورٹنگ کی گئی۔
” تیل کی سیاست۔۔۔ امریکہ ، ایران اور پاکستان پر ایک طویل مضمون موجود ہے ۔ جس کے اختتام فقریے یوں ہیں:
” آئیے ہم بڑوں کی سیاست سے بھی دور رہیں اور جو بڑا بننے کی کوشش کر رہے ہیں اُن کی سیاست سے بھی دور رہیں اور اپنے سب پڑوسی ملکوں سے دوستانہ اور تجارتی تعلقات قائم کرکے تعمیر نوکے لیے آگے بڑھیں ۔ اگلے شمارے میں بھی اسی تیل سے متعلق ایک امریکی مضمون کا ترجمہ شامل کیا گیا : تیل کی لائنوں کا عفریت ۔ اسی شمارے میں وہ مضمون بھی چھپا ہے جس پر حکومت ناراض ہوگئی تھی۔ مضمون کا عنوان تھا خدارا وطن ِ عزیز کو بچائیے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں پھیلائی ہوئی فوجیں واپس بلائی جائیں۔ اکبر بگٹی کو گورنری اور عبدالقیوم خان کو وزارت ِ دا خلہ کے عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ بلوچستان و سرحد کی اسمبلیوں کے اجلاس طلب کیے جائیں اور اکثریت کا اعتماد رکھنے والی پارٹیوں کو اقتدار سونپا جائے ۔
16جون کا شمارہ بجٹ پر مخصوص ہے ۔ فیوڈل لارڈز اور اسٹیبلشمنٹ کے اس بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا گیا ۔ بتایا گیا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کپٹلزم کی خاصیتیں ہیں۔ جو اس نظام کے اندر رہتے ہوئے جاری وساری رہتے ہیں۔
23جون کے شمارے میں اخبار کے مالی حالت کے بہت خراب ہوجانے پر قارئین کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ اور اُن سے اخراجات میں حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔
7جولائی 1973کے عوامی جمہوریت میں شاہ ایران کے ”سائرس ثانی “بننے کی کوششوں کو بے نقاب کیا گیا ۔ یہ کہ ایران تیل سے مالا مال پورے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امریکہ کا بڑا گماشتہ بن کے ابھرا ہے ۔ امریکہ نے بہت بڑی رعایتیں دے کر اسے اپنے تیل کے مفادات کا چوکیدار بنا رکھا ہے ۔ وہ اِس منطقے میں سامراج دشمن تحریکوں کی جاسوسی کرنے اور بزور قوت قابو کرنے کا فرض بھی ادا کرتا تھا ۔ ایران نے وہاں کے بلوچستان پہ جس طرح جبر و تشدد جاری رکھا ہوا تھا اخبار نے اُس کی مذمت کی۔ اسی طرح اخبار نے لکھا کہ امریکہ ایران ہی کی مدد سے اس علاقے میں جمہوری تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
اخبار نے عوام سے امریکہ اور ایران کی اس سامراجی گٹھ جوڑ میں پاکستان کو شامل کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کی جدوجہد کرنے کا کہا۔
اسی شمارے میں سید سجاد ظہیر کی کتاب ”روشنائی“ سے ادب اور فن کے مقاصد کے موضوع پہ ایک اقتباس دیا۔
14جولائی کا شمارہ ایک طویل اور اہم مضمون لیے ہوئے ہے ۔ عنوان ہے:” لیفٹ کسے کہتے ہیں : لیفٹ اتحاد کے کیا معنی ہیں“ ۔ مضمون میں پیپلز پارٹی کو لیفٹ بنانے کی بورژوا دانشوروں کی ترغیبوں سے پردہ اٹھایا گیا ۔ اخبار میں لیفٹ ہونے کی ایک کسوٹی یہ بتائی کہ وہ پارٹی لیفٹ ہے جو اپنے عمل سے محنت کش طبقہ کو بورژوا پارٹیوں کے اثر سے آزاد کرتی ہے ۔ سامراج دشمن ہوتی ہے ۔ اسی طرح لیفٹ ہونے کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سوشلسٹ خیالات رکھنے والوں میں انتشار پیدا نہیں کرتی ۔ اُس کے کارکن ملکی وبین الاقوامی صورتحال سائنٹفک نقطہ نظر سے درست ادراک اور تجزیہ کرنے کے قابل بنائے جاتے ہیں۔
”امریکہ کی حاثیہ برادری چھوڑیے “ 21 جولائی 1973کے ہفت روزہ عوامی جمہوریت کا اہم مضمون ہے ۔ مخاطب صدر ذوالفقار علی بھٹو ہے ۔ اسی شمارے کا اداریہ آئین پر عملدر آمد کے معاملے سے متعلق ہے ۔ کچھ آخری جملے یہ ہیں: ”۔۔ یاد رہے کہ عوام کی نظروں میںپیپلز پارٹی کے مردود بن جانے کے بعد سامراجی امریکہ کی سیاسی گھڑ دوڑ کا دوسرا گھوڑا موجود ہے جو ملک کا موجودہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہنہنا رہا ہے ۔ ۔۔ امریکی سامراج کے اشارہ ابروپہ یہی نوکر شاہی اقتدار کی کاٹھی پیپلز پارٹی کی کمر سے اٹھا کر اِس دوسرے گھوڑے کی کمر پر اس طرح جما سکتی ہے جس طرح پیپلز پارٹی کی کمر پر جمائی گئی تھی“۔
28جولائی کے شمارے میں سردار داﺅد کی طرف سے افغانستان میں بادشاہت کا خاتمہ کر کے حکومت پر قبضہ کرنے کے بڑے واقعہ کاذکر ہے ۔ اخبار نے بادشاہت کے خاتمے کو تو تاریخ کا فیصلہ قرار دیا مگر وہاں جمہوریت قائم کرنے کے حوالے سے داﺅد خان کے عزائم کو شک کی نظر سے دیکھا۔ اخبار نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ ملک جمہوریت اور خوشحالی کا راستہ اختیار کرے گا یا یہ تبدیلی صرف شخصیتوں کی تبدیلی بن کر رہ جانی ہے ۔ اور بادشاہت کی جگہ فوجی آمریت دقیانوسی اور گلے سڑے سماج کی رکھوالی کے فرائض سرانجام دینے لگتی ہے ۔
اگلا شمارہ تقریباً ”علمِ فلسفہ کی تاریخ“ کے بارے میں ایک مفصل اور جامع مضمون پر مشتمل ہے ۔ 4اگست کے شمارے میں بائیں بازو کی پارٹیوں کے اتحاد کی جاری کوششوں پر ایک طویل مضمون ہے ۔ یہ اُن ملاقاتوں میٹنگوں کی رپورٹ بھی ہے ،اس جانب خدشات کا اظہار بھی ہے اور اس طرف جانے کے لیے ٹھوس تجاویز بھی ہیں۔ اگلے شمارے کا اہم مضمون ہے : پاکستان کے عوام بلوچ عوام سے یک جہتی کا ثبوت دیں۔ جہازی اخبار کے ایک پورے صفحے پر پھیلے مضمون میں سی آر اسلم نے بلوچستان سے متعلق بھٹو کے فیصلوں کی بھرپور مذمت کی۔ وہاں کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے اور فوجی کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ بھر پور معلومات دے کر عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ بلوچستان میں بھٹو کی مخالفت اور وہاں کی جمہوری سوچ کا ساتھ دیں۔ یکم ستمبر کو اخبار میں ایک مضمون پشتو زبان میں چھپا ہے ۔ یہ بہت دلچسپ پیش رفت تھی۔ نیز اس میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی میٹنگ کی رپورٹ بھی موجود ہے ۔ اگلے ہفتے کے اخبار میں ایک بار پھر بلوچستان میں پاپولر سیاسی جماعت کو حکومت حوالے کرنے اور فوج کو نکالنے کا مدلل مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اس اہم مضمون کا عنوان ہے : چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔
دلچسپ بات ہے کہ میرے پاس موجود فائل میں اگلا شمارہ بالکل عوامی جمہوریت جیسا ہے ۔ اُس کے اندر تحریر یں، گیٹ اپ اور ترتیب ساری ہفت روزہ عوامی جمہوریت والی ہے ۔ مگر اب یہ ” ہفت روزہ عوامی جمہوریت “نہیں ہے ۔ بلکہ اس پہ یہ دلچسپ نام لکھا ہے : پاکستان سوشلسٹ پارٹی سر کلر۔ نیچے چھوٹی سرخی ہے : صرف پارٹی کارکنوں کے لیے ۔
ہے ناں دلچسپ سٹوری!۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*